باغ فدک: علماء اہل سنت کے نزدیک صحیح بخاری کی حدیث میں سیدہ فاطمہ کی ناراضگی اصل میں راوی ابن شہاب الزہری کا گمان ہے.

♦️ شیعہ رافضی عوام الناس کو گمراہ کرتے ہوئے دعوی کرتے ہیں کہ علمائے اہل سنت  ناراضگی سیدہ فاطمہ کو تسلیم کرتے ہیں۔!

ایک شیعہ سنی مناظرے میں شیعہ رافضیوں نے تین علماء اہل سنت کی کتب سے یہ دلائل دئے تھے۔

علامہ ابن حجر عسقلانی

علامہ علی بن برہان الدین حلبی

 شیخ عبد الحق محدث دہلوی

جواب:

حقیقت یہ ہے کہ علمائے اہل سنت نے صحیح بخاری کی حدیث میں ناراضگی سیدہ فاطمہ کا ذکر کر کے راوی کے گمان کو غلط ثابت کیا ہے ، اور رافضیوں کے اعتراضات کا مدلل رد بیان کیا ہے۔

صحیح بخاری کی مطالبہ فدک والی حدیث اور اس میں راوی ابن شہاب الزہری کا ظن یا گمان

اہل سنت مؤقف

علمائے اہل سنت متفق ہیں کہ سیدہ فاطمہ مطالبہ فدک کے بعد حضرت ابوبکر صدیق سے ناراض نہیں تھیں۔

👈 ہمارہ ایمان ہے کہ سیدہ فاطمہ اپنے والد نبی کریم کا فرمان سن کر ناراض نہیں ہو سکتیں اور وہ بھی ایک دنیا کی ملکیت کی خاطر!!!

ہرگز نہیں۔۔۔ یہ اہل بیت کرم کی شان نہیں ہے۔

ایک حقیقت

علمائے اہل سنت کے نزدیک سیدہ فاطمہ مطالبہ فدک کے بعد حضرت ابوبکر سے ناراض نہیں تھیں

علامہ ابن حجر عسقلانی

شیعہ رافضی نے فتح الباری سے ایک نامکمل عبارت پیش کرکے یہ استدلال پیش کیا تھا کہ  علمائے اہل سنت بھی سیدہ فاطمہ کی ناراضگی کے قائل ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ علماء اہل سنت  صحیح بخاری کی اس حدیث کے متعلق ایک ہی مؤقف یقین رکھتے ہیں کہ ابن شہاب الزہری نے اس حدیث میں جو گمان کیا ہے وہ درست نہیں ہے۔

عبارت پر غور کریں تو ایک عام فہم بھی سمجھ سکتا ہے کہ مصنف کہہ رہا ہے کہ “ ظاہر اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ الخ ۔۔ یعنی وہ خود اس بات سے متفق ہی نہیں۔

اس کے علاوہ علامہ عسقلانی سیدہ فاطمہ کی حضرت ابوبکر سے ملاقات بھی بیان کر کے سیدہ فاطمہ کے ترک کلام کو رد کر رہا ہے۔

🔴 صحیح بخاری کی حدیث اور اس کی مکمل شرح

علامہ علی بن برہان الدین حلبی

اب میں ان کے پیش کئے گئے ایک اور کتاب “سیرت حلبیہ” سے بھی وہی مؤقف ثابت کرتا ہوں ، جو متفقہ اہل سنت علمائے کرام کا ہے

نبی کریم کی جائیداد کی نوعیت ، نبی کریم کے قبضے اور مالکانہ اختیار کی حیثیت مکمل تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔

امہات المؤمنین کے مطالبہ میراث کا بھی انکار اور اہل تشیع کے کچھ اعتراضات کا مدلل رد بھی ملاحظہ فرمائیں۔

سیدہ فاطمہ کی ناراضگی کا بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ سیدہ نے اس کے بعد دوبارہ اس معاملے میں حضرت ابوبکر سے کچھ کہا ہو۔

غور فرمائیں۔۔ حضرت ابوبکر کی معذرت اور سیدہ فاطمہ کی خوشنودی بھی تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔

