اہل تشیع اور تحریف القران:توقیر احمد

اہل تشیع اور تحریف القران

👈توقیر احمد

💖بنام مفتی عبدالعزیز عزیزی صاحب دامت برکات

فہرست ۔۔۔

🌹 معنوی تحریفات اہل تشیع

🌹لفظی تحریفات اہل تشیع

🌹متاول مصحف کی موجودگی

🌹مصحف علی ؓ 

🌹مصحف فاطمہؓ 

🌹شیعہ کاعقیدہ کہ قرآن مجید صرف ایک نگران کے ساتھ ہی قابل حجت ہے 

🌹صرف آئمہ ہی معرفتِ قرآن کا ملکہ رکھتے ہیں  

🌹امام کا قول قرآن کو منسوخ کر دیتا ہے 

🌹علیؓ ہی مفسر القران 

🌹متقدمین شیعہ اقرار تحریف القران 

🌹متقدمین شیعہ کا انکارتحریف القران

🌹موخرین شیعہ کا اقرارتحریف القران

🌹متاخرین شیعہ کاانکارو تاویلات تحریف القران 

🌹امام العجل کا اصلی قران کو لانا 

🌹ابتداء نظریہ تحریف القران 

🌹خلاصہ۔

🌹نتیجہ

اہل تشیع کی قران میں معنوی تحریف

(معنوی تحریف)

شیعہ کے ہاں یہ نظریہ قرآن کےباطنی معنی کے طور پر مشہور ہےاور اس نظریہ کے نتیجے میں شیعہ کے ہاں کتاب اللہ ایسی شکل اختیار کر چکی ہے جو موجودہ قرآن سے بالکل مختلف ہے شیعہ حضرات معنوی طور پر قرآن میں موجود ارکان دین کی تفسیر مندرجہ ذیل معنی میں کرتے ہیںں

👈ارکان دین کی تفسیر ائمہ شیعہ سے کرتے ہیں 

👈کفروشرک والی آیات کی تفسیر علی رضی اللہ تعالی عنہ کی امامت و ولایت میں شرک سے کرتے ہیں 

👈حلال و حرام کی آیات کی تفسیر ائمہ شیعہ اور ان کے دشمنوں سے کرتے ہیں 

ان معنوی تحریف شدہ تفسیروں کو پڑھنے والا

اخرکارقیاس باطلہ تاویل باطلہ کو ہی اصل معنی شمار کر لیتا ہےاوراہلبیت کے نام پر گمراہ ہو جاتاہے اور اس کواسلام شریعت اہلبیت واصحاب رسول ورسول صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کے مراتب میں کوئی فرق نظر نہیں آتا اور

نتیجتا۔ صرف بارہ آئمہ کوماننے اور اصحاب رسول وباقی اہلبیت

کوکافر زندیق مرتد کہنے لگتا ہے

👈معنوی تحریف کی روایات      

👈محمد بن منصور بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک بندے سے اللہ تعالی کے اس فرمان 👈قل انماحرم ربی الفواحش۔ ۔۔۔۔

اعراف33۔۔۔۔۔کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا یقینا قرآن کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے قرآن میں اللہ تعالی کی حرام کردہ تمام چیزیں ظاہر ہیں اور اس حرام کا باطنی معنی آئمہ استبداد ہیں اسی طرح قرآن میں اللہ تعالی کے حلال کردہ تمام چیزیں ظاہر ہے اوراس حلال کا باطنی معنی آئمہ حق ہیں

👈الکافی جلد 1 صفحہ 373 

👈الغیبۃ صفحہ 83 

👈تفسیر العیاشی جلد 2 صفحہ 16 

بحارالانوار کےمؤلف نے ایک باب ھی اسی عنوان سے قائم کیا ہے

👈باب ان للقران ظھرا مؤلف بحارالانوار نے اس باب میں 84 روایات ذکر کی ہیں اس کے علاوہ بہت زیادہ کثیر تعداد میں روایات کتاب الامامة کے مختلف ابواب میں ذکر کی ہیں 

👈بحارالانوار جلد 92 ص 78۔ ۔۔  106 

👈تفسیرالبرھان کے مؤلف نے بھی اسی نام سے ایک باب قائم کیا ہے 👈باب ان القران لہ ظہر وبطن تفسیر برہان کے مقدمہ میں اس مسئلے پر تفصیلی بات کی گئی ہے مقدمہ میں پانچ فصلیں قائم کی ہیں جن میں اس مسئلہ کے بارے میں اپنے ائمہ کی روایت ذکر کی ہے 

👈مراةالانوار صفحہ 4 تا 19 

👈تفسیر القمی جلد 1 صفحہ ۔14 ۔16 

👈تفسیر عیاشی جلد 1 صفحہ 11  

👈تفسیر الصافی جلد1 صفحہ 29 

ان تمام تفسیروں میں معنوی تحریف پر کلام کیا گیا ہے 

👈روایت۔۔۔ان القران ظھرا وبطنا وببطنہ بطن الی سبعة ابطن 

ترجمہ۔۔۔۔یقینا قرآن کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے اور اس کے باطن کے ایک سے لے کر سات تک باطن ہیں 

👈تفسیر الصافی جلد 13/1  

👈روایت۔۔۔۔یقینا آیت کا پہلا حصہ کسی شے کے بارے میں ہوتا ہے اور دوسرا حصہ کسی اور شے کے بارے میں ہوتا ہے یہ باہم ملا ہوا کلام ہے جو کتنے پہلو پر پھرتا ہے

👈تفسیر العیاشی جلد1 صفحہ 11 

👈المحاسن للبرقی صفحہ 300 

👈البرھان جلد 1 صفحہ 21 20    

👈الصافی جلد 1 صفحہ 29 

👈بحارالانوار جلد 92 صفحہ 95 

👈وسائل الشیعہ جلد 18 صفحہ 146 

👈روایت۔۔۔۔کلام الہی کی ہر آیت کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے بلکہ مشہور روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر آیت کے سات بطون اور ستر باطن ہیں 

👈مراۃ الانوار صفحہ 3 

👈اہل تشیع کا دعوی ہے کہ بیشتر قرآن مجید شیعہ کے دشمنوں کے بارے میں نازل ہوا ہے 

👈تفسیر صافی جلد 1 صفحہ 24 

👈شیعہ عالم بحرانی کا دعوی ہے کے تنہا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا قرآن مجید میں 1154 مرتبہ ذکر کیا گیا ہے اور اس نے اس کے بارے میں مستقل ایک کتاب تالیف کی ہے جس کا نام 👈اللوامع النورانیة فی اسماءعلی واھل بیتہ القران   👈تعرف کتاب یہ شخص اس کتاب میں عربی لغت کے ہر قاعدے قانون کو توڑتا عقل و منطق کے ہر اصول سے تجاوز کرتا اور اس کتاب میں رقم کردہ تحریفات کے ذریعے اپنی قوم کو رسوا کرتا ہےیہ تاویلات اور تحریفات اس سے قبل مختلف مقامات پر بکھری ہوئی اور غیر معروف تھی لیکن اس نے انہیں شیعہ کے مختلف۔ ۔ مصادر  سے نقل کرکے ایک جگہ جمع کر دیا ہے 

👈روایت۔۔۔۔قرآن چار حصوں میں نازل ہوا ہے ایک حصہ ہمارے متعلق ہے دوسرا حصہ ہمارے دشمنوں کے بارے میں ہے تیسرا حصہ سنن وامثال ہیں اور چوتھافرائض واحکام کے بارے میں ہے 

👈الکافی جلد 2 صفحہ 627 

👈البرھان جلد 1 صفحہ 21 

 روایت۔۔۔۔۔ولناکرائم القران 

یعنی قرآن کے عمدہ اور بہترین مقامات ہمارے لئے ہیں

👈تفسیر عیاشی جلد 1 صفحہ 19 

👈تفسیر الفرات صفحہ 1 اور 2 

👈بحار الانوار جلد جلد 24 صفحہ 305 

👈کنز الفوائد صفحہ 2 

👈تفسیرالبرھان جلد1 صفحہ 

21 

👈اللوامع النورانیہ صفحہ 7 

 👈الوافی کا مولف شیعہ عالم فیض الکاشانی کہتا ہے اہلبیت سے بکثرت ایسی روایات مروی ہیں جن میں انہوں نے قرآنی آیات کی اپنے اور اپنے اولیاء اور اپنے مخالفین کے ساتھ تفسیر بیان کی ہے حتی کہ ہمارے اسلاف نےبے حساب کتب تالیف کی ہیں جن میں انہوں نے قرآن کی تاویل میں اہل بیت سے جو کچھ مروی ہے اسے ترتیب قرآن کے مطابق ایک ایک آیت کر کے جمع کیا ہے جوان ائمہ شیعہ کے اور ان کے متبعین کے بارے میں ہے یا ان کے دشمن سے متعلق ہے میں نے ان میں سے ایک کتاب دیکھی ہے جو تقریبا بیس ہزار اشعار پر مشتمل ہے اسی طرح اصول کافی تفسیرعیاشی تفسیر قمی اور ابو محمد زکی سے سماعت شدہ تفسیر میں اس قسم کی بہت زیادہ روایات ہیں 

👈تفسیر الصافی جلد 1 صفحہ 24 25 

👈الکافی میں اس بارے میں بہت سی روایات مروی ہیں جس کا اگر آپ مطالعہ کریں 

👈باب فیہ نکت ونتف من التنزیل فی الولایة اس باب میں قرآن مجید سے ولایت کے متعلق نکات اور معارف کا بیان اسباب میں ننانویں 99 روایات جمع  کردی ہیں آپ اسی باب میں طرح طرح کی معنوی تحریفات ملاحظہ فرماسکتےہیں 

👈الکافی جلد 1 صفحہ 412 

اس کے علاوہ اور بہت سارے ابواب مذکور ہیں 

👈باب ان الآئمة العلامات التی ذکرھا اللہ عزوجل فی کتابہ

👈ان الایات التی ذکرھافی کتابہ ھم الائمة 

👈ان اہل الذکر الذین امر اللہ الخلق بسوالھم ھم الائمة

👈ملا باقر مجلسی نے کتاب بحارالانوار کی جلد 23 اور 24 میں معنوی تحریفات کےبہت سارے باب قائم کیے ہیں 

