باغ فدک:سیدنا علی کا فیصلہ

کیا حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فدک تقسیم کیا؟

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تمام کتب تواریخ اس پر شاہد ہیں کہ فدک زمانہ علوی میں بھی اسی طرح رہا جیسے صدیق و فاروق و عثمان  رضی اﷲ عنہما کے دور خلافت میں تھا اور حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے بھی فدک میں وہی طریقہ جاری رکھا جو صدیق اکبررضی اﷲ عنہ نے جاری رکھا تھا۔ تو اگر حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے اپنے دور حکومت میں فدک غصب کرلیا تھا تو جناب علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا فرض تھا کہ وہ فدک کو تقسیم کرتے اور اس وقت جو اس کے وارث موجود تھے، ان کو دے دیتے اور جو ناجائز بات چلی آرہی تھی اور جو ظلم روا رکھا گیا تھا، اس کو اپنے دور خلافت میں ختم کردیتے کیونکہ خود حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے میں کہ امام کے لئے پانچ امر ضروری ہیں۔
1… خوب وعظ کہنا
2… لوگوں کی خیر خواہی میں خوب قوت صرف کرنا
3… نبی ﷺکی سنت کو زندہ کرنا
4… سزائوں کے حق داروں کو سزا دینا
5… حق داروں کو ان کے حقوق واپس لوٹا دینا (نہج البلاغہ مصری، ج 1، ص 202)

اسی طرح رجال کشی میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا یہ ارشاد مذکور ہے
انی اذا بصرت شیئا منکراً او قدت نارا و دعوت قنبراً (رجال کشی ص 199)
جب میں خلافِ شریعت کام دیکھتا ہوں تو آگ جلاتا ہوں اور قنبر کو بلاتا ہوں۔
اسی بناء پر آپ نے ان لوگوں کو آگ میں جلا دیا تھا۔ جو آپ کو خدا کہنے لگ گئے تھے پھر فرماتے ہیں
ولا المعطل للسنۃ فیہلک الامۃ (نہج البلاغہ ص 398)
امام ایسا نہیں ہونا چاہئے جو پیغمبرکے طریقے کو چھوڑ دے، ورنہ امت ہلاک ہوجائے گی۔
لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جناب علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ نے فدک میں وہی طریقہ جاری رکھا جو سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کا تھا یہ اس امر کی بہت بڑی دلیل ہے کہ علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کے نزدیک فدک میں صدیقی طرز عمل حق و صواب تھا اور علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ صدیقی طرز عمل کو بالکل شریعت اسلامیہ کے مطابق جانتے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ شیعہ حضرات کا صدیقی خلافت میں غصب فدک کا قول کرنا حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی امامت و خلافت پر شرمناک حملہ ہے۔ کیونکہ اگر یہ مان لیا جائے کہ صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے فدک غصب کرلیا تھا تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ پر بھی یہ الزام قائم ہوگا۔ کہ انہوں نے فدک کو صدیقی خلافت کے دستو رپر جاری رکھ کر امت و خلافت کا حق ادا نہیں کیا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ اگر غاصب فدک ثابت ہونگے تو علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ غصب کے برقرار رکھنے والے۔
سوچئے کہ غصب کرنے والا زیادہ مجرم ہے یا غصب کو برقرار رکھنے والا۔ اور غاصبوں کے طرز عمل کی حکومت و سلطنت کے باوجود حمایت کرنے والا (معاذ اﷲ)

غرضیکہ قضیہ فدک میں جناب علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ کا طرز عمل دنیائے شیعیت پر بہت بھاری حجت ہے۔ اگر صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کی خلافت پر اعتراض ہوگا تو سیدنا علی رضی اﷲ عنہ کی خلافت پر بھی حرف آئے گا۔ پس جناب علی مرتضیٰ کا اراضی فدک کو اسی دستور پر رکھنا جس پر کہ جناب صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے رکھا تھا، حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی حقانیت اور ان کے طرز عمل کی صحت پر دلیل قاہر ہے۔