باغ فدک: ابن شہاب الزہری پر تحقیق

صحیح بخاری کی ایک حدیث پیش کرتے ہوئے استدلال پیش کیا جاتا ہے کہ
👈 سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے مطالبہ فدک کو تسلیم نہ کرنے پر سخت ناراض تھیں اور آخر وقت تک ترک کلام کیا اور اسی لئے سیدہ کا جنازہ رات کو پڑھ کر تدفین کی گئی، حضرت ابوبکر کو اطلاع نہیں دی گئی۔

صحیح بخاری سے اس حدیث کی مکمل عبارت

ایک منصف مزاج انسان کی یہ شان نہیں ہے کہ صرف ایک حدیث یا ایک روایت سے کوئی نتیجہ نکال کر خود فیصلہ کرلے۔
  یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی واقعے کو جانچنے کے لئے اس کے متعلق تمام صحیح روایات کو یکجا کیا جائے ، تا کہ ہر ایک راوی کا انداز بیان سمجھتے ہوئے اصل واقعے سے مکمل آگاہی حاصل ہوسکے۔

📚 سیدہ فاطمہ کی طرف سے حضرت ابوبکر صدیق سے مطالبہ فدک کی احادیث اور تاریخی روایات با سند کتب سے تقریبآ 36 مقامات پر دریافت ہوئی ہیں۔👇👇👇

☝☝☝☝
ان مقامات میں مذکورہ واقعہ بعض جگہ مفصل ہے اور بعض جگہ مختصر بیان ہوا ہے۔

مزید تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ تمام 36 مقامات میں سے گیارہ عدد روایات وہ روایات ہیں جن کی سند میں ابن شہاب زہری نہیں ہے۔ دوسرے صحابہ کرام مثلآ حضرت ابوھریرہ ، ابوالطفیل عامر بن واثلہ ام بانی وغیرہم سے یہ روایات مروی ہیں۔

👈 یعنی سیدہ عائشہ صدیقہ سے منقول نہیں ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ یہاں کسی ایک مقام پر رنجیدگی و کشیدگی کا نام و نشان نہیں۔

پچیس مقامات جن کی سند میں ابن شہاب الزہری موجود ہے ، دو طرح کی روایات ہیں۔
1⃣ ایک صورت یہ ہے کہ سند میں زہری موجود ہونے کے باوجود مناقشہ نما الفاظ بالکل مفقود ہیں اور کشیدگی سیدہ فاطمہ کا کوئی تذکرہ نہیں، ایسے مقامات تقریبآ نو عدد ہیں۔
2⃣ دوسری صورت یہ ہے کہ روایات میں وجدد و عدم تکلم وغیرہم منقول ہیں، ان مقامات کی ہر سند میں زہری موجود ہے۔ تقریبآ سولہ مقامات ہیں۔

👈 تحقیق کے مطابق تقریبآ16 مختلف مقامات پر اس اہم واقعے کو رنجیدگی سے بیان کیا گیا ہے۔
👈 جن روایات میں حضرت ابوبکر صدیق کا جواب سن لینے کے بعد سیدہ فاطمہ کا غضبناک ہوجانا، ناراض ہوجانا، حضرت ابوبکر کو چھوڑ دینا، کلام نہ کرنا وغیرہ مذکور ہے ، ان تمام روایات میں “ابن شہاب الزہری” ہی اس واقعے کو آگے بیان کر رہا ہے۔
👈 کافی تحقیق کے بعد بھی کوئی ایک روایت ایسی نہیں مل سکی جہاں سیدہ فاطمہ کی ناراضگی و ہجران کا ذکر موجود ہو اور وہ روایت “ابن شہاب الزہری” کے بغیر کسی دوسرے راوی سے مروی ہو۔

کس قانون کے تحت ہم یہ کہتے ہیں کہ “ناراضگی سیدہ فاطمہ” اصل روایت میں “ابن شہاب الزہری” کا ظن (گمان) ہے۔
1⃣ اگر واقعی سیدہ فاطمہ غضب ناک ہوئی ہوتیں تو اصل روایت میں بزبان خاتون جنت حضرت ابوبکر کے خلاف ایک دو جملے ضرور موجود ہوتے۔
اگر رافضی بضد ہیں کہ اس حدیث سے سیدہ فاطمہ کا ناراض ہوجانا ہی ثابت  ہے تو اس سوال کا جواب دیا جائے۔
  اگر واقعی سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق پر ناراض ہوئیں تو نص حدیث سے سیدہ فاطمہ کی زبان مبارک سے ناراضگی کے الفاظ دکھائیں۔ ؟
غور فرمائیں ۔۔اس حدیث میں “غضبت علی ابی بکر صدیق” یا اسی قسم کے الفاظ کہیں بھی مذکور نہیں ہیں۔

اس ایک راوی (زہری) نے جو عروہ سے اور وہ سیدہ عائشہ سے ناقل ہے ، اپنے زعم میں سیدہ فاطمہ کی خاموشی اختیار کرنے کو ناراضگی اور غضبناکی پر محمول کر کے یہ الفاظ ذکر کردیئے۔ حالانکہ کسی چیز کے متعلق سکوت و خاموشی اختیار کرلینا ہمیشہ رنجیدگی کی وجہ سے ہی نہیں ہوتا۔ خاموشی نیم رضامندی بھی ہوا کرتی ہے۔ (یہ ایک مشہور مقولہ بھی ہے) کسی بات کے متعلق اطمینان ہوجانے کی صورت میں انسان سکوت اختیار کرلیتا ہے۔

یہاں ایک اور نکتہ قابل غور ہے

سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر کے پاس پردہ میں گئیں تھیں یا بے پردہ؟؟؟؟

ظاہر ہے ہم یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ سیدہ بغیر پردہ کے گھر سے باہر نکل سکتی ہیں۔

پھر آخر راوی نے سیدہ فاطمہ کی خاموشی سے یہ اندازہ کیسے لگا لیا کہ سیدہ فاطمہ ناراض ہوگئیں ہیں۔۔؟؟؟ ظاہر ہے غصہ چہرے سے یا دوسری حرکات سے معلوم کیا جاتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اہل علم کی اصطلاح میں اس کو “ظن راوی” یعنی راوی کا گمان کہا جاتا ہے۔ اس روایت میں راوی کا اپنا ظن و گمان ہے، اور وہ راوی ابن شہاب زہری ہے۔

مزید پڑھیں

صحیح روایات میں راویوں کا گمان غلط ہو سکتا ہے۔

باغ فدک: ابن شہاب الزہری پر تحقیق” ایک تبصرہ

تبصرے بند ہیں