شیعہ کی بدترین شکست تحریف قرآن پرمناظرہ (مولانا علی معاویہ اور شیعہ عالم علی عریش)

Loader Loading...
EAD Logo Taking too long?

Reload Reload document
| Open Open in new tab

ڈاؤن لوڈ لنک 2

شیعہ سنی مناظرہ
*تحریف قرآن*
واٹس اپ گروپ: تحفظ عقائد تشیع

*سنی مناظر* :جناب فخر الزمان عرف علی معاویہ صاحب
*شیعہ مناظر* :جناب علی عریش قمی صاحب
  ہفتہ اور اتوار بتاریخ 13، 14 جولائی 2019۔

(ترمیم و تبصرہ: ممتاز قریشی)

🔴دعوی اہل سنت🔴

شیعہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے موجودہ قرآن کریم پر ایمان نہیں رکھتا۔

🔴 سنی مناظر علی معاویہ صاحب کی طرف سے  شرائط مناظرہ بر موضوع تحریف قرآن 🔴

1- اھل السنت مناظر شیعہ کی معتبر کتب سے اپنا دعوٰی ثابت کرے گا کہ شیعہ کا ایمان موجودہ قرآن پر نہیں.

2- شیعہ مناظر اھل السنت مناظر کے دلائل کا جواب دینے کے بعد الزامی حوالاجات پیش کرے گا، اس سے پہلے الزامی حوالاجات قابل قبول نہیں ھونگے.

3- شیعہ مناظر تحریف کے قائلین پر حکم واضح کرے گا.

4- ہر مناظر کو پانچ پانچ منٹ بات کرنے کا وقت دیا جائے گا، اس دوران دوسرا مناظر بیچ میں نہیں بولے گا.

5- ایک وائس 2 منٹ سے اوپر کی نہیں بھیجی جائے گی.

6- مناظرہ کے دوران ایڈمن صرف مناظرین ھونگے.

علی معاویہ صاحب کی شرط تین کو شیعہ مناظر علی عریش صاحب نے تسلیم نہیں کیا کیونکہ ان کے نزدیک یہ ایک الگ موضوع یا دعوی ہے۔

حالانکہ سنی مناظر علی معاویہ صاحب بار بار کہتے رہے کہ وہ صرف تحریف قرآن کے قائلین پر شیعہ مناظر کا مؤقف واضح کرنا چاہتے ہیں تاکہ مناظرے کا اختتام بامقصد ہو سکے اور جب وہ دعوی ثابت کردیں گے تو تمام قارئین اور سامعین خود فیصلہ کر سکیں گے کہ شیعہ مذہب کی اصل حقیقت کیا ہے۔

علی معاویہ صاحب کے بار بار کہنے کے باوجود شیعہ مناظر اس بارے میں دو ٹوک مؤقف بتانے کے بجائے یہی کہتے رہے کہ اس نکتہ پر الگ سے مناظرہ کرنا ہوگا، جبکہ یہ نکتہ تو اختلافی نہیں تھا، پوری امت مسلمہ کے نزدیک تحریف قرآن کا قائل کافر ہے، بلکہ کم علم شیعہ بھی یہی جانتے ہیں کہ قرآن کریم میں تحریف کا قائل کافر ہوجاتا ہے۔

شیعہ مناظر علی عریش صاحب نے پہلے دن کی گفتگو میں دو ٹوک الفاظ میں یہ اظہار نہ کیا بلکہ مسلسل دو گھنٹے صرف یہی کہتے رہے کہ یہ ایک مختلف مطالبہ ہے، یا ایک نیا دعوی ہے اور اس پر الگ سے مناظرہ ہوگا!!!

بحرحال سنی مناظر کی تیسری شرط پر جس طرح شیعہ مناظر علی عریش صاحب نے اعتراض کیا اور کھل کر منکر قرآن کو کافر کہنے سے اجتناب کیا، اس سے اہل سنت مؤقف مزید مضبوط ہوگیا اور سامعین تک یہ بات پہنچ گئی کہ شیعہ واقعی تحریف کے قائل ہیں۔

🔴 کیا تحریف قرآن کے قائل پر اہل تشیع کا مؤقف پوری امت مسلمہ سے مختلف ہے؟

1- شیعہ قائلین تحریف قرآن کو کافر نہیں سمجھتے ، اسی لئے شیعہ مناظر علی عریش صاحب نے ایک سادہ جملے میں اس کے بارے میں اپنا مؤقف بیان نہیں کیا  بس سامعین کا وقت ضایع کرتے رہے۔

2- شیعہ مناظر علی عریش صاحب تحریف بالقرآن پر الگ سے مناظرہ کرنے کا کہتے رہے یعنی ان کے نزدیک پوری امت مسلمہ کا مؤقف (تحریف قرآن کا قائل کافر) درست نہیں ہے بلکہ اہل تشیع اس کے متعلق کچھ اور حکم لگاتے ہیں، ظاہر ہے شیعہ کا مؤقف اہل سنت سے مختلف ہے اسی لئے تو وہ الگ مناظرہ کی دعوت دیتے رہے۔

🔴 اہل تشیع جواب دعوی🔴

جمہور علماء تشیع آیات قرآنی ( إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ )    الحجر (9)

( لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ ) اور طبق روایہ ائمہ معصومین (ما لم يوافق من الحديث القرآن فهو زخرف) کی روشنی میں قرآن کے ایک ایک لفظ کو حجت مانتے ہیں اور جتنی روایات اس کے مقابلے میں ہوں مردود ہوں گی۔

🔴شیعہ مناظر علی عریش صاحب کے شرائط و اصول🔴

1- دوران مناظرہ قرآن کی آیت اور روایت صحیحہ پیش ہوں گی.

2- کسی بھی عالم کا دعوٰی اجماع یا دعوی تواتر طرفین کے لئے حجت نہیں ہوگا بلکہ خود مدعی کو اجماع اور تواتر ثابت کرنا ہوگا۔

سنی مناظر نے دوسرے اصول پر اشکال پیش کیا کہ اگر کسی عالم کا قول حجت نہیں تو پھر یہ اصول دونوں پر لاگو ہوگا  اور کوئی بھی فریق کسی عالم، مولوی یعنی غیر معصوم کا قول پیش نہیں کرے گا، جسے شیعہ مناظر نے بھی تسلیم کیا کہ تمام اصولوں پر دونوں فریقین عمل کریں گے، لیکن علی عریش صاحب اس بات پر زور دیتے رہے کہ کسی شیعہ عالم کا تواتر یا اجماع کا ذکر قابل قبول نہیں ہوگا بلکہ سنی مناظر کو تواتر اور اجماع ثابت بھی کرنا پڑے گا، لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آخر کتنی روایات یا کتنے علماء کے اقرار سے اجماع یا تواتر تسلیم کریں گے، اگرچہ سنی مناظر نے پانچ علماء کے اقرار کا ذکر بھی کیا ، لیکن اسے بھی شیعہ مناظر علی عریش نے یہ کہہ کر رد کردیا کہ پانچ کا اقرار بھی تواتر یا اجماع نہیں ہے۔

بحرحال آخر میں یہی بات طئے کی گئی کہ دوران مناظرہ شیعہ علماء کے بجائے صرف ائمہ معصومین کے اقوال سے ہی ثابت کیا جائے گا کہ اہل تشیع تحریف قرآن کے قائل ہیں یا نہیں۔

🔴مناظرے کا دوسرا اور آخری دن اتوار 14 جولائی 2019🔴

شیعہ مناظر علی عریش:

جی جناب معاویہ صاحب۔۔ میں حسب دستور حاضر ہوگیا ہوں۔ بات وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں کل ادھوری رہ گئی تھی۔ اگر آپ کو میری دونوں شرئط و اصول منظور ہیں تو بات کو آگے بڑھایا جائے۔ اگر منظور نہیں ہیں تو کس لئے منظور نہیں ہیں؟ اسے بیان فرمادیں۔

اہل سنت مناظر علی معاویہ:

محترم۔۔ کل میں نے کئی میسیجز میں کہا تھا کہ آپ کی شرائط قبول ہیں، قبول ہیں تو پھر دوبارہ یہی سوال مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟

کل ہماری واضح بات ہوچکی کہ آپ کی دونوں شرائط اور میری شرائط سوائے تیسری شرط کے ہم دونوں کو قبول ہیں۔

اس کے باوجود آپ نے دو گھنٹے ضایع کئے۔ اب ہماری بات دلائل پر آئے گی۔ اب میں دلائل پیش کروں گا اور وہ بھی صرف ائمہ معصومین کے دلائل پیش کروں گا۔ آپ بھی طئے شدہ شرائط کی پابندی کرتے ہوئے صرف ائمہ معصومین سے دلائل پیش کر کے میرے دلائل کا رد کریں گے، اگر کسی غیر معصوم کا ایک قول بھی پیش کیا تو پھر میری طرف سے بھی لائین لگ جائے گی، اسے یاد رکھئے گا۔

اب میں اپنا دعوی پیش کر کے اپنا دعوی شروع کرتا ہوں۔

🔴دعوی اہل سنت🔴

شیعہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے موجودہ قرآن کریم پر ایمان نہیں رکھتا۔

اہل سنت مناظر علی معاویہ:

معزز سامعین ۔۔ آپ کے علم میں ہے کہ آج ہماری بات طئے تھی تحریف قرآن کے مسئلہ پر۔ مدعی میں ہوں اور میں نے دعوی بھی پیش کیا ہے۔ ہماری گفتگو موجودہ قرآن پر ہوگی۔

اب میں دلائل صرف ائمہ معصومین سے پیش کروں گا اور شرائط کے مطابق میری کوشش ہوگی کہ کسی غیر معصومین شیعہ مولوی سے کوئی قول پیش نہ کروں کیونکہ ایسی صورت میں مجھے متواتر ثابت کرنے کے لئے بہت سارے دلائل پیش کرنے ہوں گے۔

میں اپنی ہر باری میں چار یا پانچ حوالے پیش کرتا جاؤں گا تاکہ میری بات تواتر تک پہنچ سکے اور فریق مخالف یہ اعتراض بھی نہ کر سکے کہ متواتر نہیں ہے۔

گفتگو کے آخر میں یہ بھی ثابت کیا جائے گا کہ میرے ان دلائل سے کس طرح تواتر ثابت ہوتا ہے۔

یہ دو حوالے پیش کئے ہیں۔

دلیل 1 # رجال کشی: جس میں واضح الفاظ میں لکھا ہوا ہے کہ

ارتد الناس الا ثلاثہ: ابوذرؓ و سلمانؓ  و المقدادؓ۔

یعنی نبی کریمﷺ کے بعد سارے لوگ مرتد ہوگئے تھے ، دین سے پھر گئے تھے سوائے تین ابوذر، سلمان اور مقداد کے۔

دلیل 2 # حق الیقین: اس میں واضح لکھا ہوا ہے کہ قرآن کریم کو جمع کرنے والے حضرت زید بن ثابتؓ  تھے ، جو دشمن علی تھے (معاذاللہ) اور سیدنا عثمانؓ نے انہیں مقرر کیا کہ وہ قرآن کریم کو جمع کریں۔

🔴 طرز استدلال: موجودہ قرآن کریم شیعہ کتب سے بھی ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا جمع کردہ ہے۔ صحابہ کرام کے بارے میں اہل تشیع کا نظریہ یہ ہے کہ سوائے تین کے تمام صحابہ نبی کریمﷺ کے بعد مرتد ہوگئے تھے ، دین سے پھر گئے تھے اور قرآن کریم کو جمع کرنے والے حضرت زید بن ثابتؓ اہل تشیع کے ہاں دشمن اہل بیت ہیں۔ (معاذاللہ) ۔

ان دو دلائل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اہل تشیع کے نظریہ صحابہ کرام کو ذہن میں رکھتے ہوئے کوئی بھی شیعہ مرتدین کے جمع کردہ موجودہ قرآن پاک کو آخر کس طرح قابل قبول کرسکتا ہے؟

جس طرح توریت، انجیل ہم اسی لئے معتبر نہیں سمجھتے کیونکہ انہیں جمع کرنے والے یہودی اور عیسائی ہمارے لئے قابل اعتبار نہیں ہیں۔ اسی طرح اگر جمع کرنے والے صحابہ کرام ہی شیعہ کے نزدیک معتبر نہ ہوں تو انہی صحابہ کا جمع کردہ قرآن کریم کس طرح معتبر ہوسکتا ہے۔ یہ بات علم و عقل کے بھی منافی ہے کہ معاذاللہ مرتدین کا، منافقین کا، کفار کا جمع کردہ قرآن کریم مسلمانوں کے لئے معتبر ہو۔

اگر شیعہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو قابل اعتماد، معتبر اور مؤمن تسلیم کرلیں تو پھر موجودہ قرآن کریم کو تسلیم کرنے کا دعوی بھی کرسکتے ہیں، بصورت دیگر غیر معتبر ذرائع کا جمع کردہ  قرآن کریم قبول کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا! 

 

دلیل 3 # اصول الکافی:

(باب) * (انه لم يجمع القرآن كله الا الائمة (عليهم السلام) وانهم) * * (يعلمون علمه كله) *

1 – محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد، عن ابن محبوب، عن عمرو بن أبي المقدام عن جابر قال: سمعت أبا جعفر (عليه السلام) يقول: ما ادعى أحد من الناس أنه جمع القرآن كله كما أنزل إلا كذاب، وما جمعه وحفظه كما نزله الله تعالى إلا علي بن أبي طالب (عليه السلام) والائمة من بعده (عليهم السلام).

(اصول الکافی جز اوّل ص 135,136)

باب: قرآن کریم کو ائمہ کے سوا کسی نے جمع نہیں کیا۔

امام باقرؓ سے روایت ہے کہ اگر کوئی دعوی کرے کہ اس قرآن کو ائمہ کے علاوہ جمع کیا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔ کیونکہ اس قرآن کو جس طرح اللہ عزوجل نے نازل کیا تھا اس طرح حفظ کرنے والے سیدنا علی ابن ابی طالب ہیں اور ائمہ ہیں۔

طرز استدلال: موجودہ قرآن کریم تو صحابہ کرام کا جمع کردہ ہے۔ شیعہ کتاب اصول کافی کے مطابق ائمہ کے علاوہ جو بھی قرآن کو جمع کرے اور دعوی کرے تو وہ جھوٹا ہے یعنی موجودہ قرآن کریم بھی جھوٹا ہوگیا (معاذاللہ)

یہ تین دلائل پیش کئے ہیں۔

ایک یہ کہ تمام صحابہ اہل تشیع کے ہاں مرتد ہیں، دوسرا یہ کہ جمع کرنے والے حضرت زید بن ثابتؓ  دشمن اہل بیت ہیں۔ تیسری دلیل یہ کہ ائمہ کے سوا قرآن کریم جمع کرنے والے لوگ جھوٹے ہیں۔ (معاذاللہ ثم معاذاللہ)

اب علی عریش صاحب۔۔ ان تینوں دلائل کا رد کریں۔

شیعہ مناظر علی عریش:

 محترم۔۔۔ آپ پہلے اپنا دعوی دوبارہ بھیج دیں ، مجھے مل نہیں رہا ، اس کے بعد گفتگو شروع کرتے ہیں۔ اگر کسی اور کے پاس علی معاویہ صاحب کا دعوی موجود ہے تو مجھے بھیج دے۔

🔴 تبصرہ:

مناظرے میں شیعہ مناظر علی عریش صاحب کی سنجیدگی ملاحظہ فرمائیں۔ یاد رہے کہ مناظرہ کا موضوع، دعوی پھر اسی دعوی پر موصوف کا جواب دعوی ، پھر دونوں فریقین کے شرائط و اصول اور ان پر اشکالات بھی زیر بحث آ چکے تھے، اور حد تو یہ ہے کہ سنی مناظر علی معاویہ صاحب نے گفتگو شروع کرتے ہی اپنی وائس میں اپنا دعوی دوبارہ بیان بھی کردیا تھا !!

