تفسیر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

تفسیر نبوی:

(1) أَحْسِنُوا إلى أصحابى ۔۔۔ حسنِ سلوک کرو میرے ساتھیوں سے
[مسند أحمد:177 ، السنن الكبرىٰ للنسائى:9219) ، صحیح ابن حبان:6728، مسند أبو يعلى:143 ، الضياء المقدسی:96]

(2) احْفَظُونِى فى أصحابى … حفاظت کرو میری(تعلیم کی) میرے ساتھیوں(سے عقیدت کے بارے) میں ۔۔۔
[سنن ابن ماجه:2363) ، وقال البوصيرى (3/53) : هذا إسناد رجاله ثقات. السنن الكبرىٰ للنسائى:9226 ، المعجم الأوسط للطبرانى:1134]

(3) عليكم بأصحابى ۔۔۔ میرے ساتھیوں(کی اتباع)کو لازم پکڑو۔۔۔
[جامع الاحادیث:30589]

(4) ۔۔۔ إن أصحابى خياركم فأكرموهم ۔۔۔ بےشک میرے ساتھی بہتریں لوگ ہیں لہٰذا اکرام کرو ان کا ۔۔۔
[جامع الاحادیث:31311]

(5) أمتى على خمس طبقات فأربعون سنة أهل بِرٍّ وتقوى ثم الذين يَلُونَهُمْ إلى عشرين ومائة سنة أهل تَرَاحُمٍ وَتَوَاصُلٍ ثم الذين يلونهم إلى ستين ومائة سنة أهل تَدَابُرٍ وَتَقَاطُعٍ ثم الْهَرْجُ الْهَرْجُ النجا النجا۔
ترجمہ:
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے پانچ طبقات ہوں گے: چالیس(40)سال تک نیکی اور تقوی والے لوگ ہوں گے، ان کے بعد ایک سو بیس(120)سال تک ایک دوسرے پر رحم کرنے والے اور باہمی تعلقات اور رشتہ داریوں کو استوار رکھنے والے لوگ ہوں گے، پھر ان کے بعد ایک سو ساٹھ(160)برس تک ایسے لوگ ہوں گے جو ایک دوسرے سے دشمنی رکھیں گے اور تعلقات توڑیں گے، اس کے بعد قتل ہی قتل ہوگا۔ نجات مانگو نجات۔
[سنن ابن ماجه:4058]

(6) أوصيكم بأصحابى خيرًا ثم الذى يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يفشو الكذب حتى يحلف الرجل ولا يستحلف ويشهد الشاهد ولا يستشهد ألا لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان عليكم بالجماعة وإياكم والفرقة فإن الشيطان مع الواحد وهو من الاثنين أبعد من أراد بحبوحة الجنة فليلزم الجماعة من سرته حسنته وساءته سيئته فذلكم المؤمن۔

ترجمہ:
میرے صحابہؓ کے بارے میں تمہیں خیر(وبھلائی) کی نصیحت کرتا ہوں پھر جو ان کے زمانہ کے بعد کے لوگ ہیں پھر جو ان کے زمانہ کے بعد کے لوگ ہیں، پھر جھوٹ پھیل جائے گا یہاں آدمی قسم کے مطالبہ کے بغیر قسم کھائے گا، گواہی طلب کے بغیر گواہی دے گا۔ سن لو! کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہیں کرتا مگر تیسرا شیطان ہوتا ہے (لہٰذا) جماعت(علماء) کو لازم پکڑو، تفرقہ بازی سے اجتناب کرو کیونکہ شیطان اکیلئے آدمی کو پکڑتا ہے دو آدمیوں سے دور بھاگتا ہے جو جنت کا درمیان چاہے اس کو چاہیے جماعت(علماء) کا ساتھ دے جسے اپنے نیک اعمال خوش کریں اور برے اعمال پریشان کرے یہ مومن ہے۔

