حضرت امیر معاویہ کاتب وحی: اہل سنت اور اہل تشیع کتب

*امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ آپ ان لوگوں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو یہ کہے کہ سیدنا معاویہ رضی الله عنہ کاتب وحی ہیں نہ ہی خال المومنین ، بلکہ تلوار کے زور پر اُنہوں نے خلافت غصب کی؟ امام صاحب نے فرمایا :ان کا یہ قول بہت بُرا اور پھینک دینے کے قابل ہے ، ایسوں سے لوگوں کو بچنا چاہیے ان کے پاس بیٹھنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔بلکہ لوگوں کے سامنے اِن کا یہ معاملہ بیان کرنا چاہیئے۔*

 (السنة لابی بکر الخلال جلد 1، ص 340 ) 

*اللہ اکبر! امام احمد بن حنبل جیسے جلیل القدر بزرگ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض کرنے والوں کے اقوال کو کس طرح بُرا کہا ، اور نصیحت بھی فرمائی کہ ایسے اقوال جو کسی صحابی کی شان میں توہین و تنقیص کا باعث بنیں انہیں پھینک دو ، اور ایسے لوگوں کی صحبت بھی ترک کردو ، بلکہ ایسوں کے باطل عقائد و نظریات دوسرے لوگوں کو بتاؤ ، تاکہ وہ ان سے اپنا ایمان بچا سکیں*

سیدنا معاویہ ؓ کے ہاتھ کا لکھا قرآن!

کاتب وحی سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ؓ کہ جن کے ہاتھ کا لکھا قرآن ہم مسلمان پڑھتے ہیں! اسلامی تاریخ میں اس سے بڑھ کر اور کیا مقام ہوگا کہ جس کو اللہ نے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ کے مصداق کے طور پر پسند فرما کر چن لیا! الا ان کے کہ جو اس قرآن میں مانے ہی نا!

زیر نظر تصاویر میں سیدنا معاویہ ؓ کے ہاتھ کے لکھے کچھ کتبے دیکھے جا سکتے ہیں۔ پہلا کتبہ جو کہ تقریباً 40 ہجری کا ہے اور اس پر کندہ الفاظ کو ساتھ لکھ کر واضح کیا گیا ہے۔

دوسرے کتبے میں کندہ الفاظ قرآن خاصے واضح ہیں اور یہ کتبہ بئیر معاویہ ؓ جو کہ طائف کے قریب ہے جہاں سے کہ یہ تختیاں ملی تھی، (58 ہجری میں) اور اس کا نام معاویہ ؓ کے نام پر ہی رکھ دیا گیا اور آج بھی یہ وہاں طائف کے قریب صحیح سلامت موجود ہے۔ بعد ازاں اس بیئر کی ملکیت بھی سیدنا معاویہ ؓ کی طرف منسوب ہوئی جس کی وجہ سے بئیر معاویہ ؓ (Dam of Muaviya r.a) نام معروف ہوا۔
یہ تصویر 70ء کی دہائی کی تصویر ہے۔

البتہ اس کتبے میں کچھ الفاظ کے رسم الخط معروف عربی رسم الخط یعنی جو قریش اور بدو قبائل میں زیادہ معروف تھا جس کو کہ کوفی رسم الخط کہتے ہیں، ان سے کچھ مختلف تھے۔
ان کو سیدنا معاویہ ؓ نے کوفی رسم الخط میں اپنی زیر نگرانی تبدیل کروا کر مصحف کی شکل میں مرتب کروایا۔ یہ کام تقریباً 50 ہجری تک مکمل ہوگیا۔

زیر نظر مصحفی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اب الفاظ کندہ ہونے کی بجاۓ روشنائی سے لکھے گئے ہیں اور رسم الخط بھی واضح ہے۔ یہ اس وقت کے خام کاغذ پر لکھا گیا قرآن کا قلمی نسخہ ہے۔

یہ مصحف معاویہ ؓ آج بھی یمن کے عجائب گھر میں موجود ہے جہاں سے کہ اس کی یہ تصویر لی گئی ہے۔

ان تصاویر کی صحت کی دلیل کے لئے محدث عصر شیخ مصطفے الاعظمی رحمہ اللّٰہ کی کتاب The History of Quranic Text، وہ تحقیقی ریسرچ ورک کہ جس میں شیخ نے قرآن مجید کی روز اول سے آج تک لفظی و تحریری تاریخ کو دلائل سے بیان کر کے ثابت کیا ہے اور تاریخی و تصاویری ثبوت بھی فراہم کئے ہیں، اور جہاں سے یہ تصاویر بھی حاصل کی گئی ہیں، کی تصویر بھی ساتھ اٹیچ کر دی گئی ہے!

تاریخ چاہیے تو تاریخ لیں! یہ ہے ہماری تاریخ! اور اس کا روشن اور ناقابل فراموش باب اور ستارہ ہیں معاویہ ؓ!