غور فرمائیں۔۔ گواہان طلب کرنے والی روایت کو باطل روایت کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فدک کی تحریر لکھ کر دینا وغیرہ سب جھوٹی روایات ہیں۔

☝️☝️☝️☝️☝️ غور فرمائیں۔۔۔ علامہ حلبی نے بھی صحیح بخاری میں راوی کا گمان لکھ کر اس کو رد کیا ہے۔

شیخ عبد الحق محدث دہلوی کا مؤقف

☝️☝️☝️☝️ علامہ محدث دہلوی کے نزدیک سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے ناراض نہیں تھیں، اس عبارت میں واضح طور پر شیعہ اعتراض لکھ کر اس کا رد کیا گیا ہے۔

🔴علامہ عبدالحق محدث دہلوی🔴
“مدارج النبوت” میں علامہ نے مطالبہ فدک کے بعد ناراضگی سیدہ فاطمہ والے اعتراض کو “عجیب و غریب” لکھا ہے۔
اس کے بعد انہوں نے اس اعتراض کو رد کرتے ہوئے سیدہ فاطمہ کی مرض وفات میں حضرت ابوبکر سے ملاقات بیان کرتے ہوئے ان کا راضی ہونا بھی بیان کیا ہے۔
🌸استدلال:
♦ علامہ عبدالحق صحیح بخاری کی حدیث میں ابن شہاب الزہری کے گمان سے متفق نہیں تھے، ورنہ وہ اسے “عجیب و غریب” کیوں کہہ رہے ہیں۔
♦ علامہ عبدالحق کی طرف سے ناراضگی والے اعتراض پر حیرت کا اظہار اور پھر سیدہ فاطمہ کی حضرت ابوبکر سے ملاقات بیان کرنا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ ابن شہاب الزہری کے دونوں گمان یعنی “ناراضگی اور وفات تک سیدہ فاطمہ کا ترک کلام” ایک ظن ہے اور کچھ بھی نہیں۔
(نوٹ: راوی کے ظن کو الگ سے بھی ثابت کیا جائے گا، فی الوقت مخالف کے پیش گئے عکس سے اپنا مؤقف ثابت کر کے اس پر حجت تمام کی جا رہی ہے)

🔴 “مدارج النبوت” کے عکس پڑھنے کے بعد مندرجہ ذیل سوالوں کے جوابات دئے جائیں۔
1⃣ کیا علامہ عبدالحق کے نزدیک سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر سے ناراض تھیں؟؟
اگر جواب ہاں ہے تو ان صفحات سے علامہ کا مؤقف دکھایا جائے؟
2⃣ علامہ عبدالحق محدث دہلوی اگر صحیح بخاری کی حدیث میں راوی کے گمان پر یقین رکھتے تھے تو ناراضگی والے اعتراض کا رد کیوں کر رہے ہیں؟ سیدہ فاطمہ کی حضرت ابوبکر سے ملاقات کیوں بیان کی ہے؟ اس طرح تو راوی کے دونوں گمان باطل ہوجاتے ہیں۔۔
3⃣ “مدارج النبوت” میں علامہ عبدالحق محدث دہلوی کا مؤقف باقی تمام اہل سنت علمائے کرام کے مؤقف سے کس طرح مختلف ہے؟ ظاہر ہے آپ لوگوں نے یہ عکس اسی مقصد سے پیش کئے تھے، ذرا اس کا دفاع تو کریں

♦ مدارج النبوت میں علامہ عبدالحق محدث دہلوی نے اہل سنت کے مؤقف پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور اہل تشیع کے مختلف اعتراضات کا مدلل رد کیا ہے۔

 غور سے تینوں صفحات پڑھیں۔۔
👈 نبی کریم کی میراث کا ذکر ، سیدہ فاطمہ کا مطالبہ فدک ، حضرت ابوبکر صدیق کا فرمان نبوی کے آگے مجبور ہونا ، امہات المؤمنین کا بھی یہی مطالبہ میراث کرنا اور انہیں بھی حضرت ابوبکر کا یہی جواب دینا تفصیل سے مذکور ہے۔
👈 اس کے علاوہ جو عکس رافضی نے پیش کیا ہے ، اس عکس میں علامہ عبدالحق محدث دہلوی نے حیرت ظاہر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ عجیب بات ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر سے ناراض رہیں اور ان سے ترک ملاقات کی، جبکہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ سیدہ فاطمہ کی حضرت ابوبکر سے ملاقات بھی ہوئی اور وہ حضرت ابوبکر سے راضی بھی تھیں۔

