حضرت آدم علیہ السلام ، سیدنا علی اور صحابہ اکرام رض کی شان میں بدترین گستاخی  (شیعہ ذاکر ناصر عباس)

حضرت آدم علیہ السلام ، سیدنا علی اور صحابہ اکرام رض کی شان میں بدترین گستاخی  (شیعہ ذاکر ناصر عباس)

   اللہ پاک نے فرشتوں اور ابلیس کوحکم دیا کہ حضرت آدم کو سجدہ کریں۔ قرآن میں یہ واقعہ مختلف مقامات پر تفصیل سے بیان ہوا ہے۔

اس سے پہلے کہ ہم قرآن سے اس واقعہ کو سمجھیں پہلے شیعہ ذاکرناصر عباس  کی طرف سے غلو محبت علی میں حضرت آدم کی توہین دکھاتے ہیں پھر یہ بھی بیان کیا کرتے ہیں کہ جس بنیاد پر سیدنا علی کی شان بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ بنیاد ہی غلط ہے کیونکہ اس بنا پر تو سیدنا علی بھی حضرت آدم کو سجدہ نہ کرنے پر مردود و ملعون ہوجاتے ہیں!! معاذاللہ ثم معاذاللہ

اس شیعہ ذاکر کی بکواسات کو سنیں 

        

قرآن میں حضرت آدم اور ابلیس کا قصہ

١۔ اللہ تعالی نے فرمایا:

 وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ (11)   قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ (12) الاعراف: ١١ – ١٢

اور ہم نے تم کو پیدا کیا، پھر ہم نے ہی تمھاری صورت بنائی، پھر ہم نے فرشتوں سے کہاکہ آدم کو سجدہ کرو، سو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے، وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔ حق تعالی نے فرمایا: تو جو سجدہ نہیں کرتا تو تجھ کو اس سے کون امر مانع ہے، جب کہ میں تجھ کو حکم دے چکا، کہنے لگا: میں اس سے بہتر ہوں، آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو آپ نے خاک سے پیدا کیا ہے۔

اﷲ تعالی کا ارشاد ہے:

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ (28) فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ (29) فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ (30) إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى أَنْ يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ (31) قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلَّا تَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ (32) قَالَ لَمْ أَكُنْ لِأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ (33)  الحجر: ٢٨ – ٣٣

اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں، تو جب میں اسے پورا بناچکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لئے سجدہ میں گرپڑنا۔ چنانچہ تمام فرشتوں نے سب کے سب نے سجدہ کرلیا سوائے ابلیس کے۔ اس نے سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔ اللہ تعالی نے فرمایا: اے ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا؟ وہ بولا کہ میں ایسا نہیں کہ اس انسان کو سجدہ کروں جسے تونے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے۔

اﷲ تعالی کا ارشاد ہے:

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ قَالَ أَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا (61) قَالَ أَرَأَيْتَكَ هَذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا (62) الاسراء: ٦١ – ٦٢

جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ  کیا، اس نے کہا کہ کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اچھا دیکھ لے اسے تو نے مجھ پر بزرگی تو دی ہے لیکن اگر مجھے بھی قیامت تک تو نے ڈھیل دی تو میں اس کی اولاد کو بجز بہت تھوڑے لوگوں کے اپنے بس میں کرلوں گا۔

 اﷲ تعالی کا ارشاد ہے:

إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ طِينٍ (71) فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ (72) فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ (73) إِلَّا إِبْلِيسَ اسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ (74) قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِينَ (75) قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ (76) ص: ٧١ – ٧٦

جب آپ کے رب نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ میں مٹی سے انسان کو پیدا کرنے والا ہوں۔ سو جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدہ میں گر پڑنا۔ چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے (نہ کیا) اس نے تکبر کیا اور وہ تھا کافروں میں سے۔ (اﷲتعالی نے) فرمایا: اے ابلیس! تجھے اسے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیا تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا ہے۔

شیعہ ذاکر نے اس کلپ میں نہ صرف حضرت آدم علیہ السلام کی توہین کی ہے بلکہ قرآن کی معنی تبدیل کر کے سیدنا علی کی بھی گستاخی کردی ہے۔

قرآن میں کہیں بھی یہ بیان نہیں ہوا کہ اللہ عزوجل نے سیدنا علی کو بھی سجدے کا حکم دیا تھا!!

سب سے اہم بات اگر اس جاہل ملعون شیعہ کی بات درست بھی مان لی جائے تو اس سے سیدنا علی پر بھی الزام آتا ہے کہ باوجود حکم الہی کے سیدنا علی منکر خدا بن گئے اور حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا!!

اب ان جاہل شیعوں سے کون پوچھے کہ جس حکم عدولی پر ابلیس ملعون راندہ بارگاہ الہی ہوگیا ، من و عن اسی حکم عدولی پر سیدنا علی کی فضیلت کیسے ہوگئی جسے یہ ذاکر عباس اچھل اچھل کر بیان کر رہا ہے اور نیچے بیٹھے ہوئے اندھے، گونگے اور بہرے لوگ بغیر سوچے سمجھے واہ واہ بھی کر رہے ہیں!!