بنات اربعہ اصول کافی سے ثبوت 1

شیعہ مذہب کی بنیادی کتابیں چار ہیں۔ جنہیں ”اصول اربعہ “کہا جاتا ہے۔

نمبر 1 : اصول کافی

نمبر2: من لا یحضر الفقیة

نمبر3: تہذيب الاحکام

نمبر4: الاستبصار

نمبر 1️⃣ اصول کافی کا حوالہ

ان چار میں سے سب سے زیادہ اہمیت ”اصول کافی“ کو دیجاتی ہے اس کتاب کو لکھنے والے معروف شیعہ عالم ”ابوجعفر محمد بن یعقوب بن اسحاق کلینی“ ہیں۔ علامہ کلینی 329ھ میں فوت ہوئے۔ چنانچہ محمد بن یعقوب کلینی نے اس کتاب میں

(باب) * (مولد النبي (صلى الله عليه وآله) ووفاته) *

وتزوج خديجة وهو ابن بضع وعشرين سنة، فولد له منها قبل مبعثه (عليه السلام) القاسم، ورقية، وزينب، وام كلثوم، وولد له بعد المبعث الطيب والطاهر وفاطمة (عليها السلام) (اصول کافی جلد 1 ص278 طبع بازار سلطانی تہران۔ایران)

ترجمہ:یعنی نبی اکرم ﷺ نے خدیجہ کے ساتھ نکاح کیا اس وقت آنحضرت ﷺ کی عمر بیس سال سے زیادہ تھی پھر خدیجہ سے جناب کی اولاد بعثت سے پہلے جو پیدا ہوئی وہ يہ ہے قاسم، رقیہ، زینب اور ام کلثوم اور بعثت کے بعد آپ ﷺ کی اولاد طیب ، طاہر اور فاطمہ پیدا ہوئیں۔

قارئین کرام !! اصول کافی جو اصول اربعہ کی نمبر1 کتاب ہے اس نے مسئلہ بالکل واشگاف الفاظ کے ساتھ واضح کر دیا کہ رسالت مآب ﷺ کی چار صاحبزادیاں ہیں اور چاروں صاحبزادیاں حضرت خدیجہ الکبری سے متولد ہیں اور پھر اصول کافی کے تمام تر شارحین نے اس کی تشریح اور توضیح عمدہ طریقے پر کر دی ہے مثلاً مرآة العقول شرح اصول جو علامہ باقر مجلسی نے لکھی ہے اور ” الصافی شرح کافی “ ملا خلیل قزوینی نے لکھی ہے انہوں نے اس روایت کو بالکل درست کہا ہے آج چودہویں صدی کے شیعہ علماءاپنی عوام کو ”بدھو بنانے کے غرض سے يہ کہہ کرجان چھڑا لیتے ہیں کہ يہ روایت ضعیف ہے مگر آج تک شیعہ برادری ضعف روایت کی معقول وجہ پیش نہیں کر سکی اور نہ قیامت تک کر سکتی ہے شیعہ حضرات کو سوچنا چاہيے کہ يہ مجتہدین انہیں اپنے اکابرین سے ”برگشتہ“ کر رہے ہیں اور محض اہل سنت والجماعت کے ساتھ تعصب کی بناءپر ”سفید کوے کی رٹ لگائے جا رہے ہیں“