ان سب کے باوجود شیعہ مناظر کی غیر سنجیدگی یا غائب دماغی ملاحظہ فرمائیں کہ انہیں علی معاویہ صاحب کی وائسز سننے یا ان پر سوچنے یا سمجھنے کی توفیق ہی نہ ملی۔

مناظرہ میں دلائل والے دن سنی مناظر علی معاویہ صاحب کے دعوی کی تلاش میں شیعہ مناظر علی عریش صاحب نے دو وائس میسیجز بھیج کر سامعین کا نہ صرف وقت ضایع کیا بلکہ انہیں مایوس بھی کیا۔

بحرحال کسی گروپ ممبر نے اور خود سنی مناظر علی معاویہ صاحب نے بھی دوبارہ اہل سنت دعوی ان کی خدمت میں پیش کردیا۔

شیعہ مناظر علی عریش:

 جناب معاویہ صاحب۔۔ آپ کا دعوی میں نے دیکھا، چونکہ مناظرے میں اصل دعوی ہی ہوتا ہے۔ آپ نے دعوی میں لکھا ہے کہ شیعہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے موجودہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتا۔ یہ ہے دعوی آپ کا۔ اور بہت افسوس کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ دوسرے لوگ پتہ نہیں کیوں آپ کو بہت بڑا مناظر سمجھتے ہیں اور اتنا بھونکال اور اتنی ہیبت خود آپ کے حلقہ احباب میں بنی ہوئی ہے ، لیکن آپ کو اصول مناظرہ، طرز مناظرہ اور جو مناظرے کی روش ہونی چاہئے اس سے آپ بالکل نابلد، ناواقف ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے جو دعوی کیا ہے ، کم از کم اس کے اوپر مرا حق بنتا ہے کہ کچھ تنقیح کی جائے۔ تو یہاں سے مناظرہ شروع ہوگا۔ آپ آئے اور روایتیں پیش کرنے لگے۔ جو الفاظ آپ نے دعوی میں استعمال کئے ہیں، میں اسی پر چند سوال آپ سے کر رہا ہوں۔

پہلا سوال: شیعہ اپنے مذہب پر ، تو اس “شیعہ”  سے آپ کی کیا مراد ہے؟

ایک شیعہ، چند شیعہ، بعض شیعہ یا تمام شیعہ۔

🔴 تبصرہ :

غور فرمائیں۔گفتگو شیعہ مذہب پر ہونی تھی اور تحریف قرآن شیعہ مذہب سے ثابت کرنے پر مناظرہ رکھا گیا تھا اور دعوی بھی اسی کے متعلق تھا کہ شیعہ اپنے “مذہب” پر رہتے ہوئے موجود قرآن کریم پر ایمان نہیں رکھ سکتا ، صاف ظاہر ہے کہ چند ، بعض یا تمام شیعوں کی تو بات ہی نہیں کی جا رہی بلکہ براہ راست مذہب شیعہ پر اعتراض وارد کیا گیا ہے، اب جو بھی شیعہ مذہب تسلیم کرے گا تو اس کا ایمان بھی اسی مذہب کے مطابق ہی ہوگا۔

چاہے وہ چند شیعہ ہوں، بعض شیعہ ہوں یا تمام شیعہ ہوں۔

دعوی اہل سنت سادہ الفاظ میں ہے ، اب شیعہ مناظر  علی عریش صاحب کو صرف شیعہ مذہب اور اس کے بنیادی ذرائع کو زیر بحث لانا چاہیے تھا۔

بالفرض دعوی اہل سنت پر اشکالات کرنے بھی تھے تو پہلا دن اسی مقصد کے لئے ہی تو رکھا گیا تھا، جسے فضول ضایع کیا گیا، اور تحریف قرآن پر اہل تشیع کے ہاں حکم  نہ بتا کر صرف ٹال مٹول کر کے ٹائیم پاس کیا گیا۔

یہ بھی غور طلب بات ہے کہ اگر دعوی اہل سنت پر شیعہ مناظر علی عریش صاحب کو  واقعی اعتراض کرنا تھا تو اس اعتراض سے پہلے انہوں نے جواب دعوی کیوں بھیج دیا تھا۔

بحرحال دوسرا دن دلائل کا تھا، لیکن شیعہ مناظر صاحب سنی مناظر کے دلائل کا رد کرنے کے بجائے دعوی کے الفاظ پر وضاحت مانگنے لگے۔ شاید ان کا مقصد صرف سامعین کا وقت ضایع کرنا تھا۔

اس وائس میں شیعہ مناظر علی عریش صاحب نے سنی مناظر پر ذاتی حملہ بھی کیا ہے جو ایک نامناسب طرز عمل تھا۔

شیعہ مناظر علی عریش:

دوسرا سوال: شیعہ مذہب کے وہ اصول کیا ہیں، جن پر رہتے ہوئے وہ موجودہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتا؟

🔴 تبصرہ:

غور فرمائیں۔۔ سنی مناظر علی معاویہ صاحب نے تین دلائل شیعہ کتب سے دئے اور ائمہ معصومین سے ثابت کیا کہ اہل تشیع موجودہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتے کیونکہ ان کے مذہب کی معتبر کتب میں ان کی معتبر ترین شخصیات یعنی ائمہ معصومین سے تحریف قرآن کی تائید میں کئی روایات موجود ہیں۔

ان دلائل کا رد کرنے کے بجائے شیعہ مناظر علی عریش صاحب گفتگو کو گھمانے کی کوشش کرتے ہوئے شیعہ اصول پوچھ رہے ہیں، جبکہ ائمہ معصومین کے اقوال ہی اہل تشیع کے ہاں حرف آخر ہوتے ہیں۔

کوئی شیعہ اصول قول معصوم کو رد نہیں کر سکتا، زیادہ سے زیادہ قول معصوم کو ضعیف کہہ کر رد کیا جا سکتا ہے، لیکن علی عریش صاحب تو کسی بھی دلیل پر بات نہ کرنے کی قسم کھائے بیٹھے تھے۔

اہل سنت مناظر علی معاویہ کا جواب :

الحمدللّٰہ میں مناظر ہوں اور اپنے دعوی کے مطابق ہی دلیل پیش کی ہے۔ آپ کو تنقیحات آج یاد آ رہی ہیں۔ میں ان کا جواب بھی دوں گا اور ساتھ ساتھ دلائل بھی دیتا جاؤں گا۔ ان شاء اللہ۔

میں آپ لوگوں کو بخوبی جانتا ہوں، اسی لیے میرے لوگوں نے مجھے منتخب کیا ہے۔ میں شیعوں کی رگ رگ سے واقف ہوں۔ اب میں آپ کے سوالوں کے جوابات بھی دیتا ہوں۔

پہلا سوال: کونسے شیعہ ؟

محترم۔۔ دعوی میں شیعہ سے مراد اثنا عشریہ شیعہ ہیں جو آپ ہیں۔  اسی لئے تو میں اصول کافی اور شیعہ کتب سے دلائل دے رہا ہوں۔ میں شیعہ کے دوسرے فرقے مثلآ زیدی سمجھ کر امام جعفر اور امام باقر سے دلیل تھوڑی دے سکتا ہوں۔ میری بات آپ سے ہو رہی ہے۔

دوسرا سوال: شیعہ اصول؟

اصول یہی ہیں کہ دوران مناظرہ  صرف ائمہ معصومین پر بات ہوگی، اور میں تواتر سے ثابت کروں گا۔ ان شاء اللہ ، آپ تنقیحات کرتے رہیں میں جوابات بھی دیتا رہوں گا۔

شیعہ مناظر علی عریش:

میرا تیسرا سوال:

 آپ نے دعوی میں فرمایا ہے کہ شیعہ موجودہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتا، تو یہ جو آپ نے فرمایا ہے کہ ایمان نہیں رکھتا تو اس کا کیا مطلب ہے؟ قرآن کو حجت نہیں مانتا؟ قرآن کو کامل نہیں مانتا؟ قرآن کو ناقص مانتا ہے؟

محترم۔۔ہمارہ موضوع مناظرہ تحریف قرآن ہے۔ آپ اس سے نہ ہٹیں۔آپ جو روایات پیش کر رہے ہیں۔ آپ جو قول پیش کر رہے ہیں سب ناکافی ہیں۔ شیعہ نہیں مانتا، کیا نہیں مانتا۔۔ اس کا جواب مجھے دیں۔

🔴 تبصرہ:

غور فرمائیں۔۔ شیعہ مناظر علی عریش صاحب کس طرح وقت ضایع کر رہے ہیں۔ جب کوئی کہے کہ فلاں قرآن کو نہیں مانتا تو اس سے عام فہم بھی سمجھ سکتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہوئی کہ فلاں قرآن کریم کو سچی کتاب، تحریف سے پاک کتاب نہیں مانتا، مطلب وہ قرآن کو ناقص، تحریف شدہ سمجھتا ہے یعنی کامل کتاب نہیں سمجھتا۔

علی عریش صاحب۔۔ معصوم بن کر اس طرح سوال پوچھ رہے تھے، جیسے بہت بڑا کوئی علمی اعتراض بیان کر رہے ہیں!! حالانکہ یہ سوال فضول اور جاہلانہ ہے۔

اہل سنت مناظر علی معاویہ کا جواب:

شیعہ اس قرآن میں ایمان نہیں رکھتا، یعنی موجود قرآن کریم پر شیعہ اس لئے ایمان نہیں رکھتا کہ اس قرآن کریم کے جامعین شیعوں کے نزدیک دشمن اہل بیت ہیں، وہ منافق، مرتد اور کافر ہیں، مسلمان نہیں ہیں۔(معاذاللہ)

میں دلائل میں یہی استدلال پیش کرچکا ہوں، آپ پھر یہی بات کیوں پوچھ رہے ہیں۔ شاید آپ وائس نہیں سن رہے۔

میں نے یہ دلیل بھی دی ہے کہ شیعوں کے نزدیک قرآن کریم صرف اہل بیت نے جمع کیا ہے، اب ظاہر ہے موجودہ قرآن تو صحابہ کرام کا جمع کردہ ہے، مطلب یہ قرآن جھوٹا ہوا!!

اس لئے شیعہ موجودہ قرآن پر کس طرح ایمان رکھ سکتا ہے؟

آپ نے مزید کہا ہے کہ ہماری گفتگو تحریف پر ہے، تو محترم۔۔ ہماری بات تحریف پر ہی چل رہی ہے۔

شیعہ موجودہ قرآن پر اسی لئے تو ایمان نہیں رکھتا کہ صحابہ کرام جو دشمن اہل بیت تھے ، انہوں نے قرآن کریم میں تحریف کردی ہے!!

آگے مزید دلائل بھی تحریف پر دوں گا۔ ان شاء اللہ۔ میں موضوع کے مطابق ہی دلائل دوں گا، ابھی تو بہت دلائل باقی ہیں۔ آپ بس پریشان نہ ہوں۔

شیعہ مناظر علی عریش کا جواب:

معذرت کے ساتھ۔ آپ نے یہ کہا ہے کہ کسی عالم کا قول نقل نہیں کیا جائے گا ورنہ بھرمار لگادی جائے گی، محترم میرا پہلا اصول اور شرط یہ تھی کہ آیات قرآنیہ اور روایات صحیحہ ہی قابل استدلال ہوں گی۔

دوسری شرط یہ تھی کہ اگر کوئی بھی مدعی چاہے آپ یا چاہے میں ، قول علماء تشیع یا قول علماء تسنن میں اگر پیش کیا گیا تو اس کی دلیل لانی پڑے گی۔ اگر آپ یہ پیش کر رہے ہیں کہ کسی ایک یا چند نے تواتر کا یا اجماع کا ذکر کیا ہے تو مدعی کا ذمہ ہے کہ وہ متواتر روایات کو پیش کرے اور خود اجماع کو پیش کرے۔

🔴 تبصرہ:

غور فرمائیں۔۔ یہاں بھی شیعہ مناظر علی عریش صاحب بضد ہے کہ سنی مناظر قول معصوم کے بجائے قول شیعہ عالم پیش کرے اور پھر اس قول کو الگ سے ثابت بھی کرے یعنی متواتر روایات (جن کی تعداد کا کوئی تعین نہیں فرمایا گیا)، اور اجماع بھی ثابت کرے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سنی مناظر نے پہلے دن ہی یہ مؤقف اختیار کیا کہ میں شیعہ عالم کا قول پیش ہی نہیں کروں گا، تاکہ یہ بکھیڑا ہی ختم ہوجائے۔۔ علی معاویہ صاحب بار بار یہی کہتے رہے کہ شیعہ عالم تو غیر معصوم ہیں، میں ائمہ معصومین کے اقوال پیش کرتا ہوں اور ائمہ معصومین کے اقوال سے ہی ان کا رد ممکن ہے۔

مطلب دوران مناظرہ دلائل یا اقوال صرف معصومین کے زیر بحث لائے جائیں گے۔

اس طرح یہ مسئلہ بالکل ہی صاف ہوگیا کہ موجودہ قرآن کریم پر اگر اہل تشیع کا ایمان ہے اور وہ یہ دعوی کرتے ہیں تو انہیں صرف ائمہ معصومین کے اقوال پیش کر کے اسے ثابت کرنا ہوگا، دوسری طرف سنی مناظر علی معاویہ صاحب بھی صرف ائمہ معصومین کے اقوال سے ہی ثابت کریں گے کہ شیعہ واقعی موجودہ قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں۔

اہل سنت مناظر علی معاویہ کا جواب :

دیکھیں بات شرائط پر دوبارہ نہیں ہوگی۔ آپ نے شیعہ عالم کے قول کے ساتھ متواتر اور اجماع ثابت کرنے کی شرط بھی لگادی ہے تو میں اب اتنا وقت کیوں ضایع کروں۔اس لئے میں نے شیعہ مولویوں کو ایک سائیڈ پر رکھ دیا ہے۔ اب میں ائمہ معصومین کے دلائل دے رہا ہوں ، آپ بھی ان کا رد ائمہ معصومین سے کریں گے، کسی غیر معصوم کا قول بیچ میں لاکر وقت ضائع نہ کیجئے گا۔ 

 دلیل 4 # تفسیر صافی:

دسویں امام نقیؒ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے ان کی خدمت میں کہا کہ ہم ایسی ایسی آیات سنتے ہیں جو قرآن میں سے نہیں ہیں، اور ہم انہیں پڑھنے کو اچھا نہیں سمجھتے تو کیا ہم گنہگار ہیں؟

امام نے فرمایا نہیں، تمہیں جس طرح سکھایا گیا ہے اسی طرح پڑھو، جب آخری امام آئے گا تو وہ تم کو سکھائے گا۔

دلیل 5 # اصول کافی جلد 2 صفحہ 350:

محمد بن يحيى، عن محمد بن الحسين، عن عبدالرحمن بن أبي هاشم، عن سالم بن سلمة قال: قرأ رجل على أبي عبدالله (عليه السلام) وأنا أستمع حروفا من القرآن ليس على ما يقرؤها الناس، فقال أبوعبدالله (عليه السلام): كف عن هذه القراءة اقرأ كما يقرأ الناس حتى يقوم القائم فإذا قام القائم (عليه السلام) قرأ كتاب الله عزو جل على حده وأخرج المصحف الذي كتبه علي (عليه السلام) وقال: أخرجه علي (عليه السلام) إلى الناس حين فرغ منه وكتبه فقال لهم: هذا كتاب الله عزوجل كما أنزله [الله] على محمد (صلى الله عليه وآله) وقد جمعته من اللوحين فقالوا: هو ذا عندنا مصحف جامع فيه القرآن لا حاجة لنا فيه، فقال أما والله ما ترونه بعد يومكم هذا أبدا، إنما كان علي أن اخبركم حين جمعته لتقرؤوه.

