باغ فدک: صدیقی فیصلے پر شیعہ شہادتیں!

فیصلہ صدیقی کے حق میں شیعی شہادتیں

حضرت ابوبکر صدیق کا آلِ رسول اللہ ﷺ کے حق میں یہ فیصلہ اس قدر حق اور صواب تھا کہ سنی عُلماء کی شہادتیں تو درکنار خود شیعہ اہل علم اپنے ائمہ اہل بیت کے حوالہ سے اس فیصلہ کو مبنی برحق و صواب تسلیم کرتے چلے آرہے ہیں، جیسا کہ شیعہ علما لکھتے ہیں:

👇👇👇

امام باقر کی شہادت

علامہ ابو حامد عبدالحمید المعروف ابن ابی الحدید شیعی (متوفی 656ھ) بہ اسنادِ جناب محمد باقر (امام پنجم شیعہ ) سے روایت کرتے ہیں:

«عن کثیر النواء قال قلت لأبي جعفر محمد بن علي جعلني الله فداك أرأیت أبابکر وعمر هل ظلماکم من حقکم شیئًا أو قال ذهبَا من حقکم بشيء فقال: لا والذي أنزل القرآن علىٰ عبده لیکون للعالمین نذیرًا، ما ظلمنا من حقنا مثقال حبة من خردل. قلت جعلت فداك، أفأتولاهما قال نعم: ویحك تولاهما في الدنیا والآخرة وما أصابك ففي عنقي، ثم قال: فعل الله بالمغيرة وتبيان، فإنهما كذبا علينا أهل البيت»12

‘کثیر النوا کہتے ہیں ، میں نے جناب محمد باقر سے پوچھا کہ کیا ابوبکرؓ اور عمر ؓ نے تمہاری کوئی حق تلفی کی ہے تو اُنہوں نے میرے جواب میں فرمایا: قرآن نازل کرنے والے ربّ تعالیٰ کی قسم! ان دونوں نے رائی کے دانے برابر بھی ہماری حق تلفی نہیں کی تو پھر میں نےپوچھا کہ کیا میں ان دونوں سے دوستی رکھوں تو اُنہوں نے فرمایا: دنیا اور آخرت دونوں میں ان کی دوستی کا دم بھرو۔ اگر ان کی دوستی پر تجھ سے کچھ مؤاخذہ ہوا تو اس کی ذمہ داری میری گردن پر ہے۔ اللہ مغیرہ اور تبیان کو غارت کرے، وہ آل نبی پر ظلم و ستم کے جھوٹے قصے اور داستانیں گھڑتے رہتے ہیں۔”
12شرح نہج البلاغۃ لابن ابی الحدید: 4؍113، الفصل الاول بحث فدک ؛ و رحماء بينهم: 1؍ 102

امام زید بن زین العابدینؓ کی شہادت: فرماتے ہیں:

«وأیم الله لو رَجع الأمر إلىٰ لقضیتُ فیه بقضاء أبي بکر
”یعنی امام زید شہید فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! اگر فدک کی تقسیم کا مقدمہ میری طرف لوٹ کر آتا تو میں بھی اس کا وہی فیصلہ کرتا جو ابوبکر صدیقؓ نےفیصلہ کیا تھا۔’

‘ یعنی امام کے نزدیک حضرت ابوبکر صدیقؓ کا فیصلہ بالکل درست اور صحیح تھا۔
13شرح نہج البلاغۃ لابن ابی الحدید: 4؍113

حدیث ِابوبکرؓ اور علماء شیعہ

جناب محمد باقر اور جناب زید جیسے کبار ائمہ شیعہ نے خلیفہ رسولﷺ بلا فصل ابوبکر صدیق کے اس فیصلہ کو صائب اور مبنی برحق فیصلہ اس لیے قرار دیا ہے کہ یہ متواتر حدیث «ومَا ترکنا صدقة» خود ان اَئمہ کرام کے علم و تحقیق کےمطابق زیربحث قضیہ میں ایسی نصِ قطعی اور برہانِ جلی ہے کہ اس کا انکار ان بزرگوں کے نزدیک مکابرہ (مدافعة الحق بعد العلم به) اور پرلے درجہ کی ہٹ دھرمی کے متراف تھا۔ اور یہ متواتر حدیث نہ صرف ان اَئمہ کرام کے علم میں تھی بلکہ یہ اہل علم کے ہاں اس قدر متداول ہے کہ اَکابر شیعی محدثین بھی اسکو اپنی صحاح اور دوسری کتب ِمعتبرہ میں روایت کرتے چلے آرہے ہیں:

