حضرت زبیررضی اللہ عنہ کے سر لانے کا انکار اور اقرار! انجنیئر محمد علی مرزا کی علمی حیثیت

انجینئر محمد علی مرزا کا علم ملاحظہ فرمائیں.

ایک موقعہ پر تسلیم کررہا ہے کہ

سیدنا زبیر رضی اللہ کا سر کاٹ کر حضرت علی رضی اللہ کے سامنے نہیں لایا گیا

سوال پوچھنے والے نے باقائدہ حضرت زبیرؓ  کا نام  پوچھ کر تصدیق کی اور جوابآ انجنیئر مرزا نے دوٹوک انداز میں کہا کہ

 پہلی بار حضرت عمار بن یاسرؓ کا سر کاٹ کر حضرت امیر معاویہؓ کے سامنے لایا گیا تھا۔ اس سے پہلے کبھی کسی کا سر نہیں لایا گیا۔

 یاد رہے کہ حضرت زبیرؓ کی شہادت جنگ جمل (10 جمادی الاول سن 36 ھجری ) کے بعد واپس جاتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ایک سپاہی عمیر بن جرموز کے ہاتھوں بصرہ کے قریب ہوئی تھی اور حضرت عمار بن یاسرؓ کی شہادت جنگ صفین (سن 37 ھجری) میں ایک سازشی گروہ کے ہاتھوں ہوئی تھی۔

غور سے سنیں۔۔  موصوف نے  فرمایا کہ حضرت امیر معاویہؓ کے سامنے حضرت عماربن یاسر رضی اللہ کا سر کاٹ کر لایا گیا اور یہ اسلامی تاریخ میں پہلی بار ہوا تھا!

ویسے تو انجنیئر مرزا ریسرچ پیپرز لکھنے میں بڑی مہارت رکھتا ہے تو پھر دونوں بیانات میں اتنا تعارض کیوں؟؟

غور سے سنیں ۔۔۔ یہی انجنیئر مرزا صاحب دوسرے موقعہ پر اپنی پہلی بات سے صاف مکرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ

حضرت علی کے سامنے جب سیدنا زبیر کا کٹا ہوا سر لایا گیا تو انہوں نے قاتل  کو جہنم کی وعید سنائی!!

وڈیو کے پہلے حصے میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے سر لانے کا انکار دوسرے حصے میں سر لانے کا اقرار

اب اس جاہل بندے کی پیروی کرنے والے ذرا غور کریں کہ کیا یہ اتنا علم رکھتا ہے کہ دین کے معاملے میں اس کی باتوں کا یقین کر لیا جائے؟؟

        

ڈاؤن لوڈ