(7) «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ»
ترجمہ:
بےشک سب سے سخت لوگوں میں آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے، پھر جو ان کے بعد(جڑے ہوئے)ہوں گے(یعنی صحابہ)، پھر جو ان کے بعد(جڑے ہوئے)ہوں گے(یعنی تابعین)، پھر جو ان کے بعد(جڑے ہوئے)ہوں گے(تبع تابعین)۔
[مسند أحمد:27124 . قال الهيثمى (2/292) : إسناد حسن، المعجم الکبیر الطبرانى:627، المستدرک الحاكم:8231]
ایک روایت مزید فرمایا:
۔۔۔ انسان پر آزمائش اس کے دین کے اعتبار سے آتی ہے، اگر اس کے دین میں پختگی ہو تو اس کے مصائب میں مزید اضافہ کردیا جاتا ہے اور اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اس کے مصائب میں تخفیف کردی جاتی ہے اور انسان پر مسلسل مصائب آتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ زمین پر چلتا ہے تو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔
[ترمذی:2398، ابن ماجہ:4023، احمد:1494]

حافظ ابن ِ حجر عسقلانیؒ نے فتح الباری میں لکھا ہے :”قرنی” سے مراد صحابہ ہیں، نیز بخاری میں باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم(کتاب الفضائل ۷/۳) میں ہے کہ
“بُعِثْتُ فِیْ خَیْرُ الْقُرُوْنِ بَنِیْ آدَمَ”۔
ابن آدم کے سب سے بہترلوگوں کے درمیان مجھے بھیجا گیا ہے۔
اسی لیے حضرت ابن ِ مسعودؓ فرمایا کرتے تھے: صحابۂ رسول اس امت کے سب سے افضل افراد تھے، جو دل کے اعتبار سے بہت نیک،علم کے لحاظ سے سب سے پختہ اور تکلفات کے اعتبار سے سب سے زیادہ دور رہنے والے تھے۔
(رزین،مشکوٰۃ:۱/۳۲)
حافظ ابن عبدالبرؒ نے “الاستیعاب” اور علامہ سفارینیؒ نے “شرح الدرۃ المضیئہ” میں لکھا ہے کہ جمہور ِ امت کی رائے کے مطابق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے افضل ہیں۔

(مقدمۃ لاستیعاب تحت الاصابۃ:۱/۲)

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ، ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلاَ نَصِيفَهُ»
[صحيح البخاري » كِتَاب الْمَنَاقِبِ » بَاب قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ …، رقم الحديث: 3421 (3673)]
حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: میرے اصحاب کو برا نہ کہو اس لئے کہ اگر کوئی تم میں سے احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ تبارک و تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے تو میرے اصحاب کے ایک مد (سیر بھر وزن) یا آدھے (کے ثواب) کے برابر بھی (ثواب کو) نہیں پہنچ سکتا۔
[بخاری:3673، ابوداؤد:4658 مسلم:2541 ترمذی:3861]

حضرت سعید بن زیدؓ سے مروی ہے:
«لَمَشْهَدُ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْبَرُّ فِيهِ وَجْهُهُ، خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَهُ، وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ»
[ابوداؤد: باب فی الخلفاء، حدیث نمبر4650]
ترجمہ:
اللہ کی قسم ہے کہ صحابہ کرامؓ میں کسی شخص کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی جہاد میں شریک ہونا جس میں اس کا چہرہ غبار آلود ہوجائے غیر صحابہ سے ہر شخص کی عمر بھر کی عبادت وعمل سے بہتر ہے اگرچہ اس کو عمر نوح(علیہ السلام)عطا ہوجائے۔

[ابوداؤد:4650، احمد:1629الأحاديث المختارة:1083]

لہٰذا، بڑے سے بڑا ولی اللہ بھی کسی ادنیٰ صحابی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا۔

“عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ”۔

(مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، حدیث نمبر:۴۶۱۰)
آپ ﷺ نے فرمایا:میرے صحابہ کو برا نہ کہو؛اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرو تو وہ ان کے ایک مد بلکہ اس کے نصف خرچ کرنے کے برابر بھی نہیں ہوسکتا۔

ایک اور روایت میں آپ نے ارشاد فرمایا:

