جنازہ نبی کریم: اہل سنت کتب (ثبوت 3)

اہل سنت کی تاریخ کی ایک اور معتبر کتاب تاریخ ابن کثیر (البدایہ والنہایہ) کا عکس ملاحظہ فرمائیں۔ جس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ
۔۔۔۔۔۔ جب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو کفن دیا گیا اور آپ اپنی چار پائی پر تھے کہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما آئے اور ان کے ساتھ انصار و مہاجرین کے اتنے آدمی تھے جو گھر میں سما سکتے تھے۔

ان دونوں حضرات نے کہا السلام علیک ایھالنبی ورحمۃ اللہ و برکاتہ اور انصار مہاجرین نے بھی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عہنھما کی طرح سلام کہا پھر انہوں نے صفیں باندھ لیں اور ان کا کوئی امام نہ تھا اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما پہلی صف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

آگے لکھا ہے
۔۔۔۔۔۔۔ وہ (صحابہ) تین دن آپ کی نماز جنازہ پڑھتے رہے۔
تو یہاں یہ بات دوپہر کے چمکتے سورج کی طرح کتنی واضح ہو گئی کہ تمام صحابہ اور خصوصا حضرت ابوبکر رضہ و حضرت عمر رضہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنازہ نماز پہلی صف میں کھڑے ہوکر ادا کی

اور پھر یہ بھی وضاحت ہوگئی کہ تین دن تک مسلسل لوگ آتے رہے اور جنازہ نماز پڑھتے رہے ۔ تو ثابت ہوا کہ دو دن یا تین دن کی جو تاخیر تدفین میں ہوئی اس کی اھم وجہ بھی نماز جنازہ کا ادا کرنا تھا۔

نوٹ : حضرت امی عائشہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ مبارک بہت چھوٹا تھا اور اندر زیادہ لوگ نہیں جاسکتے تھے بس زیادہ سے زیادہ 10 یا 11 لوگ اندر جاسکتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جنازہ نماز لاکھوں صحابہ کرام نے ادا کرنی تھی۔ جس کی وجہ سے تدفین میں تاخیر ہوئی جس کو دشمنان اسلام رافضیوں نے ایک ہنگامہ بنا کر لوگوں کو گمراہ کرنا شروع کردیا۔ تاکہ رسالت کے چشم دید گواہوں کو ہی مشکوک بنا کر اسلام کو ہی ختم کیا جائے۔ (استغفر اللہ)
عکس 👇👇👇