باغ فدک: سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے سخت ناراض ہوگئیں تھی! شیعہ اعتراض کا رد

ایک شیعہ اعتراض 👇👇👇👇

حضورﷺ کے وصال کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ سے باغ فدک کا مطالبہ کیا تو انہوں نے سیدہ کو باغ فدک دینے سے صاف انکار کردیا جس پر سیدہ ناراض ہوگئیں اور مرتے دم تک حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ سے نہ بولیں۔ حتی کہ یہ وصیت کرگئیں کہ میرے جنازہ میں ابوبکر شریک نہ ہوں۔ چنانچہ بوقت وفات حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے ابوبکر کو اطلاع بھی نہ دی اور راتوں رات سیدہ کو دفن کردیا۔ دیکھو ابوبکر نے جگرپارۂ رسول کو ناراض کیا۔ حضورﷺ نے فرمایا ہے فاطمہ رضی اﷲ عنہا کی اذیت سے مجھے بھی اذیت ہوتی ہے تو ابوبکر نے فقط فاطمہ رضی اﷲ عنہا کو غضب ناک نہیں کیا بلکہ پیغمبر خداﷺ کوغضبناک کیا اور اغضاب النبی علی حد الشرک

خلاصہ از کتاب سواء السبیل ص159، مصنف محمد مہدی شیعہ عالم

جواب:

آپ نے شیعہ مولوی کی تحریر پڑھی۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کو مشرک تک کہہ دیا (معاذ اﷲ) اس پوری تحریر میں صرف اتنی بات صحیح ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا نے اپنے آقاﷺ کے وصال کے بعد سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ سے باغ فدک کا مطالبہ کیا تو سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے جواب میں اپنے آقاﷺ کی حدیث شریف سیدہ کو سنائی۔

حدیث شریف

حضرت عروہ بن زبیر نے نبی پاکﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول پاکﷺ کی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے لئے پیغام بھیجا۔ ان سے رسول اﷲﷺ کی میراث کا مطالبہ کرتے ہوئے جو اﷲ تعالیٰ نے حضورﷺ کو مدینہ منورہ اور فدک میں عطا فرمایا تھا اور جو خیبر کے خمس سے باقی تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ رسول پاکﷺ کا ارشاد ہے۔ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ ہم جو کچھ چھوڑیں، وہ صدقہ ہے مال سے آل محمدﷺ کھاتے ہیں اور خدا کی قسم میں رسول پاکﷺ کے صدقہ میں ذرا سی تبدیلی بھی نہیں کروں گا اور اسی حال میں رکھوں گا جس حال میں وہ رسول پاکﷺ کے عہد مبارک میں تھا اور میں اس میں عمل نہیں کروں گا مگر اسی طرح جیسے رسول پاکﷺ کیا کرتے تھے۔ پس حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے اس میں سے حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا کو کچھ دینے سے انکار کردیا

ابو دائود جلد دوم، کتاب الخراج، حدیث 1194، ص 455، مطبوعہ فرید بک اسٹال لاہور

یہ ناراضگی اور جنازہ میں عدم شرکت کا قصہ صرف اس لئے بنایا گیا ہے کہ شیعوں کے زعم باطل کے مطابق حضرت فاطمہ فدک کی وجہ سے آپ سے ناراض تھیں، کیونکہ اگر یہ ثابت ہوجائے۔ سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر سے راضی تھیں تو شیعوں کے لئے طعن کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔ اس لئے ہم فریقین کی کتب سے سیدہ فاطمہ کا حضرت ابوبکر سے راضی ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔

شیعوں کی معتبر اور مشہور ترین کتاب شرح نہج البلاغہ ابن میسم بحرانی جز 35 ص 543 میں یہ روایت ہے کہ حضرت ابوبکر نے جب سیدہ کا کلام سنا تو حمد کی درود پڑھا اور پھر حضرت فاطمہ کو مخاطب کرکے کہا کہ اے افضل عورتوں میں اور بیٹی اس ذات مقدس کی جو سب سے افضل ہے۔ میں نے رسول کی رائے سے تجاوز نہیں کیا۔ اور نہیں عمل کیا میں نے ،مگر رسول کے حکم پر۔ بے شک تم نے گفتگو کی اور بات بڑھا دی اور سختی اور ناراضگی کی۔ اب اﷲ معاف کرے ہمارے لئے اور تمہارے لئے۔ اور میں نے رسول کے ہتھیار اور سواری کے جانور علی کو دے دیئے لیکن جو کچھ اس کے سوا ہے اس میں، میں نے رسول کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ

انا معاشر الانبیاء لا نورث ذہباً ولا فضۃ ولا ارضاً ولا عقاراً ولا داراً ولکنا نورث الایمان والحکمۃ والعلم والسنۃ وعملت بما امرنی ونصحت

ہم جماعت انبیاء نہ سونے کی میراث دیتے ہیں نہ چاندنی کی، نہ زمین کی، نہ کھیتی کی اور نہ مکان کی میراث دیتے ہیں لیکن ہم میراث دیتے ہیں ایمان اور حکمت اور علم اور سنت کی اور عمل کیا میں نے اس پر جو مجھے حکم کیا تھا (رسول نے) اور میں نے نیک نیتی کی۔

اس کے بعد یہ ہے کہ حضرت فاطمہ نے یہ فرمایا کہ حضورﷺ نے فدک کو ہبہ کردیا تھا جس پر انہوں نے علی اور ام ایمن کو گواہ پیش کیا۔ جنہوں نے گواہی دی پھر عمر آئے۔ انہوں نے اور عبدالرحمن بن عوف نے یہ گواہی دی کہ حضور فدک کی آمدنی تقسیم فرما دیتے تھے۔ اس پر حضرت صدیق اکبر نے فرمایا۔

کان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم یاخذ من فدک قوتکم ویقسم الباقی ویحمل فیہ فی سبیل اﷲ ولک علی اﷲ ان اصنع بہاکما کان یصنع فرضیت بذلک واخذت العہد علیہ بہ وکان یاخذ غلتھا فیدفع الیہم منھاما یکفیہمم ثم فعلت الخلفاء بعدہ ذلک

شرح میثم، مطبوعہ ایران، ج 35

تم سب سچے ہو۔ مگر اس کاتصفیہ یہ ہے کہ رسول اﷲﷺ فدک کی آمدنی سے تمہارے گزارے کے لئے رکھ لیتے تھے، اور باقی جو بچتا تھا اس کو تقسیم فرما دیتے تھے اور اﷲ کی راہ میں اس میں سے اٹھا لیتے تھے اور میں تمہارے لئے اﷲ کی قسم کھاتا ہوں کہ فدک میں وہی کروں گا جو رسول کرتے تھے تو اس پر فاطمہ راضی ہوگئیں اور فدک میں اسی پر عمل کرنے کو ابوبکر سے عہد لے لیا اور ابوبکر فدک کی پیداوار کرلیتے تھے اور جتنا اہل بیت کا خرچ ہوتا تھا ان کے پاس بھیج دیتے تھے اور پھر ابوبکر کے بعد اور خلفاء نے بھی اسی طرح کیا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضرت سیدہ کی رضامندی والی یہ روایت صرف ابن میثم ہی نے نہیں بلکہ متعدد علمائے شیعہ نے اپنی کتابوں میں ذکر کی ہے جن کے نام یہ ہیں۔

درنجیفہ شرح نہج البلاغہ مطبوعہ طہران ص 332

حدیدی شرح نہج البلاغۃ جلد دوم، جز 16،ص 296

سید علی نقی فیض الاسلام کی تصنیف فارسی شرح نہج البلاغہ، جز 5،ص 960

رضامندی کی اس روایت سے مندرجہ ذیل امور معلوم ہوئے۔

اول: فدک کے متعلق حضورﷺ کے طرز عمل اور صدیق اکبر کے طرز عمل میں کوئی تفاوت نہیں تھا۔