حضرت عبداللہ بن مغفلؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ»
[سنن ترمذی: بَاب فِيمَنْ سَبَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ ﷺ ،حدیث نمبر 3862]
ترجمہ:
لوگو! میرے صحابہ کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے بعد ان کو نشانہ نہ بناؤ ،جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے در حقیقت مجھ سے بغض رکھا ،جس نے ان کو اذیت پہنچائی اس نے مجھ کو اذیت پہنچائی اور جس نے مجھ کو اذیت پہچائی اس نے اللہ کو اذیت پہنچائی اور جس نے اللہ کو اذیت پہنچائی قریب ہے کہ اللہ تعالی اس کو پکڑلے۔
[ترمذی:3862 احمد:20549 صحيح ابن حبان:7256 شعب الإيمان للبيهقي:1424]

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” إِذَا حَدَثَ فِي أُمَّتِي الْبِدَعُ وَشُتِمَ أَصْحَابِي فَلْيُظْهِرِ الْعَالِمُ عِلْمَهُ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ” .

[الشريعة للآجري » كتاب أَهْلِ الْبَيْتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ » بَابُ عُقُوبَةِ الإِمَامِ وَالأَمِيرِ لأَهْلِ الأَهْوَاءِ …رقم الحديث: 2057]

ترجمہ : حضرت معاذ بن جبلؓ رسول الله ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں : جب لوگ بدعت میں مبتلا ہوں اور (اس امت کے آخر لوگ پہلے لوگوں) میرے صحابہ کو کوسنے لگے تو عالم کو چاہیے کہ ظاہر کرے اپنا علم تو جو ایسا نہ کریں ان میں سے تو ان پر لعنت ہو الله کی اور اس کے ملائکہ کی اور سارے انسانوں کی.

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَّ : ” مَهْمَا أُوتِيتُمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ، فَالْعَمَلُ بِهِ لا عُذْرَ لأَحَدِكُمْ فِي تَرْكِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَسُنَّةٌ مِنِّي مَاضِيَةٌ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ سَنَةٌ مِنِّي مَاضِيَةٌ فَمَا قَالَ أَصْحَابِي ، إِنَّ أَصْحَابِي بِمَنْزِلَةِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ ، فَأَيُّهَا أَخَذْتُمْ بِهِ اهْتَدَيْتُمْ ، وَاخْتِلافُ أَصْحَابِي لَكُمْ رَحْمَةٌ ” .عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَّ : ” مَهْمَا أُوتِيتُمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ، فَالْعَمَلُ بِهِ لا عُذْرَ لأَحَدِكُمْ فِي تَرْكِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَسُنَّةٌ مِنِّي مَاضِيَةٌ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ سَنَةٌ مِنِّي مَاضِيَةٌ فَمَا قَالَ أَصْحَابِي ، إِنَّ أَصْحَابِي بِمَنْزِلَةِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ ، فَأَيُّهَا أَخَذْتُمْ بِهِ اهْتَدَيْتُمْ ، وَاخْتِلافُ أَصْحَابِي لَكُمْ رَحْمَةٌ ” .

[الكفاية في علم الرواية للخطيب » بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْدِيلِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ …, رقم الحديث: 51]

ترجمہ :
حضرت عمر بن خطابؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا میں نے اپنے پروردگار سے اپنے صحابہ کرامؓ کے درمیان اختلاف کے بارے میں پوچھا جو (شریعت کے فروعی مسائل میں ) میرے بعد واقع ہوگا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ مجھ کو آگاہ کیا کہ اے محمد (ﷺ)! حقیقت یہ ہے کہ تمہارے صحابہ کرامؓ میرے نزدیک ایسے ہیں جیسے آسمان پر ستارے، (جس طرح) ان ستاروں میں سے اگرچہ بعض زیادہ قوی یعنی زیادہ روشن ہیں لیکن نور (روشنی) ان میں سے ہر ایک میں ہے (اسی طرح صحابہ کرامؓ میں سے ہر ایک اپنے اپنے مرتبہ اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق نور ہدایت رکھتا ہے ) پس جس شخص نے (علمی وفقہی مسائل میں ) ان اختلاف میں سے جس چیز کو بھی اختیار کر لیا میرے نزدیک وہ ہدایت پر ہے حضرت عمرؓ کہتے ہیں اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ” میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں (پس تم ان کی پیروی کرو) ان میں سے تم جس کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے ۔ (رزین)

[مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 624 (42363)- صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان : صحابہ کی اقتداء ہدایت کا ذریعہ ہے]

حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ ، وَأَبُو الْفَضْلِ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ السِّنْجِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، حَدَّثَنَا التِّرْمِذِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رَبْعيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” اقْتَدُوا بِاللَّذِينَ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ” ، وَقَال : ” أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ ” .
ترجمہ : حضرت حذیفہ بن حسیلؓ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پیروی کرنا میرے بعد ابوبکرؓ و عمرؓ کی، اور فرمایا : میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ان میں سے جس کی اقتداء کروگے راہ یاب ہوجاؤ گے۔
[ الشفا بأحوال المصطفى للقاضي عياض » الْقَسَمَ الثاني : فِيمَا يجب عَلَى الأنام من حقوقه … » الْبَابِ الثالث : فِي تعظيم أمره ووجوب توقيره وبره …، رقم الحديث:61 الحكم:إسناده حسن]

المحدث : ابن حجر العسقلاني
المصدر : موافقة الخبر الخبر الصفحة أو الرقم: 1/145 خلاصة حكم المحدث :غريب
المصدر : الأمالي المطلقة الصفحة أو الرقم: 60 خلاصة حكم المحدث : له شاهد

صحیح اور حسن لذاتہ دونوں حدیثیں حجت ہیں. (فتاویٰ علمیہ، زبیر علی زئی : ٢/٣٠٠)

الشواهد
١) عن عبد الله بن عباس، الإبانة الكبرى لابن بطة » الإِبَانَةُ الْكُبْرَى لابْنِ بَطَّةَ » بَابُ التَّحْذِيرِ مِنِ اسْتِمَاعِ كَلامِ قَوْمٍ يُرِيدُونَ … رقم الحديث: 323
٢) عن عبد الله بن عمر، مسند عبد بن حميد » أَحَادِيثُ ابْنِ عُمَرَ، رقم الحديث:791
٣) عن عبد الرحمن بن صخر (ابو ہریرہ)، مسند الشهاب » الْجُزْءُ الثَّالِثُ مِنْ كِتَابِ مُسْنَدِ الشِّهَابِ … » الْبَابُ الثَّانِي، رقم الحديث: 1251
٤) عن جابر بن عبد الله، جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر » بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ مِنْ أَقَاوِيلِ السَّلَفِ …رقم الحديث: 1061
٥) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية لابن حجر … » كِتَابُ الْمَنَاقِبِ » بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ عَلَى الْإِجْمَالِ … رقم الحديث: 4299

[کشف الخفاء:۱/۱۴۷، مشکوٰة: ص554؛ جلد پنجم: حدیث نمبر 624 (42363) – صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان : صحابہ کی اقتداء ہدایت کا ذریعہ ہے]

یہ حدیث علماۓ حدیث کے اصول حدیث کے تحت مقبول ہے
1 – قوت تعدد طرق
اصول_حدیث میں یہ مقرر ہے کہ جب ایسی (یعنی ضعیف) حدیث کے طرق کثیرہ ہوں تو وہ حسن بلکہ صحیح ہوجاتی ہے. (فتاویٰ علماء حدیث : ٧/٧٠)
2 – تلقی بالقبول
تقریباً 200 کتب کے مصنف مصنف محدث، فقیہ، اصولی، مؤرخ علامہ سخاوی رح لکھتے ہیں؛

وقال الحافظ السخاوي في شرح ألفية : إذا تلقت الأمة الضيف بالقبول يعمل به الصحيح حتى أنه ينزل منزلة المتواتر في أنه ينسخ المقطوع به، ولهذا قال الشافعي رحمة الله تعالیٰ في حديث “لا وصية الوارث” أنه لا يثبت أهل العلم بالحديث ولكن العامة تلقته بالقبول وعملوا به حتى جعلوه ناسخا لاية الوصية الوارث…إنتهى