اصول کافی جلد 2 صفحہ 350

اس روایت کا مفہوم یہ ہے کہ سیدنا علی نے قرآن کریم جمع کیا لیکن صحابہ نے انکار کیا ، تو سیدنا علی نے فرمایا کہ اب تم قرآن کو نہیں دیکھو گے جبتک میری نسل سے قائم (امام مہدی) نہ آئے گا۔

الحمدللّٰہ۔۔۔ میں اس وقت تک پانچ دلائل سے اپنا دعوی ثابت کرچکا ہوں۔

شیعہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے موجودہ قرآن کریم پر ایمان نہیں رکھ سکتا کیونکہ۔۔۔۔

دلیل 1- رجال کشی کے مطابق موجودہ قرآن کریم کے جامعین صحابہ کرام شیعوں کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں، بلکہ نبی کریم  ﷺ کے بعد تمام صحابہ مرتد ہوگئے تھے معاذاللہ ۔

دلیل 2- حق الیقین کے مطابق حضرت زید بن ثابتؓ نے قرآن جمع کیا تھا اور وہ دشمن اہل بیت تھا۔ (معاذاللہ)

دلیل 3- اصول کافی امام باقر ؒ کا فرمان:  جو بھی یہ دعوی کرے کہ ائمہ کے علاوہ کسی دوسرے نے قرآن جمع کیا ہے تو وہ جھوٹا ہے، تو موجودہ قرآن کریم تو صحابہ کرام نے جمع کیا ہے ، گویا موجودہ قرآن شیعہ معتبر کتب میں موجود ائمہ معصومین کے اقوال کے مطابق جھوٹا ہے۔

دلیل 3۔   شیعہ معتبر تفسیر صافی میں ائمہ معصومین کے اقوال کے مطابق امام مہدی آئے گا اور اصل قرآن کریم پڑھائے گا تب تک شیعوں کو موجودہ قرآن کریم پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

دلیل 5۔  شیعہ معتبر کتب اصول کافی کے مطابق سیدنا علی نے قرآن کریم جمع کیا لیکن لوگوں نے قبول نہ کیا تو پھر سیدنا علی نے اس قرآن کریم کو چھپا دیا اور فرمایا کہ آج کے بعد تم لوگ اس قرآن کو نہیں دیکھو گے۔

شیعہ مناظر علی عریش کا جواب:

(ہنستے ہوئے) آپ کو تو لوگ بہت بڑا مناظر کہتے ہیں، سمجھتے ہیں۔

آپ اپنے حلقہ احباب میں بڑے مناظر ہوں گے۔ لیکن یہاں ابھی معلوم ہوجائے گا ، کون کتنا بڑا مناظر ہے۔

(اس کے بعد علی عریش نے پھر گفتگو ذاتیات کی طرف موڑنے کی کوشش کی اور کہا کہ آپ کو لوگوں نے مناظرہ کرنے پر مجبور کیا ہے یا ہمارے ایڈمن نے!! رگ رگ اور شریانوں کی باتیں بھی ہوئیں وغیرہ وغیرہ۔۔ ان کی فضول باتوں کے بھی سنی مناظر نے جوابات دئے لیکن موضوع سے مطابقت نہ رکھنے کے باعث دونوں کی گفتگو کا یہ حصہ حذف کیا جاتا ہے)

شیعہ مناظر علی عریش صاحب کا جواب :

محترم۔۔میں نے شیعہ فرقوں کے متعلق سوال نہیں پوچھا ہے بلکہ یہ پوچھا ہے کہ بعض شیعہ، چند شیعہ یا جمہور شیعہ قرآن کو نہیں مانتے؟ روایات کی یہاں بات ہی نہیں، آپ خوامخواہ روایات پیش کر رہے ہیں، اسکینز اور دلائل پیش کر رہے ہیں۔

اگر آپ کو روایات پیش کرنی تھیں تو محترم آپ کو دعوی یہ پیش کرنا تھا کہ شیعہ کتب میں روایات تحریف سے متعلق موجود ہیں۔ لیکن آپ نے اپنے دعوی میں ماننے اور نہ ماننے کی بات کی ہے۔

صحابہ مرتد ہیں، کافر ہیں، کتنے منافق ہیں،  کتنے مرتد ہیں، اس سے مجھے کوئی لینا دینا نہیں ہے محترم۔

🔴 تبصرہ:

غور فرمائیں۔۔۔ دعوی اہل سنت تحریف قرآن کے متعلق تھا، شیعہ مذہب پر براہ راست اعتراض تھا کہ اس مذہب پر رہ کر کوئی قرآن پر ایمان نہیں رکھ سکتا،

دوران مناظرہ دلائل بھی عین اسی روشنی میں دئے گئے ہیں، لیکن شیعہ مناظر علی عریش صاحب مذہب شیعہ پر بات کرنے کے بجائے چند شیعہ، بعض شیعہ اور جمہور شیعہ کی کہانیاں سنا رہے ہیں۔

اہل سنت مناظر علی معاویہ صاحب کے دلائل جو شیعہ معتبر کتب سے ائمہ معصومین کے اقوال ہیں، ان کا رد کرنے کے بجائے وہ مشورہ دے رہے ہیں کہ اگر روایات پیش کرنی تھیں تو دعوی میں لفظ “روایات” بھی لکھنا چاہئے تھا!!

حد ہے جہالت کی۔۔۔ کیا کوئی مناظرہ بغیر روایات کے بھی ہوتا ہے؟ دعوی میں لفظ “روایات” لکھنے کی کوئی تک ہی نہیں بنتی!!

اگر مذہب کے کسی عقیدے پر مناظرہ ہو تو ہمیشہ روایات ، احادیث اور اقوال ہی پیش کیے جاتے ہیں، یہ ایک مسلمہ بات ہے ، دعوی میں لفظ “روایات” لکھنا ضروری تھوڑی ہوتا ہے۔ شیعہ مناظر علی عریش صاحب کا یہ اعتراض بچگانہ تھا۔

اہل سنت کے دعوی میں واضح الفاظ “شیعہ مذہب” کے ماننے والوں کا قرآن پر ایمان نہ ہونا بیان کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے اس کی تائید اسی مذہب کی معتبر کتب کی روایات سے ثابت کی جائے گی، سونے پہ سہاگہ یہ کے صرف ائمہ معصومین کے اقوال سے اہل سنت دعوی ثابت کیا جا رہا تھا ، اور یہی بات شیعہ مناظر علی عریش صاحب کو اندر ہی اندر پریشان کر رہی تھی۔

اہل سنت مناظر علی معاویہ کا جواب:

آپ میرے دلائل اور روایات پر بات کرنے کے بجائے شیعہ کی بات کیوں کرنا چاہ رہے ہیں؟ چند شیعہ یا جمہور شیعہ کا ذکر کیوں !!؟؟  محترم۔۔۔ مجھے بتائیں۔۔ کوئی بھی شیعہ حتی کے جمہور شیعہ اپنے ائمہ معصومین کے خلاف چلیں گے؟ اگر چلیں گے تو پھر میں ان کو شیعہ ہی نہیں مانتا۔

آپ پہلے واضح بتائیں کہ شیعہ ائمہ معصومین کے خلاف چلتے ہیں؟ کتب شیعہ میں جو اقوال معصومین ہیں کیا شیعہ ان کے خلاف بھی چلتے ہیں؟ اگر سینکڑوں روایات ائمہ معصومین کی شیعہ کتب میں ہوتے ہوئے شیعہ ان کے خلاف چلتے ہیں تو آپ بتادیں؟

آپ خود اپنے بارے میں اقرار کریں کہ ہاں میں ایسا شیعہ ہوں جو اپنے ائمہ معصومین کی روایات کو نہیں مانتا۔ ایسی روایات جو تواتر تک پہنچی ہیں، انہیں بھی نہیں مانتا۔ آپ تسلیم کریں کہ آپ اس طرح کے شیعہ ہیں۔

میرا تو دعوی ہے کہ شیعہ اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے موجودہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتا۔ اگر آپ شیعہ مذہب پر قائم ہیں تو آئیں میرے دلائل پر بات کریں۔ ان کا رد کریں، اگر آپ اپنے مذہب پر قائم ہی نہیں ہیں اور اپنے ائمہ معصومین کی بھی نہیں مانتے تو آپ بول دیں کہ میں وہ شیعہ ہوں جو اپنے ائمہ کی بات کو نہیں مانتا۔

شیعہ مناظر علی عریش صاحب کا جواب :

محترم۔۔ آپ فرما رہے ہیں کہ شرائط پر بات ہوگئی ہے، لیکن محترم۔۔ شرائط پر بات کہاں ہوئی ہے؟

میری شرط کے مطابق اگر کسی بھی ایک عالم یا چند عالم اگر تواتر کا دعوی کریں یا اجماع کا دعوی کریں تو وہ کافی نہیں ہوگا بلکہ مدعی پر لازم ہوگا کہ وہ تواتر اور اجماع کو ثابت بھی کرے۔

سمجھ رہے ہیں آپ؟؟ اس کے بعد ہماری بات آگے بڑھے گی۔آپ اسکین پر اسکین دئے جا رہے ہیں۔۔ اب میں اگر اسکین بھیجنا شروع کردوں گا تو آپ کہیں گے یہ جواب نہیں ہوا، وہ جواب نہیں ہوا۔۔!!

تو آپ ابھی صبر سے کام لیں۔۔ ابھی آپ گھبرائیں نہیں ، ابھی آپ سے بہت مسئلوں پر بات کرنی ہے۔ بڑے مسائل یہاں پر موجود ہیں۔ ابھی تو آپ نے میرے جواب دعوی پر کوئی بات نہیں کی ہے۔ میرے جواب دعوی کا کیا ہوگا جناب؟ اس پر آپ نے کوئی اشکال پیش نہیں کیا؟ اس پر آپ نے کوئی بات ہی نہیں کی۔

آپ اصول مناظرہ ذہن میں رکھئے یا پھر جس طرح آپ اسکینز بھیج رہے ہیں، اسی طرح میں بھی اسکینز بھیجنا شروع کردوں؟ پھر تو ہوچکا مناظرہ ہمارہ!!!

🔴 تبصرہ:

غور فرمائیں۔۔۔ مناظرہ کا انتہائی اہم موڑ!

شیعہ مناظر علی عریش صاحب پر علی معاویہ صاحب نے اس طرح گرفت مضبوط کرلی کہ اب وہ بوکھلاہٹ میں دعوی سے بھی پیچھے شرائط و اصول پر پہنچ گئے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ ابھی ہماری شرائط پر بھی گفتگو کہاں ہوئی ہے؟؟

مطلب کل ان سے تین چار گھنٹے جھک ماری گئی تھی ، پانچ اصول علی معاویہ صاحب کے جو انہوں نے خود تسلیم کئے وہ بھی گئے تیل لینے اور شیعہ مناظر کے جن دو اصولوں کو علی معاویہ صاحب نے تسلیم کیا تھا وہ بھی اڑن چھو!!!

پھر آگے موصوف کی سوئی ایک شیعہ عالم اور چند شیعہ عالم پر اٹکی ہوئی ہے اور اس کوشش میں ہیں کہ علی معاویہ صاحب کسی شیعہ عالم کا قول بطور دلیل پیش کریں اور ساتھ میں متواتر اور اجماع بھی اسی قول کے موافق ثابت کریں!!!

شیعہ مناظر علی عریش صاحب پتہ نہیں کس پائے کے عالم ہیں، بحرحال اس موڑ پر سامعین یہ ضرور سمجھ گئے ہوں گے ان کی تیاری ائمہ معصومین کے اقوال پر بالکل نہیں ہے، اسی لئے سنی مناظر کے دلائل سے بھاگنے کا صرف یہی راستہ انہیں نظر آیا کہ گاڑی کو ریورس گیئر لگا کر واپس وہیں پہنچا دے جہاں سے اسٹارٹ کیا تھا!!

آخر میں موصوف مناظرہ کے اصول کی پابندی کا کہتے ہوئے یہ بھی فرما رہے ہیں کہ جس طرح مدعی دلائل بمعہ اسکینز  دے رہا ہے، اسی طرح وہ بھی اسکینز دینا شروع کردیں گے!!

