حضرت ابوبکر نے خاتون جنت کے دعوی پر یقین کرنے سے انکار کر دیا (تفسیر رازی)

شیعہ اعتراض

حضرت ابوبکر نے خاتون جنت کے دعوی پر یقین کرنے سے انکار کر دیا (تفسیر رازی)

الجواب:

(١) امام رازی رحمہ الله کی مذکورہ عبارت میں نہ تو کوئی ایسا لفظ ہے جو خلاف شریعت ہو اور نہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بے ادبی کا کوئی مفہوم یہاں سے ظاہر ہوتا ہے عربی ترجمہ سے ناواقف اپنی زبان میں امام رازی رحمہ اللہ کی عبارت ملاحظہ فرمائیں۔

“جب سیدہ نے فدک کے حصول کی درخواست کی تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا:
مجھے فقراء اور مالداروں میں سب لوگوں سے زیادہ معزز اور محبوب آپ ہیں مگر بغیر گواہوں کے بات کا قبول کرنا (شرعاً درست) نہیں تو ام ایمن رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ کے ایک غلام نے گواہی دی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایسے گواہ مانگے جن کی شرعاً گواہی معتبر ہو
چنانچہ ایسے گواہ موجود نہ تھے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وہی فیصلہ جاری فرما دیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاری فرماتے تھے۔ (فدک کے حاصل شده مال سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اہل بیت رسول پر خرچ کرتے تھے جیسے حضورﷺ خرچ کرتے تھے۔ بقیہ مال فقرا کے علاوہ مجاہدین، اسلحہ اور جہاد کے امور پر خرچ فرماتے تھے پھر اس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تحویل و نگرانی میں دے دیا اور وہ اسی طرح خاندان نبوی پر خرچ کرتے تھے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آخری دور خلافت میں وہ مال کی تقسیم و نگرانی کا سلسلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو واپس لوٹا دیا اور فرمایا ہم تو مال دار ہو گئے باقی مسلمان غریب ہیں تو آپ (بیت المال وفدک وغیرہ سے) ان پر خرچ کیا کریں”

اردو خواں (شیعہ) حضرات عبارت ہذا کو پڑھیں اور فرمائیں سیدہ پر عدم اعتماد اور ان کی بات سے انکار کرنے کی اس میں کون سی بات ہے۔ جو کرم فرماؤں کو ہضم نہیں ہو پا رہی۔

(٢) اگرچہ پوری عبارت میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بے ادبی و تحقیر اور ان کی بات نہ ماننے کا کوئی پہلو نہیں پایا جاتا مگر رافضی شیعہ سے کیا بعید جو وہ شرعی شہادت پر ہی انگشت اعتراض دهر دیں اگر ایسا ہوتو عرض ہے کہ یہ تو شریعت کا قانون ہے جس سے
کوئی مستثنیٰ نہیں کہ جب تک شرعی گواہ و شہادت کا وجود نہ پایا جائے دعوی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایت رجم لکھنے پر مصر تھے مگر چونکہ اس کی تلاوت منسوخ ہو گئی تو انہوں نے اس کا شرعی نصاب شہادت مکمل نہ کیا لہذا فقدان شہادت کی بنا پر ان کی بات قبول نہ کی گئی حالانکہ ان کی رائے پر نزول قرآن ہوا اور ان کی زبان پر حق کے جاری ہونے کی خبر خود رحمت ﷺ نے دی مگر شریعت کا قانون سب کیلئے برابر ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔ اس سے بھی یہی واضح کرنا مطلوب ہے کہ قانون شرعی سےکسی کو فرار حاصل نہیں لہذا سیدہ کا یہ دعوی بھی دلیل یعنی شہادت کے ساتھ ہی ثابت ہوسکتا تھا چنانچہ نصاب شہادت نہ پایا گیا کہ دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہی دیتی مگر یہاں پر نصاب شہادت نہ پایا گیا تو سابقہ حالت جو زمانہ
نبوی سے قائم تھی اسی کو جاری رکھا گیا۔ اس میں بھلا کیا بے ادبی اور گستاخی ہے ممکن ہے یار لوگ اور ترقی کی منزلیں طے کر لیں اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس قانون شرعی اور فیصلہ خداوندی سے استثنی قرار دے ڈالیں تو خوب جاننا چاہئے کہ یہ عمل نبوی کے خلاف ہے آپ ﷺ نے سیدہ کا عقد کیا جس کیلئے شرعاً گواہ ہونا چاہیں مگر چونکہ سیدہ کا عقدہ ہے وہ خود اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گواہی کافی تھی لہذا کسی اور کو گواہ بنانے کی کوئی ضرورت نہ تھی مگر آپ ﷺ نے ایسا نہیں فرمایا
بلکہ آپﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا عقد کرتے وقت بھی گواہ مقرر فرمائے لہذا یہ نفس کا دھوکہ ہوا پرستوں کو ہوسکتا سے غلامان رسول کو نہیں جو کہ ہر عمل میں اتباع رسول کا جذبہ رکھتے ہوں۔
إن گزارشات سے واضح ہوا کہ یہ اعتراض محض تعصب کی خورد بین کا ایجاد کردہ ہے ورنہ اہل اسلام کی کتاب میں سیده فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بے ادبی کا تصور بھی نہیں۔