باغ فدک: سیدہ فاطمہ کی حضرت ابوبکر سے ناراضگی اور صحیح روایات پر تحقیق

شیعہ اعتراض

سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے مطالبہ فدک کو تسلیم نہ کرنے پر سخت ناراض تھیں اور آخر وقت تک ترک کلام کیا اور اسی لئے سیدہ کا جنازہ رات کو پڑھ کر تدفین کی گئی، حضرت ابوبکر کو اطلاع نہیں دی گئی۔

ایک منصف مزاج انسان کی یہ شان نہیں ہے کہ صرف ایک حدیث یا ایک روایت سے کوئی نتیجہ نکال کر خود فیصلہ کرلے۔

یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی واقعے کو جانچنے کے لئے اس کے متعلق تمام صحیح روایات کو یکجا کیا  جائے ، تا کہ ہر راوی کا انداز بیان سمجھتے ہوئے اصل واقعے سے مکمل آگاہی ہوسکے۔

صحیح بخاری کی  مکمل حدیث

Sahih Bukhari – 4240
کتاب:کتاب غزوات کے بیان میں

باب:غزوہ خیبر کا بیان

ARABIC:
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ،‏‏‏‏ وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ “”لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ””، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الْأَشْهُرَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا أَحَدٌ مَعَكَ كَرَاهِيَةً لِمَحْضَرِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ لَا وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ وَمَا عَسَيْتَهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا فَضْلَكَ وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَكُنَّا نَرَى لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصِيبًا حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ:‏‏‏‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ فَلَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَبِي بَكْرٍ:‏‏‏‏ مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةَ لِلْبَيْعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ الظُّهْرَ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ وَحَدَّثَ أَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَىأَبِي بَكْرٍ وَلَا إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَكِنَّا نَرَى لَنَا فِي هَذَا الْأَمْرِ نَصِيبًا، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا:‏‏‏‏ أَصَبْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ.

TRANSLATION:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو بھیجا اور ان سے اپنی میراث کا مطالبہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مال سے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ اور فدک میں عنایت فرمایا تھا اور خیبر کا جو پانچواں حصہ رہ گیا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی ارشاد فرمایا تھا کہ ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ‘ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ‘ البتہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی مال سے کھاتی رہے گی اور میں، اللہ کی قسم! جو صدقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ گئے ہیں اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کروں گا۔ جس حال میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تھا اب بھی اسی طرح رہے گا اور اس میں  ( اس کی تقسیم وغیرہ )  میں میں بھی وہی طرز عمل اختیار کروں گا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی زندگی میں تھا۔ غرض ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ بھی دینا منظور نہ کیا۔ اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خفا ہو گئیں اور ان سے ترک ملاقات کر لیا اور اس کے بعد وفات تک ان سے کوئی گفتگو نہیں کی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ مہینے تک زندہ رہیں۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے شوہر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات میں دفن کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر نہیں دی اور خود ان کی نماز جنازہ پڑھ لی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب تک زندہ رہیں علی رضی اللہ عنہ پر لوگ بہت توجہ رکھتے رہے لیکن ان کی وفات کے بعد انہوں نے دیکھا کہ اب لوگوں کے منہ ان کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں۔ اس وقت انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کر لینا اور ان سے بیعت کر لینا چاہا۔ اس سے پہلے چھ ماہ تک انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت نہیں کی تھی پھر انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور کہلا بھیجا کہ آپ صرف تنہا آئیں اور کسی کو اپنے ساتھ نہ لائیں ان کو یہ منظور نہ تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ آئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم! آپ تنہا ان کے پاس نہ جائیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں وہ میرے ساتھ کیا کریں گے میں تو اللہ کی قسم! ضرور ان کی پاس جاؤں گا۔ آخر آپ علی رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے۔ علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کو گواہ کیا ‘ اس کے بعد فرمایا ہمیں آپ کے فضل و کمال اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بخشا ہے ‘ سب کا ہمیں اقرار ہے جو خیر و امتیاز آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا ہم نے اس میں کوئی ریس بھی نہیں کی لیکن آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی  ( کہ خلافت کے معاملہ میں ہم سے کوئی مشورہ نہیں لیا )  ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی قرابت کی وجہ سے اپنا حق سمجھتے تھے  ( کہ آپ ہم سے مشورہ کرتے )  ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ان باتوں سے گریہ طاری ہو گئی اور جب بات کرنے کے قابل ہوئے تو فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کے ساتھ صلہ رحمی مجھے اپنی قرابت سے صلہ رحمی سے زیادہ عزیز ہے۔ لیکن میرے اور لوگوں کے درمیان ان اموال کے سلسلے میں جو اختلاف ہوا ہے تو میں اس میں حق اور خیر سے نہیں ہٹا ہوں اور اس سلسلہ میں جو راستہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھا خود میں نے بھی اسی کو اختیار کیا۔ علی رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ دوپہر کے بعد میں آپ سے بیعت کروں گا۔ چنانچہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر آئے اور خطبہ کے بعد علی رضی اللہ عنہ کے معاملے کا اور ان کے اب تک بیعت نہ کرنے کا ذکر کیا اور وہ عذر بھی بیان کیا جو علی رضی اللہ عنہ نے پیش کیا تھا پھر علی رضی اللہ عنہ نے استغفار اور شہادت کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حق اور ان کی بزرگی بیان کی اور فرمایا کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس کا باعث ابوبکر رضی اللہ عنہ سے حسد نہیں تھا اور نہ ان کے فضل و کمال کا انکار مقصود تھا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عنایت فرمایا یہ بات ضرور تھی کہ ہم اس معاملہ خلافت میں اپنا حق سمجھتے تھے  ( کہ ہم سے مشورہ لیا جاتا )  ہمارے ساتھ یہی زیادتی ہوئی تھی جس سے ہمیں رنج پہنچا۔ مسلمان اس واقعہ پر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ آپ نے درست فرمایا۔ جب علی رضی اللہ عنہ نے اس معاملہ میں یہ مناسب راستہ اختیار کر لیا تو مسلمان ان سے خوش ہو گئے اور علی رضی اللہ عنہ سے اور زیادہ محبت کرنے لگے جب دیکھا کہ انہوں نے اچھی بات اختیار کرلی ہے۔

