نواسہ رسول سیدنا حسین رضی اللہ عنہ

نواسہ

🔴نواسہ رسول سیدنا حسین رضی اللہ عنہ🔴

🔹نام مبارک: حسین،

🔹کنیت: ابو عبد اللہ،ریحانۃ الرسول۔

🔹نسب نامہ: حسین بن علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف قرشی ہاشمی۔

🔹ولادت باسعادت: 4/شعبان المعظم سن 4/ہجری، بمقام مدینہ منورہ

🔹شہادت:10 /محرم الحرام سن 61/ہجری بروز جمعہ سر زمین عراق میں کربلا کے مقام پر اسلام کی تحفظ کی خاطر دین کے دشمن اہل کوفہ کے دھوکہ مکر وفریب سے جام شہادت نوش فرمایا

🔹عمرمبارک: اس وقت آپ کی عمر مبارک 54/سال کی تھی۔

🔹ازواج :
{۱} شہر بانو۔
{۲} ام رباب۔
{۳}ام لیلی۔
{۴} ام اسحاق۔

🔹اولاد:
{۱} علی اکبر
{۲} علی،جو زین العابدین سے مشہور ہیں
{۳}علی اصغر
{۴}ام کلثوم
{۵}سکینہ
{۶}فاطمہ

🔹فضائل و مناقب:🔹

🔺(1) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا:حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔

[جامع تر مذی،کتاب المناقب،باب مناقب الحسن والحسین رضی اللہ عنہما،حدیث:۳۷۶۸]

🔺(2) حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں ،اللہ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرتا ہے ،حسین میری اولاد میں سے ایک فرزند ہیں۔۔

[جامع تر مذی،کتاب المناقب،باب مناقب الحسن والحسین رضی اللہ عنہما،حدیث:۳۷۷۵]

🔺(3) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا:جس نے حسن اور حسین سے محبت کیا اس نے مجھ سے محبت کیا اور جس نے ان دونوں سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی۔

[ابن ماجہ،فضل الحسن والحسین ابنی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنھم ،حدیث:۱۴۳]

🔺(4) حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ کے اہل بیت میں آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:حسن اور حسین۔راوی بیان کرتے ہیں کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاسے کہتے”میرے دونوں بیٹے کو بلاؤ{جب سیدنا امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو لایا جاتا}تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں صاحبزادوں کو سونگھتے اور اپنے ساتھ چمٹا لیتے۔
{جامع تر مذی،کتاب المناقب،باب مناقب الحسن والحسین رضی اللہ عنہما،حدیث :۳۷۷۵}

🔺(5) حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:ہم لوگ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دعوت کھانے نکلے۔ حضور نے گلی میں امام حسین رضی اللہ عنہ کو کھیلتے ہوئے دیکھا ۔توآپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے آگے بڑ ھ گئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا دیا ،حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اِدھر اُدھر بھاگنے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو ہنساتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو پکڑ لیا پھر آپ نےاپنا ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا سر پر رکھ کر ان کو بوسہ دیا اور ارشاد فر مایا:حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے،اللہ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرتا ہے۔

[ابن ماجہ،فضل الحسن والحسین ابنی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنھم ،حدیث:۱۴۴]

🔺(6) ام الفضل بنت حارث بیان کرتی ہیں کہ:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی اور میں نے حضور سے عر ض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،میں نے رات کو ایک بہت ہی غلط خواب دیکھا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : کیا دیکھا ہے؟حضرت ام الفضل بنت حارث کہتی ہیں کہ:میں نے کہا:یا رسول اللہ وہ بہت ہی خطرناک خواب تھا ،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:تم نے دیکھا کیا ہے؟میں نے کہا:یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،میں نے دیکھا کہ آپ کے جسم مبارک کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں رکھ دیا گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:تم نے اچھا خواب دیکھا ہے۔ان شاء اللہ ،فاطمہ کے یہاں ایک لڑ کا پیدا ہو گا جو تمہاری گود میں رکھا جائے گا۔پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فر مانے کے مطابق حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے اور وہ میری گود میں رکھے گئے۔پھر میں ایک دن حضور کے پاس گئی تو حضور ان کو اپنے گود میں رکھے ہوئے تھے۔میں تھوڑی دیر کے لئے دوسری طرف متوجہ ہوگئی ،پھر دیکھا تو حضور کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے۔میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قر بان ہوں،یا رسول اللہ ،آپ کو کیا ہوا؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:میرے پاس جبر ئیل آئے اور مجھے بتایا کہ:میری امت کے لوگ میرے اس بیٹے کو قتل کر دیں گے ،میں نے پوچھا:اِس بیٹے کو،حضور نے فر مایا:ہاں اِس بیٹے کو اور مجھے اس کی شہادت کی جگہ کی سرخ مٹی بھی لا کر دی۔
[المستدرک علی الصحیحین للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابہ،اول فضائل ابی عبد اللہ الحسین بن علی الشھید رضی اللہ عنہما ،حدیث:۴۸۱۸]