جبکہ یہ روش تو صریح مناظرہ کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

دونوں فریقین کے مابین طئے شدہ اصولوں میں بھی یہ واضح کہا گیا تھا کہ جبتک مدعی کے دلائل کا جواب نہیں دیا جائے گا ، کوئی الزامی جواب دینا منع ہے۔

اہل سنت مناظر علی معاویہ کا جواب :

شرائط و اصول کا دن گذر چکا، آپ سے تفصیلی بات بھی ہوچکی۔ آج کے دن ہمارے درمیان یہی طئے تھا کہ دلائل پر بات ہوگی۔ اب آپ کو میرے دلائل دیکھ کر تنقیحات یاد آ رہی ہیں۔ ٹھیک ہے آپ تنقیحات کرتے رہیں، میں نہ صرف ان کے جوابات دوں گا بلکہ اپنے دلائل بھی ساتھ ساتھ پیش کرتا رہوں گا۔

آپ نے کہا کہ جواب دعوی پر کوئی اشکال نہیں آیا!! جبکہ میں نے جواب دعوی پر اشکال پیش کیا تھا، میں نے سوال کیا تھا کہ آپ کے جواب دعوی میں “موجودہ قرآن” کا لفظ نہیں ہے۔ جواب دعوی  میں لکھے گئے قرآن سے کیا مراد لی جائے؟

کیونکہ اہل تشیع کے ہاں دو قرآن کا تصور ہے، ایک موجودہ جھوٹا قرآن (معاذاللہ) جو صحابہ کرام کا جمع کردہ ہے اور دوسرا اصل قرآن جو سیدنا علیؓ نے جمع کیا تھا اور اب امام مہدی کے پاس غار سرمن راء میں ہے اور وہ قرب قیامت میں اپنے ساتھ لائیں گے۔ آپ نے میرے اس اشکال کی وضاحت بھی نہیں کی۔

اس کے بعد آپ نے نئی باتیں شروع کردیں۔ یہ آپ کی غلطی ہے میری نہیں۔ اب آگے چلنا ہے۔ میں آپ کو دلائل پیش کرتا رہوں گا۔ آپ کو جوابات دینے ہوں گے۔ مولوی یا کسی غیر معصوم کی بات تو اب ختم ہوچکی ہے۔ میں خوامخواہ شیعہ عالم کا قول کیوں پیش کروں جسے ثابت کرنے کے لیے مزید بیشمار روایتیں بھی پیش کرنی پڑیں۔ میں کسی غیر معتبر کا قول پیش کرنے کے بجائے ائمہ معصومین کے اقوال کیوں نہ پیش کروں؟ وقت ضایع کیوں کروں؟ کیا آپ اپنے اماموں کو نہیں مانتے؟

محترم۔۔۔ آپ باتوں کو گھما پھرا رہے ہیں، میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ ائمہ معصومین پر آؤ یا بتاؤ کہ ائمہ معصومین کی نہیں مانتے!مناظرہ اس طرح ہوتا ہے۔

شیعہ مناظر علی عریش کا جواب :

یہ جتنے اسکین آپ نے بھیجے ہیں ، سب کے سب فالتو ہیں، رائیگاں ہیں۔جتنے اسکین بھیجے ہیں عنوانی اسکین یعنی ان کے اندر جو باتیں ہیں، ان کی بات نہیں کر رہا ہوں ، جو اسکین آپ بھیج رہے ہیں یہ رائیگاں ہیں میرے محترم!!

آپ سمجھنے کی کوشش کریں میں دوبارہ تین سوال کر رہا ہوں۔

1- جمہور شیعہ موجود قرآن پر ایمان نہیں رکھتے؟ اس کی وضاحت کریں۔

2- قرآن پر ایمان نہیں رکھتے تو کیا نہیں مانتے؟ ناقص، حجت

3- اگر نہیں مانتے تو اس کو آپ کیسے ثابت کریں گے؟ ان کا قول آپ کو پیش کرنا پڑے گا۔

آپ کو جمہور کا قول پیش کرنا پڑے گا۔ جب آپ نے دعوی کیا ہے کہ شیعہ نہیں مانتے تو آپ کو شیعوں کا قول پیش کرنا پڑے گا، یعنی اہل تشیع کے علماء یا افراد اہل تشیع یہ بات کہیں کہ موجودہ قرآن کو ہم نہیں مانتے یا ہمارہ ایمان اس پر نہیں ہے۔

یا پھر آپ اپنا موضوع مناظرہ، دعوی مناظرہ تبدیل کریں، پھر اس ٹاپک پر آئیں کہ شیعہ کتب میں تحریف قرآن پر روایات موجود ہیں، پھر ہم بتائیں گے کہ صرف شیعہ کتب میں نہیں بلکہ اہل سنت کتب میں بھی تحریف پر روایات موجود ہیں، پھر اس پر الگ سے بحث ہوگی، الگ مناظرہ ہوگا۔

اہل سنت مناظر علی معاویہ کا جواب :

ایک طرف آپ اپنے اصول میں کہہ چکے ہیں کہ شیعہ مولوی کا قول قبول نہیں کریں گے ، اگر میں نے قول پیش کیا تو متواتر اور اجماع الگ سے دکھانا بھی پڑے گا ، دوسری طرف آپ کہہ رہے ہیں شیعہ علماء سے دکھاؤں۔۔ واہ واہ۔۔۔ مطلب آپ ائمہ معصومین کو چھوڑ کر غیر معصومین کی طرف آ رہے ہیں۔

یہی بات میں کل سے کہہ رہا ہوں کہ آپ کے پاس غیر معصوم ہی ہیں۔ تقیہ باز مولوی، میں تو ائمہ معصومین پر بات کرنے کو تیار ہوں۔ الحمدلللہ ۔

آپ کے مناظر اکثر کہتے ہیں کہ شیعہ عالم کے قول دلیل نہیں ہوتے، اس لئے میں ببانگ دہل کہتا ہوں کہ آؤ۔۔اپنے اماموں کی طرف ہی آؤ۔۔چھوڑو اپنے غیر معصوم تقیہ باز مولویوں کو۔۔ آؤ ائمہ معصومین ہر ہی بات کرو۔۔

اب میں معصومین کی طرف آیا ہوں تو آپ غیر معصومین کا سہارہ لے رہے ہیں۔ مجھے کہہ رہے ہیں جمہور کی بات کرو۔۔۔

کیا تقیہ باز مولویوں کا بھی جمہور ہوتا ہے؟؟ ایک طرف جمہور ہو اور دوسری طرف امام معصوم ہو تو کس کی بات مانی جائے گی؟؟

تمہارے سارے غیر معصوم مولوی ایک طرف بیٹھ جائیں اور دوسری طرف ایک امام معصوم ہو تو کس کی اہمیت زیادہ ہوگی؟ بلکہ ایک معصوم نہیں میں تو کئی ائمہ معصومین پیش کر رہا ہوں۔

کل سے یہی بات تو میں کہہ رہا ہوں کہ ٹھیک ہے آپ کے اصول دیکھتے ہوئے میں دوران مناظرہ صرف ائمہ معصومین سے دلائل پیش کروں گا، اب دیکھتا ہوں آپ کس طرح میرے دلائل رد کرتے ہیں۔۔۔ ائمہ معصومین کا قول کسی غیر معصوم شیعہ عالم سے رد ہو ہی نہیں سکتا!!!

اہل سنت مناظر علی معاویہ صاحب کا جواب:

میں بار بار اتنے اسکینز صرف آپ کے اصولوں کی وجہ سے پیش کر رہا ہوں، آپ نے ہی پابند کیا ہے کہ تواتر دکھانا ہوگا۔ اپنے دوسرے مناظرین سے پوچھ لیں، میں اتنے اسکینز پیش کرنے کا عادی نہیں ہوں۔ میں ہمیشہ چند اسکین پیش کر کے اپنا مؤقف ثابت کرتا ہوں۔ یہ آپ نے ہی شرط رکھی ہے کہ اگر کسی مولوی کے قول میں تواتر ذکر کیا گیا ہے تو تواتر ثابت کرنا ہوگا تو محترم، میں یہی تواتر ثابت کر رہا ہوں۔ آپ اب کیوں پریشان ہو رہے ہیں کہ اتنے اسکینز کیوں پیش کر رہے ہو!!! اب آپ برداشت کریں۔

دلیل 6 #   تفسیر صافی صفحہ 41,43

تین روایات پیش کر رہا ہوں۔

1– امام باقرؒ سے روایت ہے کہ اگر اس قرآن میں کمی یا زیادتی نہ ہوتی تو ہمارہ حق بھی اہل فہم سے مخفی نہ ہوتا۔

2- امام جعفرؒ سے روایت ہے کہ جس طرح قرآن نازل ہوا تھا اگر تم قرآن اس طرح پاتے تو تم ہمیں نام بنام پاتے۔

امام جعفرؒ سے ہی روایت ہے کہ اس قرآن سے بہت سے باتیں نکالی گئی ہیں۔

3- حضرت ابوذرؓ سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے قرآن جمع کیا، لوگوں کے سامنے پیش کیا ، لیکن صحابہ نے قبول نہیں کیا تو سیدنا علی علی نے وہ قرآن چھپا دیا۔

میں الحمدللّٰہ اتنے اسکینز پیش کروں گا کہ خود تمہارے شیعہ بھی تسلیم کریں گے کہ ہاں یہ تواتر ثابت ہوگیا اب چھوڑ دو۔

شیعہ مناظر علی عریش کا جواب :

براہ کرم گفتگو مختصر کریں اور کم سے کم کلپس بھیجیں ، دوسری بات آپ اسکینز کے اوپر اسکینز بھیج رہے ہیں، ان سے مجھے کوئی مطلب نہیں ہے۔ ان کے مقابلے میں اگر میں نے صحیح بخاری اور دوسرے اہل سنت معتبر کتب سے اسکینز بھیجنا شروع کردئے تو پھر مناظرے کا طریقہ درہم برہم ہوجائے گا۔ پھر ہماری بات اپنے مقام تک نہیں پہنچے گی۔

آپ نے جو دعوی کیا تھا کہ شیعہ اپنے اصول مذہب پر رہتے ہوئے موجودہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتا، تو آپ مجھے پہلے بتائیے کہ شیعہ سے مراد ایک شیعہ، چند شیعہ یا جمہور شیعہ ہیں؟ آپ کیوں نہیں کہتے کہ اس سے مراد جمہور شیعہ ہیں۔

پھر اس کے بعد آپ نے کہا کہ موجودہ قرآن اپنے اصول مذہب پر رہتے ہوئے، تو شیعہ کے اصول مذہب بتائیں نہ ، کہ شیعہ کے اصول مذہب کیا ہیں؟

صحیح روایات سے استنباط کیا جاتا ہے، یا ضعیف روایات سے یا تمام قسم کی روایات قبول کی جاتی ہیں؟

شیعہ مذہب کا اصول یہ ہے کہ صحیح روایت بھی اگر قرآن کے مقابل آجائے تو اسے قابل قبول مانا جائے یا ایسی تمام روایات کو رد کردیا جائے ؟

آپ میری بات سمجھیں اور یہ اصول بیان کریں آپ۔

اگر اصول بیان نہیں کرنے تو اپنے دعوی سے یہ الفاظ ہٹا لیں۔ یعنی شیعہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے قرآن کو تسلیم نہیں کرتا، اس کے بعد ہم آگے بات کرتے ہیں۔

🔴 تبصرہ:

غور فرمائیں۔۔۔ سنی مناظر علی معاویہ صاحب کے دلائل پر گفتگو نہیں کی جا رہی، شیعہ مناظر علی عریش صاحب کی طرف سے نہ اقرار ، نہ انکار

کچھ بھی نہیں!!!

مزید یہ کہ الٹا دھمکی دی جارہی ہے کہ ہم اہل سنت کتب صحیح بخاری وغیرہ سے اسکینز بھیجنا شروع کردیں گے!!! جبکہ علی عریش صاحب یہ بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ یہ مناظرہ کے اصولوں کے خلاف ہے، اس طرح مناظرہ درہم برہم ہوجائے گا ، اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچے گا، لیکن اہل سنت کے دلائل پر ان کی تیاری نہیں ہے اس لئے اب ان کے پاس کوئی باعزت راستہ بھی نہیں بچا۔

اس کے علاوہ شیعہ مناظر علی عریش صاحب کی طرف سے جمہور کی رٹ بھی قائم و دائم ہے، جبکہ سنی مناظر علی معاویہ صاحب بار بار کہہ چکے ہیں کہ ایک طرف شیعہ مولویوں کا جمہور و اجماع ہو اور دوسری طرف کسی ایک امام معصوم کا قول ہو تو کسے مانیں گے؟ اس پر موصوف نے زبان بند کردی ہے۔

شیعہ مناظر نے ایک بار پھر اصول مذہب شیعہ کا پوچھا  ہے۔

مطلب ائمہ معصومین کے اقوال اور شیعہ مذہب کے اصول بالکل الگ الگ چیزیں ہیں!!! ایک دوسرے کے مدمقابل!!!  تبھی تو ائمہ معصومین کے اقوال سے زیادہ شیعہ مناظر اصول مذہب شیعہ پر زور لگا رہے ہیں۔

اللہ پاک ایسے عقائد و نظریات سے ہم سب کو پناہ میں رکھے۔ آمین

اہل سنت مناظر علی معاویہ کا جواب :

محترم۔۔آپ کی تمام باتوں کے جوابات پہلے سے دے چکا ہوں۔

شیعہ سے مراد وہ لوگ جو فرامین اہل بیت کو مانتے ہیں۔

اگر آپ ان میں سے ہیں تو ٹھیک ہے اگر ان میں سے نہیں ہیں تو بتادیں کہ ان شیعوں میں سے نہیں ہوں جو اپنے ائمہ معصومین کو مانتے ہیں۔

شیعہ کے اصول مذہب:

شیعہ متقدمین کے اصول اور شیعہ متاخرین کے اصول آپس میں ہی نہیں ملتے ، تو شیعہ مذہب کے اصول کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے۔ آپ کے متقدمین تو ضعیف اور موضوع روایات سے بھی استدلال لیتے ہیں اور بعد والوں نے ان کی مخالفت کی ہے، خیر یہ ایک الگ موضوع ہے۔

میں صرف یہ اصول بیان کر رہا ہوں کہ شیعہ وہ جو ائمہ معصومین کی بات مانیں، اس کے مقابلے میں کسی اور کی بات نہ مانے۔

شیعہ کا ائمہ معصومین کی بات ماننے کا دعوی واضح ہے۔ اسی روشنی میں میرا دعوی ہے۔

آپ نے ابھی تک وضاحت نہیں کی کہ آپ کس قسم کے شیعہ ہیں؟ کیا آپ ائمہ معصومین کی مانتے ہیں یا نہیں مانتے؟

آپ مجھے کہہ رہے ہیں کہ مزید اسکینز نہ بھیجوں۔۔۔ ورنہ صحیح بخاری اور دوسری اہل سنت کتب سے اسکینز بھیجنا شروع کردیں گے  !!!   آپ اہل سنت کتب سے اسکینز کیوں بھیجیں گے؟ آپ مدعی ہیں کیا؟؟

ہمارے طئے شدہ اصولوں میں یہ اصول بھی ہے کہ جب تک مدعی کے دلائل کا رد نہیں ہوگا کوئی الزامی حوالا پیش نہیں کیا جائے گا۔

آپ پہلے میرے دلائل کا جواب دیں گے اس کے بعد الزامی حوالے دے سکتے ہیں۔

شیعہ مناظر علی عریش کا جواب :

رہ گئی یہ بات کہ آپ نے میرے جواب دعوی پر کیا جواب دیا اور کیا سوال کیا وہ تو میرے محترم۔۔۔۔ پہلے یہ تو واضح ہوجائے کہ جو اصول طئے کئے گئے وہ قابل قبول ہوئے یا قابل قبول نہیں ہوئے۔۔

پھر اس کے بعد آپ نے جو دعوی کیا ہے اور دعوی میں جو الفاظ استعمال کئے ہیں، ان پر واضح ہوجائے کہ ان پر کیا دلائل ہیں، کیا مفہوم ہے، ان سے کیا معنی بنتے ہیں، اس کو واضح ہوجانا چاہئے۔ پھر اس کے بعد میرا جو جواب دعوی ہے، اس کا آپ جواب دیں گے۔ جب وہ تسلیم کرلئے جائیں گے تب جا کے آپ اپنے دعوی کے اوپر دلیل پیش کریں گے۔

🔴 تبصرہ:

غور فرمائیں۔۔۔ شیعہ مناظر علی عریش صاحب پھر سے مطلب دوبارہ مناظرہ کے اصول طئے کرنا چاہ رہے ہیں!!

