باغ فدک ہبہ نہیں ہوا تھا!(اہم دلائل)

♦ جناب سیدہ نے فدک کو ہبہ کرنے کا دعوی نہیں کیا تھا اور نبی کریم نے فدک سیدہ فاطمہ کو ہبہ نہیں کیا تھا۔

👈 اس کی دلیل یہ ہے کہ فدک ہبہ کرنے کی ایک بھی صحیح روایت موجود نہیں ہے۔

♦ جب سیدہ فاطمہ کا ہبہ کا دعوی ہی ثابت نہیں تو حضرت ابوبکر کی طرف سے گواھہ طلب کرنے کی بات بھی رد ہوجاتی ہے۔

♦ فدک نبی پاک ﷺ کی ذاتی ملکیت نہیں تھا۔ متفقہ طور پر مال فئے تھا۔ مال فئے میں شامل 6 اور گاؤں بھی تھے ، اور ان سب پر مکمل اختیار نبی پاک ﷺ کا تھا لیکن ان سب کی آمدنی قرآن میں بتائے گئے مصارف کے مطابق ہی خرچ ہوتی تھی۔

♦ نبی پاک ﷺ کی پوری زندگی فدک اور دوسرے مال فئے کی آمدنی انہی مصارف پر خرچ ہوتی رہی ، پھر بحیثیت خلیفہ حضرت ابوبکر نے بھی رسول اللہ ﷺ کے طریقے پر عمل کیا ، حضرت عمر فاروق ، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی رضی اللہ عنھم نے بھی رسول اللہ ﷺ کے طریقے پر عمل جاری رکھا ، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔

🌟 نبی پاک ﷺ نے کبھی بھی فدک کو ہبہ نہیں کیا تھا۔🌟

🔴 تاریخی حقائق کی روشنی میں کچھہ اھم سوال۔۔۔۔👇 👇

🔷 فدک کی سالانہ آمدنی چالیس ھزار دینار سے ستر ھزار دینار تک بیان کی گئی ہے ، اس دور میں یہ ایک بہت بڑی رقم تھی۔

🔷 فدک 7 ھجری میں خیبر کی فتح کے موقعے پر یھودیوں نے نبی پاک ﷺ کو دیا تھا اور بقول شیعہ نبی پاک ﷺ نے اسی وقت سیدہ کو ھبہ کردیا تھا۔

🔷 نبی پاک ﷺ کی وفات 10 ھجری میں ہوئی تھی۔

👈 اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ ” تین سے چار سال” باغ فدک سیدہ فاطمہ کے قبضے میں رہا تھا اور پھر بقول شیعہ نبی پاک ﷺ کی ظاھری وفات کے بعد حضرت ابوبکر نے غصب کرلیا۔

1⃣ کیا اس زمانے میں جب کہ نبی پاک ﷺ فدک سیدہ فاطمہ کو ہبہ کیا ، مال غنیمت یا فئے یا خراج یا کسی قسم کی آمدنی اتنی کافی تھی کہ جس سے اخراجات جو اس وقت اسلام کی اشاعت اور مسلمانوں کی حفاظت اور کفار کے حملوں سے بچانے اور ان پر جہاد کرنے اور وفود ، یعنی ایلچیوں اور مہمانوں کے ٹہرانے اور تحفے و ہدایا دینے کے لیئے ضروری تھے ، بغیر کسی دقت کے ادا ہو سکتے۔۔۔!!؟؟؟

2⃣ کیا ایسے حالات میں نبی پاک ﷺ چالیس یا ستر ھزار دینار سالانہ آمدنی کی جاگیر اپنی بیٹی کو بخش سکتے ہیں۔۔۔۔!!؟؟؟

3⃣ کیا رسول اللہ ﷺ کی سیرت اور عادت ایسی تھی کہ مہاجرین ، انصار اور عامہ مسلمین کا خیال نہ کر کے اور ان کو تنگی اور افلاس میں چھوڑ کر جو کچھہ آپ کے حصے میں آیا تھا (بشرطیکہ ہم اس کو آپ ﷺ کا ذاتی حصہ سمجھیں) وہ اپنے رشتیداروں میں سے صرف ایک سیدہ فاطمہ کو دے دیں۔…؟؟؟

✳ سن 7 ھجری نہایت عسرت اور تنگی کا دور تھا۔ خود نبی پاک ﷺ فاقے پر فاقے کرتے اور بھوک کی تکلیف سے دو دو دن تک شکم مبارک پر پتھر باندھتے ، اھل بیت کا یہ حال تھا کہ کھانے پینے کی اشیاء کو ترستے تھے ، ضروری حاجتوں کے پورا کرنے کے لیئے بھی کچھہ سرمایہ نہ رکھتے تھے۔

✳ مہاجرین گھر بار چھوڑے ہوئے مدینے میں دوسروں کے یہاں پڑے ہوئے تھے۔

✳ اسلام کی حالت یہ تھی کہ چاروں طرف سے دشمنوں کا ہجوم تھا اور ہر جانب سے حملہ اور لڑائی کا اندیشہ ، ہر روز جہاد کی ضرورت پیش آتی تھی اور ہر وقت دشمنوں کا کھٹکا لگا رہتا۔
اسلام کے لشکر کی تیاری اور ان کے لیئے آلات حرب و ضرب تیار کرنے کے لیئے نبی پاک ﷺ کو ہر دم فکر لگی رہتی۔

