حضرت امیر معاویہ حضرت علی ، امام حسن،  امام حسین  اور ابن عباس  پر لعنت کرتا تھا۔ معاذاللہ (البدایہ والنہایہ)

شیعہ اعتراض

حضرت امیر معاویہ حضرت علی ، امام حسن،  امام حسین  اور ابن عباس  پر لعنت کرتا تھا (البدایہ والنہایہ)

الجواب:

جس کا کام دھوکے کی دکان سجانا ہو اس سے اس طرح کی خیانت پر تعجب کرنا خود باعث تعجب ہے۔

رافضی کی آنکھیں بھی وہی کچھ دیکھتی ہیں جس سے اس کے دل کو تسکین ہو اور بس وہ تو خیر اللہ تعالی کی دی ہوئی آنکھوں سے صرف چراغ ایمان کے گل کرنے اور فنا کرنے کا سامان ھی تلاش کرتے ہیں ہم ارباب انصاف سے مذکورہ عبارت پر نظر انصاف ڈالنے کی درخواست کرتے ہیں۔

البدایہ کی عبارت کا حاصل یہ ہے کہ حضرت علیؓ کو جب خبر پہنچی کہ جو حضرت عمرو بن عاص نے کیا ہے تو حضرت علیؓ قنوت میں معاویہ رضی اللہ عنہ، عمر ابن عاص، ابو اعور اسلمی، حبیب بن مسلمہ، ضحاک بن قیس، عبدالرحمن بن خالد ، ولید بن عتبہ رضی اللہ عنہم اجمعین پر لعنت کرتے تھے جب یہ خبر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ قنوت میں حضرت علی حسن و حسین ابن عباس رضی اللہ عنہ اشتر نخعی ملعون پر لعنت کرنے لگے یہ واقعہ صحیح نہیں ملاحظہ فرمائیں

1۔  اس روایت میں لکھا ہوا ہے کہ ابتدا لعنت کرنے کی حضرت علیؓ نے کی

2۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جوابا لعنت کرنا شروع کی

3۔ صاحب کتاب کہتا ہے کہ یہ خبر سراسر جھوٹ ہے ان باتوں پر غور فرمائیے اور خدارا انصاف فرمائیے کیا حیدر کرار کی مقدس ذات ایسا کام کرسکتی ہے جس کو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہو اور پھر کوئی مسلمان ایسا ہو سکتا ہے جو آل رسول کے بارے میں لعنت کے لفظ بول سکے اور بالفرض کوئی ایسا ہو بھی تو کیا کوئی مسلمان ال رسول پر اس طرح کی زبان درازی سن کر برداشت کر سکتا ہے؟؟

رافضی کو نہ حیدر کرار رضی اللہ عنہ کی پاک ذات کا کچھ پاس لحاظ ہے اور نہ ہی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا وہ تو صرف زبان یہود کا سپیکر ہے ورنہ خود ہی غور فرمائیے جس خبر کو سنی لکھاری لکھ کر خود اعلان کر رہا ہے کہ یہ جھوٹی بناوٹی اور اڑائی ہوئی خبر ہے اس جھوٹی خبر کا اعلان اور نشر و اشاعت بھلا کس کا کام ہے؟

البدایہ کے مذکورہ اسی صفحہ پر اس روایت کی سند یوں لکھی ہوئی ہے فذکر ابی مخنف عن ابی حباب الکلبی ان علیا الخ۔

اس سند سے قصہ کی حقیقت بڑی اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اس روایت کا مرکزی کردار جناب ابو مخنف رافضی صاحب ہیں جس کے بارے میں ہم کئی اعتراضات اور کئی مقامات پر  وضاحت سے لکھ چکے ہیں یہ شخص جلا بھنا رافضیت تبرائی شخص اور صحابہ کرام کے خلاف جھوٹی باتیں گھڑ گھڑ کے پھیلانے والا ذاکر تھا اس کی زندگی اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے میں بسر ہوئی ہے جس روایت کا گھڑنے والا تبرائی جلا بھنا رافضی ہو اس کی بات کو الزام میں پیش کرنا مضحکہ خیز ہے۔

ہم پھر عرض کرتے ہیں حیدرکرار رضی اللہ عنہ کی ذات مقدس پر سب کرنے کی کہانی یار لوگوں نے گھڑی اور اہل سنت کی کتابوں میں ملا دیں بعض نادان قلمکاروں نے آنکھیں بند کرکے ان رافضیوں کی جھوٹی کہانیوں کو تاریخ جان کر اپنی کتابوں میں لکھ مارا حالانکہ جس کی ابتدا جھوٹ ہو اس کی آخری اور انتہا بھی جھوٹ ہی ہوتی ہے ۔

ہمارے نزدیک جیسے حیدرکرار رضی اللہ عنہ کا کسی کو لعنت کرنے والا قصہ جھوٹا ہے ایسے ہی حضرت علیؓ پر لعنت کرنے والا قصہ روافض کا خبث باطن ہےحقیقت کچھ نہیں کہ یہ قصہ جھوٹا ہے جو بیان کیا گیا محترم قارئین کرام البدایہ کا مذکورہ حوالہ اور اس کے یہ الفاظ ذہن میں محفوظ رکھیں “لایصح ھذا

تاکہ قریب آمدہ عکسی صفحوں کے جواب میں یہ الفاظ رافضی دجل کا پردہ چاک کرتے رہیں کیونکہ بعد والی کتابوں کا ماخذ بھی البدایہ کی یہی ابو مخنف جھوٹے مکار جلے بھنے رافضی کی روایت ہے