👈 علامہ عبدالحق محدث دہلوی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ بعض روایات کے مطابق حضرت ابوبکر صدیق نے سیدہ فاطمہ کا جنازہ پڑھایا تھا۔
👈 انہوں نے یہ بھی واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کے بعد حضرت عمر فاروق نے بھی نبی کریم اور حضرت ابوبکر کی طرح اموال مذکورہ کو بالکل اسی نہج پر خرچ کیا۔

تینوں صفحات کا مطالعہ کر کے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں کہ رافضیوں نے مدارج النبوت سے آخر کس طرح یہ استدلال پیش کیا کہ علامہ عبدالحق محدث دہلوی کا مؤقف دوسرے تمام اہل سنت کے علمائے کرام کے مؤقف سے مختلف ہے۔۔؟؟؟

♦️ علمائے اہل سنت صحیح بخاری کی حدیث میں بیان کئے گئے راوی کے دونوں گمان سے متفق نہیں ہیں ، بلکہ انہوں نے تو راوی کے گمان کو رد کیا ہے۔

علامہ حلبی نے صحیح بخاری کی مکمل حدیث بیان کی ہے۔ اس حدیث کا آخری حصہ جہاں پر سیدہ فاطمہ کی ناراضگی کا ذکر ہے وہ راوی کا گمان ہے اور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ علامہ حلبی نے اس گمان کی تائید نہیں کی بلکہ راوی کا گمان بیان کرنے کے بعد اس کا رد کیا ہے۔

کچھ مقامات پر علماء اہل سنت نے “طبیعتآ “ کا لفظ منطقی دلائل سے فرمایا ہے اور اس کو “راضی سیدہ فاطمہ” کی روایت سے رد بھی کیا ہے۔ تا کہ اگر کسی جاہل کو شک ہو تو وہ راضی والی روایت (جو شیعہ و سنی دونوں کتب میں موجود ہیں) انہیں پڑھ کر مطمئن ہوجائے کہ سیدہ فاطمہ اگر راوی کے گمان کے مطابق تھوڑی بہت رنجیدہ ہوئی بھی تھیں تو بعد میں راضی ہوگئی تھیں۔

جبکہ علماء اہل سنت ناراضگی کی روایات بیان کر کے ان کا رد بیان کرتے ہیں، رافضی آدھی عبارات بیان کرکے دھوکا دیتے ہیں۔

ہم نے تین علماء اہل سنت کی عبارات بھی اسی لئے پیش کی ہیں، کیونکہ ایک مناظرے میں ان تینوں علماء کے لئے رافضیوں نے یہی باطل دعوی کیا تھا۔جبکہ ان تینوں کتب میں تینوں علماء اہل سنت نے اس ناراضگی والے اعتراض کا رد بیان کیا ہے۔ اس طرح رافضیوں کا یہ دعوی باطل ہوجاتا ہے کہ علماء اہل سنت سیدہ فاطمہ کا حضرت ابوبکر صدیق سے ناراض ہونا تسلیم کرتے ہیں، بلکہ یہ اعتراض باطل ہے۔

سیدہ فاطمہ نے مرض وفات کے دوران حضرت ابوبکر صدیق سے ملاقات بھی کی تھی اور وہ حضرت ابوبکر صدیق سے راضی بھی تھیں۔ (یہ حقیقت شیعہ و سنی کتب سے ثابت کی گئی ہے)

باغ فدک: علماء اہل سنت کے نزدیک صحیح بخاری کی حدیث میں سیدہ فاطمہ کی ناراضگی اصل میں راوی ابن شہاب الزہری کا گمان ہے.” ایک تبصرہ

تبصرے بند ہیں