ایرانی انقلاب کا بانی خمینی کون تھا؟

ایرانی انقلاب کے بانی خمینی کا نسب اہل بیت سے نہیں ہندی سکھوں سے ملتا ہے

مکمل موجودہ نام:  روح الله المصطفیٰ احمد الموسوی الخمینی

ویسے تو ہندوستان کی سرزمین اس حوالے سے بڑی زرخیز ہے کہ جو بھی اللہ عزوجل کی توحید کا دشمن ، یا اس کے رسول ﷺ کی رسالت کا دشمن ہوگا وہ ہندوستان میں ہی ملے گا ـ اب تحقیق سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ نبی کریم ، ازواج مطہرات اور صحابہ کرام کا دشمن خمینی لعین بھی ہندستان کا تھا۔

خمینی کو ماضی قریب میں امام غائب کا نائب سمجھا جاتا تھا اور اپنے وقت میں شیعہ رافضیوں کا ممتاز ترین مذہبی رہنما تھا۔

صفوی بادشاہت کے خلاف ایرانی مذہبی شیعی انقلاب جس میں لاکھوں بے گناہ سنی مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا، اس کا بانی خمینی  تھا۔

خمینی لعین نے نبی کریم،  ازواج مطہرات اور صحابہ کرام کی کھلم کھلا توہین کی اور امت مسلمہ میں فتنہ و فساد کا بازار گرم کیا۔!!!!!

خمینی کی متعدد تالیفات میں سے ایک کتاب کشف الاسرار بھی ہے۔ اپنی اسی کتاب میں خمینی لعنت الله علیه نے سیدنا عمر ابن خطاب رضی الله عنه کے لیے یہ لکھا ہے :

ان اعمال عمر نابعة من الاعمال الکفر والزندقہ والمخالفات لآیات وردذکرھافی القرآن۔

عمر ( رضی الله عنه ) کے جملہ اعمال، کفر ، زندیقیت اور قرآن میں وارد شدہ آیات کی مخالفت پر مبنی ہیں۔

کشف الاسرار ص ١١٦مطبوعہ ایران 

برطانوی اخبار دی انڈیپینڈینٹ نے 1981 میں یہ انکشاف کیا تھا کہ خمینی کا اصل نام روزبہ بسندیدتہ ہے ۔ اس کے والد کا تعلق جنوب ہندوستانی کے ایک سکھ گھرانے سے تھا اور اس کی ماں جرہ آغا خانم کشمیر کے معبدخانے کے ایک بڑے کاہن کی بیٹی تھی ۔

خمینی  کے والد احمد نے 1885 عیسوی میں ہندوستان کی سکونت ترک کر کے مستقل طور پر ایران کے شہرقم کے نواحی قصبے خمین میں رہائش اختیار کر لی۔ وہاں جا کر سیکھ مذہب تر ک کرکے شیعہ مذہب  اختیار کرلیا ۔ اپنا پرانا نام سینکا سے تبدیل کر کے خود کو الموسوی خاندان کے خادم و نوکر کے طور پر متعارف کروایا ۔ بعد میں اپنا مصطفی رکھ لیا ـ خمینی کی پیدائش خمین میں 1320 ہجری (1902 ع ) میں ہوئی۔ شروع میں خمینی اپنے آپ کو ہندی ہی لکھتا تھا پھر اچانک ہی اپنے آپ کو موسوی وسید کہلوانے لگا ۔

کالی پگڑی پہن لی ۔ بقول اس کے کالی بگڑی پہننے کا مطلب یہ تھا کہ موصوف آل بیت کہ ایک فرد ہیں  جبکہ سفید بگڑی بھی سید کی علامت تھی لیکن شاید آل بیت کی اولاد کی علامت نہیں تھی۔

ایران کے شیعہ کا ابھی بھی یہی خیال ہے کہ خمینی آل بیت میں سے تھا ـ

خمینی کے والد نے شیعت اختیار کرنے کے بعد جادوٹونہ کا کام شروع کیا ۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے لئے جاسوسی کا کام بھی کرتا رہا ۔  جب شاہ ایران رضا پہلوی کو معلوم ہوا کہ خمینی  کے والد برطانیہ کے جاسوس ہیں تو اس نے اسےقتل کروادیا، اس وقت خمینی کی عمر ایک سال تھی ـ سن بلوغ تک عمر پہنچی تو اس کی ماں بھی وفات پا گئی۔ چنانچہ اس کے بڑے بھائی نے خمینی کی مکمل پرورش وکفالت کی ذمہ داری کو نبھایا۔

 والد کے قتل ہوجانے کے بعد خمینی کو اپنے قتل ہوجانے کا خوف سوار رہا اور بالآخر خمینی نے اپنے قتل ہوجانے کے ڈر سے عراق کی طرف راہ فراراختیار کی جہاں وہ شاہ ایران سے انتقام لینے کے منصوبے بنانے لگا ـ

وہاں سے امریکہ اور فرانس کی ایجنسیوں نے پکڑکر اسے فرانس کا مہمان بنا دیا ــ جب شاہ ایران کے برطا نیہ اور امریکہ کی تیل کمنیوں کواجازت نا دینے پر اختلافات ہوئے تو ان اسلام  دشمن طاقتوں نے شاہ ایران کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ۔ متبادل کے طور پر خمینی لعین کو فرانس سے واپس بلا کر بطور عظیم رہنما ایران کا بادشاہ بنادیا گیا۔

خمینی کی ایئر فرانس سے ایران واپسی

خمینی اپنی ہی کتب کی روشنی میں!!

