حضرت امیر معاویہ نے رسوا کن اور حیا سوز بدعات ممبروں پر تبرا بازی ایجاد کی اور بحکم امیر معاویہ منابر پر حضرت علی کی شان میں گستاخی کی گئی۔ معاذاللہ

شیعہ اعتراض

1.معاویہ نے رسوا کن اور حیا سوز بدعات ممبروں پر تبرا بازی ایجاد کی

2۔ بحکم امیر معاویہ منابر پر حضرت علی ع کی شان میں گستاخی کی گئی۔

۔دونوں اعتراض حضرت عمر بن عبدالعزیز کی کتاب سے لیے گئے ہیں

 الجواب:

مذکورہ کتاب اہلسنت کی نہیں کوئی تقیہ باز بزرگ  یہ سیاہ کارنامہ سر انجام دے رہا ہے ورنہ اس میں ایسے خلاف واقع اور بدیہی جھوٹ نہ لکھے ہوتے۔

مذکورہ عکسی صفوں کے “تقیہ” یعنی جھوٹ کے نمونے ملاحظہ فرمائیں۔

١۔ جب یہ بات(علی) لگاتار لوگوں کے کان کھٹکھٹاتی رہے گی اور لوگوں کے دلوں میں ٹھونسی جاتی رہے گی تو ضرور لوگ اس سے متاثر ہوں گے اور ان کے دل ہماری طرف جھک جائیں گے (صفحہ371)

کیا گالیوں سے عوام کے دل جیتے جا سکتے ہیں اور یہ کہ مُسلسل گالیاں دینے والوں کے پیچھے صحابہ کرام نماز پڑھتے رہے ہوں گے؟

کیا سب علی رضی اللہ عنہ کرنے والوں کی اقتدا میں پڑھی ہوئی نماز قبول ہوگی اور ایسے امام کا عزل کیا واجب نہیں؟؟؟

اگر ہے تو ایسے شخص حضرت امیر معاویہ کو حضرت حسن و حسین نے حکومت کیوں دی؟؟

یزید کے خلاف کربلا تشریف لے گئے تو اس بدترین بدعت کے خلاف قدم کیوں نہ اٹھایا ؟؟

کیا یہ جھوٹ سینکڑوں جھوٹ پیدا نہیں کرتا۔۔؟؟.

٢۔لوگوں کے دلوں میں یہ بات بٹھا دی کے خلافت میں بنو ہاشم کا حصہ نہیں

(صفحہ 371)

کیا حدیث پاک میں کہیں یہ بھی ہے کہ خلافت صرف بنو ہاشم کا حصہ ہے حالانکہ احادیث میں قریش کا ذکر ہے ۔

لاکھ چھپائے مگر تقیہ کی ٹیوب لیک ہو ہی جاتی ہے۔ یہ جملہ کہ لوگوں کے دلوں میں یہ بات بٹھا دی گئی کہ خلافت بنو ہاشم کا حصہ نہیں مصنف کتاب کے رفض کی کیا کافی دلیل نہیں؟؟

٣۔ اسے (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کو خلافت تک پہنچنے کا حق حاصل نہیں

تحقیقی دستاویز صفحہ 371

حالانکہ حضرت علیؓ کا خلیفہ حق یعنی خلیفہ راشد ہونا مسلم ہے اہل سنت والجماعت بالیقین حیدر کرار رضی اللہ عنہ کو خلفائے راشدین میں شمار کرتے ہیں

۴۔ آپ کی رائے اور گمان کے خلاف یہ بدعت لوٹ گئی تھی۔ تحقیقی دستاویز صفحہ 372

حالانکہ خود مصنف کتاب کا خیال ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے زمانہ خلافت تک یہ سب و شتم والی بدعت جاری رہی تھی کہ اس تضاد بیانی کو شعبدہ گاہ یا تقیہ ریسٹ ہاؤس کے سوا کسی اور جگہ پناہ مل سکتی ہے

۵۔ معاویہ نے عید بقر عید کے خطبوں کو مقدم کر دیا صفحہ 372

حالانکہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عیدین پر خطبہ کو ہرگز مقدم نہیں کیا یہ صرف تبرہ باز کا گھڑا ہوا افسانہ ہے (خطبہ کے بعد) طالبی یہ حضرات جمع ہوتے اور اپنی تمام لعنتیں بنو امیہ پر الٹ دیا کرتے تھے صفحہ 372

گویا لعنت کی بدعات میں تمام اہل اسلام شریک تھے آل رسول بھی اور بنو امیہ بھی۔

بنو امیہ نماز سے قبل لعنت کرتے اور بنو ہاشم نماز کے بعد لیکن دونوں طرح کے حضرات اس بدعت میں شریک تھے یہ ہے اصل رافضیت جو کسی کو معاف نہیں کرتی

ارباب انصاف غور فرمائیں اگر لعنت کرنا جرم اور بدعت ہے تو بقول مذکورہ صاحب کتاب کے یہ جرم اور بدعت بنوہاشم بھی کرتے تھے پھر دونوں میں سے ایک کو گالیاں دینا اور ایک سے محبت کا اعلان کرنا کس دین کا پتہ دیتا ہے۔

ان دو صفحوں میں تقریبا ہر دوسرا جملہ جھوٹ پر مبنی ہے جو کسی مسلمان کا کام نہیں تقیہ آشنا پارٹی کا یہ محبوب مشغلہ ہے ۔

رافضی ڈبل ظلم کرنے سے کم از کم باز آئیں تو بہتر ہوگا ایک طرف اہل سنت کی کتابوں میں اپنا گند ڈال دیا تو دوسری طرف رافضی تحریرات کو اہلسنت کے کھاتے میں ڈال دیا کم از کم اپنی دینی کتابیں تو اپنے کھاتے میں ڈالے رہو