مجھے حیرت ہے کہ انہیں کس نے مناظر بنادیا ہے، جو بندہ مخالف کے چھ اصول میں سے ایک اصول چھوڑ کر پانچ اصول تسلیم کرے، پھر اپنے دو اصول بھی پیش کرے ، جسے دوسرا فریق بار بار تسلیم کرے بلکہ قبول قبول کی رٹ بھی لگائے ، اس کے بعد دوسری نشست شروع ہو اور دلائل زیربحث لانے کے موقعہ پر وہ مناظر دوبارہ روز اوّل میں طئے شدہ اصول بھول کر نئے سرے سے اصول طئے کرنے کی بات کس طرح کر سکتا ہے؟؟؟

کم از کم یہ عالموں کا کام تو نہیں کہلاتا۔

پھر یہ بھی غور طلب بات ہے کہ آخر شیعہ مناظر علی عریش صاحب اہل سنت کے دعوی کے لفظوں پر بار بار سنی مناظر سے وضاحت کیوں طلب کر رہا ہے؟؟

ایک بار نہیں بلکہ کئی بار  سنی مناظر نے ان کے تمام تحفظات کا جواب دیا ہے، بلکہ ساتھ ساتھ کئی سوال بھی پوچھے ہیں ، لیکن شیعہ مناظر نہ اپنے اشکالات کے جوابات سمجھ پا رہے تھے اور نہ جوابی سوال پر کوئی مناسب جواب دے رہے تھے۔

شیعہ مناظر علی عریش کا جواب :

معاویہ صاحب۔۔ آپ گھبرا کیوں رہے ہیں۔۔؟ آپ سے جو سوال کر رہا ہوں، بس آپ مختصر لفظوں ان تین سوالوں کے جوابات دے دیں۔ پھر اس کے بعد بات کو آگے بڑھایا جائے گا۔ رہی تقیہ باز مولویوں کی بات تو میرے پاس ابھی بھی موجود ہے کہ آپ کے مولویوں نے کس کس طرح تقیہ بازی کی ہے۔ ابھی میں الکبریت الاحمر کا آپ کو حوالا دوں گا۔ لیکن اس کے بعد آپ اپنے پوائنٹ سے فورآ بھاگ جائیں گے۔ اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے۔ لہاذا میں یہ نہیں کرنا چاہوں گا۔

میں کسی اسکین کا جواب نہیں دوں گا۔ اب میں آپ کو کسی بھی وائس کا جواب نہیں دوں گا۔ جبتک آپ اصول مناظرہ کے مطابق مجھ سے گفتگو نہیں کریں گے۔

دعوی پر آپ سے جو سوال کئے جا رہے ہیں ، ان کے جوابات دیں۔ جو اصول طئے کئے گئے تھے ، وہ آپ تسلیم کیجئے۔

پھر میرا جو جواب دعوی ہے آپ اس پر اعتراض کریں میں ان شاء اللہ ان کا جواب دوں گا۔

ان تمام صورتوں کے بعد آپ آہستہ آہستہ آئیے ڈائریکٹ وائس اور اسکینز سینڈ نہ کیجئے۔

گھبرانے کی بات نہیں ، پریشان نہ ہوں ، الجھن میں آ کر بات نہ کریں۔ اطمینان سے بات کریں۔ آپ کے پاس وقت ہے، مناظرے کا گروپ اسی لئے بنایا گیا ہے۔ آپ گھبراہٹ کو دور کریں۔ آپ اپنے طیش کو دور کریں۔ آپ اپنی پریشانیوں کو دور کریں جو شیعہ مذہب کے متعلق ہیں۔

آپ ہمارے اصول کو بیان کریں۔ قرآن پر شیعہ کس اصول سے ایمان نہیں رکھتا؟ اس کو ثابت کریں۔ میرے تین سوالوں کے جوابات بھی دے دیں، پھر جواب دعوی پر بات ہوگی اور پھر اسکینز کا سلسلہ شروع ہوگا۔

آپ کی طرف سے بھی اور میری طرف سے بھی۔

سنی مناظر علی معاویہ کا جواب:

آپ نے جو جو سوالات پوچھے ہیں ان تمام کے جوابات دیے جا کے ہیں، اب کوئی سوال نہیں بچا۔ اب میں دلائل پیش کروں گا۔

آپ الکبریت الاحمر کی عبارت کا ذکر کر رہے ہیں، اس عبارت کو پورا پڑھئے گا۔ ابھی پیش نہ کریں۔ اگر کسی نے اسکین بھیج دیا ہے تو پہلے اسے مکمل پڑھ لیجئے گا۔ کسی کی ادھوری بنائی ہوئی باتیں قابل اعتبار نہیں ہوتی۔ اسے آگے پیش کرنے میں جلدی نہ کیجئے گا۔ الحمدلللہ میں آپ لوگوں کو بہت جانتا ہوں۔ مجھے اس فیلڈ میں اٹھارہ سال ہوگئے ہیں۔

🔴 تبصرہ:

غور فرمائیں۔۔۔ پوری کلپ میں کوئی ایک کام کی بات نہیں کہی گئی، اصول مناظرہ میں مدعی دعوی پیش کرتا ہے اور اس پر جواب دعوی پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد مدعی دعوی کے حق میں دلائل پیش کرتا ہے ، جسے فریق مخالف دلائل سے رد کرتا ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ جواب دعوی پر اشکالات پیش ہوں، اعتراضات ہوں اور ان پر گفتگو بھی ہو۔۔

اگر مدعی جواب دعوی کے حق میں اپنے دلائل دینا شروع کرے تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔

فریق مخالف کو یہ حق نہیں ہوتا کہ مدعی کے دلائل پر بات کرنے سے انکار کردے اور صاف منع کردے کہ میں کسی وائس کا اور کسی اسکین کا جواب نہیں دوں گا، پہلے جواب دعوی پر اشکالات ہونے چاہئیں یا جواب دعوی پیش کرنے کے بعد مدعی کے دعوی پر اشکالات شروع کردئے جائیں!!!

یہ مناظرہ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ سنی مناظر علی معاویہ صاحب  نے ان کے تمام سوالات کے کئی بار جوابات دے دئے تھے بلکہ سنی مناظر چاہتا تو کئی سوالوں پر شیعہ مناظر کی پکڑ مزید سخت کر سکتا تھا لیکن اس طرح گفتگو تحریف قرآن اور ان دلائل سے ہٹ جاتی جو دوران مناظرہ سنی مناظر پیش کرتا رہا۔

شیعہ مناظر علی عریش کا جواب :

آپ کو ہمارے مذہب کے اصول پر بات کرنی ہے اور ابھی تواتر کی تعریف واضح نہیں ہوئی۔ شاید آپ کے پاس نہیں ہے اسی لئے آپ اسکینز کے اوپر اسکینز پیش کر کے کہہ رہے ہیں کہ اس طرح میں تواتر ثابت کروں گا۔

سنی مناظر علی معاویہ کا جواب :

محترم میں آپ کو تواتر کی تعریف آپ کے مطالبے پر شیعہ کتاب مقباس الھدایہ (علامہ مامقانی) سے بھیجتا ہوں۔

تواتر : ایسی جماعت کی خبر جس کا عادتآ ایک بات پر جمع ہونا یا ساتھ ہونا محال ہو، جس طرح جھوٹ پر کسی جماعت کا جمع ہونا ممکن نہیں ہے، اور ایسی بات سے علم بھی حاصل ہو۔

شیعہ مناظر علی عریش کا جواب :

(ہنستے ہوئے) اتنے اسکینز بھیج دئے ہیں لیکن ابھی یہ کارآمد نہیں ہیں، ان کا کوئی استعمال نہیں ہے۔ کوئی مفید نہیں ہیں۔۔آپ کے تمام بھیجے ہوئے اسکین ، ترجمہ اور دلائل میرے حساب سے غیر مفید ہیں۔ اس لئے کوئی جواب دینا مناسب نہیں ہیں۔ پہلے اصول مناظرہ کے مطابق تمام چیزوں کو حل کرلیں۔اس کے بعد ہماری بات آگے بڑھے گی۔ اس کے بعد معلوم ہوگا کہ ان میں سے کتنی روایات ضعیف ہیں اور کتنی صحیح ہیں۔

اگر صحیح بھی ہیں تو قرآن کی آیات کے مقابل آ رہی ہیں یا نہیں۔

یہ ساری باتیں زیر بحث آئیں۔ پہلے آپ ہمارے اصول مذہب بیان کریں۔

آپ خود پریشان ہوجائیں گے کہ مجھے اس طریقہ سے دعوی نہیں کرنا چاہئے تھا۔ دعوی اور جو دلائل پیش کئے گئے ہیں ان میں زمین و آسمان کا فاصلہ ہے۔

دعوی میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان سے آپ پشیمان ہوجائیں گے۔ معاویہ صاحب۔۔ آپ نے جو دعوی کیا ہے اسی کے مطابق آئیے اور میرے سوالات کے جوابات دیجئے۔

اہل سنت مناظر علی معاویہ کا جواب:

دلیل 7 # اصول کافی:

محترم۔۔ میں نے چار روایات پیش کی ہیں۔ چاروں روایات میں چار آیات قرآنی کا ذکر ہے ، ان روایات کے مطابق وہ آیات تبدیل کی گئی ہیں اور اصل میں اس طرح نازل نہیں ہوئیں تھیں۔ ان روایات کے مطابق قرآن میں سیدنا علیؓ کا ذکر تھا، فلاں اہل بیت کا ذکر تھا وغیرہ وغیرہ۔

استدلال: ان روایات کے مطابق موجودہ قرآن کریم معاذاللہ تحریف شدہ ہے۔

شیعہ مناظر علی عریش کا جواب:

معاویہ صاحب آپ اعتراف کرلیں کہ آپ شیعوں کے اصول مذہب سے ناواقف ہیں۔

جیسے آپ نے دعوی میں الفاظ استعمال کئے کہ شیعہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے، یعنی اصول مذہب پر رہتے ہوئے، تو آپ واضح اعتراف کر لیں کہ آپ کو بالکل معلوم نہیں ہے کہ شیعہ روایات کے استدلال میں یا احتجاج میں کونسے اصول کارآمد ہوتے ہیں۔

شیعہ مذہب کونسے اصول استعمال کرتا ہے۔

میں آپ سے یہ پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ جمہور شیعہ علماء اس موجودہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتے، کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں؟

آپ بار بار ہر کلپ میں یہ کہہ رہے ہیں کہ کونسے شیعہ کونسے شیعہ!! میں آپ سے یہ نہیں پوچھ رہا کہ کونسے شیعہ۔۔ میں تعداد پوچھ رہا ہوں۔

دوسری بات ۔۔ کیا روایات میں موجود ہونے کے بنیاد پر آپ یہ کہیں گے کہ آپ اسے مانتے ہیں، آپ اس پر تھوڑا غور کریں۔۔

کیا ہر روایت جو کتاب میں موجود ہے وہ قبول کی جائے؟

کیا شیعہ مذہب کا یہ اصول ہے؟ اس کا ہاں یا ﻧﺎﮞ میں جواب دیں۔

یا ہم ان روایات کی توجیہ اور تاویل کرتے ہیں؟ ٹھیک جس طرح آپ کے ہاں اہل سنت کتب میں روایات موجود ہیں۔

اگر میں اسکینز پیش کروں گا تو آپ کہیں گے کہ الزامی جواب نہ دیں۔ اسی لئے میں آپ سے پوچھ رہا ہوں۔

روایت یا حدیث قبول کرنے کے شیعہ مذہب میں اصول کیا ہیں اسے بیان کریں۔

اگر نہیں معلوم ہیں تو آپ کہہ دیں کہ مجھے نہیں معلوم اور میرا دعوی غلط دعوی تھا۔

🔴 تبصرہ:

شیعہ مناظر علی عریش صاحب مدعی کے دعوی ۔ پھر اپنے جواب دعوی اور دونوں فریقین کے مابین متفقہ شرائط و اصول طئے ہونے کے بعد پابند تھے کہ سنی مناظر کے پیش کئے گئے دلائل کا رد کرتے اور یہ رد شیعہ مذہب کے اصولوں کے تحت ہی انہیں کرنا تھا، کیونکہ تمام دلائل بھی شیعہ کتب سے تھے، لیکن ایسا کرنے کے بجائے موصوف الٹا سنی مناظر سے اپنے مذہب کے اصول پوچھتے رہے اور مناظرہ سننے والوں کا وقت ضایع کرتے رہے۔

اگر سنی مناظر علی معاویہ صاحب کے دلائل شیعہ مذہب کے کسی اصول سے رد ہونا ممکن تھے تو شیعہ مناظر کے پاس پورا پورا موقعہ تھا، وہ شیعہ کتب کے اسکینز دکھا کر سنی مناظر کے دلائل کو رد کر سکتے تھے کہ دیکھیں ہمارے فلاں فلاں اصول کے تحت علی معاویہ کے دلائل مسترد ہوجاتے ہیں، لیکن چونکہ دلائل میں ائمہ معصومین کے اقوال پیش کئے گئے تھے ، جنہیں کسی غیر معصوم شیعہ عالم کے اصول سے رد کرنا تقریباً ناممکن تھا اس لئے علی عریش صاحب نے اسی میں اپنی عافیت سمجھی کہ گفتگو کو دعوی کے الفاظ میں ہی الجھا دیا جائے یا دوبارہ اصول و شرائط کا پینڈورا باکس کھول دیا جائے تاکہ علی معاویہ صاحب کے دلائل پر بات ہی نہ کرنی پڑے۔

شیعہ مناظر علی عریش کا جواب :

میرے محترم۔۔۔ میرے تین سوال ہیں۔

ابھی تک آپ ان کے جوابات نہیں دے سکے۔

دعوی کی روشنی میں شیعہ علی عریش کے تین سوال

1- کتنے شیعہ تحریف کے قائل ہیں؟ ایک شیعہ؟ چند شیعہ یا جمہور شیعہ ؟

2- شیعہ کے جو اصول آپ جانتے ہیں اسے بیان کریں۔ متاخرین اور متقدمین کے کیا اصول ہیں؟

3- اگر شیعہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتے تو آپ کو شیعہ علماء کا قول پیش کرنا پڑے گا۔

🔴 تبصرہ:

اہل سنت کا دعوی “شیعہ مذہب” کے متعلق ہے۔

شیعہ مذہب میں ائمہ معصومین کے اقوال ہی حرف آخر ہیں۔ اس لئے چند شیعہ یا جمہور شیعہ علماء کی رائے سے عقائد نہیں بنتے۔

