اہل سنت کتب میں سیدنا علی اور حسنین کریمین کی روایات کم اور حضرت ابوہریرہ ، عبداللہ ابن عمر اور سیدہ عائشہ صدیقہ سے روایات زیادہ کیوں ہیں؟

شیعہ اعتراض  

اہل سنت کی حدیث کی کتابوں میں حضرت ابو ہریرہ, عبداللہ بن عمر, حضرت عائشہ وغیرہم سے کثرت سے احادیث رسول منقول ہیں حضرت علی ؓ فاطمہ زہراء ع حسن ع حسین ع سے احادیث کثرت سے بیان نہیں ہوئیں جبکہ رسول ﷺ نے فرمایا انا مدینة العلم علی بابھا اعلم امتی علی ابن ابی طالب وغیرہا کثرت سے ملتی ہیں کیا حضرت علی ع کو رسول اللہ کے پاس رہنے کا موقع کم ملا تھا

الجواب

اللہ تعالی نے فطری اصول کے موافق ہر صحابی کو ایک دوسرے سے مختلف اور متنوع قسم کی خوبیوں سے نوازا تھا۔

یقینا مذکورہ بالا صحابہ کرام سے اہل سنت کتب میں کثرت کے ساتھ روایات بیان کی گئی ہیں ان حضرات کے اہل بیت سے تقابل کی کیا ضرورت ہے۔

غور کریں۔۔خلفاء راشدین اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اتنے اجل علماء ہونے کے باوجود ان مکثرین میں شامل نہیں ہیں

دراصل کثرت روایت کا مدار علو و مرتبت نہیں ہے بلکہ دیگر وجوہ ہیں ان میں شغل وعمر وغیرہ کا بڑا حصہ ہے۔

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو صحابہ “اعلمنا” ہم میں زیادہ علم والےکہتے ہیں،  ان سے بھی امور خلافت میں مشغولیت کی وجہ سے کم روایات مروی ہیں۔

حضرت عمر فاروق  و عثمان غنی سے حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہم سے بھی کم روایات مروی ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دیگر امور میں مصروفیت اور اپنے دور خلافت میں فتنہ خوارج اور روافض کے رد و ابطال میں مصروف ہونے کی وجہ سے روایات ان سے بھی کم مروی ہیں۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حضور اکرم ﷺ کے وصال بکمال کے بعد چھ ماہ قید بحیات رہیں مگر وہ بھی بقول شیعہ یہ سارا عرصہ خلافت اور باغ فدک کے چھن جانے کے غم میں ، جبکہ اہل سنت کے مطابق فراق نبی کریم کے غم میں گزارا اس اعتبار سے زیادہ مرویات ان سے مروی نہیں پھر عرصے کی قلت کی وجہ سے ہی مسئلہ واضح ہے۔

اسی طرح حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کا معاملہ رہا کہ ان کے ادوار میں متعدد مسائل درپیش رہے اور وہ ان میں مشغول رہے قصہ مختصر کثیرو قلیل روایات کی وجوہات ہر صحابی کی اپنی ضروریات اور مسائل پر موقوف ہیں ویسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اہل سنت نے بکثرت احادیث اور روایات روایت کی ہیں مسند احمد میں آپ کی مرویات کی تعداد 810 ہے مزید تہذیب التہذیب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تلامذہ کا تفصیلی ذکر اور ان سے مروی روایات کا ذکر موجود ہے۔

اب ہم شیعہ سے سوال بصورت چیلنج کرتے ہیں کہ تمہاری کتب اصول اربعہ میں براہ راست بواسطہ حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت ابوذر غفاری، حضرت مقداد، حضرت سلمان رضی اللہ عنہم سے  رسولﷺ کی کتنی احادیث مروی ہیں؟؟

  حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کتنی ہزار احادیث مروی ہیں؟

 حضرت حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے کتنی روایات مروی ہیں؟

تمہاری روایات کا 95 فیصد ذخیرہ حضرت امام باقر اور حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ سے مروی ہے جنہوں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ تو ایک طرف  حسنین کریمین کو بھی نہ دیکھا اور ان کو تابعیت کا شرف بھی ان اصحاب اکرام کی زیارت سے ملا جن کو تم شیعہ مسلمان بھی نہیں مانتے!!

ان کی اکثر روایات اپنی فرمودہ ہیں کچھ مرسل اور منقطع ہیں اب اس اعتبار سے ہم پوچھتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہ کا علم مبارک امام جعفر صادق سے کم تھا یا اہل بیت صحابہ کو حضور ﷺ کی صحبت کم نصیب رہی اور امام باقر اور امام جعفر صادق رحمہ اللہ کو زیادہ ملی اسی لئے شیعہ کا اعتراض و استدلال باطل و مردود ہے۔