🔺(7) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ:ہمیں اور اہل بیت کرام کو اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ:حسین بن علی رضی اللہ عنہما ارض”طف”یعنی کر بلا میں شہید کئے جائیں گے۔
[المستدرک علی الصحیحین للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابہ،اول فضائل ابی عبد اللہ الحسین بن علی الشھید رضی اللہ عنہما ،حدیث:۴۸۲۶]

🔺(8) حضرت عبید اللہ بن ابی رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے کان میں اذان دیتے ہو دیکھا۔
[المستدرک علی الصحیحین للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابہ،اول فضائل ابی عبد اللہ الحسین بن علی الشھید رضی اللہ عنہما ،حدیث:۴۸۲۷]

🔺(9) حضرت مولی علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:جب حسن کی پیدائش ہوئی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فر مایا: مجھے میرا بیٹا دیکھاؤ،تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟میں نے کہا “حرب”حضور نے فر مایا:نہیں وہ”حسن “ہے۔پھر جب حسین پیدا ہوئے تو حضور تشریف لائے اور فر مایا:مجھے میرا بیٹا دیکھاؤ،تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟میں نے کہا”حرب” حضور نے فر مایا: نہیں وہ”حسین” ہے۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ:پھر جب تیسرے لڑ کے کی پیدائش ہوئی تو حضور تشریف لائے اور فر مایا: مجھے میرا بیٹا دیکھاؤ،تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟میں نے کہا”حرب”حضور نے فر مایا:نہیں وہ”محسن” ہے۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا:میں نے اپنے بیٹوں کا نام ہارون علیہ السلام کے بیٹوں کے نام ”شبّر، شبّیر، مبشّر، پر رکھا ہے۔
[المستدرک علی الصحیحین للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابہ،ومن مناقب الحسن والحسین ابنی بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث:۴۷۷۳]

🔺(10) حضرت عبد اللہ بن شداد الھاد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں :وہ بیان کرتے ہیں کہ:ظہر یا عصر کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ آپ اپنے دونوں صاحبزادے “حسن یا حسین”میں سے کسی ایک کو اپنی گود میں لئے ہوئے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑ ھانے کے لئے آگے بڑھے تو ان کو اپنے داہنے پیر کے پاس رکھ دیا ۔پھر جب آپ سجدے میں گئے بڑا لمبا سجدہ فر مایا۔عبد اللہ کہتے ہیں کہ :میرے والد نے کہا کہ:میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ حضور سجدے میں ہیں اور صاحبزادہ حضور کی پشت انور پر ہیں،تو میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا۔پھر جب حضور نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے کہا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،آج آپ نے نماز میں جیسا سجدہ کیا ایسا کبھی نہ کرتے تھے،آپ کو اس کا حکم دیا گیا یا آپ کی طرف وحی کی جار ہی تھی؟حضور نے فر مایا:ایسی کوئی بات نہیں ہے،”ولکن ارتحلنی ابنی فکر ھت ان عجلہ حتی یقضی حاجتہ”بات یہ ہے کہ میرا بیٹا میری پشت پر سوار تھا تو میں نے جلدی کرنا ،ناپسند کیا یہاں تک کہ وہ اپنا جی بھر لے۔
[المستدرک علی الصحیحین للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابہ،ومن مناقب الحسن والحسین ابنی بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث:۴۷۷۵]

🔺(11) حضرت ابو بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین رضی اللہ عنہما آگئے ۔وہ دونوں چل رہے تھے اور گر رہے تھے۔تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اُترے اور ان دونوں کو اٹھا کر اپنے سامنے بیٹھا دئیے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:اللہ تعالی نے سچ فر مایا ہے کہ”بے شک تمہارے مال اور اولاد تمہارے لئے آزمائش ہیں”{سورہ تغابن ،آیت:۱۵۰} میں نے ان دونوں بچوں کو چلتے اور گرتے دیکھا تو صبر نہ کر سکا اور اپنی بات کو کاٹ کر دونوں کو اٹھا لیا۔

[ترمذی،کتاب المناقب ، باب مناقب الحسن والحسین رضی اللہ عنہما،