👈باب تاویل المومنین ولایمان والمسلمین والاسلام بھم وبولایتھم الکفار والمشرکین والکفر والشرک الجبت والطاغوت واللات والعزی والاصنام باعدائھم ومخالفتھم 

یعنی اس باب میں یہ بیان ہوگا کہ قرآن مجید میں ایمان اور مومنین اور اسلام اور مسلمین سے مراد آئمہ اور ان کی ولایت ہے جبکہ کفار مشرکین کفر شرک جب طاغوت لات عزی اور اس نام سے مراد آئمہ شیعہ کے دشمن اور ان کے مخالفین مقصود ہیں پھر مؤلف نے اس باب کے تحت سو 100احادیث ذکر کی ہیں  

👈یعنی اس باب میں یہ بیان ہوگا کہ قرآن مجید میں ابرار متقی اور صابر مقربین سے ائمہ شیعہ اور اصحاب الیامین سے ان کے پیروکار مراد ہیں جبکہ ان کے دشمن فجار اور اشرار اور اصحاب الشمال ہیں مولف نے اس باب میں پچیس شیعی روایات ذکر کی ہیں   

👈جلد 23تا 24ملاحظہ فرمائیں

👈شیعہ عالم حرالعاملی نے فصول المھمة فی اصول الائمة میں متقدمین کی طرح ابواب قائم کیے ہیں 

👈الفصول المھمة۔ ص 256

💔کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں …….   

👈تبصرہ۔۔۔۔

شیعہ مذہب کا دارومدار صرف امامت ۔آئمہ۔اور تبراہ کے گرد گھومتاہے۔ لیکن قرآن مجید یقینی طور پر شیعہ کے بارہ اماموں کے ذکر اور ان کے دشمنوں کے خلاف کسی واضح دلیل سے خالی ہے اسی امر نےشیعہ لوگوں کا سکون و اطمینان خراب اور ان کا معاملہ تباہ و برباد کر دیا ان لوگوں نے خود بھی یہ صراحت کی ہے کہ قرآن مجید آئمہ کے ذکر سے خالی ہے 👈وہ کہتے ہیں اگر قرآن کو ویسے پڑھا گیا ہوتا جیسے یہ اتارا گیا تھا تو اس میں ہمارا نام بنام ذکر ہوتا 

👈تفسیر عیاشی جلد 1 صفحہ 13 

👈بحارالانوار جلد 19 صفحہ 30 

👈البرھان جلد 1  صفحہ22

تو جب ان کے مذہب کی بنیاد امامت اورائمہ کا قرآن مجید میں کوئی ذکر ہی نہیں تھا تو ان لوگوں نے اپنے فریب خوروں کومطمئن کرنے اور سیدھا سادہ لوگوں اور جاہلوں کے درمیان اپنا مذہب رائج کرنے کے لیے اس رائے کو اختیار کیا ہےاس رائے کو مقبولیت دینے کے لیے حسب عادت اسے بعض اہل بیت کی طرف منسوب کر دیا یہ مسئلہ یقینا آیات قرآن کا ایک باطن ہے جو ان کے ظاہر کے مخالف ہیں کتب شیعہ میں اتنا پھیلا حتی کہ ان کے مذہب کا بنیادی اصول قرار پایا جیساکہ ماقبل میں ہم ان کی کتابوں کے حوالے اورچندروایات نقل کرچکےہیں

نتیجہ۔۔۔۔۔ یقینا قرآن عظیم میں اسرار توجیہات اشارات اور کنایات موجود ہیں یہ ایسا سمندر ہے جس کے خزانے اور عجائب کم ہوتے ہیں نہ اس کے اعجاز ہی کی کوئی انتہا ہے بہرحال ان تمام اشیاء کے لئے الفاظ میں گنجائش ہوتی ہے اور یہ عام معنی کی حدود سے باہر نہیں ہوتی لیکن ان باطینیوں  کا دعوی اس مقصد سے نہ آشنا ہے درحقیقت یہ اجنبی تاویلات جیسا کہ آگے ہم نے چند آیات نقل کی ہیں قرآنی الفاظ کے مدلولات ۔ مفہوم اور سیاق سے کوئی میل نہیں کھاتی بلکہ یہ مکمل طور پر قرآنی آیات کی مخالفت کرتی ہیں جن کا ہدف محض قرآن میں ایسی دلیل کو تلاش کرنا ہے جو انکے شذوذ کی تائید کرے اور اس کی غرض و غایت صرف کتاب اللہ اور دین الہی سے روکنا ہے 👈نیز نصوص شریعت کی تاویل میں اس باطنی نقطہ نظر کا نتیجہ مکمل طور پر دین سے باہر ہونا ہے 

👈فتح الباری لابن حجر جلد 1 صفحہ 216 

👈شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں جس نے باطنی معنی  کو جان لینے کا دعوی کیا جو ظاہر علم کے خلاف ہوتا ہے تو وہ خطاکار ہے جو ملحد زندیق ہے یا ضلالت کا شکار ایک جاھل ہے باطن جو ظاہری طور پر معلوم ہونے والی بات کے مخالف ہوتا ہے اس کی مثال اسماعیلیہ اور نصیریہ جیسے فرقوں میں سے باطنیہ قرامطہ کےدعوی جات ہیں 

👈پھر فرماتے ہیں وکل شئ احصیناہ فی امام مبین کی تفسیر میں علی رضی اللہ عنہ مراد لیتے ہیں 👈فقاتلوا ائمۃ الکفر سے طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہ مراد لیتے ہیں 👈الشجرۃ الملعونۃ فی القران سے بنو امیہ مراد لیتے ہیں 

👈مجموع الفتاوی جلد 13 صفحہ 236 237 

 👈پہلی آیت۔۔۔۔

 ۔۔۔۔۔۔ إِنَّ ٱلَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ ٱلْقُرْءَانَ لَرَآدُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍۢ ۚ

👈(القصص – 85)

👈ترجمہ۔۔۔۔۔بے شک جس نے تجھ پر یہ قرآن فرض کیا ہے وہ ضرور تمہیں ایک لوٹنے کی جگہ کی طرف واپس لانے والا ہے 

👈اس آیت سے سب سے پہلے استدلال کرنے والا عبداللہ ابن سبا یہودی تھا جس نے نظریہ رجعت کو ایجاد کیا اور سب سے پہلے اس آیت سےتاویل کے ذریعے  استدلال کرنے کی کوشش کی جیسا کہ وہ کہتا تھا اس شخص پر بڑا تعجب ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ عیسی علیہ الصلوۃ والسلام دوبارہ دنیا میں لوٹیں گے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دوبارہ لوٹنے کا انکار کرتا ہے حالانکہ اللہ جل شانہٗ نے فرمایا ہے ماقبل آیة۔

👈إِنَّ ٱلَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ ٱلْقُرْءَانَ لَرَآدُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍۢ ۚ 

(القصص – 85)

👈المقالات والفرق صفحہ-20 

👈اکمال الدین صفحہ 425 435 

👈فرق الشیعۃ صفحہ 22 23 

👈رجال الکشی صفحہ 106 ۔108 ۔305

الروایات۔ 170۔ 171۔ 172۔ 173 174۔ 

👈رجال کشی صفحه 108 

عبداللہ ابن سبا کے بارے تفصیل ہم ابتداء شیعت ۔شیعہ کا چوتھا اصول الدین امامت ۔شیعت قدیم فلسفوں کی آماجگاہ میں لکھ چکے ہیں 

👈رجعت دیگر ادیان میں
عہد عتیق میں رجعت کے موضوع کی طرف اشارہ ہوا ہے منجملہ حزقیال نے بنی اسرائیل کے زندہ ہوجانے اور آخر الزمان میں داؤد(ع) کی حکومت کی طرف اشارہ کئے ہیں

 👈عهد عتیق 37: 21-27

 امو دانیال نے بھی کہا ہے: آخر الزمان میں ـ وہ جو مٹی میں سو چکے ہیں ـ جاگ اٹھیں گے

 👈عهد عتیق 12: 1-3

عہد جدید میں بھی قیامت ثانیہ سے پہلے، مسیح کی  حکومت اور ان کے آباء و اجداد کے زندہ ہوجانے کی طرف اشارے ہوئے ہیں۔

👈مکاشفه یوحنا 20: 4-6

👈اللہ نے آئمہ کو خلیفہ بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ رجعت کے بعد کا ہے نبوت کے بعد بلافصل نہیں ہے   

👈خلاصہ ۔۔۔۔قران کی آیت سے تاویل باطلہ کے زریعے سب سے پہلا شخص عبداللہ ابن سباء تھا جس نے اس آیت تاویل پیش کی اور اس سے عقیدہ رجعت استدلال کیا

👈Surat No 28 : Ayat No 85 

اِنَّ الَّذِیۡ فَرَضَ عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ؕ قُلۡ رَّبِّیۡۤ  اَعۡلَمُ مَنۡ جَآءَ بِالۡہُدٰی وَ مَنۡ ہُوَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۸۵﴾

جس اللہ نے آپ پر قرآن نازل فرمایا ہے  وہ آپ کو دوبارہ پہلی جگہ لانے والا ہے کہہ دیجئے کہ میرا رب اسے  بھی بخوبی جانتا ہے جو ہدایت لایا ہے اور ا سے بھی جو کھلی گمراہی میں ہے ۔  

👈بہت ساری احادیث میں منقول ہے کہ مراد رجعت حضرت رسول است بسوے دنیا

👈اس آیت سے مراد حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا کی طرف رجعت کرنا یعنی واپس آنا ہے 

