ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کی بدعت حضرت امیر معاویہ نے پیدا کی۔ (موطا امام محمد،شرح الوقایہ التوضيح)

شیعہ اعتراض

ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کی بدعت معاویہ نے پیدا کی۔

(موطا امام محمد،شرح الوقایہ التوضيح)

الجواب :

1.إن کتابوں میں اول من قضی به معاویہ  کا جملہ ابن شہاب زہری کا منفردانہ قول ہے اس کا کوئی موید نہیں۔ لہذا اس تفرد تابعی کی بنا پر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مطعون کرنا سراسر خلاف انصاف و دیانت ہے۔

(المسبوط لسرخی ۳۳ جلد 17 )

2.کتاب الدعوی میں حضرت علیؓ کا مذہب منقول ہے کہ وہ شاہد کے ساتھ حلف بھی لیتے تھے ۔ معلوم ہوا کہ ایک گواہ اور ایک قسم کا مسلک اور عمل حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے قبل حضرت علی کا تھا اگر اس عمل کو غلط قرار دیں تو ذرا غور کر لیں کہ یہ الزام کس سمت کو جاتا ہے۔

3. اکابرصحابه کرام بھی اس عمل کو جائز قرار دیتے ہیں جیسے حضرت زید بن ثابت اور ابی بن کعب وغیرہ۔ ان حضرات کی دلیل یہ روایت ہے۔ سیدنا معاویہ بھی مجتہد تھے لہذا ان کو گنجائش ہے کہ وہ کیا کریں۔

أن رسول الله ما قضیی بیمین و شاهد۔

کہ بے شک رسول اللہ ایک گواہ اور قسم کے ساتھ (بھی) فیصلہ فرماتے تھے۔

(سنن الکبری نیتی صفہ ۱۷۳، ۱۷ جلدها باب القنا)

معلوم ہوا کہ یہ عمل نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہوا ہے۔ لہذا اس بنیاد پر اعتراض کرنا اللہ کے نبی پر سے اعتماد کو ختم کرنا ہے۔

4. تعجب کی بات ہے رافضی لوگوں کو ایک گواه مع الیمین کے ساتھ کیا جانے والا فیصلہ بدعت نظر آرہا ہے جبکہ خود ان کے اپنے مجہتدوں نے ایک گواہ اور قسم کے ساتھ فیصلہ کو درست مانا اور قبول کیا ہے چنانچہ ماضی قریب کے شیعہ کے رہبر نائب جناب خمینی نے اپنی کتاب تحریر الوسیلہ جلد۲صفیه ۴۲۴۰ پر باقاعده باب باندھا ہے۔ ایک گواہ اور قسم کا بیان‘‘ مگر حیرت ہے کہ اپنے باوا جی فرما دیں تو سب درست ورنہ غلط