ایران و روم ان کے زیرِ نگیں ہوئے سب

کیا کہنے عظمتوں کے

اصحابِ مصطفی ؐنے عالَم پہ سروری کی

کیا کہنے عظمتوں کے،کیا شان برتری کی

جنگل کے اے درندو! فوراً یہاں سے نکلو

کیا جانتے نہیں ہو، یہ فوج ہے نبیؐ کی

کیا دور تھا کہ جس میں راتوں کو اٹھ کے حاکم

کرتا تھا پہرے داری خود ہی گلی گلی کی

بدر و اُحد سے پوچھو کیسے وہ صف شکن تھے

کوئی مثال لائے ان کی بہادری کی

خادم سوار تھا اور آقا پیادہ پا تھے

کب کس نے دیکھی ایسی صورت برابری کی

رب کی رضا کا تمغہ حاصل کیا انہوں نے

کچھ اس ادا سے سب نے سنت کی پیروی کی

شرک و رسوم و بدعت کی ہر طرف تھی ظلمت

توحید کی انہوں نے ہر سمت روشنی کی

ایران و روم ان کے زیرِ نگیں ہوئے سب

قرباں جمیلؔ ان پر، کیا معرکہ زنی کی