👈حق الیقین فارسی صفحہ 337 

👈ترجمہ مقبول صفہ 788 

👈تفسیر قمی صفحہ 505 

👈تفسیر صافی جلد 2 صفحہ 280 

👈تفسیر نور ثقلین جلد 4 صفحہ 144 

👈تفسیر المتقین صفحہ 513 

ان تمام تفاسیر میں شیعہ مفسرین نے اپنے ائمہ معصومین کی طرف روایات منسوب کرکے اس بات پر زور دیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رجعت کرکے یعنی دنیا میں واپس آئیں گے 

👈تبصرہ۔ ۔

شیعہ مصنفین قرآن مجید کی اس آیت کریمہ سے رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی رجعت اپنے اماموں کے اقوال کے ذریعہ سے ثابت کرتے ہیں پھر اس رجعت میں اپنے اماموں سے یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بارہویں  امام کی بیعت کریں گے  

جیسا کہ ملاباقرمجلسی نے امام محمد باقر رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرکے لکھا ہے کہ جب قائم آل محمد غار سے باہر آئیں گے تو خدا اس کی ملائکہ سے مدد کرے گا اور سب سے اول محمد رسول اللہ صلی اللہ وسلم اس کی بیعت کریں گے اور اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ لیکن باوجود اس کے جھوٹ کو کتنا ہی مزین کرکے پیش کیا جائے پھر بھی جھوٹ سچ نہیں ہو سکتا 

خود شیعہ مصنفین نے انکشاف کیا ہے کہ یہ عقیدہ بھی عبداللہ بن سبا یہودی کا گھڑا ہوا ہے اس نے اسلام قبول کیا اور علی سے محبت کا اظہار کیا جب وہ یہودی تھا یوشع بن نون سے متعلق یہی کہتا تھا کہ وہ موسی علیہ السلام کے وصی ہیں پھر وفات نبوی کے بعد اسلام قبول کرکے یہی بات علی رضی اللہ عنہ کے حق میں کہنے لگا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں اس شخص نے سب سے پہلے علی بن ابی طالب کی امامت کے لزوم کا قول ذکر کیا اور ان کے دشمنوں سے براة ظاہر کی اور انہیں کافر قرار دیااور حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد ان کی رجعت کا سب سے پہلا قائل ہوا اسی بنیاد پر شیعہ کے مخالفین نے کہا ہے کہ رافضی مذہب دراصل یہودیت سے ماخوذ ہے 

👈المقالات والفرق صفحہ-20 

👈👈اہلسنت تفاسیر 

امام رازی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے شان نزول کے متعلق لکھا ہے ۔

👈انہ علیہ السلام خرج من الغار۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈ترجمہ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے وقت غار سے نکل کر مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام جحفہ۔ پرائے اور مکہ کی طرف جانے والے راستے کو پہچان لیا تو مکہ کی محبت کا جوش و بھر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اور اپنے والد گرامی کی جائے پیدائش کا محبت سے تذکرہ کیا تو جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے شہر اور اپنی جائے پیدائش کے اتنے ہی مشتاق ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اتنی ہی محبت ہے تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ 👈ان الذی فرض ۔۔۔۔ایة یعنی جزات نے قرآن کو پہنچانا آپ پر فرض کیا ہے جس کی وجہ سے آپ مکہ چھوڑنے پر مجبور کئے گئے وہ ذات ضروربالضرور آپ کو اس معاد یعنی مکہ کی طرف لوٹ آئے گی وہ بھی اس حال میں کہ آپ ان پر غالب ہوں گے اسلام کی عزت کا اظہار ہوگا اور کافروں کی ذلت ہوگی اور یقینا ہوابھی اسی طرح اگرچہ معادسے مرادبعض  نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور بعض نے جنت اور بعض نے مقام محمود لیا ہے لیکن سب سے زیادہ آیت کے ظاہری معنیٰ کے اعتبار سے یہی زیادہ موافق ہے کہ اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کی خوشخبری دی گئی ہے  

👈تفسیر کبیر جلد 25 صفحہ 21 

👈تفسیر البدیع جلد 2 صفحہ 94 

👈تفسیر ابن کثیر جلد 3 صفحہ 534 

👈تفسیر ابن عباس صفحہ 434 

👈صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 703 

👈👈اہل تشیع تفاسیر 

👈تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ میں معادسے مراد مکہ کی طرف لوٹنا ہے 

👈وقیل الی معاد الی الموت۔ وقیل الی المرجع یوم القیامة۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔  ۔ ۔ 👈ترجمہ۔ بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ معاد سے مراد موت کی طرف لوٹنا ہے اور بعض نے کہا کہ قیامت کے دن کو مرجع کہا گیا ہے یعنی موت کے بعد آپ کو وہاں لوٹآئے گا  جہاں سے آپ آئے ہو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنت کے طرف لوٹانا مراد ہے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ وہ آپ کو وفات دے گا اور وہ آپ کے جنت میں داخل ہونے کا باعث ہوگی لیکن آیت کا ظاہر تقاضہ یہ ہے کہ آپ کو مکہ کی طرف لوٹائے گا 

👈تفسیر مجمع البیان جلد 7 صفحہ 259 

👈تفسیر نمونہ جلد 9 صفحہ 161 

👈تفسیر المیزان جلد 16 صفحہ 88 صفحہ 141  

👈تفسیر التبیان جلد 8 صفحہ 162 

👈تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 134 

👈تفسیر فرمان علی صفحہ 631 

👈نتیجہ۔۔۔۔۔ان تمام تفاسیر میں مختلف اقوال ذکر کیے ہیں معاد  سے مراد موت قیامت جنت مقام محمود مکہ کی طرف لوٹنا لیکن تمام مفسرین خواہ وہ مسلمان ہوں یا شیعہ مفسر آخر میں سب نے اقتضاءالنص سے مکہ کی طرف لوٹنے کو ترجیح دی ہے اور اس آیت کریمہ کو رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی رسالت پر دلیل کے طور پر ذکر کیا ہے کہ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائیں ٹھیک  اسی طرح کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی طرف لوٹے اور ہوا بھی اسی طرح کہ آپ شان و شوکت سے مکہ کی طرف لوٹ آئے اور بغیر کسی لڑائی کے فتح مکہ ہوا اسلام کی عزت ظاہر ہوئی اور کفر ذلیل ہوا یہی ہے اس آیت کی حقیقت جس میں رسول اللہ صلی اللہ وسلم کا وفات کے بعد دنیا میں واپس آنے کا اشارہ تک نہیں ہے لیکن شیعہ مفسرین کی کوشش یہ ہے کہ اس آیت کریمہ کی اصل حقیقت کو بگاڑ کر سینہ زوری سے اپنا مصنوعی  عقیدہ رجعت ثابت کریں لیکن آئی تک یہ حقیقت کھل کر سامنے آئیں اور شیعوں کا مصنوعی عقیدہ رجعت ثابت نہ ہوسکا 

👈دوسری آیت۔۔۔۔۔۔

Surat No 27 : Ayat No 82 

وَ  اِذَا  وَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَیۡہِمۡ اَخۡرَجۡنَا لَہُمۡ  دَآبَّۃً مِّنَ الۡاَرۡضِ تُکَلِّمُہُمۡ ۙ اَنَّ النَّاسَ  کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾          

جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائے گا ،   ہم زمین سے ان کے لئے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرتا ہوگا  کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے ۔  

👈بہت ساری احادیث میں مذکور ہے کہ یہ دابہ جانور علی علیہ السلام ہے 

جو قیامت کے قریب ظاہر ہوگا 

👈حق الیقین فارسی صفحہ 336 

👈تفسیر قمی 

👈ترجمہ مقبول 

👈تفسیر مجمع البیان 

👈ترجمہ فرمان علی 

👈تفسیر عیاشی 

ان تمام تفاسیر میں یہی بات لکھی ہوئی ہے اس آیت کی تفسیر میں دابہ یعنی جانور سے مراد حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام ہے جو زمین سے نکلے گا اور اس کے ہاتھ میں عصا موسی اور انگشتری سلیمان ہوگی۔

👈تبصرہ۔ 

 ملاباقرمجلسی نے سورہ نمل کی آیت نمبر 82 اور 83 سے اپنے مصنوعی عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے صرف باقرمجلسی ہی نہیں بلکہ شیعوں کے بہت سارے مفسرین نے ان آیات کو رجعت پر چسپاں کر کے اپنے ائمہ معصومین کی طرف منسوب کرکے لکھا ہے کہ ان آیات میں رجعت کا ثبوت ہے  جبکہ ہردوایات میں سے کسی ایک میں بھی رجعت کا ذکر نہیں ہے آیت نمبر 83 میں ہے کہ جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے ان میں سے ہر گروہ سے ایک ایک کو جدا کرکے ان کی علیحدہ ٹولیاں کرکے ان کو جمع کیا جائے گا اس سے آگے ہے کہ 👈حتی اذا جاوء۔ ۔۔۔۔حتیٰ کہ جب وہ سارے آئیں گے تو اللہ تعالی انکو فرمائے گا 👈اکذبتم بایاتی کیا تم ہی تھے جو میری آیات کو جھٹلاتے تھے ؟؟

اور جب ان پر عذاب کا قول ثابت ہوگا اپنے ظلم کی وجہ سے 👈فھم لا ینطقون ۔تو وہ کچھ بول بھی نہیں سکیں گے 

👈النمل آیت 83 84 85 

اس آیت کریمہ کی تفسیر قرآن کی دوسری آیات سے واضح ہوتی ہے 

👈کماقال اللہ فوربک لنحشرنھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الایة

اے رسول تیرے رب کی قسم ہے ہم ان کو اور شیاطین کو اکھٹا کریں گے پھر سب کو جہنم کے گرداگرد گھٹنوں کے بل حاضر کریں گے 

👈ثم لننزعن من کل شیعة ایھم اشد علی الرحمان عتیا۔ ۔

پھر ہر گروہ میں سے ایسے لوگوں کو علیحدہ کریں گے جو دنیا میں بنسبت دوسروں کے اللہ کے زیادہ نافرمان تھے پھر ان لوگوں میں سے جو زیادہ سزا کے لائق ہیں ہم ان کو بخوبی جانتے ہیں اس لئے انکی جدا ٹولیاں بنا کر جدا سزائیں دیں گے 

