تقیّہ (زبان سے کچھ کہنا اور دل میں کچھ رکھنا) اور جھوٹ شیعہ اثنا عشری مذہب کی اساس ہے

تقیّہ (زبان سے کچھ کہنا اور دل میں کچھ رکھنا) اور جھوٹ شیعہ اثنا عشری مذہب کی اساس ہے

٭شیعہ اثنا عشری تقیّہ کے قائل ہیں،اور ان کے نزدیک تقیّہ کہتے ہیں ایسی چیز کا اظہار کرنا جو باطن کے خلاف ہو، یا جیسا کہ ان کے علما میں سے کسی نے یوں تعریف کی ہے:

تقیہ یہ ہے کہ تو ایسی بات کہے یا ایسا کام کرے جس کا تو اعتقاد نہیں رکھتا ہے تاکہ اپنے نفس سے تکلیف دہ چیز کو دور کرسکے یا اپنی کرامت کی حفاظت کرسکے۔

(دیکھیں: کتاب(الشیعۃ في المیزان) لمحمد جوّاد مغنیۃ،ص۴۸)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

دین کا دس میں سے نو حصّہ تقیّہ میں ہے، اور اس شخص کا کوئی دین نہیں ہے جو تقیّہ نہ کرے۔

(دیکھیں: کتاب (أصول الکافي) للکلینی،۲؍۲۱۷)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

تم ایسے دین پر ہو جس نے اسے چھپایا اسے عزّت ملے گی، اور جس نے اسے ظاہر کیا اللہ اسے ذلیل کردے گا۔

(دیکھیں: کتاب (أصول الکافي) للکلینی،۲؍۲۲۲)۔

 اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

 حسین نبی ﷺ کے انگھوٹے سے دودھ پیتے تھےجو دو تین دن کے لئے کافی ہوتا تھا۔

 ((دیکھیں: کتاب (أصول الکافي) للکلینی،۱؍۴۶۵)۔