کسی بھی واقعے کو جانچنے کے لئے اس کے متعلق تمام صحیح روایات کو یکجا کیا جاتا ہے، تا کہ ہر راوی کا انداز بیان سمجھتے ہوئے اصل واقعے سے مکمل آگاہی ہوسکے۔

سیدہ فاطمہ کی طرف سے حضرت ابوبکر صدیق سے مطالبہ فدک کی احادیث اور تاریخی روایات با سند کتب سے تقریبآ 36 مقامات پر دریافت ہوئی ہیں۔

☝️☝️☝️☝️
ان مقامات میں مذکورہ واقعہ بعض جگہ مفصل ہے اور بعض جگہ مختصر بیان ہوا ہے۔ غور و فکر سے واضح ہوا ہے کہ تمام 36 مقامات میں سے گیارہ عدد روایات وہ روایات ہیں جن کی سند میں ابن شہاب زہری نہیں ہے۔ صحابہ کرام مثلآ حضرت ابوھریرہ ، ابوالطفیل عامر بن واثلہ ام بانی وغیرہم سے یہ روایات مروی ہیں۔ یعنی سیدہ عائشہ صدیقہ سے منقول نہیں ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ یہاں کسی ایک مقام پر رنجیدگی و کشیدگی کا نام و نشان نہیں۔

پچیس مقامات جن کی سند میں ابن شہاب الزہری موجود ہے ، دو طرح کی روایات ہیں۔
ایک صورت یہ ہے کہ سند میں زہری موجود ہونے کے باوجود مناقشہ نما الفاظ بالکل مفقود ہیں اور کشیدگی سیدہ فاطمہ کا کوئی تذکرہ نہیں، ایسے مقامات تقریبآ نو عدد ہیں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ روایات میں وجدد و عدم تکلم وغیرہم منقول ہیں، ان مقامات کی ہر سند میں زہری موجود ہے۔ تقریبآ سولہ مقامات ہیں۔

👈 تحقیق کے مطابق تقریبآ16 مختلف مقامات پر اس اہم واقعے کو رنجیدگی سے بیان کیا گیا ہے۔
👈 جن روایات میں حضرت ابوبکر صدیق کا جواب سن لینے کے بعد سیدہ فاطمہ کا غضبناک ہوجانا، ناراض ہوجانا، حضرت ابوبکر کو چھوڑ دینا، کلام نہ کرنا وغیرہ مذکور ہے ، ان تمام روایات میں “ابن شہاب الزہری” ہی اس واقعے کو آگے بیان کر رہا ہے۔
👈 کافی تحقیق کے بعد بھی کوئی ایک روایت ایسی نہیں مل سکی جہاں سیدہ فاطمہ کی ناراضگی و ہجران کا ذکر موجود ہو اور وہ روایت “ابن شہاب الزہری” کے بغیر کسی دوسرے راوی سے مروی ہو۔

