بعد از نبی سوائے تین چار کہ تمام صحابہ مرتد (معاذاللہ)

 ۔۔۔۔ عقیدہ شیعان علی
🔷حضور علیہ السلام کی رحلت کے بعد سوائے چار اصحاب کے باقی سب مرتد ہوگئے تھے اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے کفر کا اظہار🔷
شیعہ مفسر عیاشی نے بسند معتبر حضرت امام باقر سے روایت کی ہے کہ جب جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت ہوئی چار اشخاص علی، مقداد، سلمان اور ابو ذر رضی اللہ عنہم کے علاوہ سب مرتد ہو گئے (نعوذباللہ)
(حیات القلوب ص923  اسرار  آل محمد صفحہ 23)

♦️جواب اہلسنّت♦️
قارئین کرام! اس گمراہ کو نظریے کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ بغور پڑھئے اور اہل تشیع کی اسلام دشمنی پر ماتم  کیجئیے.
⭕️جنگ فارس میں شرکت کیلئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ لیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:-
ہم میں سے اللہ کا ایک وعدہ ہے اور وہ اپنے وعدے کو پورا کرے گا اور اپنے لشکر کی خود ہی مدد کرے گا۔۔۔۔۔ کل اگر آج عجم والے تمہیں دیکھیں گے تو کہیں گے یہ ہے سردار عرب اگر تم نے اس کا قلع قمع کر دیا تو آسودہ ہو جاؤ گے۔(نہج البلاغہ396)


⭕”فلاں شخص کی کارکردگیوں کی جزا اللہ اسے دے انہوں نے ٹیڑھے پن کو سیدھا کیا مرض کا چارہ کیا فتنہ و فساد کو پیچھے چھوڑ گئے سنت کو قائم کیا صاف ستھرے دامن اور کم عیبوں کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوۓ۔ بھلائیوں کو پا لیا اور اس کی شرانگیزیوں سے آگے بڑھ گئے۔ اللہ کی اطاعت بھی کی اور اس کا پورا خوف بھی کھایا۔”
ابن ابی الحدید نے تحریر کیا ہے کہ لفظ فلاں سے مراد حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور کلمات انہی کی مدح اور توصیف میں کیے گئے ہیں۔
(نہج البلاغہ ص629)
ہر ذی عقل اندازہ کرسکتا ہے کہ حضور علیہ السلام کی بپا کی ہوئی وہ بے مثل تحریک جس کے بے پناہ ثمرات کے کفار بھی معترف ہیں کویہ فرقہ جو اپنے آپ کو مسلمان بلکہ مومن کے اعلان پر مصر ہے کیسے ناکام قرار دے رہا ہے اور حضرت علی  جن اصحاب کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں یہ گروہ (شیعہ) انہیں کیا کچھ نہیں کہہ رہا۔ اللہ رب العزت انسان کو ان کے شر سے محفوظ رکھے۔
خلاصہ:-
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ تمام اصحاب رضی اللہ تعالی عنہ رسول کو نہ صرف مسلمان سمجھتے تھے بلکہ ان کا دل و جان سے احترام کرتے تھے جن میں خلفاء ثلاثہ سر فہرست ہیں اور جو لوگ آپ علی رضی اللہ عنہ کے خلاف صف آرا تھے انہیں بھی صرف فتنوں میں ملوث خیال فرماتے تھے نہ کہ مرتد یا کافر

اپنا تبصرہ بھیجیں