جنگ خیبر میں حضرت عمر اور ان کے ساتھی فرار ہو گئے تھے۔ (ازالۃ الخفاء)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر شیعہ کا الزام نمبر۔19

🔺شیعہ الزام👇👇
جنگ خیبر میں حضرت عمر اور ان کے ساتھی فرار ہو گئے تھے۔ (ازالۃ الخفاء)

🔹(الجواب اہلسنّت)🔹
اور کچھ نہ بن سکا تو اب لفظوں کا غلط ترجمہ کر کے دھوکہ دینا شروع کر دیا اس جگہ بھی انہزم کا ترجمه فرار ہونا کیا حالانکہ انہزم کا ترجمہ فرار ہونا بالکل نہیں ہے بلکہ یہ لفظ الہزیمت سے ہے جس کا معنی ہے، شکست ، بہت پانی والا کنواں ، دبلا جانور، گھوڑے وغیرہ کے دوڑنے سے نکلنے والا پسینہ، ، الہازم شکست دہندہ۔
👈(القاموس الوحید صفحہ ۱٧٦۴)
غور فرمائیے یہاں پر معنی فرار کا ہے ہی نہیں لیکن یار لوگوں نے اسے کیا سے کیا بنا دیا، خیبر کسی محدود چھوٹی سی جگہ کا نام نہیں جیسا کہ تاثر دیا جاتا ہے بلکہ 10 قلعون پر مشتمل خیبر کے 9 قلعے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے فتح فرمائے جبکہ 10 ویں قلعہ قموص کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فتح نہ کر سکے بلکہ تقابل قتالا شدید. یعنی جنگ کی اور خوب لڑائی لڑی مگر فتح حاصل نہ ہوئی اور قلعہ کا دروازہ کھلے بغیر لشکر اسلام واپس لوٹا اس پورے عکسی صفحہ میں نہ تو فرار ہونا کسی لفظ کا ترجمہ ہے اور نہ ہی حاصل ترجمہ بلکہ سراسر دھوکہ پر مبنی رافضی عیاروں کا ظالمانہ حملہ ہے جو انہوں نے صحابہ کرام کے سرخیل سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی ذات پر کیا اور ازالۃ اخفاء کتاب کو آڑ بنایا ورنہ مذکورہ صفحہ پر ہم عرض کر چکے ہیں کہ فرار ہونے کا کوئی لفظ موجود نہیں ۔ایسے ہی قسم کے فراڈ ہیں جو رافضی لوگ سادہ لوح حضرات پر آزماتے اور انہیں گمراہ کر ڈالتے ہیں۔