👈مریم آیت نمبر 68۔69۔70

 اس حقیقت کے ظاہر ہونے کے بعد شیعوں کا مصنوعی عقیدہ رجعت ثابت نہیں ہوتا 

 اور مجلسی کی پیش کی ہوئی دوسری آیت یعنی سورہ نمل کی آیت نمبر 82 میں زمین سے ایک جاندار کے نکلنے کا ذکر ہے جو اللہ تعالی کی قدرت سے فصیح عربی زبان میں کلام کرے گا لیکن شیعہ مصنفین نے اس جاندار حیوان کو حضرت علی رضی اللہ عنہٗ بناکر اپنے مصنوعی عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے 

درحقیقت علی رضی اللہ عنہ کو دابۃالارض کہنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بڑی گستاخی ہے لہٰذا ہم اس آیت کریمہ کے متعلق مفسرین حضرات کے اقوال نقل کرکے دابۃ الارض کو واضح کرتے ہیں 

شیعہ مفسرین اور مسلمان مفسرین دونوں کے اقوال نقل کریں گے 

👈دابۃ الارض کی تحقیق 

👈مسلمان مفسرین کے اقوال 

👈تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ 👈ھی دابة ذات نرغب لھا اربع قواعم۔ ۔۔۔۔۔ترجمہ۔ ۔۔دابہ چار پاؤں والا جانور ہے اس کے جسم پر بہت سارے بال ہوں گے اور ابن زبیر نے اس دابہ کے اوصاف اس طرح بیان فرمائے ہیں۔کہ اس کا سر بیل کی طرح آنکھیں خنزیرکی طرح کان ہاتھی کی طرح سینہ شیر کی طرح گردن نعام پرندے کی طرح اور ٹانگیں اونٹ کی طرح ہیں اس کے ہر ایک جوڑ کے درمیان 12 ہاتھ کا فاصلہ ہوگا اس کے ساتھ حضرت موسی علیہ السلام کا عصا اور سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ہوگی وہ لوگوں سے کلام بھی کرے گا اور ان پر نشان بھی لگائے گا۔

اس نشان سے مومنین کے چہرے سے نور چمکے گا اور ان پر لکھا جائے گا 👈ھٰذا مومن حقا اور کافروں کے چہرے پر لکھ دیا جائے گا 👈ھذا کافر حقا

👈حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ وہ دابہ ایسا ہے کہ اس کے بال ہیں پر ہیں اور داڑھی ہے لیکن دم نہیں 

👈تفسیر ابن کثیر جلد 3 ص 499 

👈معمولی الفاظ کی تبدیلی سے تفسیر مواہب الرحمٰن جلد 6۔ سورہ نمل کی آیت نمبر 82 کی تفسیر میں 

👈تفسیر کوثر اسی آیت کی تفسیر میں 

۔اور تفسیر روح البیان میں ہے کہ اس دابہ کا نام جصاصہ ہے۔اور یہ پیدا ہوچکا ہے اور بعض صحابہ رضی اللہ عنھم نے اسے دیکھا بھی تھا کہ وہ قید ہے اس لیے اخراجنا فرمایا گیا یعنی قید سے آزاد کر کے اس کو نکالیں گے

👈تفسیر روح البیان مذکورہ آیت کی تفسیر میں بحوالہ  نورالعرفان از مفتی احمد یار خان نعیمی 

👈اور تفسیر روح المعانی میں ہے کہ ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ لوگوں کا گمان ہے کہ دابۃ الارض آپ ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا👈 واللہ ان دابۃ الارض۔۔۔

👈ترجمہ۔ ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم اس دابۃالارض کو پر ہونگے اور جسم پر بہت سے بال ہوں گے اور نہ میرے پر ہیں اور نہ میرے جسم پر اس کی طرح بال ہے اور دوسری بات یہ کہ اس کے کھرے ہونگے مجھے اس کی طرح کھر نہیں

👈تفسیر روح المعانی جلد 11 صفحہ 22 

👈حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی نے لکھا ہے کہ بخاری و مسلم اور احادیث کی دیگر کتابوں نے قرب قیامت کی نشانیوں میں سے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا دجال کا خروج مسیح علیہ السلام کا نزول زمین میں خسف کا واقع ہونا آگ کا نکلنا اور دابۃ الارض کا خروج شامل ہے ۔اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ عجیب و غریب قسم کا جانور ہوگا جو لوگوں سے بات چیت کرے گا اور واضح طور پر بتائے گا کہ فلاں سچا مومن ہے اور فلاں منافق اور کافر ہے 

👈خلاصہ۔ 

دابۃ الارض کے جسم پر بہت سارے بال چار پاؤں والا جانور اور اس کے پر ہوں گے بیل کی طرح سر خنزیر کی طرح آنکھیں ہاتھی کی طرح کان شیر کی طرح سینہ پرندے کی طرح گردن اونٹ کی طرح ٹانگیں جوڑوں کے درمیان بارہ ہاتھ کا فاصلہ اور اس کے کھر اور اس کی داڑھی بھی ہوگی        

وہ پیدا کیا جا چکا ہے اس لیے اخرجنا فرمایا وہ عجیب جانور ہے جو باتیں کرے گا ۔موسی علیہ السلام کا عصا اور سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی سے نشان لگائے گا تو مومن کے چہرے پر سچا مومن اور کافرین کے چہروں پر پکا کافر خود بخود لکھ دیا جائے گا 

 👈شیعہ تفاسیرمیں دابہ کی تفصیل 

👈۔تفسیر التبیان میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا 👈دابة الارض دواب اللہ لھا زغب وریش لھا اربعة قوائم ۔

👈ترجمہ۔ یعنی وہ دابا اللہ کے جانوروں میں سے ایک ایسا جانور ہے کہ جس کے جسم پر بہت بال ہیں اور اس کے پر بھی ہیں اور اس کے چار پاؤں ہیں 

👈تفسیر التبیان جلد 8 صفحہ 106 

مذکورہ آیت کی تفسیر 

👈یہی روایت تفسیر مجمع البیان جلد 7 صفحہ 234 پر مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھی ہے

👈تفسیر کبیر یعنی تفسیر منہج الصادقین میں حضرت ابن عباس سے نقل کیا گیا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے سماویہ نشانی مغرب سے طلوع شمس ہوگا۔اور عرض نشانیوں میں سےدابہ کا خروج ہو گی جس کا طول ساٹھ گز ہوگا اس کے چار پاؤں ہوں گے اور اس کے جسم پر زرد ان کے بال ہوں گے اور اس کے دو پر ہونگے 

👈تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 57 مذکورہ آیت کی تفسیر 

👈عین المغانی میں مذکورہ مفسر نے لکھا ہے کہ اس دابہ کی آنکھیں خنزیر کی طرح اور کان ہاتھی کی طرح سینگ پہاڑی گائے کی طرح اور گردن شتر مرغ کی طرح۔اور سینہ شیر کے طرح ہوگا اور اس کے پاؤں اونٹ کی طرح ہوں گے اور اس کے دو قدموں کے درمیان بارہ گز کا فاصلہ ہوگا 

👈تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 57 

👈حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے مروی ہے کہ وہ دابہ تین روز تک باہر نکلتا رہے گا لیکن اتنا لمبا ہوگا کہ تین روز تک اس کا تیسرا حصہ بھی باہر نہ نکل پائے گا اور مشہور قول یہ ہے کہ تین دن میں پورا باہر آجائے گا 

👈تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 58 

👈تفسیر نور ثقلین جلد 6 صفحہ نے مذکورہ آیت کی تفسیر 

👈رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ وہ دابہ تین بار نکلے گا ایک بار مدینہ کے قریب ۔۔۔۔ دوسری بار مکہ مکرمہ کے قریب ۔۔تیسری بار خود مسجدالحرام سے نکلے گا 

👈منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 58 

👈تفسیر نورالثقلین جلد 6 صفحہ 99 میں مذکور آیت 

👈۔حضرت حسن علیہ السلام سے روایت ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے درخواست کی کہ وہ دابہ دکھا دیں تو تین راتیں وہ دابہ باہر آکر پھر چلا جاتا تھا حضرت موسی علیہ السلام اس کی عجیب خلقت اور ڈراؤنے منظر کو دیکھ کر ایسے خائف ہوئے کہ اللہ تعالی سے عرض کیا کہ اس کو حکم کریں کہ وہ اپنی جگہ واپس چلا جائے ۔

👈تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 59 

👈خلاصہ روایات

👈دابۃ الارض کے جسم پر بہت سارے بال اور اس کے دو پر اور چار پاؤں ہیں 

👈ایک روایت میں اس کا طول ساٹھ گز ہے 

👈ایک روایت میں ہے کہ وہ اتنا لمبا ہے کہ وہ تین دن تک نکلتا رہے گا 

👈دابہ کی خنزیر جیسی آنکھیں ہاتھی جیسے کان پہاڑی گائے جیسے سینگ شترمرغ جیسی گردن شیر جیسا سینہ اور اونٹ جیسی ٹانگیں اور اس کے کھر ہیں 

👈وہ دابۃالارض تین بار نکلے گا 

👈موسی علیہ السلام کو ہدایت دکھایا گیا تو اس کی ایسی ڈراونی صورت تھی کہ دوبارہ دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔

👈اس دابہ کے دو قدموں کے درمیان 12 گز کا فاصلہ ہوگا

👈تبصرہ۔ ۔۔

  کیا شیعہ مفسرین نے جو کیفیت جسامت قدامت اور صورت دابۃ الارض کی ذکر کی ہے اس حقیقت کے کھلنے کے بعد کوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت اور عقیدت رکھنے والا حضرت علی کو وہ دابہ تصور کرسکتا ہے ۔ہرگز نہیں 

