بعد از نبی صرف تین یا چار مسلمان باقی سب صحابہ کرام مرتد (معاذاللہ)

شیعوں کا ایک بڑا الزام کے بعد وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین مرتد وکافر ہوگئے تھے سوائے تین آدمیوں کے پوچھا گیا وہ کون تھےِِِ؟؟؟۔۔۔ تو فرمایا مقداد اور سلمان اور ابوذر۔
امام باقر فرماتے ہیں کہ تمام آدمی مرتد ہوگئے تھے صرف تین بچے تھے روای نے سوال کیا وہ کون تھے؟؟؟۔۔۔ تو فرمایا مقداد بن اسود، ابوذرغفاری اور سلمان فارسی (رجال کشی صفحہ ٤ مطبوعہ بمبئی)۔۔۔
نتیجہ!۔۔۔
شیعہ کی اس روایت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ وحسنین شریفین واہلبیت یہاں تک عمار بن یاسر تک ہاتھ صاف کرگئے۔۔۔
کدھر گئی وہ حدیث من کنت مولا فھذا علی مولا؟؟؟۔۔۔
شیعوں کے دعوٰی کے مطابق غدیر خم کے دن ہزاروں صحابہ کرام وہاں موجود تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی وصیت براہ راست سنی تھی تو ان ہزاروں صحابہ کرام میں سے ایک صحابی بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرفداری کے لئے کیوں کھڑا نہیں ہوا؟؟؟۔۔۔
حتی کے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ مقداد بن عمرو اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہم بھی خلیفہ وقت ابوبکر کی خدمت میں استغاثہ لے کر کیوں نہیں آئے کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا حق کیوں غصب کیا؟؟؟۔۔۔ جبکہ آپ کو پتہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم کے دن کیا وصیت فرمائی تھی یا کیا تحریر لکھوائی تھی حضرت علی رضی اللہ عنہ تو بڑے بے باک صحابی تھے جنہیں اللہ کے علاوہ کسی اور کا خوف نہ تھا اور نہ ہی کسی سے دب کر بات کرنے کے عادی تھے اور انہیں علم تھا کہ حق بات پر سکوت اختیار کرنے والا گونگا شیطان کہلاتا ہے۔۔۔
تین چار کے سوا تمام صحابہ مرتد ہو ہوگئے: رافضیوں کےائمہ معصومین کا فیصلہ
=================================
آج روافض کی طرف سے بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملتی ہیں، کوئی صاحب ایک جگہ وحدت امت کے داعى بن کر ایک نام سے آتے ہیں اور یہ راگ الاپتے ہیں کہ : ہم تو کسی صحابی کو برا بھلا نہیں کہتے اور نہ ہی کسی کو منافق یا کافر کہتے ہیں.. وہی صاحب ایک دوسرے نام سے اصحاب رسول صلى الله عليه وسلم کے بارے میں وہ بکواس اورتبرا کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ …. (ہم ایسے ایک علامہ کو جانتے ہیں) .
آئیے دیکھتے ہیں کہ رافضیوں کے ائمہ معصومین نے کیا کہا؟


اس پوسٹ کے ساتھ ایک حوالہ فریق مخالف کی سب سے معتبر كتاب “الكافى” سے ہے، حضرت امام باقر (رح) کی طرف ایک بات منسوب کی گئی ہے کہ : جب الله کے رسول صلى الله عليه وسلم کا وصال ہو گیا تو تمام لوگ مرتد ہو گئے سوائے تین کے، وہ تین یہ ہیں، مقداد، ابوذرغفاری، اور سلمان فارسی.. (حواله مع روايت كى توثيق کے منسلک ہے)
دوسرا حوالہ تیسری اور چوتھی صدی کے اوائل میں ہوے معروف رافضی شیخ مفید کی کتاب “الاختصاص” کا ہے، حضرت امام جعفر (رح) کی طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ انہوں نے کہا: جب آپ صلى الله عليه وسلم کا وصال ہو گیا تو تمام لوگ مرتد ہو کر کافر ہو گئے سوائے تین کے، وہ تین سلمان، مقدار اور ابو ذر غفاری ہیں.
اب ایک طرف فریق مخالف کے دو “معصوم” امام ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ تین کے سوا تمام صحابہ (نعوذ بالله) مرتد ہوگئے تھے … (یہ بات ذہن میں رہے کہ تین کے سوا میں حضرت على اور اهل بيت کے دوسرے حضرات بھی آتے ہیں اور ان روایات میں ان کی کوئی استثناء بھی نہیں) … اور دوسری طرف آج کے رافضی دھوکہ دیتےہیں کہ ہم تو کسی صحابی کو برا بھلا نہیں کہتے ….. یہ سراسر نفاق اور تقيه ہے یا نہیں؟