✳ مدینے میں وفود ، ایلچی اور قاصد چاروں طرف سے چلےآتے اور ان کی مہمان داری ان کی حالت کے مطابق کرنی پڑتی اور نیز تحفے و ہدایا جو وہ لاتے اس کے موافق انہیں آپ ﷺ کو بھی دینا پڑتے اور ان اخراجات کے لیئے مسلمانوں سے مدد لینے کی ضرورت ہوتی اور اسی کام میں اعانت کرنے کے لیئے اللہ کی طرف سے رغبت دلانے والی آیتیں نازل ہوتی رہتیں ، اور مسلمان جو کچھہ استطاعت رکھتے تھے وہ اپنے حوصلے اور استطاعت کے موافق مال سے ، اثاث البیت سے ، کپڑے سے، غلے سے غرض کہ ہر طرح سے مدد کرتے یہاں تک کہ جو مفلس اور فقیر تھے وہ بھی بوقت ضرورت اپنے اوپر فاقہ کرتے اور جو کچھہ ان کے پاس کھانے کو ہوتا وہ فی سبیل اللہ نبی پاک ﷺ کے سامنے لاکر رکھہ دیتے۔

4⃣ کیا ایسی تنگی کے زمانے میں کسی معمولی آدمی سے بھی جو کسی گروہ کی سرداری کا دعوی کرتا ہو ، اپنے گروہ کی حفاظت کا ذمہ دار ہو یہ توقع ہوسکتی ہے کہ جو کچھہ اسے ملے وہ بجائے اس کے کہ ان اغراض و مقاصد میں کام میں لائے جو اس کے پیش نظر ہوں ، اپنے رشتہ داروں کو دے دے ، اور پھر رشتیداروں میں بھی سب کے ساتھہ انصاف نہ کرے بلکہ سب کے حقوق تلف اور ضائع کر کے صرف ایک کو دے دے۔۔!!؟؟؟

5️⃣ کیا تاریخ اسلام کی کسی بھی کتاب میں ایسی کوئی روایت ملتی ہے کہ فدک ملنے کے بعد سیدہ فاطمہ کا گھرانہ مالی لحاظ سے بہت خوشحال ہوگیا تھا۔ اھل بیت کے حالات بدل گئے تھے ، ان کی تنگدستی دور ہو گئی تھی۔…؟؟؟؟

6⃣ کیا تاریخ اسلام کی کسی کتاب میں سیدہ فاطمہ کی طرف سے زکوات ادا کرنے کا بھی ذکر موجود ہے۔ جبکہ فدک ملنے کے بعد وہ غنی ہو گئی تھیں ، جس کے بعد زکوات فرض ہوجاتی ہے اور یہ بھی ممکن نہیں کہ فدک کی اتنی بڑی جاگیر اور اچھی خاصی آمدنی ہونے کے باوجود سیدہ فاطمہ نے زکوات ادا نہ کی ہو۔۔۔۔!!؟؟؟؟

✳ نبی پاک ﷺ کا آخری غزوہ تبوک تھا جو کہ سن 9 ھجری میں پیش آیا تھا۔

✳ شیعہ کتاب ناسخ التواریخ (جلد اول کتاب دوم صفحہ 421 ) کے مطابق اس وقت ایسی تنگی اور مصیبت مسلمانوں پر تھی کہ اس غزوہ تبوک کا نام” جیش العسرہ ” ہوگیا۔ 👇 👇
💫 اس موقعہ پر حضرت عثمان نے دو سو اونٹ اور دو سو اوقیہ چاندی کے شام کی تجارت کے لیئے جمع کیئے تھے وہ سب نبی پاک ﷺ کی خدمت میں پیش کردیئے جس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کہ بعد عثمان جو بھی کام کریں گے انہیں کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

💫 ایک اور روایت میں یہ ہے کہ تین سو اونٹ مع سامان کے اور ہزار مثقال زر سرخ پیش کیا اس پر نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ اے اللہ! تو عثمان سے راضی ہو جا کیونکہ میں عثمان سے راضی ہوں۔

💫 حضرت عمر نے اپنا آدھا مال نبی پاک ﷺ کے سامنے پیش کیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا تم نے اپنے اہل و عیال کے لیئے کیا چھوڑا ؟ حضرت عمر نے جواب دیا کہ اتنا ہی ان کے لیئے چھوڑا ہے۔

💫 حضرت ابوبکر نے اپنا کل مال و متاع نبی پاک ﷺ کی خدمت میں رکھہ دیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ اپنے اہل و عیال کے لیئے کیا رکھا ہے؟ جواب میں عرض کیا اللہ اور رسول کو ان کے لیئے چھوڑا ہے۔

✨ اسی طرح ناسخ التواریخ میں دوسرے صحابہ کرام کی مالی امداد کا بھی ذکر موجود ہے۔ مثال کے طور پر حضرت عبدالرحمان بن عوف ، حضرت عباس بن عبدالمطلب ، حضرت طلحہ بن عبید ، حضرت سعد بن عبادہ وغیرہ۔ ہر کسی نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق رقم پیش کی کیوں کہ اس وقت جہاد کے سامان کی شدید ضرورت تھی۔

7⃣ کیا تاریخ اسلام یا کسی بھی شیعہ کتب میں غزوہ تبوک کے اس سخت مشکل وقت میں سیدہ فاطمہ کی طرف سے بھی کسی قسم کی مالی امداد کا ذکر موجود ہے۔۔۔۔۔؟؟

🔴 👈 کوئی بھی منصف مزاج مسلمان تاریخ اسلام کے ان حقائق کو جان کر یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ فدک کو نبی پاک ﷺ نے اپنی زندگی میں ہی سیدہ فاطمہ کو ہبہ کردیا تھا۔ بیشک یہ ایک بہتان عظیم ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔۔