باغ فدک: سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر سے راضی تھیں (شیعہ کتب سے ثبوت)

*شیعہ رافضی تفضیلیوں کے مکر وفریب کا منہ توڑ جواب*

حضرت بیبی فاطمہ رضہ حضرت ابوبکرصدیق رضہ سے راضی ہوگئیں۔

شیعہ کتاب شرح نھج البلاغ ابن حدید جلد4 صفحہ 80

کتاب شرح نھج البلاغ ابن میثم جلد5 صفحہ 107

کتاب بیت الاحزان صفحہ 88 مصنف شیخ عاس قمی

تاریخ ابن کثیرجلد5 صفحہ 391

تاریخ طبقات ابن سعدجلد8 صفحہ

339 کتاب ریاض النضرۃ مصنف محب الدین طبری صفحہ 347

جب حضرت علی رضہ اور حضرت زبیر رضہ نے حضرت ابوبکر رضہ کی بیعت کرلی اور حالات پر سکوت ہو گئے تو اس کے بعد حضرت ابوبکر رضہ سیدہ فاطمہ الزھرا رضہ کے پاس آئے اور حضرت عمر رضہ کے لیے سفارش کی اور رضا کے طلبگار ہوئے تو سیدہ فاطمہ رضہ ان پر راضی ہوگئی۔

شیعہ کتاب: بیت الاحزان عباس قمی صفحہ ۱۲۳ —👇👇👇

صاف اسکین 

*کیا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنه سے ناراض تھیں*

شیعہ رافضی اور ان کا جھوٹا چاٹنے والے تفضیلی حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنه پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو باغ فدک نہیں دیا جس کی وجہ سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ اپنی وفات تک حضرت ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے اپنی وفات تک ناراض رہیں ان سے بات نہیں کی،  یہ شیعیوں کے جھوٹ میں سے ایک بہت بڑا جھوٹ ہے جبکہ ان کی خود کی کتب میں اس بات کی تردید موجود ہے۔

رافضیوں کے رد میں لکھی گئی لاجواب کتاب تحفہ اثنا عشریہ میں حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں

“اہل سنت کی روایات تو وہ بھی مدارج النبوت کتاب الوفاق.بیہقی اور مشکوۃ شریف میں موجود ہیں بلکہ شرح مشکوۃ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه اس قضیہ کے بعد حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنه کے گھر تشریف لے گئے اور دھوپ میں دروازہ پر کھڑے ہوئے اور عذر چاہا اور حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنه ان سے راضی ہوئیں.اور ریاض النضرہ میں بھی یہ قصہ تفصیل سے مذکور ہے اور فصل الخطاب میں بروایت بیہقی شعبی سے یہ قصہ منقول ہے اور ابن الدمام کتاب الموافقہ میں اوزاعی سے روایت ہے کہ گرمی کے دن حضرت سیدنا صدیق اکبر حضرت فاطمہ رضی الله عنه کے دروازہ پر تشریف لائے اور فرمایا اے رسولﷺ کی صاحبزادی میں اس جگہ سے نہیں ہٹوں گا جب تک آپ راضی نہ ہوجائیں تو حضرت علی رضی اللہ عنه حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنه کے پاس گئے اور ان کو قسم دی کہ وہ راضی ہوجائیں پس حضرت فاطمہ راضی ہوئیں

اور شیعہ میں زیدیہ ، نعیمیہ اہل سنت کی روایت کے موافق روایت کرتے ہیں اور امامیہ میں سے صاحب محجاج السالکین اور دوسرے روایت کرتے ہیں

ان ابابكر لماراى ان فاطمة انقبضهت عنه وحجرته ولم تتكلم بعد ذلك فى امر فدك كبر ذلك عنده فاراد استرمناء ها فقال لها صدقت يا ابنة رسول الله فيما ادعيت ولكنى رايت رسول الله ﷺ يقسمهما فيعطى الفقراء والمساكين وابن السبيل بعد ان يوتى منها قوتكم والصانعين بها فقالت افعل فيها كما كان ابى رسولﷺ یفعل فیھا فقال ذلك الله على ان افعل فيها ماكان يفعل ابوك فقالت والله لتفعلن فقال والله لا فعلن فقالت اللهم اشهد فرضيت بذلك واخذت العهد عليه وكان ابوبكر يعطيهم منها قوتهم ويقسم الباقى فيعطىالفقراء والمساكين وابن السبيل

ترجمہ

(حضرت) ابوبکر نے دیکھا کہ حضرت فاطمہ مجھ سے کبیدہ خاطر ہوئیں اور مجھ سے تعلقات توڑ لئے اور اس کے بعد گسل کے معاملہ مین کوئ بات نہیں اٹھائی تو یہ بات ان پر بہت شاق گذری چاہا کہ ان کو اپنے سے راضی کریں پس آئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس اور کہا ان سے اے رسول اللہﷺ کی صاحبزادی تم اپنے دعوے میں سچی تھیں لیکن میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ اس کو تقسیم کیا کرتے تھے فقیروں مسکینوں اور مسافروں کودیا کرتے جب تم کو تمہارے گذارے کے موافق اور اس میں کام کرنے والوں کو دے چکتے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو کرو اس میں جیسا میرے والد رسول اللہﷺ کیا کرتے تھے پھر کہا حضرت ابوبکر نے قسم ہے خدا کی تمہارے واسطے کرونگا وہ کام جو کچھ تمہارے والد رسول اللہﷺ کیا کرتے تھے تو آپ بولیں قسم خدا کی آپ ایسا ہی کرو گے حضرت ابوبکر نے فرمایا قسم بخدا میں ضرور کرونگا تو اسپر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنه نے ارشاد فرمایا اے اللہ تو گواہ رہنا پس راضی ہوئی حضرت فاطمہ حضرت ابوبکر سے اور اسپر عہد لیا پھر حضرت ابوبکر (باغ فدخل سے) دیا کرتے تھے انکا گذار اس سے اور باقی فقیروں مسکینوں اور مسافروں پر تقسیم کرتے

یہ حوالہ شعیہ کتاب محجاج السالکین اوف دوسری معتبر کتانوں کی عبارت ہے

اس عبارت سے صاف پتہ چلا کہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ نے حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ کے دعوے کی تصدیق فرمائی لیکن پیغمبرﷺ کا اس میں تاحین حیات تصرف کرنا اور اس پر قبضہ نہ کرنا اس کو انہوں نے ملک کے مخالف جانا جیسا کہ تمام امت کے نزدیک یہ طے شدہ بات ہے اب حضرت ابوبکرصدیق نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے دعوے کی تصدیق فرمائی تو پھر ام ایمن اور حضرت علی رضی للہ عنہ کے گواہ بنانے کی ضرورت کیا رہ گئی

خدا کا شکر ہے خود روایات شعیہ(امامیہ) کی رو سے حق منکشف ہوگیا اور تہمت جو حضرت ابوبکرصدیق رضی للہ عنہ پر لگائ تھی کہ آپ نے شہادت کو اور دعوے کو رد کیا سراسر جھوٹ ثابت ہوئی۔

والله يحق الحق ويبطل الباطل

 اور اللہ حق کوثابت کرتا ہے اور باطل کو باطل

حضرت بیبی فاطمہ رضہ حضرت ابوبکرصدیق رضہ سے راضی ہوگئی