کلینی نے الکافی میں یہ روایت نقل کی ہے روایت یوں ہے ۔۔۔۔
الكافي للكليني (329 هـ) جزء8 صفحة245 حديث القباب
www.al-shia.org/html/ara/books/lib-hadis/al-kafi-8/07.htm#01
341 – حنان عن أبيه عن أبي جعفر (ع) قال : كان الناس أهل ردة بعد النبي (صلى الله عليه وآله) إلا ثلاثة فقلت: ومن الثلاثة؟ فقال: المقداد بن الأسود وأبو ذر الغفاري و سلمان الفارسي رحمة الله وبركاته عليهم ثم عرف أناس بعد يسير وقال : هؤلاء الذين دارت عليهم الرحا وأبوا أن يبايعوا حتى جاؤوا بأمير المؤمنين (ع) مكرها فبايع وذلك قول الله تعالى : “وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل أفإن مات أو قتل انقلبتم على أعقابكم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئا وسيجزي الله الشاكرين”

اس کی سند کو مجلسی نے “مرا ة العقول” میں حسن او موثق کہا ہے

تین چار کے سوا تمام صحابہ مرتد ہو ہوگئے: دو ائمہ معصومین کا فیصلہ
1️⃣ شیعہ کی سب سے معتبر كتاب “الكافى”: حضرت امام باقر (رح) کا قول ہے کہ : جب الله کے رسول صلى الله عليه وسلم کا وصال ہو گیا تو تمام لوگ مرتد ہو گئے سوائے تین کے، وہ تین یہ ہیں، مقداد، ابوذرغفاری، اور سلمان فارسی.
2️⃣ تیسری اور چوتھی صدی کے اوائل کے معروف شیعہ جیّد عالم شیخ مفید کی کتاب “الاختصاص”: حضرت امام جعفر (رح) نے کہا: جب آپ صلى الله عليه وسلم کا وصال ہو گیا تو تمام لوگ مرتد ہو کر کافر ہو گئے سوائے تین کے، وہ تین سلمان، مقداد اور ابو ذر غفاری ہیں.
3️⃣ امام باقر فرماتے ہیں کہ تمام آدمی مرتد ہوگئے تھے صرف تین بچے تھے روای نے سوال کیا وہ کون تھے؟؟؟۔۔۔ تو فرمایا مقداد بن اسود، ابوذرغفاری اور سلمان فارسی
(رجال کشی صفحہ ٤ مطبوعہ بمبئی)
👈 دو “معصوم” امام ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ تین کے سوا تمام صحابہ (نعوذ بالله) مرتد ہوگئے تھے …

عجب و افسوس کا مقام ہے کہ شیعہ کی معتبر کتب میں موجود یہ غیر منطقی روایت خود اہل تشیع کے ہاں قبول بھی کی جاتی ہے۔ اس میں تمام صحابہ کرام کو کافر کہا گیا ہے سواۓ تین کے! کیا یہ صریح گستاخی نہیں ہے۔ یاد رہے کہ ان تین میں اھل بیت حسنین کریمین بھی شامل نہیں ہیں!  لھذا ماننا پڑے گا اس روایت کی رو سے سب کافر سواۓ تین کے اب جواب شیعوں کے ذمے ہے کیونکہ کتب ان کی ہیں، روایات بھی امام معصومین کی اور توثیق بھی انہی کے علماء کی !!

اپنا تبصرہ بھیجیں