جنازہ سیدہ فاطمہ: کیا رات میں تدفین ناراضگی کی علامت ہے؟

اگر کوئی شخص رات ہی کو مرے اور رات ہی کو اس کی تجہیز وتکفین اور نماز جنازہ ہوسکے تو دن کا انتظار نہ کریں، بلکہ رات ہی کو دفن کردیں، رات کو نماز جنازہ پڑھ کر رات ہی کو دفن کرنا احادیث سے ثابت ہے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا:

مات رجل وکان رسول اللہ ﷺ یعودہ فمات باللیل فدفنوہ لیلا، فلما أصبح أخبروہ، فقال: ما منعکم أن تعلمونی؟ قالوا: کان اللیل فکرھنا أن نشق علیک فأتی قبرہ فصلی علیہ‘‘۔ (البخاری: الجنائز، باب الاذن بالجنازۃ، برقم: 1247)

یعنی ایک صحابی رسول ﷺ کا انتقال ہوا جن کی رسول اللہ ﷺ عیادت کیا کرتے تھے، اور لوگوں نے ان کو رات ہی میں دفن کر دیا، صبح کے وقت آپ کو لوگوں نے خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے بتلانے سے تم لوگوں کو کس چیز نے روکا؟ لوگوں نے عرض کیا کہ رات بہت اندھیری تھی ، ہم نے آپ کو تکلیف دینا پسند نہیںکیا ، توآپ ان کی قبر پر تشریف لے گئے اور نماز جنازہ پڑھی۔

انہی حضرت ابن عباس سے ایک دوسری روایت ہے کہ

’’ ان رسول اللہ ﷺ أدخل رجلا قبرہ لیلا‘‘۔ (ابن ماجہ: الجنائز، باب ما جاء فی الأوقات التی لا یصلی فیھا علی المیت ولا یدفن ، برقم: 1520، وحسنہ الألبانی)

یعنی رسول اللہﷺ نے ایک شخص کورات کو قبر میں اتارا۔

🔴 حضرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ رات کو فوت ہوئے اور رات ہی کو دفن بھی کئے گئے۔

بخاری مع الفتح (۳/۲۵۲) اور مصنف ابن ابی شیبہ (3 / 346، 347) میں ہے:

’’أن أبا بکر توفی عشاء بعد ما غابت الشمس لیلۃ الثلاثاء ودفن لیلا لیلۃ الثلاثاء‘‘

حضرت ابوبکر صدیق منگل کی رات کو سوموار کے دن کا سورج غروب ہونے کے بعد انتقال کئے اور منگل کی رات ہی دفن کئے گئے۔

ان کی نماز جنازہ حضرت عمر فاروق نے مسجد نبوی میں پڑھائی، ان کی قبر میں اترے، حضرت عمر ، عثمان غنی ، طلحہ بن عبید اللہ ، عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہم بھی رات ہی میں دفن کئے گئے ہیں۔ اسی طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے انتقال کے چھ مہینہ بعد تک زندہ رہیں ، جب وہ فوت ہوگئیں تو ان کے شوہر حضرت علی ؓ نے ان کو رات ہی میں دفن کیا اور ان کے جنازہ کی نماز بھی حضرت علی ؓ نے خود ہی پڑھائی۔ (البخاری : المغازی، باب غزوۃ خیبر، برقم: 4240، 4241)

صدیق اکبر کی تدفین کس وقت تدفین کی گئی؟

آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو رات ہی میں حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے حجرے میں نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پہلو میں دفن کیا گیا۔ (الطبقات الکبری لابن سعدٰ،ذکر وصیۃ ابی بکر، ج۳، ص۱۵۷، الریاض النضرۃ،ج۱،ص۲۵۸)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت جو مسجد میں جھاڑوں دیا کرتی تھی مرگئی اس کے متعلق کئی دن کے بعد رسول اللہ ﷺ نے پوچھا تو آپ سے کہا گیا کہ وہ تو انتقال کر گئی ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے کیوں نہیں خبر دی گئی ؟ لوگوں نے اس کو اہمیت نہ دی اور اس کی موت کی خبر رسول اللہ ﷺ کو دیئے بغیر اسے دفن کردیا۔ (البخاری: الجنائز، باب الصلاۃ علی القبر بعد ما یدفن، برقم: 1337، ومسلم: الجنائز، باب الصلاۃ علی القبر، برقم: 2215)

حضرت امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: انہ أخبرہ أن مسکینۃ مرضت فأخبر رسول اللہ ﷺ بمرضھا وکان رسول اللہ ﷺ یعود المساکین ویسأل عنھم فقال رسول اللہ ﷺ: ’’إذا ماتت فاذنوني بھا‘‘ فأخرج بجنازتھا لیلا وکرھوا أن یوقظوا رسول اللہ ﷺ فلما أصبح رسول اللہ ﷺ أخبر بالذي کان منھا فقال: ألم آمرکم أن توذنوني بھا؟ قالوا یا رسول اللہ کرھنا أن نوقظک لیلا فخرج رسول اللہ ﷺ حتی صف بالناس علی قبرھا وکبر أربع تکبیرات۔ (النسائی: الجنائز، باب الاذن بالجنازۃ ، برقم: (1907) وصححہ الألبانی

یعنی عوالی مدینہ کی ایک مسکین عورت بیمار تھی، رسول ﷺ مساکین کی عیادت کرتے اور ان کے حالات دریافت کرتے تھے، آپ نے فرمایا تھا کہ جب مرجائے تو مجھے خبر کرنا، اور وہ رات کو مرگئی، اور دفن بھی کر دی گئی، اور آپ کو خبر نہیں دی گئی۔ صبح کے وقت آپ نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ کو بیدار کر نا ہمیں ناپسند معلوم ہوا۔ تو حضور ﷺ اس کی قبر پر گئے۔ اور آپ نے نماز جنازہ پڑھی۔