حضرت عثمان نے اپنی مُردہ بیوی سے ناجائز حرکت کی۔ (فتح الباری)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر شیعہ کا الزام نمبر۔11

🔺شیعہ الزام 👇👇
حضرت عثمان نے اپنی مُردہ بیوی سے ناجائز حرکت کی۔ (فتح الباری)

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹

عربی عبارت کو سمجھنے والے حضرات تو اس جھوٹ اور بہتان سے اسی وقت آگاہ ہو جائیں گے جب وہ اس صفحہ کا مطالعہ کریں گے۔ البتہ سادہ لوح عوام جو عربی عبارت کا مطلب نہیں جانتے اور صرف ان قائم کردہ سرخیوں پر اعتماد کرتے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ سراسر جھوٹ اور کھلا ہوا بہتان ہے جو اس سرخی میں لکھا کھڑا ہے یہ کوئی پہلا جھوٹ اور فریب ہوتا تو ہمیں بھی تعجب ہوتا مگر اب صرف اس سرخی کو پڑھ کر تعجب ہوتا ہے جو عکسی صفحہ کے مطابق ہو اس لئے کہ سچ بولنا تو شاید کرم فرماؤں کے ہاں ناحق قتل سے بڑا جرم ہے اسی لئے مجال ہے جو کہیں حقیقت حال کو صح رنگ میں پیش کریں
🔸 محترم قارئین! عکسی صفحہ کی (انڈر لائن) خط کشیده عبارت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔ احتمال یہ ہے کہ بیوی کی بیماری لمبی ہوگئی تھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنی بشری ضرورت پوری کرنے کی ضرورت پیش آئی انہیں یہ بالکل گمان نہ تھا کہ اہلیہ کا انتقال اسی رات ہو جائے گا خبر کے اندر یہ بات نہیں ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ملاپ اہلیہ کے انتقال فرما جانے کے بعد یا انتقال کے وقت ہوا تھا (والعلم عند الله تعالی عکسی صفحہ فتح الباری) یہ تو مطلوبہ عبارت ہے جس میں صاف صاف اس بات کی نفی کی گئی ہے کہ
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا اہلیہ کے ساتھ ملنا وفات کے بعد یا وفات کے وقت بالکل نہ تھا عربی کے یہ الفاظ رافضی دجل پھر تھوک رہے ہیں کہ ما يقتضى انه واقع بعد موتها بل ولا حين احتضارها۔ (عکسی صفحہ خط کشیدہ سطر) کہ یہ ملاپ نہ موت کے بعد ہوا نہ موت کے وقت ہوا۔ اس صاف صاف وضاحت کے باوجود سرخی کے الفاظ اپنی دجل وفریب کاری کا فرض ادا کر رہے ہیں۔
🔸محترم قارئین کرام جس قوم کی بد دیانتی کا یہ عالم ہو اور وہ بھی دین کے معاملہ اور تلاش حق کے میدان میں تو ایسے لوگوں سے خیر کی کیا توقع رکھی جاسکتی ہے؟ اس صریح بہتان اور صاف ستھرے جھوٹ سے آخرت کا عذاب تو پکا ہوسکتا ہے مگر حق کی راہ میسر نہیں آسکتی۔ یہی وطیرہ رافضی قلم کاروں نے از اول تا آخر روا رکھا ہوا ہے کہ کتاب میں جس بات سے انکار ہو اسے اقرار بنا کر سرخی جماتے ہیں اور جس بات سے اقرار کا مفہوم ظاہر ہو اس پر انکار کا رنگ چڑھا دیتے ہیں ایسے جھوٹے اور فریبیوں سے دیانت داری کی توقع رکھنا یا خیر خواہی کی امید باندھنا سانپ کو وفادار دوست خیال کرنے کی طرح ہے جو دوست اصل کتاب کو دیکھنے کے شائق ہوں وہ دیکھیں اور تسلی فرمالیں۔
👈(فتح الباری الجز الثالث مطبوعہ، بیروت صفحہ ۱۳۲ سطر نمبر ١۲-۱۳)