لیکن باوجود اس کے شیعہ مفسرین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رجعت کو ثابت کرنے کے لئے اس پر انتہائی زور دیا ہے کہ وہ دابہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں مثلا۔ شیعہ مفسر علی بن ابراہیم قمی جو شیعوں کے نزدیک امام حسن عسکری کا شاگرد ہے اس نے لکھا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امیرالمومنین علیہ السلام کے پاس اس حالت میں آئے گے مسجد میں سو رہے تھے اور ریت کا ایک ڈھیر کر کے سر مبارک اس پر رکھے ہوئے تھے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پائے مبارک سے حرکت دے کر فرمایااے دابۃالارض اٹھ تو اصحاب میں سے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم بھی آپس میں اس نام سے ایک دوسرے کو پکارا کریں فرمایا نہیں واللہ یہ نام خاص طور پر علی ہی کے لیے ہے 

اور علی ہی وہ دابہ ہے جس کا خدا تعالی اپنی کتاب میں یہ ذکر فرماتا ہے 

👈وإذا وقع القول۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر فرمایا اے علی جب آخری زمانہ آئے گا تو خدا تعالی تم کو نہایت ہی حسین صورت میں (جوشیعہ مفسرین نے لکھی ہے )ظاہر کرے گا اور تمہارے پاس نشان لگانے کا ایک آلہ ہوگا جس سے تم اپنے دشمنوں کو نشان دار کرو گے 

👈ترجمہ مقبول مذکورہ آیت کی تفسیر میں باحوالہ تفسیر قمی اور تفسیر صافی و تفسیر عیاشی 

👈تفسیر صافی اور تفسیر عیاشی میں یہی قصہ حضرت ابوذر سے نقل کیا گیا ہے 

👈تفسیر المتقین اور👈 ترجمہ فرمان علی اور👈 تفسیر نمونہ اور 👈البرہان فی تفسیر القرآن اور👈 تفسیر نور ثقلین  میں یہی بات موجود ہے

ان تمام تفاسیر میں انتہائی زور دیا گیا ہے کہ دابۃ الارض حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں تاکہ حضرت علی کا دوبارہ آنا قرآن سے ثابت کیا جائے 

اور عقیدہ رجعت کو قرآن سے ثابت کرکے پختہ بنایا جائے ۔

لیکن باوجود اس کے بعض شیعہ محققین و مفسرین نے  بجائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے امام مہدی کو دابۃالارض لکھا ہے 

👈ابوالفتوح رازی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ان روایات کی رو سے جو ہمارے علماء کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں کہ دابۃ الارض حضرت امام مہدی علیہ السلام کے لیے کنایہ ہے 

👈تفسیر روح الجنان از ابوالفتوح رازی جلد نمبر 8 صفحہ 423 

👈تفسیر نمونہ جلد 8 صفحہ 724 

👈تفسیر منہاج الصادقین جلد 7 صفحہ 58 

یاد رہے تفسیرنمونہ شیعہ کی وہ معتبر ترین تفسیر ہے جو ان کے دس محققین آقاؤں نے ملکر اپنی جدید تحقیق کے مطابق تحریر کی ہے اصل میں یہ تفسیر فارسی زبان میں 27 جلدوں پر مشتمل ہے جو مکتبہ حوزہ علمیہ قم ایران سے شائع ہوئی ہے 

اس سے معلوم ہوا کہ شیعہ محققین کی جدید تحقیق یہ ہے کہ دابۃ الارض حضرت علی رضی اللہ عنہ نہیں بلکہ شیعوں کا بارہواں امام جو کسی غار میں چھپا ہوا ہے وہ ظاہر ہوگا ۔اس تحقیق کے مطابق کسی مرنے والے کی رجعت نہیں ہوگی بلکہ ایک غائب حاضر ہوگا اور اس کے علاوہ شیعہ محققین رجعت نے ایک اور تاویل بھی کی ہے کے شیعہ امامیہ کی ایک جماعت کا یہ بھی کہنا ہے کہ رجعت کے متعلق جتنی روایات ہیں ان کی تاویل یہ ہے 

👈رجوع الدولة۔ ۔۔۔۔والامر والنھی دون رجوع الاستخاص والأحياء والأموات

👈یعنی رجعت کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی حکومت امر ونہی کا رجو ع ہوگا نہ کہ کسی شخص کا لوٹانا اور نہ ہی مردوں کا زندہ ہونا 

👈تفسیر نورالثقلین جزو رابع صفحہ 

111 

👈تفسیر مجمع البیان جلد 7 صفحہ 234 

اگرچہ انہیں مفسرین نے ایسی تاویل کو غلط کہا ہے لیکن اس سے یہ تو معلوم ہوا کہ شیعہ امامیہ کی ایک جماعت مردوں کے زندہ ہونے والی رجعت کا انکار کرتی ہے 

یا مفسرین  نے بالآخر یہ بھی لکھا کہ مذکورہ بالا جماعت کا مردوں کے زندہ ہونے کا انکار اس وجہ سے ہے کہ 

👈لان الرجعت لم تثبت بظواہر الاخبارالمنقولة۔ 

👈یعنی عقیدہ رجعت صریح طور پر بظاہر منقولا احادیث سے ثابت نہیں ہے اس کو تاویل سے ثابت کیا جاتا ہے اور اس تاویل پر شیعہ علماء کا اجماع ہے 

👈تفسیر مجمع البیان جلد 7 صفحہ 235 

 یہی وجہ ہے کہ بلآخر شیعہ محققین نے مجبورا لکھا کہ عقیدہ رجعت اسلام کی بنیادی شرائط میں سے نہیں ہے جیسا کہ تفسیر نمونہ میں شیعہ محققین نتیجے کے طور پر لکھا ہے کہ اس سلسلےکی آخری بات کے طور پر اپنا یہ عقیدہ مکتبہ اہل بیت اور ائمہ اطہار سے لیا ہے لیکن وہ رجعت کے منکرین کو کافر نہیں سمجھتے کیوں کہ حرج شیعہ ہونے کے لحاظ سے ضروری ہے لیکن مسلمان ہونے کے لئے ضروری شرائط میں سے نہیں اسی بنا پر اس عقیدے کی وجہ سے مسلمانوں کا اسلامی رشتہ اخوت آپس میں نہیں ٹوٹتا البتہ شیعہ حضرات منطقی طریقہ سے اپنے اس عقیدے کا دفاع ضرور کرتے ہیں 

👈تفسیر نمونہ جلد 8 صفحہ 730 

👈شیعہ مفسرین نے یہ بھی قرار کیا ہے کہ ایمان والوں کے رجعت قرآن سے ثابت نہیں صرف خبر سے ثابت ہے اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ ہمارے علما رجعت کو اصول دین میں شامل نہیں کرتے۔

👈تفسیر منہاج الصادقین جلد 7 صفحہ 59 

کیا شیعہ مصنفین کی متضاد بیانیوں کے بعد کوئی صاحب عقل و دانش عقیدہ رجعت کو تسلیم کر سکتا ہے  

ہرگز نہیں 

جبکہ شیعہ مصنفین نے خود ہی اقرار کیا ہے کہ عقیدہ رجعت نہ اصول دین میں سے ہے اور نہ ہی اسلام کے بنیادی شرائط میں سے ہے اور نہ ہی مسلمان ہونے کے لئے کوئی ضروری شرط ہے تو اس سے ظاہر ہے کہ دین اسلام کو ماننے والوں کا اس عقیدے سے کوئی تعلق نہیں اور دوسری بات یہ کہ دابۃ الارض کے بارے میں خودشیعوں کے علامہ شعرانی نے تفسیرمنھج الصادقین پر حاشیہ لگا کر لکھا ہے کہ دابۃ الارض کا خروج صحیح ہے باقی اس کی تفصیل میں روایات اور مفسرین کے اقوال میں بہت بڑا اختلاف ہے 

اس لئے اس کی تحقیق ہم پر واجب نہیں صرف اجمالی ایمان رکھنا کافی ہے 

👈تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 56 

اس سے معلوم ہوا کہ ایک طرف تو شیعہ مصنفین نے مذکورہ آیت سے عقیدہ رجعت کو سینہ زوری سے ثابت کرنے کی کوشش کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے رجعت کو ثابت کرنے کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دابہ بنالیا لیکن دوسری طرف خود ہی بتا دیا کہ ایمان والوں کے رجعت قرآن سے نہیں 

صرف خبر سے ثابت ہے لیکن خبر سری سے بھی نہیں بلکہ تاویل سے ثابت کرتے ہیں اس میں بھی اختلاف کی وجہ سے اس کو نہ اصول دین میں رکھ سکے اور نہ ہی اسلام کی بنیادی شرائط میں اور اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دابۃالارض کہنے سے بھی ہاتھ اٹھا دیا بلکہ صرف اجمالی ایمان رکھنا کافی سمجھا 

👈نتیجہ۔۔۔۔۔یہ انتہائی فحش معنوی تحریف کی گئی ہیے اور یہ تک خیال نہیں رکھا گیا کہ حضرت علیؓ کودابةالارض کہنےسے ان کی شان میں کتنی بڑی گستاخی ہوسکتی ہے   کے طور پر نہ عقیدہ رجعت ثابت کرسکے اور نہ ہی دابۃالارض کو حضرت علی پر چسپاں کر سکے 

👈تیسری آیت معنوی تحریف میں 

Surat No 27 : Ayat No 83 

وَ یَوۡمَ نَحۡشُرُ مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ  فَوۡجًا مِّمَّنۡ یُّکَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ  یُوۡزَعُوۡنَ ﴿۸۳﴾

اور جس دن ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کے گروہ کو جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے گھیر گھار کر لائیں گے پھر وہ سب کے سب الگ کر دیئے جائیں گے ۔  

بہت ساری احادیث میں امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ 

👈این ایت دررجعت است ۔۔۔۔۔کہ یہ آیت رجعت کے بارے میں ہے کہ حق تعالیٰ ہر امت میں سے ایک گروہ کو زندہ کرے گا اور قیامت کے بارے میں یہ آیت ہے

👈  Surat No 18 : Ayat No 47 

وَ یَوۡمَ نُسَیِّرُ الۡجِبَالَ وَ تَرَی الۡاَرۡضَ بَارِزَۃً ۙ وَّ حَشَرۡنٰہُمۡ  فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡہُمۡ اَحَدًا ﴿ۚ۴۷﴾

 اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے  اور زمین کو تو صاف کھلی ہوئی دیکھے گا اور تمام لوگوں کو ہم اکٹھا کریں گے ان میں سے ایک کو  بھی باقی نہ چھوڑیں گے ۔  

اور فرمایا کہ آیات سے مراد امیرالمومنین اور آئمہ ہیں 

👈حق الیقین فارسی صفحہ 336 

👈اور یہی بات شیعوں کے فاضل جلیل حجةالاسلام سید فرمان علی نے اپنے ترجمہ و تفسیر کے صفحہ نمبر 612 پر اسی آیت کی تفسیر میں لکھی ہے 

سوائے اس کے کہ آیت سے مراد امیرالمومنین اور ائمہ معصومین میں یہ نہیں لکھا 

👈اور یہی روایت تفسیرقمی میں موجود ہے اس آیت کی تفسیر میں 

👈اور ترجمہ مقبول میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق سے منقول ہے کہ مومنین میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے کہ وہ شہید کیا گیا اور وہ موت کا ذائقہ چکھنے کے لئے رجعت نہ کریں اور جس جس کو رجعت ہوگی وہ یا تو ایمان میں خالص ہوگا یا کفر میں 

👈ترجمہ مقبول صفحہ 764 

👈تفسیر نمونہ جلد 8 صفحہ 720 

👈تفسیر صافی جلد 2 صفحہ 247 

👈تفسیر قمی جلد 2 صفحہ 131 

👈تفسیر منہج الصادقین جلد 7 صفحہ 59 

 👈تفسیر نور الثقلین جلد 4 صفحہ 

👈تفسیر المیزان جلد 15 صفحہ 582 

ان تمام تفاسیر میں اس پر زور دیا گیا ہے کہ آیت کریمہ سے عقیدہ رجعت ثابت ہوتا ہے حالانکہ اس میں قیامت سے پہلے کسی کو زندہ کرکے جمع کرنے کا ذکر تک نہیں ہے

بلکہ اس آیت کریمہ اور اس کے بعد والی دو آیات میں قیامت کے دن اٹھانے کا ذکر ہے مثلا فرمایا گیا ہے کہ ہر امت میں سے ہماری آیات کو جھٹلانے والوں میں سے ایک سرکش گروہ کو ہم جدا کرکے کھڑا کریں گے حتیٰ کہ جب وہ آئیں گے تو اللہ تعالی انکو فرمائے گا 👈اکذبتم بایاتی۔ کیا تم میری آیات کو جھٹلاتے تھے ؟حالانکہ تمہیں کسی علم کا کوئی احاطہ نہیں تھا اور جو کچھ تم کرتے تھے ہمیں معلوم ہے ان کے ظلم نافرمانی کی وجہ سے ان پر ہمارے عذاب کا قول ثابت ہو جائے گا پس وہ بول ہی نہ سکیں گے 

👈سورہ نمل آیت نمبر 83 84 85 

ان آیات کو پڑھنے کے بعد واضح ہوجاتا ہے کہ 👈یوم نحشر میں قیامت کے دن کا ذکر ہے جیسا کہ دوسری آیات سے اس کی اور بھی وضاحت ہوتی ہے 

👈Surat No 37 : Ayat No 22 

اُحۡشُرُوا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا وَ اَزۡوَاجَہُمۡ وَ مَا  کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۲۲﴾

ظالموں کو  اور ان کے ہمراہیوں کو  اور ( جن ) جن کی وہ اللہ کے علاوہ پرستش کرتے تھے  ۔  

👈Surat No 37 : Ayat No 23 

مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ  فَاہۡدُوۡہُمۡ اِلٰی صِرَاطِ الۡجَحِیۡمِ ﴿ٙ۲۳﴾ ٙ

  ( ان سب کو )  جمع کرکے انہیں دوزخ کی راہ دکھا دو ۔  

👈Surat No 37 : Ayat No 24 

وَ قِفُوۡہُمۡ   اِنَّہُمۡ مَّسۡئُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۲۴﴾                

اور انہیں ٹھہرا لو   ( اس لئے ) کہ ان سے ( ضروری  ) سوال کیئے جانے والے ہیں ۔  

اور جیسا کہ ظاہر ہے کہ ان سے یہی سوال پوچھا جائےگا کہ👈 اکذبتم بآیاتی۔کیا تم ہو جو میری آیات کو جھٹلاتے تھے؟ 

جیساکہ دوسری آیات میں ہے کہ قیامت کے دن بڑے بڑے سرکشوں کو الگ کرکے سخت سزا دی جائے گی 

👈Surat No 19 : Ayat No 68 

فَوَ رَبِّکَ لَنَحۡشُرَنَّہُمۡ وَ الشَّیٰطِیۡنَ ثُمَّ لَنُحۡضِرَنَّہُمۡ  حَوۡلَ جَہَنَّمَ جِثِیًّا ﴿ۚ۶۸﴾

 تیرے پروردگار کی قسم! ہم انہیں اور شیطانوں کو جمع کر کے ضرور ضرور جہنم کے ارد گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر کر دیں گے ۔  

👈Surat No 19 : Ayat No 69 

ثُمَّ  لَنَنۡزِعَنَّ مِنۡ کُلِّ  شِیۡعَۃٍ اَیُّہُمۡ اَشَدُّ عَلَی الرَّحۡمٰنِ عِتِیًّا ﴿ۚ۶۹﴾

ہم پھر ہر ہر گروہ سے انہیں الگ نکال کھڑا کریں گے جو اللہ رحمٰن سے بہت اکڑے اکڑے پھرتے تھے ۔  

Surat No 19 : Ayat No 70 

ثُمَّ لَنَحۡنُ اَعۡلَمُ بِالَّذِیۡنَ ہُمۡ اَوۡلٰی بِہَا صِلِیًّا ﴿۷۰﴾

پھر ہم انہیں بھی خوب جانتے ہیں جو جہنم کے داخلے کے زیادہ سزاوار ہیں ۔  

ان آیات کی تفسیر میں شیعہ مفسر بھی یہی تفسیر کرتے ہیں مثلا تفسیر 👈صافی جلد 2 صفحہ 51 میں ہے 

👈من کل الشیعةسے مرادمن کل امة 

👈اور تفسیرمیزان جلد نمبر 4 صفحہ 120 پر ہے کہ 

👈روساء وامامان ضلالت را بیرون می آوریم 

👈ہر جماعت میں سے گمراہ کرنے والوں روسا اور اماموں کو جدا کریں گے

👈ترجمہ۔ یعنی سب سے پہلے اس جماعت کو جو کفر اور نافرمانی میں دوسروں سے زیادہ ہوتی تھی جدا کر کے جہنم میں ڈالیں گے اور اس کے بعد وہ لوگ جو کفر اور سرکشی میں ان سے کمتر تھے ان کو جہنم میں ڈالیں گے 

👈تبصرہ۔ ۔۔

ان آیات کی تفاسیر نے مذکورہ آیت۔یوم نحشرمن کل امة۔ ۔۔۔۔۔

کی حقیقت کو واضح کر دیا کہ یہ آیت کریمہ اس منظر کو بیان کر رہی ہے جس وقت محشر کے میدان میں سرکش کافروں کو یعنی کافروں کے پیشواؤں کو جدا کرکے ایک جگہ جمع کرکے ان سے سختی سے حساب لیا جائے گا اور ان کو کہا جائے گا 👈اکذبتم بآیاتی ۔کیا تم ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے پھر ان کو سخت سزا دی جائے گی اس طرح کا مفہوم قرآن مجید کی اکثر آیات میں بیان کیا گیا ہے لیکن شیعہ مفسرین جن کا مقصد ہی قرآن  مجید کی اصل حقیقت کو بگاڑنا ہے وہ قرآن کی تفسیر آیات کے مقاصد کو واضح کرنے کے لیے نہیں بلکہ بگاڑنے کے لیے کرتے ہیں اس لئے انہوں نے اپنے ائمہ حضرات کی طرف منسوب کرکے اس آیت کریمہ سے بھی قیامت کے مقصد کو بگاڑ کر اپنا مصنوعی عقیدہ رجعت ثابت کرنے کی فضول کوشش کی ہے لیکن اس آیت کریمہ اور قران مجید کی کسی بھی آیت میں عقیدہ رجعت کا کوئی اشارہ تک نہیں ہے 

👈نتیجہ۔۔۔۔۔۔ 

شیعہ مفسرین نے اس آیت کی بھی انتہائی فحش معنوی تحریف کر کے اپنے من گھڑت عقیدے کے لیے باطل تاویل کے زریعے استدلال کرنے کی کوشش کی ہے 

👈چوتھی آیت معنوی تحریف میں  

  👈Surat No 3 : Ayat No 157 

وَ لَئِنۡ قُتِلۡتُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوۡ مُتُّمۡ لَمَغۡفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَحۡمَۃٌ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾ 

👈Surat No 3 : Ayat No 158 

وَ لَئِنۡ مُّتُّمۡ اَوۡ قُتِلۡتُمۡ لَاِالَی اللّٰہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾

 👈ترجمہ۔اگر تم خدا کی راہ میں مارے جاؤ یا اپنی موت سے مرے ہو تو بے شک خدا کی بخشش اور رحمت اس مال و دولت سے جس کو تم جمع کرتے ہو ضرور بہتر ہے اور اگر تم اپنی موت سےہی مارےجاؤ آخر کار خدا ہی کی طرف قبروں سے اٹھائے جاؤ گے 