1. چنانچہ چوتھی صدی کے مشہور شیعی محدث محمد بن یعقوب کلینی رازی (م329ھ) اپنی کتاب اُصولِ کافی میں بروایت ابوالبختری امام ابو عبداللہ جعفر صادق سے حسب ِذیل الفاظ میں روایت کرتے ہیں:
«عن أبي عبد الله قال إن العلماء ورثة الأنبیاء وذٰلك أن الأنبیاء لم یورثوا درهمًا ولا دینارًا وإنما ورثوا أحادیث من أحادیثهم فمن أخذ بشيء منها أخذ بحظ وافر»

حضرت جعفر صادق نے فرمایا: ہر گاہ علما انبیاء کے وارث ہیں، اس لیےکہ انبیاء کی وراثت درہم و دینار کی صورت میں نہیں ہوتی۔ وہ اپنی حدیثیں وراثت میں چھوڑتے ہیں جو اُنہیں لے لیتا ہے، اُس نے پورا حصہ پالیا یعنی جو اِن احادیث کو حاصل کرلے، وہی وراثتِ نبویﷺ کا حامل اور وارث ہوتا ہے۔”
اصول کافی 32/1

2.علامہ ابومنصور احمد بن علی طبرسی، حضرت ابوبکر صدیقؓ کی حسب ِذیل حدیث بلا کسی ردّ و قدح کے یوں روایت کرتے ہیں:

«إني أشهد الله وکفٰى به شهیدًا أني سمعت رسول الله ﷺ یقول: «نحن معاشر الأنبیاء لا نورث ذهبًا ولا فضة ولا دارًا ولا عقارًا وإنما نورث الکتاب والحکمة والعلم والنبوة وما کان لنا من طعمة فلولي الأمر بعدنا أن یحکم فیه بحکمه»

”حضرت فاطمہ الزہراؓ کے مطالبۂ وراثتِ مالی کے جواب میں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناکرکہتا ہوں اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔ہر گاہ میں نے رسول اللہ‎ﷺ سے سنا ، آپؐ فرماتے ہیں: ہم انبیاء کی جماعت اپنے بعد کسی کو سونے، چاندی، گھر اور اراضی کا وارث نہیں بناتے۔ ہم صرف کتاب و حکمت، علم اورنبوت سے متعلق اُمور کاوارث بناتے ہیں، رہے ہمارے ذرائع معاش تو وہ ہمارے بعد ہونے والے خلیفہ کی سپرداری میں چلے جاتے ہیں، وہ ان میں اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔”
احتجاج طبرسی 104/1

حدیث «مَا ترکنَا صَدقة» کی صحت اتنی 👈عالم آشکارا ہے کہ شیخ ابوریہ محمود اور سید محمد باقر موسوی خراسانی جیسے کٹر شیعہ عالم بھی اس کو صحیح تسلیم کرتے ہیں۔

تیسری صدی کے مشہور شیعی محدث فرات بن ابراہیم ابن الفرات الکوفی اپنی تفسیر ‘الفرات’ میں روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت علیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا:«ما أرث منك یارسول اللهﷺ!» یارسول اللہ ! میں آپﷺ کی وراثت میں کیا پاؤں گا؟

تو آپﷺ نے میرے جواب میں فرمایا:
فقال: «مَا ورِث الأنبیاء من قبلي…»
”جو کچھ مجھ سے پہلے انبیاء اپنی وراثت میں دیتے رہے ہیں، وہی آپ بھی حاصل کریں گے۔”

حضرت علیؓ نے پھر سوال کیا: ما ورثت الأنبیاء من قبلك؟
”آپﷺ سے پہلے کے انبیائے کرام اپنی وراثت میں کیا چھوڑتے رہے؟”
اس پر رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:
«کتاب ربهم وسنة نبیهم»”اپنے ربّ کی کتاب اور نبی کی سنت ”