حضرت امیر معاویہؓ کی مذمت اور برائی والی روایات جھوٹی گھڑی گئی ہیں (علماء اہل سنت) از مولانا علی معاویہ

مسلمان بھائیوں کو السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برلاتہ

قارئین کرام گذشتہ جوابات میں آپ کے سامنے چند محدثین کے اقوالات اور اس بات کی حقیقت واضح کی گئی کہ

سیدنا معاویہؓ کے فضائل میں جھوٹی روایات گھڑی گئی ہیں، اسی طرح جس طرح نبی کریم، سیدنا علی اور دوسرے صحابہ کرام کے لئے بھی جھوٹی روایات اور جھوٹے فضائل گھڑے گئے ہیں۔

اس پارٹ میں ان شیعہ رافضیوں کے چند دوسرے اعتراضات کا رد کیا جائے گا۔

جیسا کہ آپ کے سامنے منکرین فضائل معاویہ یہ تو کہتے ہیں کہ ان کے فضائل میں جھوٹی روایات گھڑی گئی ہیں، لیکن یہ بات چھپاتے ہیں کہ

سیدنا معاویہؓ کی مذمت اور برائی بیان کرنے میں بھی مخالفین نے جھوٹی روایات گھڑیں ہیں۔

ملا علی قاری ؒ لکھتے ہیں کہ

وَمِنْ ذَلِكَ الْأَحَادِيثُ فِي ذَمِّ مُعَاوِيةَ وَذَمِّ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَذَمِّ بَنِي أُمَيَّةَ

 ان جھوٹی روایات میں سے وہ بھی ہیں جن میں معاویہؓ، عمرو بن عاصؓ اور بنو امیہ کی برائی بیان کی گئیں ہیں۔

الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة جلد 1 صفحہ 455

علامہ ابن قیم المنار المنيف في الصحيح والضعيف جلد 1 صفحہ 117 پر لکھتے ہیں کہ

ومن ذلك الأحاديث في ذَمُّ مُعَاوِيَةَ، وَكَلُّ حَدِيثٍ فِي ذَمِّهِ فَهُوَ كذب.

وَكُلُّ حَدِيثٍ فِي ذَمِّ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فهو كذب.

وَكُلُّ حَدِيثٍ فِي ذَمِّ بَنِي أُمَيَّةَ فَهُوَ كذب.

یعنی ان جھوٹی روایات میں سے وہ بھی ہیں جن میں معاویہؓ کی برائی بیان کی گئیں ہیں، ھر وہ روایت جو معاویہؓ، عمرو بن عاصؓ اور بنو امیہ کی برائی میں ہو وہ جھوٹی ھے۔

اس کے ساتھ ساتھ شیعہ مؤرخ مسعودی کی کتاب مروج الذھب جلد 3 صفحہ 534 مترجم میں ھے کہ

212 ھجری میں مامون نے اعلان کروایا کہ جس نے بھی معاویہ کا ذکر بھلائی کے ساتھ کیا یا اسے کسی صحابی پر مقدم کیا تو میں اس کی حفاظت سے بری ہوں۔

اب منکرین فضائل معاویہ یہ بتائیں کہ تم یہ باتیں کیوں چھپاتے ہو؟؟

کیوں یہودیوں کی طرح تُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ والی حرکت کر کے بعض باتوں کو مانتے ہو اور بعض کو نہیں مانتے؟؟

اور تمھارے اصول کے مطابق تو یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کی برائی کی جو بھی روایات ہیں چاہے وہ صحیح ہوں یا حسن (بقول تمہارے)، وہ سب جھوٹی ہیں،

کیونکہ تم ہی سیدنا معاویہؓ کے فضائل میں موجود روایات کو چاہے وہ صحیح ہوں یا حسن ، انہیں جھوٹا قرار دیتے ہو تو جس کے فضائل جھوٹے ہوسکتے ہیں ، اس کے بارے میں بری روایات بھی تو جھوٹی ہوسکتی ہیں۔

اب آتے ہیں علامہ ابن حجرؒ کے قول کی طرف جس کا رد میں اپنی وڈیو میں بھی کر چکا ہوں۔

سیف الاسلام رافضی نے ابن حجر ؒ نے نقل کیا ھے کہ

امام بخاری نے “ذکر معاویہ” کا نام سے باب قائم کیا ہے نہ کہ “فضائل معاویہ” یا “مناقب معاویہ” کیونکہ معاویہ کے متعلق ایسی کوئی حدیث ثابت نہیں۔۔۔ابن ابی عاصم، ابو عمر غلام ثعلب اور ابع بکر النقاش اور ابن جوزی نے کتاب موضوعات میں معاویہ کے مناقب کے متعلق لکھا ہے پھر اس کے بعد ابن جوزی نے اسحاق بن راھویہ کی رائے درج کی ہے کہ معاویہ کے فضائل میں کوئی صحیح حدیث موجود نہیں اسی لئے بخاری نےاس میں “ذکر معاویہ” کا نام سے باب قائم کیا ہے نہ کہ “فضائل معاویہ” سے۔

الجواب:

۱، امام بخاری کے ذکر معاویہؓ کے عنوان سے باب باندھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ سیدنا معاویہؓ کے فضائل ہی نہیں کیونکہ امام بخاری نے صرف معاویہؓ کے نہیں بلکہ ‘‘ذکر عباس بن عبد المطلب،، ذکر مصعب بن عمیر،، ذکر طلحہ بن عبید اللہ’’ کے عنوانات سے بھی ابواب قائم کئے ہیں، لیکن ان کے بارے میں کوئی بھی نہیں کہتا کہ ان کے بھی فضائل نہیں؟؟

تو یہ بات صحیح نہیں۔

۲، یہاں بھی سیف الاسلام رافضی نے ابن حجرؒ کی عبارت میں خیانت کرکے بیچ میں موجود ان الفاظ کو نہیں لکھا جو سیدنا معاویہؓ کے فضیلت میں ہیں۔ وہ یہ الفاظ ہیں

لَان ظَاهر شَهَادَة بن عَبَّاسٍ لَهُ بِالْفِقْهِ وَالصُّحْبَةِ دَالَّةٌ عَلَى الْفَضْلِ الْكثير

کیونکہ ظاہری طور پر ابن عباسؓ کی حضرت امیر معاویہؓ کے لیے فقیہ اور صحابیت کی گواہی دینا حضرت امیر معاویہؓ کی بہت بڑی فضیلت  ہے۔

تو اس سے کم سے کم اتنا تو منکرین فضائل معاویہ مان لیں کہ معاویہؓ کو فقیہ اور صحابی ھونے کی فضیلت ابن حجرؒ مانتے ہیں۔

باقی امام اسحاق بن راھویہؒ اور دوسرے ائمہ کے اقوالات کی حقیقت تو پہلے اور دوسرے پارٹ میں واضح کرچکا ہوں۔

ہوسکتا ھے کوئی یہ کہے کہ ہماری بحث یہاں نبی کریم ﷺ سے معاویہؓ کے فضائل میں احادیث پر ہے نہ کہ دوسروں سے۔

تو میں ان سے یہ کہونگا کہ تم سیدنا معاویہؓ کے بارے میں یہ اقرار کردو کہ صحابہ کرامؓ سیدنا معاویہؓ کی فضیلت کے قائل تھے۔

باقی رہا نبی کریمﷺ سے فضائل معاویہؓ کا ثبوت، تو وہ ثابت کرنا ھمارا کام ہے

بس انتظار کرو تھوڑا۔

ان شاء اللہ باقی اعتراضات کا جواب اگلے پارٹ میں۔