ترجمہ : علامہ سخاوی رح نے “شرح الفیہ” میں کہا ہے کہ: جب امت حدیث_ضعیف کو قبول کرلے تو صحیح یہی ہے کہ اس پر عمل کیا جاۓ ، یہاں تک کہ وہ یقینی اور قطعی حدیث کو منسوخ کرنے میں ((متواتر حدیث کے رتبہ میں سمجھی جاۓ گی))، اور اسی وجہ سے امام شافعی رح نے حدیث : “لاوصية لوارث” کے بارے میں یہ فرمایا کہ اس کو حدیث کے علم والے (علماۓ حدیث) ((ثابت نہیں)) کہتے ہیں لیکن عامه علماء نے اس کو قبول کرلیا ہے اور اس پر عمل کرتے ہیں ، یہاں تک کہ اس کو آیت_وصیت کا ناسخ قرار دیا ہے. [فتح المغيث بشعره ألفية الحديث: ص # ١٢٠ ؛ المعجم الصغیر لطبرانی: باب التحفة المرضية في حل مشكلات الحديثية،٢/١٧٩؛
(فتاویٰ علماۓ_حدیث : ٢/٧٤ ; فتاویٰ غزنویہ : ١/٢٠٦تقریباً 600 کتب کے مصنف علامہ جلال الدین السیوطی (الشافعی) رح لکھتے ہیں؛
“قال بعضھم يحكم للحديث بالصحة إذا تلقاه الناس بالقبول وإن لم يكن له أسناد صحيح.[تدريب الراوي: صفحة # ٢٩
ترجمہ: بعض محدثین فرماتے ہیں کہ حدیث پر صحت (صحیح ہونے) کا حکم لگا دیا جاۓ گا جب امت نے اسے قبول کرلیا ہو اگرچہ اس کی سند صحیح نہ بھی ہو.
المقبول ما تلقاه العلماء بالقبول وإن لم يكن له أسناد صحيح،[شرح نظم الدرر المسمى بالبحر الذي ذخر
ترجمہ: مقبول وہ حدیث ہے جسے علماء قبول کرلیں اگرچہ اس کی سند صحیح نہ بھی ہو.
========
مشروعیتِ تقلیدِ شخصی اور اس کی تفسیر:
“من بعدی” سے مراد ان صاحبوں کی حالتِ خلافت ہے، کیوں کہ بلاخلافت تو دونوں صاحب آپکے روبرو بھی موجود تھے. پس مطلب یہ ہوا کہ ان کے خلیفہ ہونے کی حالت میں ان کی اتباع کیجیو اور ظاہر ہے کہ خلیفہ ایک ایک ہوں گے. پس حاصل یہ ہوا کہ حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کی خلافت میں تو ان کا اتباع کرنا، حضرت عمر رضی الله عنہ کی خلافت میں ان کا اتباع کرنا، پس ایک زمانہ خاص تک ایک معین شخص کی اتباع کا حکم فرمایا اور یہ کہیں نہیں فرمایا کہ ان کے احکام کی دلیل بھی دریافت کرلیا کرنا.اور نہ یہ عادت مستمرہ (جاریہ) تھی کہ دلیل کی تحقیق ہر مسئلے میں کی جاتی ہو اور یہی تقلیدِ شخصی ہے. کیونکہ حقیقتِ تقلیدِ شخصی یہ ہے کہ ایک شخص کو جو مسئلہ پیش آوے وہ کسی مرجح کی وجہ سے ایک ہی عالم سے رجوع کیا کرے اور اس سے تحقیق کر کے عمل کیا کرے. اور اس مقام میں اس کے وجوب سے بحث نہیں اور آگے مذکور ہے اس کا جواز اور مشروعیت اور موافقت اور سنّت ثابت کرنا مقصود ہے، گویا ایک معین زمانے کے لئے سہی. “ایسے ہیں جیسے آسمان کے ستارے” کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح گھپ اندھیری رات میں آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے مسافروں کو دریا وجنگل کے راستوں کا نشان بتاتے ہیں جس کی قرآن کریم نے ان الفاظ میں آیت (وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ) 16۔ النحل : 16) (اور ستاروں کے ذریعہ وہ راستہ پاتے ہیں ) میں اشارہ کیا ہے ۔ اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی سچائی کے راستے کو ظاہر کرنے اور برائی کے اندھیروں کو دور کرنے والے ہیں کہ ان کے نورانی وجود ، ان کے اخلاق و کردار اور ان کی روایات وتعلیمات کی روشنی میں راہ حق نمودار ہوتی ہے اور بدی کا اندھیرا چھٹ جاتا ہے ۔

