باغ فدک: رافضیوں سے سوال! فدک کیوں غصب کیا گیا؟

حضرت ابوبکر صدیق کو نعوذبااللہ غاصب فدک قرار دینے والے جب غصب فدک کی وجہ بیان کرنے لگتے ہیں تو ان کی حالت عجیب بلکہ تعجب خیز ہوجاتی ہے۔

👈 یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے اراضی فدک سے کوئی فائیدہ نہیں اٹھایا، بلکہ ان کی اولاد کے حوالے سے بھی کوئی کچھ ثابت نہیں کر سکتا۔ یہ حقیقت خود شیعہ علماء کے یہاں بھی تسلیم شدہ حقیقت ہے۔

👈 آخر اس گناہ عظیم کا محرک کیا تھا۔۔؟؟ وجہ کیا تھی۔۔؟؟ غاصب کو غصب کرنے سے کونسا مالی فائیدہ حاصل ہوا۔۔؟؟

یہ سوال آج تک اہل تشیع حضرات کے لئے مصیبت بنا ہوا ہے۔

ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ
👈 بنی ھاشم کی سیاسی پوزیشن کو کمزور کرنے کے لئے غصب فدک عمل میں آیا تھا۔

اگر فدک سیدہ فاطمہ کے پاس رہتا تو مدینہ منورہ کے مساکین اور یتامی حضرت علی کے دست نگر ہوتے اور ہر کام میں ان کے معاون و مددگار ہوتے، فدک کے ہاتھ سے نکل جانے کی وجہ سے مہاجرین و انصار نے ادھر سے منہ پھیر لیا اور سب کے سب حضرت ابوبکر کے مددگار ہوگئے کیونکہ ان کے قبضے میں فدک کی آمدنی تھی۔

♦️ اس منطق کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام مہاجرین و انصار نے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت خلافت اس لئے کی تھی کہ زمین فدک آپ کے ہاتھ میں تھی۔

👈 اس انوکھی منطق کے مصنفین کو اتنی خبر بھی نہ ہوئی کہ صدیقی بیعت کے وقت فدک کس کے قبضہ میں تھا؟

🌸 شیعہ و سنی اہل علم اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ زمین فدک سے متعلق جو مطالبہ اٹھایا گیا تھا وہ خلافت صدیقی کے یوم انعقاد سے دسویں روز تھا۔

👈 یہ بھی ذہن میں رہے کہ خود اہل تشیع کے نزدیک بوقت وصال نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین فدک سیدہ فاطمہ کے قبضہ میں تھی یعنی حضرت ابوبکر صدیق کے قبضے میں نہیں تھی۔

👈 پھر کیا وجہ ہے کہ سب مہاجرین و انصار نے بالاتفاق حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کی؟؟؟

👈 اگر واقعی فدک سے سیاسی پوزیشن بنتی تو لازم تھا کہ حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت کی جاتی۔۔

👈 معلوم ہوا کہ زمین فدک کے ساتھ کوئی سیاسی معاملہ وابستہ نہیں تھا۔