شیعہ مذہب میں تحریف قرآن کا عقیدہ یا نظریہ براہ راست ائمہ معصومین سے ثابت ہے۔ اس لئے شیعہ مناظر علی عریش کا پوری گفتگو میں بار بار یہ کہنا کہ شیعوں کی تعداد بتائیں، کتنے شیعہ؟ چند ، بعض یا جمہور شیعہ ۔۔۔

یہ اعتراض دعوی اہل سنت اور دلائل کے بالکل خلاف ہے۔ شیعہ مذہب ائمہ معصومین کی تعلیمات سے چلا ہے تو پھر تحریف قرآن بھی ائمہ معصومین کی تعلیمات سے ثابت ہونی چاہئے، اگرچہ اہل سنت کے نزدیک پورا شیعہ مذہب  اور اس کی تعلیمات اہل بیت کی طرف جھوٹی منسوب شدہ ہیں، لیکن بحرحال جو شیعہ کتب میں گندگی موجود ہے ، اس سے تحریف بالقرآن بھی ائمہ معصومین سے ثابت ہو رہی ہے۔

اب یا تو شیعہ مذہب کے کسی اصول سے علی عریش صاحب کو ان روایات کا انکار کرنا تھا یا ان کے مقابلے میں ائمہ معصومین کے اقوال پیش کرنے تھے۔

دونوں اہم کام کرنے کے بجائے شیعہ مناظر ائمہ معصومین کے قول کو غیر اہم ، غیر مفید اور کسی کام کے نہیں کہہ کر خود اپنے مذہب و ائمہ معصومین کی توہین کے مرتکب ہوتے رہے۔۔ اور بار بار شیعہ علماء کے قول کی فرمائش بھی کرتے رہے ، حالانکہ علی معاویہ صاحب دو ٹوک الفاظ میں کہہ بھی چکے تھے کہ غیر معصوم سے کوئی بھی دلیل پیش نہیں ہوگی،  لیکن پتہ نہیں کیوں،  انہیں یہ بات سمجھ ہی نہیں آرہی تھی۔

اس کے علاوہ ائمہ معصومین کے اقوال کے سامنے کسی شیعہ عالم کا کوئی اصول اہمیت نہیں رکھتا، اس لئے متقدمین یا متاخرین کے اصول زیربحث لانا وقت کا ضیاع تھا۔

اہل سنت مناظر علی معاویہ کا جواب:

آپ نے کہا کتنے شیعہ مانتے ہیں؟ میں تو کسی مولوی کی بات ہی نہیں کر رہا۔ کسی غیر معصوم کا قول پیش ہی نہیں کر رہا۔

یہ بات پہلے دن کی گفتگو میں ہی طئے کرچکا ہوں، غیر معصوم کسی شیعہ عالم پر میں کوئی دلیل نہیں دے رہا، یہ دروازہ کل ہی بند کردیا تھا، اس لئے چند، بعض اور جمہور پر سوال کرنا ہی غلط ہے۔

میں دو ٹوک کہہ چکا ہوں کہ ہماری گفتگو صرف اور صرف معصومین کے اقوال کی روشنی میں ہوگی۔

آپ بار بار “کتنے شیعہ مانتے ہیں، کتنے شیعہ مانتے ہیں” کیوں پوچھ رہے ہیں؟

ظاہر ہے اگر میں کسی شیعہ عالم کا حوالا پیش کروں گا مثلآ:  علامہ قمی ، کلینی ، طبرسی یا فلاں فلاں تحریف قرآن کا قائل ہے تو کیا آپ مان لیں گے؟

ہرگز نہیں مانیں گے۔

آپ معصوم ہوکر کہیں گے ثبوت دو، ثبوت دو۔۔۔ بات خوامخواہ ٹال مٹول میں گم ہوجائے گی۔

اس لئے میں نے اصل جڑ کو پکڑا ہے، میں دلائل صرف ائمہ معصومین سے دے رہا ہوں۔

چاہے لاکھوں شیعہ عالم ایک طرف ہوں، بات پھر بھی معصوم کی ہی مانی جائے گی۔ اب دوبارہ مولوی کی بات مجھ سے نہ کیجئے گا۔

آپ نے کہا کہ کیا شیعہ کتب کی ہر روایت کو مانا جائے گا؟ یا معصوم کی ہر روایت کو مانا جائے گا؟

میں کہتا ہوں کہ ہر روایت آپ نہ مانیں لیکن وہ روایات جو بہت بڑی تعداد میں ہیں وہ تو آپ کو ماننی پڑیں گی۔ میں تو آخر میں مکمل فہرست بھی پیش کروں گا کہ کتنے ائمہ معصومین ، کتنے ائمہ معصومین کے شاگرد، اور کتنے شاگردوں کے شاگردوں نے تحریف کی روایات نقل کی ہیں۔

آپ پریشان نہ ہوں، آپ کا شکرگزار ہوں کہ شیعہ علماء کے قول سے تواتر ثابت کرنے والا اصول لکھ کر آپ نے ائمہ معصومین سے تحریف قرآن کی روایات پر میری مضبوط تیاری کرادی۔

شیعہ مناظر علی عریش کا جواب:

اگر محض نقل روایات در کتب کی بنیاد پر کسی بھی مذہب کا اصول بن رہا ہے یا کسی بھی مذہب کا اعتقاد بن رہا ہے تو میرے محترم ، مجھے اجازت دیں کہ جس طریقہ سے ہماری کتب میں یہ روایات وارد ہوئی ہیں، اس سے کہیں زیادہ آپ کی کتب میں موجود ہیں۔ جنہیں آپ الزامی جواب کے طور پر قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ لیکن آپ کو یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ کب آپ کسی بھی چیز کو بے تکی طور پر ثابت کرنے کی کوشش کریں گے تو ظاہر سی بات ہے کہ مدمقابل مناظر بھی آپ کی روش پر عمل کرتے ہوئے وہ آپ ہی کا انداز اختیار کرے گا۔

میں آخری بار کہہ رہا ہوں کہ مجھے میرے تین سوالوں کے جوابات دیں۔  اگر آپ نے مزید اسکینز پیش کئے تو میں جواب میں بیشمار اسکینز بھیج دوں گا اور اس طرح مناظرے کا ماحول خراب ہوگا۔

اہل سنت مناظر علی معاویہ کا جواب:

آپ نے خود اصول نمبر دو پیش کر کے مجھے مجبور کیا ہے کہ میں اجماع اور تواتر ثابت کروں۔ ظاہر ہے تواتر ثابت کرنے کے لئے  ایک دو اسکینز تو کافی نہیں ہوسکتے، اسی لئے میں ہر باری کئی اسکینز پیش کرتا آ رہا ہوں۔

میں تو آپ کی ہی شرط پر عمل کر رہا ہوں۔ اس لئے آپ مجھے منع نہیں کرسکتے۔ آپ کے اصول نمبر دو کے آخری حصہ میں یہی تو بیان کیا گیا

ہے کہ

“خود مدعی کو اجماع  اور تواتر ثابت کرنا پڑے گا۔”

اب آپ بتائیں۔۔ مدعی تو میں ہوں، یعنی مجھے خود آپ نے مجبور بھی کردیا ہے کہ تواتر ثابت کروں اور اب مجھے پابند بھی کر رہے ہیں کہ میں اتنے سارے اسکینز نہ بھیجوں!!!

یا تو آپ نمبر دو شرط نہ لگاتے۔۔

اگر شرط لگادی ہے تو اب برداشت کریں۔

اوپر سے مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں الزامی جواب سے منع کر رہا ہوں۔ آپ میرے دلائل کا جواب دئے بغیر الزامی جواب دے ہی نہیں سکتے، یہ شرط بھی آپ خود تسلیم کرچکے ہیں۔

اگر زیادہ شوق ہے تو اس مناظرے کے بعد آپ مدعی بننا، پھر جو اہل سنت کتب سے تحریف پر آپ کے پاس دلائل ہیں وہ سب پیش کرنا۔۔ ان شاء اللہ ایسا جواب دوں گا کہ آپ یاد رکھیں گے۔ پھر آئندہ آپ یا کوئی اور تحریف قرآن پر میرا نام سن کر مناظرے سے ہی انکار کردے گا۔

دلیل 7 # بحار الانوار

سورت الملک آیت 28 کے الفاظ “قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَہۡلَکَنِیَ اللّٰہُ “ میں تبدیلی کی گئی ہے۔

دوسری روایت میں سورت الجاثیہ آیت 29 میں الفاظ “ ہٰذَا کِتٰبُنَا یَنۡطِقُ عَلَیۡکُمۡ بِالۡحَقِّ” میں تحریف کی گئی ہے۔

پھر اس کے بعد والی روایت کہ قیامت کے دن تین چیزیں اللہ کے پاس شکایت کریں گی۔ قرآن المصحف کہے گا یا اللہ انہوں نے مجھ میں تحریف کردی، میری قدر نہیں کی۔

استدلال: ان تینوں روایات کے مطابق شیعہ تحریف کے قائل ہیں۔

محترم۔۔ آپ گنتے جائیں۔۔ تواتر بنا رہا ہوں۔۔ ان شاء اللہ تواتر اس طرح بنے گا۔خود آپ کے لوگ دیکھ لیں گے کہ کتنی روایات پیش کر رہا ہوں۔ ابھی تو آدھی سے بھی کم روایات پیش کی ہیں۔

شیعہ مناظر علی عریش کا جواب :

(ہنستے ہوئے) معاویہ صاحب۔۔ آپ مناظر نہیں ہیں۔ دعوی جس طرح کرنا چاہئے تھا آپ کو اس بات کی بالکل بھی خبر نہیں ہے۔

آپ نے کہا کہ غیر معصوم کی بات ہی نہیں کریں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اصول نمبر دو سے آپ راضی نہیں تھے۔

اگر آپ ائمہ معصومین کے اقوال پیش کر رہے ہیں تو آپ نے جو دعوی کیا تھا اس کے الفاظ کو تبدیل کرنا چاہئے تھا۔

آپ نے جو موضوع بنایا ہے، دعوی جو کیا ہے وہ شیعہ کا کیا ہے۔ وہ شیعہ جو غیر معصوم ہیں، جو عالم ہیں، غیر عالم۔  وہ سب قرآن پر ایمان نہیں رکھتے ہیں۔

آپ سے میں جو پوچھ رہا ہوں، آپ اس سے گریز اس لئے کر رہے ہیں کہ اگر آپ نے چند یا بعض کہا تو اس سے کچھ ثابت نہیں ہوگا ، اور اگر آپ نے جمہور کہا تو پھر آپ کو جمہور کا نظریہ بھی پیش کرنا ہوگا، جو آپ مرتے دم تک پیش نہیں کر سکتے۔

اگر آپ کو ائمہ معصومین سے ہی ثابت کرنا تھا تو پھر دعوی میں شیعہ کی جگہ پر ائمہ معصومین لکھنا  تھا۔ آپ میری بات سمجھ چکے ہوں لیکن گریز اس لئے کر رہے ہیں کیونکہ اس طرح  آپ پھنس جائیں گے۔

🔴 تبصرہ:

غور فرمائیں۔۔۔ شیعہ مناظر سر توڑ کوشش میں ہے کہ کسی طرح ائمہ معصومین کے دلائل سے اس کی جان چھوٹ جائے۔

اہل سنت دعوی میں اہم ترین الفاظ ہیں “شیعہ مذہب پر رہتے ہوئے” یعنی مذہب کے بنیادی اصول و عقائد کی روشنی میں شیعہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتا۔

کیا کسی بھی مذہب کے بنیادی عقائد و نظریات علماء کرام بناتے ہیں؟

ایک معمولی سمجھ بوجھ والا بھی کہے گا کہ اہل سنت کے بنیادی عقائد قرآن و احادیث نبوی سے اخذ شدہ ہیں۔

اسی طرح ایک عام شیعہ بھی یہی کہے گا کہ شیعیت کے عقائد و نظریات ائمہ معصومین سے اخذ شدہ ہیں۔

پھر علی عریش صاحب کو اہل سنت دعوی میں یہ الفاظ آخر کیوں سمجھ نہیں آ رہے، یا انہیں غیر ضروری کیوں سمجھ رہے ہیں!! آگے موصوف فرماتے ہیں کہ علی معاویہ صاحب ان کے اصول نمبر دو سے راضی نہیں تھے یعنی تسلیم نہیں کیا تھا ،

عجیب بیوقوفانہ انداز گفتگو ہے۔ اگر تسلیم نہ کرتے تو قبولیت کا بار بار اقرار کیوں کرتے؟

پھر اسی اصول کو مانتے ہوئے تو انہوں نے اپنے دلائل ائمہ معصومین سے دینے شروع کئے تاکہ دو نمبر اصول میں غیر معصوم سے تواتر یا اجماع ثابت کرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔

مزید شیعہ مناظر نے کہا کہ اہل سنت دعوی میں شیعہ قرآن نہیں مانتے کیوں لکھا گیا، اگر ائمہ معصومین سے ثابت کرنا تھا تو شیعہ لفظ ہٹا کر ائمہ معصومین لکھنا چاہئے تھا!!

مجھے ان کی کم عقلی پر بہت افسوس ہو رہا ہے۔۔ کیا ائمہ معصومین کا نظریہ کچھ اور ہے اور شیعوں کا نظریہ کچھ اور ہے؟

ظاہر ہے شیعوں کے عقائد و نظریات ائمہ معصومین سے مختلف ہیں تو پھر یہ بات تسلیم کرلینی چاہئے!!!  لیکن اس سے پہلے موصوف کو تسلیم کرنا چاہئے تھا کہ ہم شیعوں کے عقائد و نظریات کا ائمہ معصومین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

باقی یوں لفظوں سے کھیل کر وہ مجالس میں اپنے لوگوں سے واہ واہ تو کروا سکتے ہیں لیکن علمی گفتگو میں اپنی کوئی بات نہیں منوا سکتے۔ بیشک اہل سنت کا دعوی بالکل درست اور سمجھنے کے لئے بہت آسان سا ہے۔

شیعہ مناظر علی عریش کا جواب :

محترم آپ نے جو دعوی کیا تھا، اس کے مطابق آپ کی دلیل نہیں ہے۔ جب دعوی کے مطابق آپ کی دلیل نہ ہوگی تو پھر آپ کی بات روئی کے پھائے کی طرح ہوجاتی ہے، جس میں کوئی وزن نہیں ہوتا۔

آپ نے اپنے دعوی میں شیعہ کو پیش کیا ہے۔ اس لئے جمہور شیعہ سے آپ کو اپنا دعوی ثابت کرنا ہوگا کہ اکثر شیعہ قرآن کو نہیں مانتے۔

اگر آپ بعض سے ثابت کریں گے تو ہم جمہور سے ثابت کریں گے کہ شیعہ اس موجودہ قرآن کو منذر من اللہ مانتے ہیں، حجت مانتے ہیں، قابل استنباط مانتے ہیں۔وہ ان کے لئے رہنما بھی ہے اور وہ ان کے لئے دلیل بھی ہے۔

🔴 تبصرہ:

شیعہ مناظر علی عریش صاحب کی ایک اور جہالت۔

اہل سنت کا دعوی تھا کہ شیعہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے موجودہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتا۔

مطلب شیعیت کے عقائد و نظریات ایسے ہیں جنہیں مانتے ہوئے کوئی بھی شیعہ قرآن پر ایمان نہیں رکھ سکتا۔۔

اتنے صاف الفاظ میں شیعہ مذہب اور اس کے عقائد و نظریات کو مورد الزام ٹھرایا گیا ہیں۔ شیعہ مناظر کا مذہب شیعہ کا دفاع کرنا تھا۔

لیکن شیعہ مناظر صاحب اپنے مذہب کے عقائد و نظریات جو ظاہر ہے ائمہ معصومین سے ہی لئے گئے ہیں، ان پر بات کرنے کے بجائے اہل سنت دعوی میں موجود لفظ شیعہ پکڑ کر پورے مناظرے میں اسی پر گفتگو کرتے رہے۔

علی معاویہ صاحب نے ان کے عجیب و غریب بیوقوفانہ سوالات کے بھی بہترین جوابات دئے تاکہ موصوف کی سمجھ میں کچھ نہ کچھ آجائے اور وہ ان کے دئے گئے دلائل پر بھی کوئی گفتگو شروع کریں۔ لیکن انہیں شروع سے آخر تک ککھ سمجھ نہیں آیا!!!

ایسا کوئی اصول شیعہ مذہب میں ہوتا تو علی عریش صاحب ضرور سنی دلائل کا علمی رد کرتے۔

شیعہ مناظر علی عریش کا جواب :

آپ نے بار بار اسکینز بھیجے ہیں جبکہ میں نے بہت بار منع بھی کیا کہ اسکین نہ بھیجیں، ان کا کوئی کام نہیں ہے، ابھی ہماری اسکینز پر گفتگو نہیں ہو رہی ہے۔

آپ نے دعوی میں کہا ہے کہ شیعہ موجودہ قرآن پر اپنے مذہب پر رہتے ہوئے ایمان نہیں رکھتا۔

سمجھ آ رہی ہے نہ “شیعہ”۔۔۔

وہ شیعہ جو معصوم نہیں ہیں۔۔۔۔ شیعہ امام نہیں ہیں۔

ہم شیعہ ہیں، ہمارے علماء شیعہ ہیں۔ اگر وہ قرآن نہیں مانتے تو ان کے قول کو آپ دکھائیں۔

جمہور کے قول کو آپ دکھائیں۔

آپ کی بات تب ثابت ہوگی کہ جمہور شیعہ موجودہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتے۔

🔴 تبصرہ:

شیعہ مناظر علی عریش صاحب کی سوئی ایک ہی جگہ اٹکی ہوئی ہے۔ اگر شیعہ جو غیر معصوم ہیں، جو امام بھی نہیں ہیں وہ قرآن پر اگر واقعی ایمان رکھتے ہیں تو انہیں فورآ علی معاویہ صاحب کے دلائل کا رد کردینا چاہئے تھا پھر اتنی دیر سے گفتگو ادھر ادھر کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔

سب سے پہلے تو وہ یہ کہتے کہ ائمہ معصومین کی یہ تمام روایات قابل اعتبار نہیں ہیں ، ہم فلاں فلاں اصول کے تحت انہیں تسلیم ہی نہیں کرتے!!!

پھر اپنی بات کی تائید میں کچھ یا کم از کم ایک دو روایات ائمہ معصومین کی بھی پیش کردیتے ، اس کے بعد علماء شیعہ سے بھی تائید ثابت کردیتے۔۔ مسئلہ کچھ ہی دیر میں حل ہوجاتا۔

لیکن ہوا کیا۔۔؟؟

ہوا یہ دوران مناظرہ شیعہ مناظر پہلے تو دعوی کے لفظوں پر وقت ضایع کرتے رہے، پھر واپس دعوی اور جواب دعوی کی طرف بات گھمانے کی کوشش کی ، پھر اس سے بات نہ بنی تو اصول و شرائط دوبارہ زیر بحث لانے کی کوششیں کی، تین سوالوں کی کہانی تو شروع سے آخر تک چلتی ہی رہی۔

سنی مناظر علی معاویہ صاحب کے جوابات ان کے اوپر سے گذرتے رہے لیکن ان کے عظیم دماغ میں اتنی جگہ نہ تھی کہ وہ ٹھر سکیں!!

جمہور کے قول پر ضد باندھ کر اور ائمہ معصومین کے اقوال کو اہمیت نہ دے کر خود علی عریش صاحب کے شیعہ عقائد و نظریات پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔

ممکن ہے تقیہ نے انہیں مجبور کیا ہو اور وہ ادھر سے ادھر چھلانگیں مارتے ہوئے اپنی عزت کو سنبھالتے رہے ہوں لیکن اتنا آسان دعوی اور اتنے اہم دلائل کا رد نہ کر کے بذات خود عبرت کا نشان ضرور بن گئے ہیں۔

اس کے بعد بھی شیعہ مناظر علی عریش صاحب نے وہی باتیں اور وہی گھسے پٹے سوال دوسری وائسز میں بھی پوچھے اور بالآخر جہالت، عدم دلائل ، عدم منطق اور بے بسی کے عروج پر ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور پھر مناظرے کے بنیادی اصولوں پر تلقین کرنے والا خود ہی ان اصولوں کی دھجیاں بکھیرنے میں مصروف ہوگیا۔

پہلے سے طئے شدہ علی معاویہ صاحب کے اصول نمبر دو ، کہ جب تک مدعی کے دلائل کا رد نہ کیا جائے الزامی جواب نہیں دیا جائے گا، جسے علی عریش صاحب نے تسلیم بھی کیا تھا، اس کی واضح خلاف ورزی کردی گئی۔

شیعہ مناظر نے ایک ساتھ دس بارہ اسکینز اہل سنت کتب سے پیش کر دئے،  انہوں نے غصہ کی حالت میں ایسے واضح الفاظ بھی فرمادئے جن سے ظاہر ہوگیا کہ واقعی شیعہ اس موجودہ قرآن کو نہیں مانتے۔

اہل سنت کتب کے اسکینز پیش کرتے ہوئے موصوف نے جذبات میں یہ الفاظ فرمائے:

*“ہم بھی اسکینز بھیج رہے ہیں اور اب آپ بھی قبول کریں کہ آپ “بھی” تحریف کے قائل ہیں!!! *

شیعہ مناظر علی عریش صاحب کے یہ الفاظ اور اہل سنت کتب سے تحریف ثابت کرنے کی مذموم کوشش سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔

1- شیعہ موجودہ قرآن کو نہیں مانتے، اسی لئے علی عریش صاحب نے کہا کہ آپ “بھی” تحریف کے قائل ہیں، مطلب شیعہ تو تحریف کے قائل ہیں لیکن اہل سنت بھی معاذاللہ یہی عقیدہ و نظریہ رکھتے ہیں!!

2- اہل سنت کتب سے اتنے سارے اسکینز رکھنے کا مقصد : ائمہ معصومین کے اقوال کا انکار کرنے کی ان میں جرآت نہیں تھی ، اور ایسا کوئی اصول بھی شاید شیعہ مذہب میں نہیں جس کا سہارہ لیا جاتا،  اس لئے مجبور ہوکر انہوں نے اہل سنت کی طرف بھی وہی گندگی منسوب کرنے کی کوشش کی جسے وہ شیعہ کتب سے صاف کرنے میں ناکام ہو رہے تھے۔

اہل سنت مناظر علی معاویہ کا جواب:

مناظرہ دیکھنے اور سننے والے سب سمجھ چکے ہیں کہ آپ نے تسلیم شدہ شرائط کی بالکل خلاف ورزی کردی ہے۔ ایک واضح شرط یہ تھی کہ جبتک آپ میرے دلائل کا جواب نہیں دیں گے ، اس وقت تک کوئی الزامی حوالا پیش نہیں کریں گے۔

اس شرط کو توڑ کر الزامی حوالوں کی بھرمار لگا دی آپ نے۔

ہماری دوسری شرط یہ تھی کہ دو منٹ سے اوپر کوئی بھی وائس نہیں بھیجے گا۔ آپ اسے پہلے بھی توڑ چکے ہیں اور اب تو آپ نے کئی بار اس شرط کا  کوئی لحاظ نہیں رکھا۔

ہم نے یہ بھی طئے کیا تھا کہ پانچ منٹ سے اوپر ہماری بات نہیں جائے گی، آپ نے کئی بار پانچ منٹ سے اوپر بات کردی ہے۔  یہ تو آپ کا حال ہے، جو سب کے سامنے ہے۔

آپ اسی پریشانی میں رہے کہ بار بار میں اسکینز کیوں بھیج رہا ہوں، حالانکہ اس کی وجہ بھی میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ آپ نے ہی تواتر ثابت کرنے کی شرط رکھی تھی، اب ظاہر ہے تواتر کیسے ثابت ہوگا، اسی طرح بہت سارے حوالے ہی تواتر کا منہ بولتا ثبوت ہوتے ہیں۔

تواتر ایک یا دو روایات سے تو ثابت نہیں ہوتا بلکہ روایات کثیر تعداد میں دکھانا ضروری ہوتا ہے ، اتنی بڑی تعداد کہ ان سب راویوں کا کسی غلط بات پر جمع ہونا ممکن نہ ہو۔

اب میں کچھ اور حوالے بھی بھیج رہا ہوں۔

اہل سنت مناظر علی معاویہ کا جواب:

اپنی بات کو متواتر ثابت کرنے کے لئے میں مجبور ہوں کہ اتنے سارے اسکینز بھیجوں، کیونکہ آپ نے شرط ہی ایسی لگائی ہے۔

دلیل 8 # حیات القلوب ج 5 ص 118

اس میں ایک واضح روایت بصائر الدرجات سے نقل کی گئی ہے کہ حضرت امام باقرؒ نے فرمایا خدا نے تین رحمتیں زمین پر بھیجی ہیں۔قرآن، عترت اور کعبہ۔ لیکن پہلی حرمت قرآن میں لوگوں نے تحریف کردی۔ 

دلیل 9 # احتجاج طبرسی جلد اوّل صفحہ 328 اور 335

اس میں ایک لمبی روایت ہے۔  سیدنا علیؓ سے کئی سوالات کئے گئے ہیں۔ اس میں ایک جگہ منافقین کے بارے میں پوچھا گیا کہ قرآن میں منافقین کے بارے میں واضح کیوں نہیں بیان ہوا ، اس کے جواب میں سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ یہ کام ان کا ہے جنہوں نے قرآن میں تبدیلی کردی ہے، اسے بدل دیا ہے یا اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔ مطلب نعوذبااللہ صحابہ نے ایسا کیا ہے، اللہ نے تو ایسا نہیں کیا۔

آگے یہ بھی بیان ہوا ہے کہ کتاب یعنی قرآن میں لوگوں نے یعنی صحابہ نے ایسی باتیں شامل کردی ہیں نعوذبااللہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے جو اللہ نے نہیں کہی ہیں۔

پھر آگے کہتے ہیں کہ

سورت الرعد آیت 17 میں موجود اس جملہ

فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذۡہَبُ جُفَآءً ۚ وَ اَمَّا مَا یَنۡفَعُ النَّاسَ فَیَمۡکُثُ فِی الۡاَرۡضِ

کے متعلق کہتے ہیں کہ

” فالزبد في هذا الموضع كلام الملحدين الذين أثبتوه في القرآن”

یعنی زبد کا لفظ ملحدین کے کلام سے ہے یعنی نعوذبااللہ ملحدین نے قرآن میں داخل کردیا ہے۔

دلیل 10 # احتجاج طبرسی (عکس اوپر موجود ہے)

اگلے صفحے پر لکھتا ہے کہ سورت النساء آیت 3

وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تُقۡسِطُوۡا فِی الۡیَتٰمٰی فَانۡکِحُوۡا مَا طَابَ لَکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ ۚ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَۃً اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَلَّا تَعُوۡلُوۡا ؕ

اس آیت کے متعلق لکھتا ہے کہ ان دو آیتوں کے درمیان قرآن کا تیسرا حصہ غائب ہے۔

مزید بیان کیا گیا ہے کہ اگر میں یہ بات تم لوگوں کو کھول کر بتادوں کہ قرآن میں کتنی تحریف ہوئی ہے ، کتنا کچھ رد و بدل کیا گیا ہے تو یہ بات بہت لمبی ہوجائے گی اور تقیہ مجھے ایسا کرنے سے منع کرتا ہے۔

دلیل 11# تفسیر قمی جلد اوّل صفحہ 10

اس میں تین آیات قرآنی کے متعلق واضح بیان کیا گیا ہے کہ یہ ایسی آیات ہیں جو اللہ کے نازل کردہ بات کے خلاف ہیں،  اور یہ کسی مولوی بے نہیں کہا بلکہ یہ اقوال ائمہ ہیں۔

دلیل 12# ثواب الاعمال 139

 

اس میں سورت الاحزاب کی آیت کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں قریش کے مردوں اور عورتوں کے نام تھے جن کی اللہ نے برائی بیان کی تھی۔

استدلال: آج سورت الاحزاب میں وہ نام نہیں ہیں یعنی تحریف کی گئی ہے۔

آپ نے جو الزامی حوالے پیش کئے ہیں ان کے جوابات اس وقت مجھ پر لازم نہیں ہیں، کیونکہ ہمارے نزدیک طئے شدہ اصول ہے کہ جبتک میرے دلائل کا جواب نہیں دیا جائے گا، آپ کو الزامی حوالے پیش نہیں کرنے۔

اس لئے یہ واضح ہے کہ آپ کے حوالے اس وقت قابل قبول نہیں ہوسکتے۔

الحمدلللہ میں نے اس وقت تک کئی حوالے پیش کردئے ہیں۔ اب آپ آخری جواب پیش کریں گے۔ اس کے بعد میں یہ ثابت کروں گا کہ یہ جتنے حوالے دئے گئے ہیں ان سے تواتر کیسے ثابت ہو رہا ہے۔

میں آپ کو ترتیب سے نقشہ بنا کر تواتر کو دکھاتا ہوں، اگرچہ میرے پاس کئی اور روایات بھی ہیں، لیکن وقت کافی ہوگیا ہے اس لئے میں یہاں اپنے دلائل کا اختتام کر رہا ہوں۔

آپ کے جواب کے بعد میں کوئی نئی دلیل پیش نہیں کروں گا، صرف آپ کی باتوں کے جوابات دوں گا اور اپنے دلائل سے تواتر کو ثابت کرنے پر ایک مختصر خلاصہ پیش کروں گا۔

شیعہ مناظر علی عریش کا جواب :

محترم۔۔ آپ نے اصول مناظرہ کا بالکل خیال نہیں رکھا ہے، یہ جو اصول توڑے جا رہے ہیں وہ اس بنیاد پر توڑے جا رہے ہیں کہ آپ اپنے دعوی پر ایک بھی دلیل اور ایک بھی جواب نہیں دے پا رہے۔

