بانی مذہب شیعہ عبداللہ بن سباء کی حقیقت ایک سابقہ شیعہ عالم کی زبانی

بانی مذہب شیعہ عبداللہ بن سباء کی حقیقت ایک سابقہ شیعہ عالم کی زبانی

ہم شیعوں کے ہاں یہ مشہور ہے کہ عبداللہ بن سباء ایک خیالی شخصیت ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔ اسے اہل تشیع اور ان کے عقائد میں طعن کرنے کے لئے اہل سنت نے گھڑ رکھا ہے اور مذہب شیعہ کا بانی ا س کو قرار دے دیا ہے تاکہ وہ لوگوں کو ان سے اور اہل بیت کے مذہب سے روک سکیں۔

جب کہ میں نے جب اپنے شیعہ مجتہد سید محمد حسین آل کاشف الغطاء سے ابن سباء کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مجھے یہ جواب دیا کہ :

ابن سباء ایک من گھڑت ہے جسے اہل بیت اطہار سے دشمنی کرتے ہوئے امویوں اور عباسیوں نے گھڑا تھا، اس لئے عقل مند اور دانشور آدمی کو چاہئے کہ وہ اس کے بارے میں اپنے آپ کو مصروف نہ کرے۔

لیکن جب میں ان کی مشہور کتاب (اصل الشیعۃ و اصولہا) کو دیکھتا ہوں تو اس کے صفحہ نمبر 40,41 پرایسی عبارت لکھی ہوئی ہے جو اس شخصیت کے وجود کو ثابت کرتی ہے ، کہتے ہیں:

”رہا عبد اللہ بن سباء، جسے یہ لوگ شیعوں کے ساتھ یا شیعوں کو اس کے ساتھ چپکاتے ہیں تو شیعہ کی ساری کی ساری کتب اس پر لعنت بھیجتی اور اس سے برأت کا اعلان کرتی ہیںاس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عبارت اس شخصیت کے وجود کی صراحت کرتی ہے۔ جب میں نے اس کا تذکرہ کیا تو (سید محمد حسین آل کاشف الغطاء) کہنے لگے کہ:

یہ ہم نے تقیۃً کہا ہے (یعنی جھوٹ) سے کہا ہے۔ چونکہ اس مذکورہ کتاب میں اہل سنت کو خطاب ہے، اس لئے اس مذکورہ عبارت کے بعد میں نے یہ بھی لکھا ہے کہ: ”یہ بھی کہ یہ کہنا بھی بعید نہیں ہے کہ عبد اللہ بن سباء اور اس طرح کے دیگر لوگ صرف خیالی شخصیات ہوں جن کو قصہ گو اور کہانی کار لوگوں نے گھڑ رکھا ہو ”

اور شیعہ سید مرتضیٰ عسکری نے ”عبد اللہ بن سباء اور دوسری کہانیاں” نامی کتاب لکھی ہے، جس میں انہوں نے ابن سباء کے وجود سے انکار کیا ہے۔

اور محمد جواد مغنیہ نے بھی اسی مذکورہ کتاب کے مقدمے میں ابن سباء کے وجود کا انکار کیا ہے۔

اور عبد اللہ بن سباء کی شخصیت بھی ان اسباب میں سے ایک سبب ہے جن کی بنا پر شیعہ اہل سنت پر طعن و تشنیع کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل سنت میں سے ابن سباء کا تذکرہ اتنے لوگوں نے کیا ہے کہ ان کا شمار بھی ممکن نہیں، لیکن شیعہ ان سے اختلاف کی وجہ سے ان پر اعتماد نہیں کرتے۔ لیکن جب ہم نے اپنی (شیعہ) کی قابل اعتماد کتب کا مطالعہ کیا تو ان میں عبد اللہ بن سباء کی شخصیت حقیقت رکھتی ہے۔ چند حوالہ جات درج ذیل ہیں