  اس ایک راوی (زہری) نے جو عروہ سے اور وہ سیدہ عائشہ سے ناقل ہے ، اپنے زعم میں سیدہ فاطمہ کی خاموشی اختیار کرنے کو ناراضگی اور غضبناکی پر محمول کر کے یہ الفاظ ذکر کردیئے۔ حالانکہ کسی چیز کے متعلق سکوت و خاموشی اختیار کرلینا ہمیشہ رنجیدگی کی وجہ سے ہی نہیں ہوتا۔ خاموشی نیم رضامندی بھی ہوا کرتی ہے۔ (یہ ایک مشہور مقولہ بھی ہے) کسی بات کے متعلق اطمینان ہوجانے کی صورت میں انسان سکوت اختیار کرلیتا ہے۔

یہاں یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ
سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر کے پاس پردہ میں گئیں تھیں یا بے پردہ؟؟؟؟

ظاہر ہے سیدہ کے لئے بے پردہ جانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔۔

پھر  راوی نے سیدہ فاطمہ کی خاموشی سے یہ اندازہ کیسے لگا لیا کہ سیدہ فاطمہ ناراض ہوگئیں ہیں۔۔؟؟؟

ظاہر ہے غصہ چہرے سے یا دوسری حرکات سے معلوم کیا جاتا ہے۔

  خلاصہ یہ ہے کہ اہل علم کی اصطلاح میں اس کو “ظن راوی” یعنی راوی کا گمان کہا جاتا ہے۔ اس روایت میں راوی کا اپنا ظن و گمان ہے، اور وہ راوی ابن شہاب زہری ہے۔

⁉️ اگر اس حدیث سے سیدہ فاطمہ کا ناراض ہوجانا ہی ثابت کرنا ہے تو مخالفین کو ان سوالوں کے جوابات دین نے ہوں گے۔

♦️ راوی کو آخر کس طرح سیدہ فاطمہ کے دل کی بات معلوم ہوگئی۔۔؟؟؟
ظاہر ہے ، سیدہ فاطمہ تو پردے میں تھیں اور ناراضگی کے الفاظ ادا بھی نہیں فرمائے۔

♦️ سیدہ فاطمہ کس پر ناراض ہوئیں ؟ حضرت ابوبکر صدیق پر یا اپنی ذات پر
اگر حضرت ابوبکر صدیق پر ناراض ہوئیں تو نص حدیث سے سیدہ فاطمہ کی زبان مبارک سے ناراضگی کے الفاظ دکھانے پڑیں گے۔

ہمارہ ایمان ہے کہ سیدہ فاطمہ کبھی بھی اپنے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سن کر غصہ نہیں ہو سکتیں ، اور وہ بھی دنیا کی ایک ملکیت کے لئے۔۔۔ یہ ایک ناممکن بات ہے۔

غور فرمائیں ۔۔اس حدیث میں “غضبت علی ابی بکر صدیق” یا اسی قسم کے الفاظ کہیں بھی مذکور نہیں ہیں۔

ناراضگی کے الفاظ راوی کے اپنے ہیں۔ سیدہ کی اپنی زبان سے ایسا کوئی لفظ ادا نہیں ہوا۔
اور یہ بھی غور طلب بات ہے  کہ ناراضگی کے الفاظ صرف ایک راوی “ابن شہاب الزہری” سے ہی مروی ہیں۔ جبکہ یہی واقعہ کئی کتب میں مختلف راویوں سے بھی مروی ہے، کسی دوسرے نے ناراضگی کے الفاظ ذکر نہیں کئے۔

یہ روایت حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے ، ان سے حضرت عروہ نے لی ہے، حضرت عروہ 22/23 ھجری میں پیدا ہوئے تھے، یہ فدک کا واقعہ 11 ھجری کا ہے، یعنی حضرت عروہ بھی موقعے پر موجود نہ تھے۔۔ ابن شہاب الزہری نے یہ روایت کرتے وقت اپنا گمان بیان کیا ہے۔

سیدہ فاطمہ کی ناراضگی کا یقین صرف اس ایک راوی “ابن شہاب الزہری” کو کیسے ہوا؟؟ جبکہ وہ موقعے پر موجود بھی نہ تھا۔۔

حدیث میں ترک کلام کا اصل مطلب:

ترک کلام فدک کے معاملے میں تھا ، سیدہ فاطمہ نے اس مطالبہ اور اس فیصلے کو قول نبوی کے بعد تسلیم کیا اور بعد میں راضی بھی ہوگئیں اس لئے فدک کے معاملے میں حضرت ابوبکر صدیق سے کوئی بات نہیں کی ، جبکہ اہل سنت و شیعہ کتب کی کچھ روایات سے سیدہ فاطمہ اور حضرت ابوبکر صدیق کی فدک کے معاملے کے بعد بھی ملاقات ثابت ہے۔