حدیث خیر القرون

حدیث خَيْرِ الْقُرُونِ:

اس کے متعلق مختلف اصحاب سے مختلف راویوں نے مختلف موقعوں اور الفاظ سے رسول اللہﷺ کے یہ فرمان نقل کئے ہے:

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ» – قَالَ عِمْرَانُ: لاَ أَدْرِي أَذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً – قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بَعْدَكُمْ قَوْمًا يَخُونُونَ وَلاَ يُؤْتَمَنُونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلاَ يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَنْذِرُونَ وَلاَ يَفُونَ، وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ».
[صحيح البخاري » كِتَاب الشَّهَادَاتِ » بَاب لَا يَشْهَدُ عَلَى شَهَادَةِ جَوْرٍ إِذَا أُشْهِدَ … رقم الحديث: 2651]
ترجمہ :
نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم میں بہتر وہ لوگ ہیں جو میرے زمانہ میں ہیں پھر وہ لوگ جو ان کے بعد(جڑے ہوئے)ہوں گے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد(جڑے ہوئے)ہوں گے … تمہارے بعد ایسی قوم پیدا ہوگی جو خیانت کرے گی اور اس میں امانت نہیں ہوگی اور گواہی دیں گے حالانکہ انہیں گواہ نہ بنایا جائے گا اور نذر مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا ظاہر ہوجائے گا۔
[بخاری:3650 مسلم:2534 ابوداؤد:2534 ترمذی:2221]

«خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي» لوگوں میں سب سے بہتر میرے زمانہ کے ہیں۔۔۔
[بخاری:2652+3651+6429+6658]

«خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي» میری امت میں سب سے بہتر(لوگ)میرے زمانہ کے ہیں۔۔۔۔
[بخاری:3650]

«خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ» سب سے بہتر اس امت(کے وہ لوگ ہیں)جس زمانہ میں مجھ کو بھیجا گیا۔۔۔

[مصنف ابن أبى شيبة:32414، مسند أحمد:23024، وقال الهيثمى (10/19) : رواها كلها أحمد وأبو يعلى باختصار ورجالها رجال الصحيح. سنن الطحاوى(4/152) ، السنة لابن أبى عاصم:1474 ، مسند الرويانى:54]