1: شیعہ امام ابو جعفرسے مروی ہے، انہوں کہا کہ:

عبد اللہ بن سباء نبوت کا دعوے دار تھا۔ اور وہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کا دعویٰ کرتا تھا(یہی آج شیعہ کہتے ہیں آپ نے فیس بُک سوشل میڈیا پر دیکھا ہوگا شیعہ زاکرین کیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اللہ کے برابر کر رہے ہیں) جبکہ وہ اس سے پاک تھے۔ جب یہ بات امیر المؤمنین کو پہنچی تو انہوں نے اس کو بلایا اور پوچھا تو اس نے اقرار کیا اور کہا کہ: ہاں! تو ہی اللہ ہے اور میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی ہے کہ تو الٰہ ہے اور میں نبی ہوں۔ تو امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تیرے لئے ہلاکت ہو! شیطان تیرے ساتھ کھیل رہا ہے ۔ تجھے تیری ماں گم پائے ! اپنے اس قول سے رجوع کر اور توبہ کر۔ اس نے انکار کیا تو انہوں نے اس کو قید کر دیا اور تین دن تک اس سے توبہ کرواتے رہے لیکن اس نے توبہ نہیں کی تو اس کو آگ میں جلا دیا اور فرمایا:

”شیطان اس کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔ وہی اس کے پاس آتا اور اس کے دل میں اس طرح کی اوٹ پٹانگ ڈال رہا تھااور ابو عبداللہ (امام ابو جعفر) سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ :

اللہ! عبد اللہ بن سباء پر لعنت کرے، اس نے امیرالمؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ربوبیت کا دعویٰ کیا، جبکہ اللہ کی قسم! امیر المؤمین تو اللہ کے مطیع اور فرماں بردار بندے تھے۔ ہلاکت ہو اس کے لئے جس نے ہم پر جھوٹ باندھا۔ ایک قوم ہے جو ہمارے بارے میں وہ باتیں کہتی ہے جو ہم نے اپنے بارے میں نہیں کہیں ہیں، ہم اللہ کے سامنے ان باتوں سے برأت کا اعلان کرتے ہیں، ہم اللہ کے سامنے ان باتوں سے برأت کا اعلان کرتے ہیں۔ (معرفۃ اخبار الرجال، للکشی، صفحہ 70, 71)

2: شیعہ مجتہد المامقانی نے کہاکہ:

عبد اللہ بن سباء کفر کی طرف پلٹ گیا تھا اور اس نے غلو کیا تھا۔

دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

وہ بہت زیادہ غلو کرنے والا اور لعنتی تھا، اسے امیر المؤمنین نے آگ میں جلا دیا تھا اور وہ علی رضی اللہ عنہ کی ربوبیت اور اپنی نبوت کا دعویٰ کرتا تھا۔

(تنقیح المقال فی علم الرجال،جلد2 ،صفحہ 183,184)

3: تیسری صدی کے شیعہ عالم نو بختی نے کہا کہ:

سبائیوں (شیعہ کا فرقہ ہے جس سے مذہب شیعہ چلا) نے علی رضی اللہ عنہ کی امامت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ان کی امامت اللہ کی طرف سے فرض ہے۔

اور یہ سبائی عبد اللہ بن سباء کے پیروکار ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ابو بکر، عمر اور عثمان غنی رضی اللہ عنہم پر طعن کیا اور ان پر تبرا کیا اور یہ کہا کہ انہیں ایسا کرنے کا علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا ہے۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے اسے گرفتار کروا لیا اور اس سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے اس کا اقرار کیا تو علی رضی اللہ عنہ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا جسے سن کر یہ لوگ چیخنے لگے کہ: کیا آپ ایسے آدمی کے قتل کا حکم دیتے ہو جو آپ اہل بیت کی محبت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہے؟ تمہارے ساتھ دوستی رکھتا اور تمہارے دشمنوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتا ہے؟ توعلی رضی اللہ عنہ نے اسے مدائن بھجوا دیا۔

