باغ فدک: سیدہ فاطمہ اور حضرت ابوبکر صدیق کے درمیان ناراضگی کا افسانہ !

Fadak issue: Dispute between Syedah Fatima(R.A) & Hazrat Abubakar Sidique (R.A) true story
سیدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ناراضگی کی حقیقت

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے  ناراضگی کی کہانی اہلسنّت والجماعت کی کسی معتبر کتاب سے ان الفاظ کے ساتھ صراحتاً ثابت نہیں کی جا سکتی کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے خود فرمایا ہو کہ “میرا حق غضب ہو گیا لہٰذا میں حضرت ابوبکر سے سخت ناراض ہوں انہوں نے مجھ پر زیادتی کی اس لیے میں ان سے کچھ بھی بات چیت نہ کرونگی ہاں جو الفاظ پیش کیے جاتے ہیں وہ یہ ہیں “فغضبت فاطمة وھجرتہ اس سے زیادہ کوئی حوالہ پیش نہیں کیا جا سکتا سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ الفاظ راوی روایت کی ترجمانی تو کر سکتے ہیں سیدہ رضی اللہ عنہ کا ارشاد نہیں بن سکتے یعنی اس روایت کے راوی نے اپنا خیال ظاہر کیا کہ میرے خیال میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے ناراض ہوئی  اور اس کی بنا پر قطع تعلق کر لیا اس کی تائید اور دلیل یہ ہے کہ ناراضگی ایک ایسا فعل ہے جس کا تعلق قلب انسان سے ہے جب تک متکلم اپنی ناراضگی اور خوشی وغیرہ افعال قلبیہ کا خود اظہار نہ کرے دوسرے کو اس کا علم نہیں ہو سکتا ہاں بعض دفعہ قرائن و حالات سے ان اُمور کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے لیکن حالات و قرائن سے لگایا ہوا اندازہ غلط بھی ہو سکتا ہے چاہے وہ اندازہ لگانے والا معصوم ہی کیوں نہ ہو

حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ ہمارے سامنے ہے جب حضرت خضر علیہ السلام نے کشتی کو ناکارہ بنا دیا تو حضرت موسی علیہ السلام نے حالات اور قرائن سے یہ معلوم کیا کہ کشتی اس لیے توڑی گئی تاکہ اس کے اندر سوار لوگوں کو ڈبو دیا جائے گویا ان کی رائے میں حضرت خضر علیہ السلام کے فعل کا مقصد یہی تھا لیکن یہ اندازہ درست نہ تھا بلکہ جو ارادہ تھا اسے حضرت خضر علیہ السلام ہی جانتے تھے کیونکہ اس کا تعلق افعال قلبیہ سے تھا پھر وقت آنے پر آپ نے ارادہ بتا دیا اسی طرح جب حضرت موسی علیہ السلام طُور پہاڑ سے اللہ کے ساتھ ہم کلامی کے بعد فارغ ہوئے اور واپس قوم میں تشریف لائے تو حالات و واقعات سے اندازہ لگایا کہ میرے طُور پر جانے کے بعد میرے بھائی ہارون نے میری ہدایت پر پوری طرح عمل نہیں کیا اور لوگ ان کی سُستی یا کاہلی سے ناجائز فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوگئے خدا وحدہ لاشریک کے ساتھ بچھڑے کو شریک بنا لیا اور اس کی پرستش شروع کر دی حتی کہ  اتنا غصہ آیا کہ حضرت موسی علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ کر جھنجھوڑا لیکن یہ اندازہ درست نہ تھا اور حضرت ہارون علیہ السلام سے کوتاہی اور سستی واقع نہ ہوئی تھی اور حضرت ہارون علیہ السلام بالکل بے قصور تھے

ان دو قرانی واقعات سے معلوم ہوا کہ کسی قلبی فعل کے لیے حالات و واقعات اور کرائم رہنما تو بن سکتے ہیں لیکن اس کی حقیقت کی وضاحت اسی وقت درست اور یقینی ہو سکتی ہے جبکہ متکلم اور فعال خود اس پر بھی فیل کی حالت کا اظہار کرے بعض واقعات اور حالات کو راوی اپنے قیاس کے مطابق صحیح سمجھ کر بیان کر دیتا ہے لیکن اس کا وہ قیاس درست ثابت نہیں ہوتا بلکہ محض ایک تاثر تھا جو اس نے بیان کر دیا حقیقت کچھ اور ہوتی ہے تاریخ میں اس قسم کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں بلکہ حدیث میں خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسے واقعات موجود ہیں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات سے الگ ہوکر چند روز بالا خانے میں قیام پذیر ہوئے تو آپ کے اس رویے سے کچھ لوگوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج کو طلاق دے دی ہے جب یہ خبر اڑتی اڑتی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پہنچے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے مسجد میں تشریف لائے یہاں بیٹھے ہوئے لوگوں میں آپس میں یہی گفتگو ہو رہی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اس بات کی تحقیق کے لیے بالا خانہ میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس بارے میں دریافت کیا  تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طلاق کوئی نہیں دی وہ سب میرے نکاح میں ہیں تو جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلوت نشینی اور علیحدگی سے کچھ لوگوں نے یہ قیاس و اندازہ لگایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے حال ہے ایسا قطعاً تھا اسی طرح اس روایت کے راوی نے اپنے قیاس سے اس روایت میں ادراج کرتے ہوئے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ناراض ہونا اور آخر وقت تک بات نہ کرنے کا اضافہ کر دیا ہے۔

تو جس طرح پچھلے دو واقعات قرآنیہ میں ذکر آ چکا ہے کہ حالات و واقعات سے غلط قیاس  ہوا تھا اور اس کی تصحیح اس طرح ہوئی کہ خود فاعل نے اپنے فعل کی وضاحت کردی کے اس فعل میں میری کیفیت قلبی کیا تھی تو اس طرح جب تک سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زبان اقدس سے صراحتاً یہ معلوم نہ ہو کے آپ نے اپنے قلبی کیفیت یعنی غصے کا خود اقرار کیا ہو اور اس کا اپنی زبان سے اظہار کیا ہو اس وقت تک یہ کس طرح یقین کیا جا سکتا ہے کہ حدیث رسول سن کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ناراض ہوگئی بلکہ اس وقت یہی کہا جائے گا کہ راوی نے اپنے اندازے اور قیاس سے اس عبارت سے غصہ ہونا سمجھا حالانکہ ایسا نہ تھا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فدک کے طلب کرنے والی روایت کا جائزہ لیا جائے تو یہ چار صحابہ سے مروی ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
ابوطفیل رضی اللہ عنہ
ابو سلمہ رضی اللہ عنہ
اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
جہاں تک حضرت ابوہریرہ ابو طفیل اور ابو سلمہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں روایت ہے  اس میں سرے سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی ناراضگی کے الفاظ ملتے ہی نہیں ہیں