👈ترجمہ فرمان علی شیعہ 

قرآن کی ان دو آیات کا ترجمہ جو شیعہ عالم نے کیا ہے اس ترجمے سے ہی  حقیقت کو سمجھنا آسان ہے کہ دنیا میں ہمیشہ رہنا نہیں اپنی موت سے مرنا یا قتل ہو کر بھی مرنا ضرور ہے وہاں دنیا کی زندگانی کا جمع کیا ہوا مال کام نہیں آئے گا اور خصوصا فی سبیل اللہ قتل ہونا یا اللہ کی سبیل میں زندگی گزارتے ہوئے خود بخود مر جانے پر جو اللہ کی مغفرت اور رحمت ہے وہ دنیا کے جمع کیے ہوئے مال سے کئی گناہ بہتر ہے اور جس طرح مرنا یقینی ہے تو مرنے کے بعد اللہ کی طرف یعنی قیامت میں جمع ہونا بھی یقینی ہے 

لیکن شیعہ مصنف نے ہر دو آیات کو بگاڑ کر ایک آیت بنائیں اور تفسیر کو بگاڑ کر عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کی کوشش کی 

👈روایت۔ ملاباقرمجلسی نےدو آیات  کو ملا کرایک آیت بنائیں 👈ولئن قتلتم فی ۔۔۔۔۔۔۔تحشرون۔ اور اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ بہت سارے طریقوں سے منقول ہے کہ👈 ایں آیت در رجعت است۔۔۔۔۔۔۔یعنی یہ آیت رجعت کے بارے میں ہے اور سبیل اللہ علی کی ولایت اور اس کی زریت کی راہ ہے۔جو کوئی اس آیت پر ایمان رکھے گا اس کو قتل ہونا اور مرنا ہے یعنی اگر دنیا کی زندگی میں قتل کیا گیا اس راہ میں تو رجعت میں ان کو لوٹایا جائے گا تاکہ وہ مریں اور اگرپہلے وہ مرے ہیں تو رجعت میں ان کو لوٹایا جائے گا تاکہ وہ ان اماموں کی راہ میں قتل ہو 

اور یہی فرمان کل نفس ذائقۃ الموت کی تفسیر میں ہے یعنی جو قتل ہوئے ہیں انہوں نے موت کا ذائقہ نہیں چکا ہے البتہ رجعت میں ان کو دنیا میں لوٹایا جائے گا تاکہ وہ موت کا ذائقہ چکیں ہیں

👈حق الیقین  فارسی صفحہ 337    

👈روایت 

امام ابو جعفرسے رجعت کے متعلق ایک لطیف انداز سے سوال کیا میں نے کہا جو قتل ہوتا ہے کیا وہ مرتا ہے

👈قال لا۔ الموت موت القتل قتل  

امام نے کہا کہ قتل ہونے والا مرا نہیں موت ہے اور قتل قتل ہے 

👈مااحد یقتل الا وقد مات

یعنی جو بھی قتل ہوتا ہے وہی یقینا مرتا ہے تو امام نے فرمایا اس طرح نہیں بلکہ موت ہے اور قتل ہے میں نے عرض کیا کہ اللہ کا فرمان ہے👈 کل نفس ذائقۃ الموت جو قتل ہوتا ہے وہ موت کا ذائقہ نہیں چکھ سکتا پھر فرمایا ضروری ہے کہ وہ لوٹ کر آئے اور موت کا ذائقہ چکھے۔

اور یہیں سے مسئلہ رجعت ثابت ہے کہ جس شخص نے موت کا ذائقہ نہیں چکھا یعنی قتل ہوا ضروری ہے کہ وہ دنیا میں رجعت کرے اور موت کا ذائقہ چکھنا ہے 

👈ترجمہ مقبول صفحہ 133 

👈تفسیر عیاشی جلد 1 صفحہ 202 

👈تفسیر المتقین صفحہ 87 

👈تفسیر نور الثقلین جلد 1 صفحہ 403 

👈تفسیر صافی جلد 1 صفحہ 302 

👈👈تبصرہ 

ان تمام تفاسیر میں عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کی فضول کوشش کی گئی ہے حالانکہ موت کا مزہ چکھنے کے دو طریقے بتائے گئے ہیں یا تو اپنی موت خود مرا یا کسی کے قتل کرنے سے مرجائے دونوں میں سے کسی طریقے سے بھی مرنے والے کو کفن دیا جاتا ہے جنازہ پڑھا جاتا ہے دفن کیا جاتا ہے وراثت تقسیم کی جاتی ہے ازواج کو عدت میں بٹھایا جاتا ہے عدت کے بعد ان کا شادی کرنا جائز ہے لیکن شیعہ مصنفین نے اپنے مصنوعی عقیدہ رجعت کو ثابت کرنے کے لئے مقتولین کے لئے موت کا ذائقہ چکھنے کا ہی انکار کر دیا  کیا یہ قرآن کی تفسیر کرنا ہے یا آیات کے صحیح مفہوم کو بگاڑنے کی کوشش کرنا 

اور میت کے احکام میں جو آیات نازل ہوئی ہیں وراثت عدت نکاح کفن دفن وغیرہ کی ان میں تعارض پیدا کرنا ہے 

👈 مسلمان مفسرین کی تفسیر

👈لوکانواعندناماماتوا۔ ۔۔۔۔۔

امام رازی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں اگر وہ ہمارے پاس ہوتے یعنی لڑائی پر نہ جاتے تو نہ مرتے یعنی نہ قتل ہوتےتو اللہ تعالی نے جواب دیا 👈یحیی ویمیت۔ ۔۔۔اللہ زندہ رکھتا ہے اور مارتا ہے منافقین کا قول اور اللہ کی طرف سے جواب  ال العمران کی ہی آیت 156 میں مذکور ہے 

اور دوسرے جواب آیت نمبر 157 اور 158 میں یوں دیا گیا ہے کہ اگر تم فی سبیل اللہ قتل کئے گئے یا جہاد کے راستے میں چلتے ہوئے اپنی موت مرتے تو البتہ اللہ کی رحمت اور مغفرت لوگوں کے مال جمع کرنے سے کئی گناہ بہتر ہے اور اگر تم اپنی موت مرے یا قتل کئے گئے تو البتہ تم اللہ کی طرف جمع کیے جاؤ گے 

👈تفسیر الکبیر جلد 5 صفحہ 53 

👈اسی سے ملتا جلتا مضمون تفسیر بن کثیر جلد 1 صفحہ 556 میں آل عمران کی آیت نمبر 156 تا 158 کی تفسیر میں 

👈شیعہ تفاسیر میں 

شیعوں کے شیخ طوسی نے لکھا ہے کہ اللہ تعالی نے مومنین سے خطاب فرمایا اے ایمان والو تم ان کافروں مثلا عبداللہ بن سلول اور ان کے ساتھیوں کی طرح نہ بنوجنہوں نے اپنے بھائیوں کے لیے کہا تھا کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو لڑائی میں قتل نہ ہوتے اور سفر میں فوت نہ ہوتے اللہ تعالی نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا👈 واللہ یحیی ویمیت یعنی موت اور زندگی کا مالک اللہ ہی ہے کسی کا موت سے بھاگنا اور زندگی طلب کرنا کوئی نفع نہیں دے گا اور اللہ ان کے اعمال کو دیکھ رہا ہےاور اگلی آیت میں فرمایا کہ یقینا لوگ جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں یہاں تک کہ اللہ کی راہ کو چھوڑ کر دنیا کی محبت اور کثرت کی سوچ و فکر میں مال جمع کرتے ہیں اے ایمان والو تمہارا فی سبیل اللہ قتل ہونا یا اس راستے میں فوت ہونا جس کا نتیجہ اللہ کی بخشش و مغفرت ہے ان کے مال جمع کرنے سے بہتر ہے اور اگر تم اپنے موت مرو یا قتل کیے جاؤ ہر حال میں اللہ کی طرف ہی لوٹنا ہے نہ کہ دنیا کی طرف واپس آنا 

👈ان خیرا فخیرا وان شرا فشرا

یعنی اچھائی کا بدلہ اچھا اور برائی کا بدلہ براہے 

👈تفسیر التبیان جلد 3 صفحہ 28 29 

👈اسی سے ملتا جلتا بیان تفسیر مجمع البیان جلد 1 صفحہ 526 پر ہے 

👈تفسیر نمونہ جلد 2 صفحہ 281 پر 

ان تمام تفاسیر میں موت کا ذائقہ چکھنے کی دو صورتیں بتائی گئی ہیں کسی کے قتل کرنے سے موت کا ذائقہ چکھنا یا بغیر قتل کے مر کر موت کا ذائقہ چکھنا اور اس کے بعد اللہ کے پاس جمع ہونا اور اللہ ہی سے اپنے اعمال کا بدلہ ملنا ذکر کیا گیا ہے اور آیات کا سیاق و سباق بھی اسی پر دال ہے باوجود اس کے غالی شیعوں نے آیات کے سیاق و سباق کی پرواہ کیے بغیر اپنا مصنوی عقیدہ رجعت کو اماموں کی طرف جھوٹی روایات منسوب کرکے لکھ دیا کہ قتل ہونے والا موت کاذائقہ نہیں جاسکتا اس لئے ان تمام کی رجعت ہوگی جو قتل کئے جاتے ہیں وہ اپنی موت مریں گے اور جو اپنی موت مرے ہیں وہ رجعت کے بعد قتل کیے جائیں گے یعنی تمام انسان رجوع کریں گے 

👈نتیجہ ۔۔۔

نتیجہ یہ ہوا کہ اب عقیدہ رجعت شیعہ مذہب کی ضروریات میں سے ہوگیا حالانکہ ان آیات میں شیعہ کے مصنوعی عقیدہ رجعت کا اشارہ تک نہیں ہے اور شیعہ نے انتہائی فحش معنوی تحریف کی ہے  

👈آیت نمبر پانچ معنوی تحریف میں  

Surat No 40 : Ayat No 11 

👈قَالُوۡا رَبَّنَاۤ  اَمَتَّنَا اثۡنَتَیۡنِ وَ اَحۡیَیۡتَنَا اثۡنَتَیۡنِ فَاعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوۡبِنَا فَہَلۡ  اِلٰی خُرُوۡجٍ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿۱۱﴾

وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں دوبارہ مارا اور دو بارہ ہی جلایا  اب ہم اپنے گناہوں کے اقراری ہیں تو کیا اب کوئی راہ نکلنے کی بھی ہے؟ 