دوم: حضرت فاطمہ صدیق اکبر سے راضی تھیں اور صدیقی طرز عمل آپ کو پسند تھا۔

قارئین کرام! ﷲ انصاف کیجئے! اس روایت سے جو شیعوں کی معتبر مذہبی کتاب کی ہے بالکل واضح طور پر یہ ثابت ہوگیا کہ سیدہ فاطمہ صلوٰۃ اﷲ علیہا قضیہ فدک میں حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے اور ان کے اس فیصلہ سے جو انہوں نے حدیث رسول کے ماتحت کیا راضی ہوگئیں اور سیدہ نے اس امر کا حضرت ابوبکر سے عہد بھی لے لیا کہ ابوبکر فدک کی آمدنی سے اہل بیت کے اخراجات پورے کریں گے۔ ایسی صاف و صریح رضامندی کے بعد بھی شیعہ حضرات جناب صدیق اکبر پر زبانِ طعن دراز کریں تو اس کا علاج واقعی کچھ نہیں ہے۔ مگر یہ ظاہر ہے کہ سیدہ کے راضی ہوجانے کے بعد کسی محب اہل بیت کے لئے تو یہ گنجائش باقی نہیں رہتی کہ وہ صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پر طعن کرسکے۔ البتہ ناانصافی سے کام لینا دوسری بات ہے۔

سوم: اہل بیت کے اخراجات تمام عمر حضرت صدیق اکبر فدک کی آمدنی سے پورے کرتے رہے اور سیدہ اپنے اخراجات حضرت صدیق اکبر سے وصول کرتی رہیں اور صدیق اکبر کے طرز عمل کو سراہتی رہیں۔

چہارم: نہ صرف صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ بلکہ تینوں خلفاء بھی ایسا ہی کرتے رہے اور انہوں نے فدک میں وہ طرز عمل اختیار کیا جو حضور علیہ السلام اور ان کے بعد صدیق کبر نے اختیار کیا۔

حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے بھی سیدہ راضی تھیں

شیعوں کی مشہور مذہبی کتاب حق الیقین مطبوعہ ایران کے ص 71 پر ہے۔

کہ چوں علی وزبیر بیعت کرد ونداویںفتنہ فرد نشست، ابوبکر آمدہ شفاعت از برائے عمر ف فاطمہ از وراضی شد

پھر جب حضرت علی و زبیر نے بیعت کرلی تو حضرت ابوبکر آئے اور حضرت عمر کے متعلق سفارش کی تو حضرت فاطمہ عمر سے بھی راضی ہوگئیں۔

اسی طرح طبقات ابن سعد جلد 8 مطبوعہ ایران کے ص 17 پر ہے۔

جاء ابوبکر الی فاطمۃ حین مرضت فاستا دن فقال علی ہذا ابوبکر علی الباب فان شئت ان تاذنی لہ قالت وذلک احب الیک قال نعم فدخل علیہا واعتذر الیہا وکلمہا ورضیت عنہ

حضرت ابوبکر فاطمہ کے پاس آئے جبکہ وہ بیمار تھیں۔ انہوں نے اجازت چاہی تو حضرت علی نے کہا ابوبکر دروازہ پر ہیں اگر تم چاہو تو ان کی اجازت دے دو۔ حضرت فاطمہ نے کہا کہ تم (علی) اس کو محبوب رکھتے ہو۔ علی نے فرمایا۔ ہاں پس حضرت ابوبکر داخل ہوئے عذر کیا اور فاطمہ حضرت ابوبکر سے راضی ہوگئیں۔

روایات فریقین سے ظاہر ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا بوقت وفات سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ سے راضی تھیں اور کسی قسم کی کبیدگی ان کے درمیان نہ تھی۔