فهو عندي على هدى یعنی ” میرے نزدیک وہ ہدایت پر ہے ”
[أخرجه رزين، والشطر الأول من الحديث إلى قوله: «فهو عندي على هدى» ذكره السيوطي في «الجامع الصغير» ونسبه إلى السجزي في «الإبانة» وابن عساكر. والشطر الثاني من الحديث: «أصحابي كالنجوم» رواه ابن عبد البر في «جامع بيان العلم» 2/91 من حديث سلام بن سليم عن الحارث بن غصين عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: … فذكره، وإن كان في إسناد هذا الحديث ضعف؛ ولكنه روي من عدة وجوه، يتقوى بعضها ببعض. «الكفاية في معرفة علم الرواية» للخطيب، ص: 46، و«الإصابة» لابن حجر، ج1 ص:11. «جزء العاشر من المنتخب» لإبن قدامة، رقم الحديث: 62،]

اس سے ثابت ہوا کہ ائمہ دین کا باہمی اختلاف امت کے لئے رحمت ہے ، لیکن جیسا کہ علامہ طیبی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے وضاحت کی ہے اختلاف سے مراد وہ اختلاف ہے جو دین کے فروعی وذیلی مسائل میں ہو نہ کہ اصول دین میں، اور سید جمال الدین نے لکھا ہے : بظاہر یہ بات زیادہ صحیح ہے کہ اس حدیث میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جس اختلاف کی طرف اشارہ ہے، اس سے وہ اختلاف مراد ہے ۔ جو دینی معاملات و مسائل میں رونما ہو نہ کہ اختلافات جو دینوی معاملات میں رونما ہوئے ۔ اس وضاحت کی روشنی میں اس اختلاف پر کوئی اشکال وارد نہیں ہوگا ، جو خلافت وامارت کے سلسلہ میں بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان رونما ہوئے ۔

لیکن اس موقع پر ملا علی قاریؒ نے لکھا ہے کہ میرے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ خلافت وامارت سے متعلق رونما ہونے والے اختلافات بھی ” فروع دین میں اختلاف ” کے زمرہ میں آتے ہیں کیونکہ اس بارے میں ان کے درمیان جو اختلاف واقع ہوا وہ اجتہادی تھا نہ کہ کسی دنیاوی غرض اور نفسانی جذبہ وخواہش کے تحت ، جیسا دنیاوی بادشاہوں کے ہاں ہوتا ہے ۔ ۔
” جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاؤگے ” چونکہ ولکل نور ( نور ان میں سے ہر ایک میں ہے ) کے ذریعہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا کہ ہر صحابی اپنے اپنے مرتبہ واستعداد کے مطابق علم فقہ کا نور ہدایت ضرور رکھتا ہے اور اس اعتبار سے کوئی بھی صحابی دین و شریعت کے علم سے خالی نہیں ہے، اس لئے جو بھی صحابی اپنے مرتبہ واستعداد کے مطابق دین و شریعت کی جو بھی بات بیان کرتا ہے، اس کی پیروی ہدایت کی ضامن ہوگی ۔

واضح رہے کہ اس حدیث اصحابی کالنجوم الخ میں علماء نے کلام کیا ہے، چنانچہ ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث پر طویل گفتگو کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے بلکہ ابن حزام کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ یہ حدیث موضوع باطل ہے ، لیکن اس کے ساتھ ہی بیہقی کا یہ قول بھی ذکر کیا ہے کہ مسلم کی ایک حدیث سے اس حدیث کے بعض معنی ثابت ہوتے ہیں ، مسلم کی حدیث میں ہے : النجوم امنۃ السماء ( ستارے آسمان کے محافظ و امین ہیں ) اور پھر اس حدیث میں یہ الفاظ ہیں : واصحابی امنۃ لامتی (اور میرے اصحاب میری امت کے امین ومحافظ ہیں )
============================