حضرت ابوبکر صدیق نے حضرت عمر کی داڑھی پکڑ کر انہیں ماں کی گالیاں دیں۔ معاذاللہ (حیات الصحابہ )

 حضرت ابوبکر صدیق نے حضرت عمر کی داڑھی پکڑ کر انہیں ماں کی گالیاں دیں۔معاذاللہ  (حیات الصحابہ )

الجواب:

اگر یار لوگوں کا بس چلے تو یہ قرآن کی سورۃ طہ کا عکس دے کر اس پر بھی سرخی جما دیں کہ اللہ کے نبیوں میں اختلاف تھا
بلکہ مار کٹائی بلکہ ایک دوسرے کی داڑھی پکڑنے کی نوبت تک آجاتی تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کے سر اور داڑھی کے بال پکڑ لئے اور دلیل دیں کہ دیکھو سنیوں کے قرآن میں لکھا ہوا ہے

یا بن ام لا تاخذ بلحبني و لا براء سي الخ ۔ (طه)
کہ اے (موسیٰ علیہ السلام) میرے ماں جائے (بھائی) میری داڑھی اور سر کے بال نہ پکڑیں۔ (طہ)

دین حق سے سچی وابستگی کی یہ علامت ہے کہ حق کے بارے میں آدمی کے اندر اتنی سختی ہو کہ اس حق کے خلاف کسی دوسری بات کو ہرگز برداشت نہ کرے مذکورہ عکسی صفحہ پر ھی جیش اسامہ کے بارے میں لوگوں کی رائے یہ تھی کہ حالات کی نزاکت کے پیش نظریہ لشکر روک لیا جائے مگر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے اس لئے ہر صورت میں روانہ کرنا چاہتے تھے کہ خود رسول اللہ نے اس لشکر کو روانہ فرمانے کا حکم دے دیا تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ عرض کی کہ جیش اسامہ کو کچھ دیر کیلئے مؤخر کر دیا جائے تو سیدنا
صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے اور بالکل وہی طریقہ اختیار کیا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کے خلاف قوم کاعمل دیکھ کر اپنے نائب کے ساتھ کیا تھا۔ لہذا اہل سنت و الجماعت کے نزدیک حق کے معاملہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عمل بھی بالکل ٹھیک تھا جو سورۃ طہ میں مذکور ہے اور حضرت صدیق اکبر کا معاملہ بھی بالکل قابل اعتراض نہیں جو حیات صحابہ میں موجود ہے کیونکہ اس عمل سے صحابی رسول کی استقامت اور اطاعت رسول کا جذ بہ معلوم ہوتا ہے جس آنکھ نے اس واقعہ سے ان حضرات کی باہمی دشمنی دیکھی ہے وہ آنکھ حیاء کے ساتھ غیرت سے بھی عاری اور اسلام کے ساتھ اطاعت رسول کی بھی باغی ہے ایمان کا رتی بھر سرمہ لگا کر دیکھو گے تو اس واقعہ کی تہہ میں محبت کا چشمہ ابلتا نظر آئے گا کیا استاد کا بچے کے کان پکڑنا، ماں اور باپ کا اولاد پر تھپڑ برسانا بھی دشمنی ہے؟

حقیقت ہے کہ استاد شاگرد کو، بڑا بھائی چھوٹے بھائی کو اور ماں باپ اولاد کو حق کے خلاف دیکھ کر مارتے ہیں تا کہ وہ راہ حق پر کھڑا ہو جائے یہاں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نائب رسول ہونے کی وجہ سے استاد بڑے ہونے کی بنا پر بڑے بھائی اور امیر ہونے کی وجہ سے باپ کی طرح تھے ان کا سختی اور سخت جملہ کہنا باپ استاد اور بڑے بھائی کے سخت جملہ کی طرح ہے جو اصلاح کرنے کے لئے تھا اور ان کی اصلاح ہو گئی کہ بعد میں پھر جیش اسامہ کی روانگی کو انہوں نے ہمیشہ حق ہی کہا ۔ البتہ یہ رافضی کرشمہ ساز کا کمال ہے کہ وہ محبت کو بھی دشمنی قرار دے کر اس سے دشمنی ثابت کرتا ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔

(٢)شيعہ لکھاریوں کا یہ کہنا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ماں کی گالیاں دیں ۔ تو یہ مہربانوں کی دماغی کاشت کاری کا حاصل فکر ہے ورنہ جو بات فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمائی وہ ہے “تفلتك امك ‘‘ کہ تیری ماں تجھے گم پائے ، معدوم پائے ۔ عربی محاورہ میں یہ عام استعمال ہونے والا لفظ ہے جو برائے گالی استعمال نہیں ہوتا۔ بلکہ نا پسندیدہ امر کو دیکھ کر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے یہ لفظ بولا جاتا ہے جسے مہربان دیانت داروں نے گالی بنا دیا۔