👈دراحادیث واردشدہ است کہ یک زندہ گردانیدن در رجعت است ودیگری درقیامت ویک زندہ گردانیدن دررجعت است ودیگرے درقیامت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈احادیث میں وارد ہے کہ ایک بار زندہ کرنا رجعت  میں اور دوسری بار قیامت میں ہے اور ایک بار مارنا دنیا میں ہے اور دوسری بار رجعت میں 

👈حق الیقین فارسی صفحہ 340 

👈شیعہ مفسر امداد حسین کاظمی نے لکھا ہے کہ تفسیر صافی صفحہ 443 پر باحوالہ تفسیر قمی میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ ان لوگوں کا یہ قول زمانہ رجعت میں ہوگا 

👈تفسیر المتقین صفحہ 606 

👈ترجمہ و تفسیر مقبول صفحہ 746 

👈ترجمہ و تفسیر فرمان علی صفحہ 746 

👈۔وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ۖ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ ۚ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ (36)

👈۔اللہ تعالی نے جب بھی کوئی نبی مبعوث کیا تو اسے ہماری ولایت اور احمد براءت کا حکم ضرور دیا ہے 

👈تفسیر عیاشی جلد 2 صفہ 261 

👈البرھان جلد 2 صفحہ 373 👈تفسیر صافی جلد 3 صفحہ 143 

👈تفسیر نور الثقلین جلد 3 صفحہ 60 

👈وَقَالَ اللَّهُ لَا تَتَّخِذُوا إِلَٰهَيْنِ اثْنَيْنِ ۖ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ (51)

 خلاصہ۔۔۔۔۔شیعہ مفسرین نے انتہائی غلو اور تاویلات باطلہ کے ساتھ قران میں موجود👈 لفظ الہ سے آئمہ کو مراد لیا یے 

لفظ 👈رب سے بھی آئمہ مرادلیا ہے لفظ 👈البحر اورالبحار سے حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہؓ مرادلیا ہے👈 لفظ اللوءوالمرجان 

سے حسن وحسین رضی اللہ عنہما مرادلیاہے 👈اسماءالحسنی سے مراد بھی آئمہ لیا ہے اسی طرح👈 لفظ شیطان سے مراد حضرت عمرؓمرادلیاہے  

شیعہ مفسرین کی طرف سے بہت زیادہ کثیر تعداد میں قرانی آیات کی معنوی تحریفات کی گئی ہیں جن کو ہم نے شیعہ کے اصول دین میں بھی زکر کیا ہے

👈تفسیر عیاشی جلد 2 صفحہ 

227

👈تفسیر الصافی جلد 3 

صفحہ 83 

👈البرھان جلد2ص 309

👈بحار الانوار جلد 3 صفحہ 371 

👈تفسیر عیاشی جلد 2 صفحہ 261 

👈 نور ثقلین جلد 360 

👈تفسیر قمی جلد 2 صفحہ 115 

👈اصول کافی جلد 1 صفحہ 257

👈فاستبقواالخیرات الخیرات سے مراد ولایت ہے 

👈البرھان جلد 1 صفحہ 163 

👈تفسیر صافی جلد1 صفحہ 200 

👈علامات وبالنجم ھم یھتدون۔ علامات سے مراد آئمہ ہیں 

👈تفسیر القمی جلد 1 صفحہ 383 

👈تفسیر عیاشی جلد 2 صفحہ 255 

👈الکافی جلد 1 صفحہ 206 

👈البرھان جلد 2 صفحہ ٣٦٢ 

👈تفسیر الصافی جلد 3 صفحہ 129 

👈تفسیر فرات صفحہ 83 

👈مجمع البیان جلد 4 صفحہ 62  

👈ان اللہ اصطفی لکم الدین 

دین سےمراد ولایت علی ہے

👈فلاتموتن الاوانتم مسلمون 

تمہیں موت آئے تو تم ولایت علی پر اسلام لانے والے ہو 

👈البرھان جلد 1 صفحہ 156 

👈مراۃ الانوار صفحہ 148 

👈تفسیرالقمی میں اس آیت 👈ان اقیمواالدین دین سے مراد امام ہے 

👈ولا تتفقروفیہ یہ امیرالمومنین علی سے کنایا ہے 

👈کبرعلی المشرکین ماتفعوھم الیہ۔ اس سے مراد ولایت علی کا مسئلہ ہے 

👈اللہ یجتبی الیہ من یشاء 

یہ علی سے کنایہ ہے

👈تفسیر قمی جلد 2 صفحہ 273 

👈البرھان جلد 4 صفحہ 120 

👈تفسیر صافی جلد 4 صفحہ 368 

👈بحارالانوار جلد 36 صفحہ 84  

👈بل کذبوابالساعة سے مراد ولایت علی کی تکذیب ہے 

👈الغیبۃ صفحہ 54 

👈البرھان جلد 3 صفحہ 157 

👈مراۃ الانوار صفحہ 182 

👈انالننصررسلنا۔ ۔۔۔۔حیات دنیا سے مراد رجعت ہے  

👈تفسیر القمی جلد 2 صفحہ 258 

👈تفسیر الصافی جلد 4 صفحہ 325 

👈البرھان جلد 4 صفحہ 600 

👈باب انھم جنب اللہ ووجہ اللہ۔ویداللہ وامثالھا

👈اس باب میں اللہ کی ذات کے بارےمیں تاویلات ملاحظہ فرمائیں 

👈۔۔۔بحارالانوار جلد 24 صفحہ 191 تا203

👈الفحشاء ۔المنکر۔البغی ۔المیسر۔ الخمر۔ الانصاب۔الازلام

۔الاصنام ۔الاوثان ۔الجبت۔ الطاغوت ۔المیتة ۔الدم ۔لحم الخنزیر۔ ان تمام الفاظ سے مراد ہمارے دشمن ہیں 

👈۔بحارالانوار جلد 24 صفحہ 

303  

👈روایت۔ ۔۔ہماری حدیث سے دل نفوذ ہوتے ہیں پس جو کوئی اسے گوارا کرلے اس کے سامنے ہماری حدیث اور زبان بیان کرو اور جو اسے ناپسند کرے تو اسے چھوڑ دو اور نہ سناؤ یقینا

👈بحارالنوار جلد 2 صفحہ 192 

👈روایت۔ ۔۔۔سفیان سے مروی ہے کہ میں نے ابو عبداللہ سے کہا میں آپ پر قربان جاؤں یقینا آپ کی طرف سے ہمارے پاس ایک شخص آتا ہے جو جھوٹ بولنے میں مشہور ہے وہ ہمیں ایسی حدیث سناتا ہے کہ ہم اسے بہت برا سمجھتے ہیں ابو عبداللہ نے فرمایا کیا وہ تمہیں یہ کہتا ہے کہ میں نے رات کو دن کہا یا دن کو رات کہا ہے تو اگر وہ تمہیں یہ کہے کہ میں نے ایسا کہا ہے تو اسے مت جھٹلاو وگرنہ تم مجھے جھٹلاؤ گے 

👈بحارالانوار جلد 2 صفحہ 211 

👈اللوامع النورانیة صفا 549 550 

👈رجال کشی صفحہ 194 

👈باب فی ماجاءان حدیثھم صعب مستصعف۔اس باب میں پانچ روایات ذکر ہوئی ہیں 

👈الکافی۔ جلد 1 صفحہ 401 402   

👈اسی عنوان کے تحت بحار الانوار کہ مؤلف نے باب قائم کیا ہے اور اس میں 116 روایات کر کی ہیں  

👈نتیجہ۔۔۔۔۔  

یہ امر توجہ طلب ہے کہ یہ تاویلات شیعہ کے ہاں صرف تاویل قرآن کے بارے میں اجتہادی آراء کا درجہ نہیں رکھتی جو رد و قبول بحث اور اصلاح کے قابل ہوتی ہیں بلکہ یہ تشریحات شیعہ اصول کے مطابق ان کے لیے شرعی نصوص ہیں جو وحی کا مقام اور اسی اہمیت کی حامل ہیں اور انہیں فرمان نبوی جیسا تقدس اور شرعی حیثیت حاصل ہےشیعہ کے ہاں ایسی روایات بکثرت مروی ہیں جو اس طرح کی عقل فطرت اور لغت و منطق کے ساتھ کسی طرح بھی میل نہ کھانے والی روایات کو رد کرنے سے ڈراتی اور باور کراتی ہیں کہ اپنی عقل کا چراغ گل کر دو اور اندھادھند ایمان لے آؤ کے مصداق تسلیم کرنا اور احتراز سے گریز کرنا لازمی ہے ان لوگوں نے اپنے پیروکاروں کو اس طرح کی نصوص کو قبول کرنے کا عادی بنانے کے لئے بڑی کوششیں کیں اور زور لگایا ہے مثال کےلیے ہم نے ماقبل میں دو روایات پیش کی ہیں    

معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ کے لئے پاوں جمانا  اور کتاب اللہ کی کسی دلیل سے احتجاج کرنا صرف اسی وقت ممکن ہے جب وہ فحش اورمعنوی تاویل کے زریعے استدلال کریں۔اہل تشیع اس قدر معنوی تحریفات کی ہیں کہ بحارالانوار کے مؤلف نے قرآن کی 174 آیات سے عقیدہ رجعت کو استدلال کرنے کی کوشش کی ہے تو یہ چند مثالیں تھیں شیعہ کی طرف سے معنوی تحریف القرآن کی جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کی ہیں  

👈قرآن میں لفظی تحریف کی مثالیں اور تحریف 

👈قران کے جابجا الفاظ بدل دیے گئے ہیں قرآن مجید کے ترتیب خراب کردی ہے۔یعنی اس کی سورتوں کی ترتیب اور سورتوں کے اندر جو آیتیں ہیں ان کی ترتیب اور آیتوں کے اندر جو کلمات ہیں ان کی ترتیب اور کلمات کے اندر جو حروف ہیں ان کی ترتیب خراب کردی گئی ہے 

روایات اہل تشیع 

👈عبارات اہل تشیع

١۔۔۔