ہم اس خدا کی پرستش کرتے ہیں جس کے کام پختہ عقل پرمبنی هوں اور عقل کے خلاف فیصلے نہ کرے ہم ایسے خدا کو نہیں مانتے جو خداپرستی انصاف اور دین داری کی ایک مضبوط وبلند عمارت بنائے اور خود ہی اپنے ہاتهہ سے اس کو برباد کردے اور یزید ، معاویہ ، اور عثمان اور ان جیسے بدمعاش لوگوں کو امیر بنادے (امام خمینی)  

خمینی نے اپنے ساتھیوں کو یہ خبر دی تھی کہ اگر کوئی جنازہ سے گر گیا تو یہ علامت ہے کہ وہ جہنم میں جائے گاـ

خمینی تقریباً 89 سال کی عمر میں جہنم رسید ہوا… خمینی کے حاشیہ نشینوں نے اس کے برہنہ چہرہ میت کو شیشے کے تابوت میں بند کر کے تہران کے سب سے بڑے اور کشادہ میدان میں رکھ دیا……خمینی کے مریدوں اور عقیدت مندوں نے اس تابوت کے گرد طواف کیا… جب جنازہ چلا … تو جنازے میں تقریباً دس ملین رافضیوں کا جم غفیر بھی تھا… ہیلی کاپٹر کے ذریعے اس کی میت کو لے جایا جا رہا تھا کہ تابوت نیچے گرا اور اس کے مریدوں نے اس کو چھونے کے لیے اس کے کفن کو تار تار کر دیا… اور وہ تصویر دنیا کے تمام اخبارات میں شایع ہوئی… اس کا جو مقبرہ بنایا گیا ہے… اس پر تعمیراتی اخراجات سات ارب ڈالر سے زیادہ آئے. اور یہ گولڈن گنبد جو ایران کا سب سے بلند ترین گولڈن گنبد ہے… یہ ایسے ملک میں موجود ہے جہاں بارہ ملین ( ایک کروڑ بیس لاکھ ) سے زیادہ انسان بیروز گاری کی اذیت میں مبتلا ہیں… اس گولڈن گنبد کو روح الاسلام کے نام سے موسوم کیا گیا۔

رافضیوں کے باپ خمینی کے جہنم کے سفر کا منظر …

ساری زندگی کتوں کی طرح صحابہؓ پر بھونکنے والے کا اخروی انجام اللہ نے اسی دنیا میں دکھا دیا .. لعنت اللہ علی الرفضین

اس کی وفات کے بعد شیعوں نے اس کا جنازہ لے جاتے ہوئے تین بار گرایا یہاں تک کہ اس کے جسم پر کوئی کفن ہی نہ رہا ۔

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَاَعْمٰٓى اَبْصَارَهُمْ 23

یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو اندھا اور بہرا بنا دیا ہے

خمینی کی منافقت

زیارات مقدسہ سے بڑھ کر اپنے عمامہ کو اہمیت دی!!!

🔰 خمینی نے زیارت کربلا کے لئے بھی لمحه بهر کے لئے اپنے سر سے عمامہ اتارنے سے انکار کردیا

جبکہ

💠 عراقی سفیر اس بات پر مصر رہا کہ ویزہ کے لئے لی جانے والی تصویر عمامہ کے بغیر ھونی چاھیے..

👈 نقل قول آغا بھجت

💠 مرحوم آغا بھجت کہتے ہیں کہ خمینی کربلا ونجف کی زیارات پر جانا چاھتے تھے

👈 ویزہ کے لئے لی جانے والی تصاویر کی خاطر ان سے عمامہ اتارنے کا کہا گیا تو انہوں نے انکار کردیا عمامہ نہیں اتارا اور زیارات مقدسات پر جانے کے قصد سے دستبردار ہوگئے لیکن اپنے سر سے عمامہ اتارنا گوارا نہ کیا👉

آغا بھجت اس بات پر فرماتے ہیں کہ

👈 لوگ اپنے اماموں کی زیارت کے لئے اپنے ھاتھ پاؤں کٹوانے کے لئے تیار ہیں لیکن خمینی نے ایک لمحہ کے لئے اپنے سر سے عمامہ اتارنا گوارا نہیں کیا👉

📚 درر الحکمۃ صفحہ 404_ 405

✔ اسکن کتاب:

 لنک

🔴 زیارات پر جانے والے رافضیوں سے گزارش ہے کہ خمینی کی سنت پر عمل کریں عمامہ مت اتاریں عمامہ کو سر کا تاج سمجھیں اور کربلا کی خاطر سر کا تاج مت اتاریں

ایک اور حقیقت!!!

👈 مقام حیرت یہ ہے کہ کربلا کی زیارت کی خاطر عمامہ نہ اتارنے والے خمینی نے ترکی میں اقامت حاصل کرنے کے لئے ان کے قانون کے مطابق اپنا عمامہ اتار دیا اور پورے گیارہ مہینے تک ترکی میں بغیر عمامے کے رہے

اور خدا جانے اس وقت عمامہ کہاں پر رہا❓

افلا تتفکرون⁉