جنازہ نبی کریم: اہل سنت کتب (ثبوت 1)

شیعہ حضرات اکثر سادہ لوح سنیوں میں اس قسم کی بے بنیاد باتیں پھیلاتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس دنیا سے رحلت فرما جانے کے بعد، حضرت ابوبکر رضہ و حضرت عمر رضہ اور باقی صحابہ نے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ چھوڑ کر خلافت حاصل کرنے کے لئے لگ گئے۔
اور ہمارے سادہ سنی مسلمان بھی بغیر تحقیق کئے شیعوں کے ان مکر وفریب سے متاثر ہوکر شیعہ بن جاتے ہیں اور اپنی عاقب خراب کر بیٹھتے ہیں۔
لیکن ہم ان شاء اللہ اس البم میں اہل سنت اور اہل تشیع کے بہت ساری کتابوں سے یہ ثابت کریں گے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ نماز تمام صحابہ اور خصوصا حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضہ نے ادا کیا۔

اس پوسٹ میں اہلسنت کی مشہور کتاب طبقات ابن سعد کا ایک عکس ملاحظہ فرمائیں کہ جس میں چودہ (14) مختلف روایتوں میں لکھا ہوا موجود ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنازہ نماز تمام صحابہ مہاجرین و انصار، بلکہ عورتوں نے بھی ادا کیا۔ اور
خصوصا حضرت ابوبکر رضہ اور حضرت عمر رضہ نے بھی حضور ﷺ کی جنازہ کی نماز ادا کی۔
اور ان مختلف 14 راویوں میں جن میں حضرت علی رضہ ، حضرت حسن رضہ اور عبداللہ بن عباس بھی شامل ہیں۔ جو اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنازہ نماز تمام صحابہ رضہ نے ادا کی۔
اب اگر اتنی واضح حقیقت کے بعد بھی اگر کوئی نہ مانے تو پھر اس آیت کا مصدا ہی بن سکتا ہے۔
[خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰي سَمْعِهِمْ ۭ وَعَلٰٓي اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَّلَھُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ ]
ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔
عکس 👇👇👇