باغ فدک:سیدہ فاطمہ اور حضرت ابوبکرصدیق! سچا کون؟؟

سوال: کیا سیدہ فاطمہ نے باغ فدک کا (معاذاللہ)جھوٹا مطالبہ کیا تھا؟ 

جواب: سیدہ فاطمہ نے جائز دعوی کیا تھا کیونکہ ان کے نزدیک باغ فدک کی آمدنی سے نبی کریم اہل بیت کے اخراجات پورے کرتے تھے تو یہ نبی کریم کی ملکیت تھا اوران کے بعد ان کے ورثاء کو ملنا چاہئے تاکہ فدک کی آمدنی نبی کریم کے بعد بھی اسی طرح خرچ کی جاتی رہے۔ 

سوال: سیدہ فاطمہ کا مطالبہ فدک جائز تھا تو حضرت ابوبکر صدیق نے اس کا فیصلہ سیدہ کے حق میں کیوں نہ کیا ؟ 

جواب: حضرت ابوبکر صدیق نے فدک کا فیصلہ نہیں کیا تھا بلکہ نبی کریم خود اس بارے میں واضح طور پر فرما گئے تھے کہ انبیاء کرام مالی ورثہ چھوڑ کر نہیں جاتے۔

یہ فرمان نبوی حضرت ابوبکر صدیق نے براہ راست خود نبی کریم سے سنا تھا اور اس قول نبوی کے راوی صرف حضرت ابوبکر صدیق نہیں ہیں بلکہ صحاح ستہ میں مختلف طرق سے یہ حدیث نبوی مروی ہے،اس کے علاوہ شیعہ کی معتبر ترین کتب میں مختلف اماموں سے بھی کئی روایات اسی قول نبوی کی موافقت میں موجود ہیں۔

 یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق  نبی کریم کے فرمان پر عمل کرنے پر مجبور اور حق بجانب تھے ۔ 

سوال: کیا حضرت ابوبکر صدیق نے باغ فدک کو غصب نہیں کیا؟ اس پر قبضہ نہیں کیا؟

جواب: حضرت ابوبکر صدیق نے فدک پر قبضہ قطعآ نہیں کیا تھا اور نہ ہی فدک کو کسی بھی خلیفہ نے ذاتی ملکیت قرار دیا تھا۔

درحقیقت باغ فدک کی آمدنی نبی کریم کی طرح تمام خلفاء راشدہ کے دور میں خرچ کی جاتی رہی، فدک کسی فرد واحد کی ملکیت کبھی بھی نہیں رہا بلکہ حکومت وقت کی ملکیت میں  رہا ، باقی باغ فدک کے متولی ہر دور میں تبدیل ہوتے رہے۔ 

سوال: کیا باغ فدک کا فیصلہ درست تھا؟  

جواب: بالکل درست تھا۔ فرمان نبوی اور قرآن و سنت کے عین مطابق تھا۔

حضرت ابوبکر صدیق نے اس معاملے میں سیدہ فاطمہ کو فرمان نبوی سنا کر اپنی مجبوری بتائی، اور یہ یقین دھانی بھی کرائی کہ فدک کی آمدنی من وعن اسی طرح خرچ کی جائے گی جس طرح نبی کریم خود خرچ کرتے تھے۔  

یہ حقائق شیعہ سنی دونوں کتب میں موجود ہیں۔

🌹 سیدہ فاطمہ اپنے والد نبی کریم کا فرمان سن کر خاموش ہوگئیں ( ایک راوی ابن شہاب نے سمجھا ناراض ہوگئیں) ہمارہ ایمان ہے کہ سیدہ فاطمہ کی یہ شان نہیں ہوسکتی کہ وہ نبی کریم کا فرمان سن کر ناراض ہوجائیں ، اور وہ بھی دنیا کی ملکیت کی خاطر۔۔۔ نہیں ہرگز نہیں۔۔

👈 رافضی ایسا سمجھ کر سیدہ فاطمہ کی توہین کرتے ہیں۔  اہل بیت کرام دنیا کی ملکیت اور لالچ سے بہت دور تھے۔

سوال: کیا سیدہ فاطمہ حدیث لانورث نہیں جانتی تھیں؟

جواب: بیشک سیدہ فاطمہ عالمہ تھیں ، یہ عین ممکن ہے کہ اس وقت یہ فرمان نبوی ان کے ذہن میں نہ آیا ہو ، اسی لئے حضرت ابوبکر صدیق نے جب نبی کریم کی حدیث سنائی تو انہوں نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ نے جھوٹی بات کہی ہے ، بعد میں بھی کسی موقعے پر سیدہ کا ایسا کوئی فرمان موجود نہیں ہے۔

👈 بلکہ کسی امام کا بھی یہ فرمان موجود نہیں ہے کہ حدیث لانورث جھوٹی حدیث ہے۔۔ بلکہ خود اماموں سے اسی معنی و مفہوم والی روایات شیعہ معتبر کتب میں موجود ہیں۔