حضرت عثمان عورتوں کے بڑے عاشق تھے رقیہ بنت رسول پر عاشق ہو گئے۔ (الخصائص الکبری)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر شیعہ کا الزام نمبر۔3

🔺شیعہ الزام 👇👇
(١)حضرت عثمان عورتوں کے بڑے عاشق تھے رقیہ بنت رسول پر عاشق ہو گئے۔ (الخصائص الکبری)

(٢) جناب رقیہ بنت رسول خوبصورت تھیں حضرت عثمان ان پر عاشق ہو گئے۔ (ریاض النضرہ )

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹

مشہور مثل ہے پیالے میں جو کچھ ہو باہر وہی نکلتا ہے شیعہ کتاب “تحقیقی دستاویز” والوں کے متعفن نظریات کا گٹر جب ابلنے لگے تو خیر کی توقع رکھنا حماقت ہے۔
محترم قارئین کرام خدا گواہ ہے جس طرح ان کرم فرماؤں نے دھوکہ بازی کی تمام حدود کراس کر ڈالی ہیں کم از کم میری معلومات میں ابھی تک ایسا کوئی مذہب یا شخص نہیں آ سکا جو حرمت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جھوٹ اور فراڈ بازی سے داغ دار کر ڈالے اور پھر اس غیظ جرم پر شرم بھی نہ۔
حضرات! ان دونوں کتابوں کے عکسی صفحات کو بار بار پڑھیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سیدہ رقیہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عاشق ہو گئے یہ جملہ آپ کو کہیں نظر نہ آئے گا نہ صراحتاً اس مطلب کی روایت ہے اور نہ ہی وضاحتا بلکہ یہ جملہ “عاشق ہو گئے وہی ظالمانہ حملہ اور عزت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو داغدار کرنے کی ملعون جسارت سے جو ان کے خانہ نہاں میں عرصہ دراز سے پرورش پا رہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر کیلئے یہ لفظ استعمال کرنا کہ فلاں اس پہ عاشق ہو گیا تھا‘‘ آپ ہی فرمایئے کیا یہ مسلمان کا کام یا کلام ہو سکتا ہے۔ ھم بار بار ارباب انصاف، اہل علم ، اصحاب منصب ہر عقل و شعور رکھنے والے کی خدمت میں انتہائی درد دل سے التجاء کرتے ہیں کہ وہ مذکورہ کتاب کے عکسی صفحات کا از خود مطالعہ کریں عربی سے ناواقف ان حضرات کسی عربی جاننے والے سے ان صفحات کا ترجمہ معلوم کریں اور غور فرمائیں کہ آیا یہ ترجمہ رسول پر ہو گئے یا “حضرت عثمان ان پر عاشق ہو گئے يا عاشق ہو گئے یا کوئی لفظ إن صفحات میں ہے؟ ایسے الفاظ کی موجودگی کا پتہ چلائیں؟ اگر وہ لفظ واقعی موجود ہے تو یہ کتاب نا صرف قابل اعتراض بلکہ یہ نظریہ رکھنے والے سخت سزا کے مستحق ہیں؟ ارباب اختیار کو پورا حق حاصل ہے کہ ایسے گستاخ ، ظالم اور بد بخت کو جو ابروئے رسول اور خاندان پیغمبر کی عزت و ناموس پر حملہ آور ہوا ہے۔ اسے عبرت ناک سزادیں۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ایسے ٹولے کی خوب تشہیر کر کے اللہ تعالیٰ کے آخری رسول رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو اچھی طرح آگاہ کر دیا جائے تا کہ وہ ایسے گستاخانِ پیغمبر کو منہ نہ لگائیں نہ ہی ان کے قریب بھٹکیں تا کہ ان کا ایمان و عقیده سلامت رہے لیکن اگر یہ لفظ پورے ان دو عکسی صفحات پر موجود نہ ہوں (جو عاشق ہو گئے وغیرہ کا معنی دینے والے ہوں) تو پھر اے انصاف پسند برادران ملت اور متلاشیان حق ! انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ کم از کم اتنا اعلان تو کر دیا جائے کہ جن کے اندر نا موس پیغمبر کے خلاف یہ لاوا پکتا ہے وہ نامسلمان ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے وفادار بلکہ وہ گستاخ رسول اور دشمن اسلام ہیں جو دھوکہ بازی سے اہل ایمان کا عقیدہ برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اگر تحقیقی دستاویز میسر نہ ہو سکے تحقیقی دستاویز کے مذکورہ عکسی صفحات ہم یہاں درج کر دیتے ہیں۔
محترم حضرات! غور کرنے کی بات ہے کہ جس کتاب میں عاشق ہو گئے ” کا لفظ تو کیا شائبہ بھی نہیں اس کی آڑ لے کر یہ سرخی قائم کرنا کتنا بڑا ظالمانہ حملہ ہے اور وہ بھی بلا واسطہ براہ راست ذات رسول پر کیا ہے کوئی شخص جس کی بیٹی کے بارے میں یہ کہا جائے کہ فلاں اس پر عاشق ہو گیا تھا اور وہ آدمی اپنی بیٹی کے بارے میں یہ جملہ سن کر برداشت کرے اور خاموش ہو جائے ۔ تو عزت آبرو کا مسئلہ ہے جہاں ہر طرح کی رو رعایت اور مصلحت پسندی کو بالائے ناک رکھ دیا جاتا ھے ، لہذا شخص اپنی بیٹی کے بارے میں یہ الزام سن کر مرنے مارنے پر اتر آئے گا۔ پھر کیا ہمارے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اتنے لاوارث رہ گئے جس کے امتی ان کی بیٹی پر الزام سن کر بھی چپ ہی سادھ لیں اور خاموش بیٹھ جائیں اگر ایسا ھے تو یہ بڑے خسارے کی بات ہے۔

🔸(٢)حسین و جمیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد بھی جمیل وخوبصورت ہوتی ہے کسی کی اولاد اگر خوبصورت ہو تو یہ اس کے لئے عیب یا الزام کی بات نہیں صرف حضرت سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا ہی نہیں بنت رسول زوجہ حیدر کرار رضی اللہ عنہا کو بھی اللہ تعالیٰ نے جمال و کمال سے نوازا ہوا ہے اور روایات میں ازواج حسنین کریمین کے بارے میں اس طرح کے الفاظ موجود ہیں نا یہ کوئی غلط بات ہے اور نہ لائق الزام چیز بلکہ یہ ایک خانگی معاملہ ہے جسے معلومات کی حد تک تاریخوں میں لکھا جاتا ہے کرام دینے کیلئے عکسی صفحات کے ذریعے پروپگنڈا کیلئے یہ چیز نہیں ہوتی ھاں مگر جس کا دل ٹیڑا ہو اس کے کام بھی خیر سے سیدھے نہیں ہوتے۔ وہ ایک خانگی معاملے کو اچھالے تو مرض باطن سے مجبور کوکون روک سکتا ہے۔