جنازہ نبی کریم: شیعہ اعتراض کا رد

شیعہ اعتراض: حضرت ابوبکر و حضرت عمر جنازہ رسول میں شریک نہیں تھے۔
شیعہ کے دلائل:
👇👇👇👇👇

شیعہ کے اعتراض اور دلائل کی اصل حقیقت:
شیعہ جب بھی اہل سنت پر اعتراض کریں تو دو باتوں کی تصدیق لازمی کریں۔
1️⃣ روایت کی سند
2️⃣ روایت اگر صحیح ہے تو اس کا مکمل متن اور درست ترجمہ اور مفہوم۔

♦️اس اعتراض میں روایت کی سند صحیح ہے لیکن شیعہ نے خیانت کرتے ہوئے غلط ترجمہ اور خود ساختہ مفہوم بیان کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

شیعہ رافضی نے روایت کے آخری حصہ کے ترجمے میں خیانت کی ہے۔

“چنانچہ ان کے آنے سے پہلے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین کردی گئی۔”

یہ جملہ اصل روایت میں بیان ہی نہیں کیا گیا۔ 

اصل روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے۔

“پس ان کے واپس آنے سے پہلے ان کی بیعت کردی گئی۔”

👇👇👇👇

ظاہر ہے ثقیفہ بنی ساعدہ میں جب تمام صحابہ کرام نے یہ معاملہ حل کرلیا تو پھر حضرت ابوبکر کی بیعت بھی کرلی گئی۔ اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ نبی کریم کی تدفین بھی پیر کے روز یعنی پہلے دن ہوگئی تھی جب صحابہ کرام ثقیفہ میں موجود تھے!!

یہ رافضیوں کا بہت بڑا دجل ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پیر کے دن نبی کریم کی رحلت کے بعد ثقیفہ بنی ساعدہ میں انصار صحابہ کا اجتماع حضرت ابوبکر صدیق یا حضرت عمر فاروق کی مرضی و منشاء سے نہیں ہوا تھا، انہیں تو جب اطلاع ملی تو وہ اس معاملہ کو سلجھانے کے لئے وہاں گئے۔

اس اہم واقعہ کی مکمل تفصیل تاریخ اسلام کی تمام کتب میں مذکور ہے۔

وہاں حضرت ابوبکر صدیق کا انتخاب بھی کوئی سوچی سمجھی سازش نہ تھی اور جب انہیں منتخب کرلیا گیا تو تمام صحابہ کرام نے ان کی بیعت کرلی۔

یہ پورا واقعہ  چند گھنٹوں میں حل ہوگیا تھا۔

اس دوران اور اس کے بعد بھی تمام صحابہ کرام حجرہ عائشہ صدیقہ میں نبی کریم کا جنازہ دس دس کی ٹولیوں میں اور درود و سلام کی صورت میں میں پڑھتے رہے۔

پیر کا دن ، منگل کی رات، منگل کا دن اور بدھ کی رات تک یہ سلسلہ جاری رہا۔

تدفین میں دیر کی اصل وجہ بھی یہی تھی کہ لاکھوں صحابہ کرام جنازہ میں شرکت کے خواہشمند تھے۔

حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق اور تمام جلیل القدر صحابہ کرام دوران جنازہ یا دوران تدفین غائب نہیں ہوگئے تھے۔

اہل سنت و اہل تشیع کتب سے ثابت ہے کہ اس تمام عرصہ میں صحابہ کرام حجرہ عائشہ میں درود و سلام پڑھ کر مسجد نبوی میں بیعت ابوبکر بھی کرتے رہے تھے۔