میں آپ سے بار بار یہ کہہ رہا ہوں کہ یا تو آپ موضوع مناظرہ یا دعوی مناظرہ تبدیل کر کے الگ الفاظ لیکر آئیں۔ ہمارہ مناظرہ شیعہ کے اوپر ہو رہا ہے۔ معصوم کی روایات پر نہیں ہو رہا ہے۔

آپ نے دعوی میں لکھا ہے “شیعہ” اسی لئے بار بار پوچھ رہا ہوں ایک شیعہ، بعض شیعہ یا جمہور شیعہ۔۔

یعنی جمہور شیعہ کا یہ نظریہ کہ وہ موجودہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتے۔۔اگر آپ کے پاس جمہور ہیں تو ان کو پیش کیجئے۔

میں نے جو اسکینز دئے ہیں وہ الزامی جواب کے طور پر نہیں ہیں بلکہ آپ کی بیوقوفی کی وجہ سے دئے گئے ہیں۔

مجھے اسکینز دینے کا کوئی شوق بھی نہیں ہے۔ نہ مجھے آپ کے اسکینز کے جوابات دینے کا شوق ہے۔ مجھے صرف اتنا جواب دیجئے کہ آپ نے جو دعوی کیا ہے اس کی دلیل آپ شیعہ جمہور کے قول کے مطابق پیش کریں کہ کہاں پر انہوں نے لکھا ہے؟

🔴 تبصرہ:

غور فرمائیں۔۔شیعہ مناظر علی معاویہ صاحب کو کہہ رہے ہیں کہ آپ نے اصول مناظرہ توڑے ہیں!!! یہ نہیں بتایا کہ کس اصول کی انہوں نے خلاف ورزی کی ہے، جبکہ علی معاویہ صاحب نے اپنے جوابات میں واضح بتایا کہ علی عریش صاحب نے کن کن اصولوں کی واضح خلاف ورزی کی ہے۔

اس کے بعد بھی علی عریش صاحب اپنی آخری چند وائسز میں یہی باتیں دھراتے رہے۔ انہیں آخر تک یہ شکایت رہی کہ  ان کے سوالات کے ڈھنگ سے جوابات نہیں دئے گئے۔ وہ اسی کوشش میں رہے کہ علی معاویہ صاحب ائمہ معصومین کی طرف نہ جائیں اور شیعہ جمہور یعنی علماء شیعہ کے اقوال پیش کریں، جس سے سامعین تک تاثر پہنچا کہ وہ صرف شیعہ علماء کے اقوال پر تیاری کر کے آئے تھے، انہیں وہم و گمان بھی نہ تھا کہ اپنے نمبر دو اصول کی وجہ سے مناظرہ کا رخ ائمہ معصومین کی طرف بھی جا سکتا ہے۔

علی عریش صاحب نے ایک موقعہ پر یہ بھی کہا کہ ہمارے جمہور علماء اس قرآن کریم کو مانتے ہیں، لیکن انہیں یہ توفیق نہ ملی کہ یہ بھی کہہ دیتے کہ ہمارے جمہور علماء نے ائمہ معصومین کی تحریف قرآن کے متعلق تمام روایات کا انکار بھی کیا ہے ، اگر اتنا بھی کہہ دیتے تو شاید ان کی بات میں وزن ہوتا، لیکن ایسا کہنے سے پھر شیعہ کی تمام کتب کی اکثر روایات اور اکثر ثقہ راوی فورآ  جھوٹے ثابت ہوجاتے اور پھر شیعہ کتب کی شاید ہی کوئی ایک روایت قابل اعتبار ہوتی!!!

ایک جگہ علی عریش صاحب نے کہا کہ یہ مناظرہ شیعہ مذہب کے اصولوں کے تحت ہورہا ہے، اس لئے علی معاویہ صاحب کو جمہور شیعہ کا انکار کرنے کے بجائے اس کی اہمیت سمجھتے ہوئے انہی سے دلیل پیش کرنی چاہئے، انہیں یہ یاد ہی نہ رہا کہ علی معاویہ صاحب نے واضح الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ جمہور شیعہ اگر ایک طرف ہوں اور دوسری طرف ائمہ معصومین ہوں تو اہمیت کس کی زیادہ ہوگی، ظاہر ہے ائمہ معصومین کی ہوگی۔

علی عریش صاحب جذبات میں بھول گئے کہ وہ اقوال ائمہ معصومین کے مقابل جمہور شیعہ کا مطالبہ کر کے خود اپنے مذہب کے اصول بھی توڑ رہے ہیں، ان کے پاس سنی مناظر کے دلائل کا رد کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا!! لیکن افسوس انہیں آخر تک اپنی فاش غلطیوں کا ادراک تک نہ ہوا۔

سنی مناظر علی معاویہ کا جواب :

اب میں صرف خلاصہ پیش کر رہا ہوں۔ کوئی دلیل اب ہیش نہیں کروں گا۔

سب سے پہلے ہمارے بیچ شرائط طئے ہوئیں جو سب کے سامنے ہیں۔

ان شرائط میں علی عریش نے دو نمبر شرط ایسی رکھی جس کے مطابق اگر دوران مناظرہ کسی شیعہ عالم کا تواتر کا قول یا اجماع کا قول پیش کیا گیا تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا بلکہ مدعی خود اس متواتر یا اجماع کو ثابت بھی کرے گا۔

اس شرط کی وجہ سے میں نے فیصلہ کیا کہ اگر تواتر پر ہی گفتگو ہونی ہے تو کیوں نہ شیعہ مولویوں کے بجائے ائمہ معصومین پر ہی دلائل دئے جائیں ، اور اس پر اتنی روایات پیش کروں کہ تواتر ثابت ہوسکے مطلب اتنے لوگ وہ بات کہیں کہ ان سب لوگوں کا جھوٹ پر جمع ہونا محال ہو اور اس سے بات یقینی ثابت ہوجائے۔

الحمدلللّٰہ میں نے جو جو حوالے دئے ہیں ان سب کے ناموں کی فہرست بھیج رہا ہوں ، تاکہ سب جان سکیں کہ شیعہ معتبر کتب میں کتنے امام ، کتنے ان کے شاگرد اور کتنے شاگردوں کے شاگرد اس قسم کی روایات بیان کر رہے ہیں۔

شیعہ کتب میں تحریف قرآن کی روایات بیان کرنے والے

پہلا طبقہ..

علی رض

باقر رح

جعفر رح

جابر بن عبداللہ رض

علی نقی رح

————————-

دوسرا طبقہ..

(ائمہ سے روایات لینے والے)

ابو بصیر

ابو ذر الغفاری

عبد اللہ بن سنان

ابو حمزہ

فضیل بن یسار

سالم بن سلمہ

ھشام بن سالم

ابو زبیر

جابر

اصحاب علی نقی..

————————–

تیسرا طبقہ..

(ائمہ کے شاگردوں سے روایات لینے والے)

محمد بن سلیمان

سلیمان

محمد بن فضیل

عمر بن اذینہ

عبد الرحمن بن ابو ھاشم

علی بن الحکم

علی بن اسباط

سلیمان بن صالح

الاجلح

عمرو بن ابی مقدام

الحمدللّلہ یہ فہرست تین طبقوں کو بیان کر رہی ہے، اس کے بعد کے طبقے بھی ہیں جن کے نام  دس سے زیادہ ہیں۔

اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ شیعوں کے نزدیک اس قرآن کریم میں معاذاللہ تبدیلی ہوئی ہے۔ یہ قرآن منافقوں نے جمع کیا ہے۔ یہ قرآن جھوٹوں نے جمع کیا ہے۔ اس قرآن میں تبدیلی ہوئی ہے، کمی ہوئی ہے۔ الفاظ بڑھائے گئے ہیں۔ اہل بیت کے نام نکالے گئے ہیں اور اس قرآن میں کفر کے ستون بھر دئے گئے ہیں وغیرہ وغیرہ (نعوذ بااللہ)

یہ سب حوالے دوران مناظرہ پیش کردئے گئے ہیں۔

علی عریش صاحب کی طرف سے اہل سنت حوالے پیش کرنا ، ان کی شکست ہے، کیونکہ شرائط کے مطابق انہیں میرے حوالوں کا پہلے جواب دینا تھا۔

اس کے علاوہ بھی کئی اصول توڑے گئے، جو سب کے سامنے ہیں، سب سامعین سمجھدار ہیں ماشاء اللہ ۔

میں اپنی گفتگو ختم کرتا ہوں۔ اللہ عزوجل ہم سب کو دین کی درست سمجھ عطا فرمائے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين.

🔴 شیعہ مناظر علی عریش صاحب کی آخری وائس🔴

معاویہ صاحب کا دعوی ہے کہ شیعہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے اس موجودہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتا۔

معاویہ صاحب نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ شیعہ سے مراد جمہور افراد ہیں ؟ شیعوں کے مذہب کے اصول کیا ہیں؟ اس کے علاوہ ایمان نہیں رکھتا، سے مراد کیا ہے؟

کیسے ثابت کریں گے کہ کوئی شخص کسی بات پر ایمان نہیں رکھتا؟ اس کو کس چیز سے ثابت کریں گے؟

روایات جو کتاب میں موجود ہیں انہیں دکھائیں گے، یہ جو اسکینز بھیج رہے ہیں ، ہم نے تو کبھی ان سے مطالبہ نہیں کیا، اصول کی مخالفت تو انہوں نے کی جب ہم نے کہا کہ آپ سے اسکینز نہیں چاہتے۔

ہم نے کہا کہ تین سوالوں کے جواب بھیج دیں۔ لیکن معاویہ صاحب بار بار اسکینز بھیجتے رہے، کئی بار منع بھی کیا، لیکن اسکین پہ اسکین پھر ان پر تبصرہ، ان کی وضاحت!! ہم تو صرف یہ کہہ رہے تھے ہم جو سوال کر رہے ہیں ، آپ ان کے جواب دیں۔

🔴 تبصرہ:

غور فرمائیں۔۔۔ شیعہ مناظر علی عریش صاحب آخری وائس میں بھی یہی رونا روتے رہے کہ اہل سنت کے دعوی میں شیعوں سے مراد جمہور شیعہ ہیں یا چند شیعہ!!

پھر شیعہ مذہب کے اصول پوچھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا!

پھر پوچھ رہے ہیں کہ کسی شخص کا ایمان نہ رکھنا کیسے ثابت کریں گے۔ پھر خود ہی جواب بھی دے رہے ہیں کہ روایات دکھائیں گے!!! پھر خود ہی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اسکینز پہ اسکینز کیوں بھیجے ، انہیں تو صرف اپنے تین سوالوں کے جوابات چاہئے تھے!!! جبکہ علی معاویہ صاحب نے ان کے سب سوالوں کے جوابات بھی دے دئے تھے، لیکن اصل میں انہیں اپنی مرضی کے جوابات چاہئے تھے۔

شیعہ مناظر علی عریش صاحب نے دوران مناظرہ مندرجہ ذیل اہم غلطیاں کیں۔

1- پہلے دن تفصیلی گفتگو ہوئی اور متفقہ اصول و شرائط طئے کئے گئے ، دعوی اور جواب دعوی بھی تسلیم کیا گیا ، لیکن دوسرے ہی دن علی عریش صاحب نئے سرے سے شرائط و اصول اور دعوی و جواب دعوی پر بات کرنے کی کوششیں کرنے لگے۔

2- علی عریش صاحب بار بار وہی اعتراض اور سوالات کرتے رہے جن کے جوابات علی معاویہ صاحب الفاظ بدل بدل کر دیتے رہے۔

3- دوران گفتگو دلائل کے علاوہ علی معاویہ صاحب نے کئی سوالات بھی پوچھے جن کے جوابات دینا علی عریش صاحب نے ضروری نہ سمجھا۔

4- علی عریش صاحب اہل سنت دعوی میں الفاظ “شیعہ اپنے مذہب” پر گفتگو کے بجائے صرف لفظ شیعہ پر زور دیتے رہے اور علی معاویہ صاحب کو آخر تک مجبور کرتے رہے کہ وہ جمہور شیعوں سے تحریف کو ثابت کریں۔

5- علی عریش صاحب نے سنی مناظر کی ایک بھی دلیل کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا، جس سے مناظرہ سننے والوں تک یہ تاثر پہنچا کہ ان کے نزدیک اقوال ائمہ معصومین کے مقابل میں اقوال شیعہ علماء اور جمہور کی زیادہ اہمیت ہے۔

مزید شیعہ مناظر نے اقرار کیا کہ وہ مناظرے کے اصول جان بوجھ کر توڑ رہے ہیں، اس کی وجہ یہ بتا رہے ہیں کہ علی معاویہ صاحب اپنے دعوی پر ایک بھی دلیل نہیں دی۔

شیعہ سامعین کو بھی احساس ہوگیا ہوگا کہ ان کے مناظر کی گرفت شروع سے آخر تک کتنی کمزور رہی، وہ اہل سنت دعوی کو مکمل سمجھنے کی بھی اہلیت نہیں رکھتے تھے، علی عریش صاحب ائمہ معصومین کے اقوال کو دلیل ماننے کو بھی تیار نہ تھے ،  بقول ان کے ہمارہ مناظرہ شیعہ کے موضوع پر ہو رہا ہے، ائمہ معصومین پر نہیں ہو رہا ہے۔

اس شیعہ مناظر کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ یہ سب کہہ کر شیعہ مذہب کی دھجیاں بکھیر رہا ہے۔ کیا شیعہ کا ایمان ائمہ معصومین کے ایمان سے مختلف ہے؟

کیا شیعہ الگ موضوع ہے اور ائمہ معصومین الگ موضوع ہے؟ کیا دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے؟

اس کے بعد علی عریش صاحب نے کھلی جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے علی معاویہ صاحب سے مطالبہ کیا کہ

اپنے دعوی کی دلیل شیعہ جمہور کے قول کے مطابق پیش کریں کہ کہاں پر انہوں نے لکھا ہے؟

حد ہے!!! کیا جمہور شیعہ کوئی ایک شخصیت ہے، جس کے قول کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں؟

علی معاویہ انہیں بار بار یہی کہتے رہے کہ تواتر، اجماع یا جمہور ثابت کرنے کے لئے کثیر روایات پیش کرنا پڑتی ہیں، اسی لئے انہوں نے روایات کا ڈھیر لگادیا، لیکن شیعہ مناظر کو اتنی ساری روایات غیر مفید اور کسی کام کی نہیں لگ رہی تھیں انہیں کسی مخصوص “جمہور شیعہ” نامی عظیم ہستی کا قول چاہئے تھا!! انا لللہ وانا الیہ راجعون۔

مناظرہ پی ڈی ایف میں ڈاؤن لوڈ کریں

شیعہ کی بدترین شکست تحریف قرآن پرمناظرہ (مولانا علی معاویہ اور شیعہ عالم علی عریش)