حضرت عثمان کنبہ پرور تھے۔(عادلانہ دفاع اور علمائے اہلسنّت)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر شیعہ کا الزام نمبر۔5

🔺شیعہ الزام 👇👇
حضرت عثمان کنبہ پرور تھے۔
(عادلانہ دفاع اور علمائے اہلسنّت)

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹

🔸(1)ہم اہلسنّت کے نزدیک تو رانا صاحب کی یہ بات ایک ٹکہ بھاؤ کی بھی نہیں کیونکہ دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی فن میں ماہر فن کی بات قبول کی جاتی ہے یہ معاملہ عقیدے کا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں مسلمانوں کو کیا اعتقاد ونظر رکھنا چاہیے اور اس بارے میں رانا صاحب کی کیا کسی نیم ملاں کی بات بھی نہیں چلتی عقیدے کے باب میں فقہ اکبر کا ارشاد کام دے گا نہ کہ رانا صاحب کے اس وائٹ پیپر کا اس لئے ہم اس کتاب کو وزن نہیں دیتے۔

🔸(٢) ممکن ہے کسی کرم فرما کے ذہن میں خیال پیدا ہو کہ چونکہ تحقیقی دستاویز والوں نے مذکورہ کتاب کے عکسی صفحہ سے حضرت عثمان رضى الله عنہ کی ذات اطہر پر ناروا حملہ کیا ہے اس لئے رانا صاحب کی تحریر کو نذر انداز کر دیا گیا ہے مگر عرض کر چکے ہیں کہ کسی شخص کی بات اس وقت تک معتبر نہیں ہوتی جب تک وہ اس فن میں مہارت تامہ نہ رکھتا ہو جس میں وہ رائے زنی کر رہا ہے اور رانا صاحب تو اس میدان تحقیق میں ابھی طفل ناداں ہیں نہ وہ مزاج عثمانی سے واقف ہیں اور نہ ہی بنو ہاشم کے مرتبہ و مقام سے، چنانچہ اسی کتاب کے عکسی صفحہ پہ ان کا زہریلا قلم بنو ہاشم کی عزت وتوقیر پر وار کرتے ہوئے لکھ رہا ہے۔ خاندان بنو ہاشم خلافت کو اپنا موروثی حق سمجھتے تھے ان میں اور بنو امیہ میں قدیم چشمک تھی ۔ الخ۔ ( عادلانہ دفاع اور علمائے اہلسنّت عکسی صفحہ نمبر ١٥٥) جب کہ حقیقت یہ ہے کہ خاندان بنو ہاشم خدا رسیدہ دنیا سے مستغنی طالب آخرت تھے اگر کبھی منصب خلافت کو قبول بھی فرمایا تو محض اہل اسلام کی خیر خواہی اور بھلائی کیلئے ورنہ وہ ان چیزوں کے طالب نہ تھے مگر رانا صاحب اپنے مزاج و غلط معلومات کی بنا پر یہ بڑھ مارے جارہے ہیں جو ان کی جہالت پر دلالت کرتی ہے۔ رانا صاحب جس مودودی کے وکیل صفائی ہیں ان کی خلافت و ملوکیت ابھی زیر بحث آیا ہی چاہتی ہے۔ اس الزام کا مفصل جواب وہاں ملاحظہ فرمائیں۔