اور اہل علم کی ایک جماعت نے بیان کیا ہے کہ:

عبد اللہ بن سبا یہودی تھا، پھر یہ اسلا م لے آیا اور علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ اختیار کر لیا، ان کا معتقد ہو گیا۔ یہ شخص اسلام لانے سے قبل یہودیت میں موسیٰ علیہ السلام کے وصی یوشع بن نون علیہ السلام کے متعلق جو عقائد رکھتا تھا، اسلام لانے کے بعد اسی قسم کے عقائد کا اظہار علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا۔ یہی پہلا شخص ہے جس نے علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے فرض ہونے کی بات کی اور ان کے دشمنوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ اسی بنا پر شیعوں کے مخالفین نے یہ کہا کہ : شیعیت کی اصل یہودیت سے ماخوذ ہے، یعنی شیعت کی بنیاد یہودیت پر رکھی گئی ہے۔

(فِرق الشیعۃ،خلاصہ صفحہ32تا44 )

:4 سعد بن عبد اللہ اشعری القمی سبائیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ:

سبائی عبد اللہ بن سباء جو کہ عبداللہ بن وہب الراسبی الہمدانی ہے ، کے پیروکار ہیں۔ اس کے ساتھ (اس کے نظریات کی) تائید عبد اللہ بن خرسی اور ابن اسود نے کی تھی اور یہی دونوں اس کے بڑے ساتھی تھے۔ اور ابن سباء ہی وہ پہلا شخص ہے جس نے ابو بکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم پر طعن کی اور صحابہ رضی اللہ عنہم پر تبرا کیا۔ (المقالات والفرق،صفحہ 30)

:5 شارح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید بیان کرتے ہیں کہ:

عبداللہ بن سباء علی رضی اللہ عنہ کے سامنے کھڑا ہو کر تقریر کرنے لگا اور تو ہی تو کی تکرار شروع کردی تو علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ : اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کرے ! میں کون ہوں؟ تو کہنے لگا کہ: تو اللہ ہے۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے اسے اور اس کے ساتھ اس کے پیروکاروں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔

(شرح نہج البلاغہ، جلد5صفحہ 5)

:6 شیعہ مشہور عالم علامہ نعمت اللہ الجزائری کہتے ہیں :

عبد اللہ بن سباء علی رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا کہ: تو ہی الٰہ برحق ہے۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے اسے مدائن میں جلا وطن کر دیا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ دراصل یہودی تھا، پھر اسلام لے آیا، یہودیت میں یہ یہی بات یوشع بن نون علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہتا تھا جو بعد میں علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہی۔

(الانوار النعمانیہ،جلد 2 ،صفحہ234)

یہ چھ نصوص ہیں جو مختلف معتبر مصادر سے بیان کئے گئے ہیں، جن میں سے بعض رجال کے بارے میں، بعض فقہ کے بارے میں اور بعض فِرق یعنی تقابل ادیان کے بارے میں ہیں۔ ہم نے بہت سے مصادر کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ بحث طویل نہ ہو جائے، سب میں اس شخصیت کے وجود کا ثبوت ہے جسے عبد اللہ بن سباء کہتے ہیں، اس لئے ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کی شخصیت کا انکار کر سکیں۔ خاص طور پر جب کہ یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے اسے باطل نظریے کہ علی رضی اللہ عنہ الٰہ ہیں، کی بنا پر سزا دی تھی، اور یہ کہ ان کی اس سے ملاقات ہوئی ہے اور امیر المؤمنین کی ذات ہمارے لئے بطور حجت کافی ہے جس کے بعد اس کے وجود کا انکار ممکن نہیں۔

بانی مذہب شیعہ عبداللہ بن سباء کی حقیقت ایک سابقہ شیعہ عالم کی زبانی” ایک تبصرہ

تبصرے بند ہیں