اَفسانہ خلافت بلافصل اور تحقیق من کنت مولاہ فعلی مولاہ

اَفسانہ خلافت بلافصل اور تحقیق مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ

شیعہ عموماً اس روایت کے معنی توڑ موڑ کر عوام الناس کو ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ حسب ذیل ہیں

رسول ﷺ پر غدیر خم کے موقع لوگوں کو فرمایا

مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ. أَللّهُمَّ والِ مَنْ والاهُ، وَ عادِ مَنْ عاداهُ

  “میں جس کا محبوب اور دوستوں ہوں تو یہ علی بھی اس کا محبوب اور دوست ہے

یا اللہ تو اس شخص کو محبوب رکھ جو اس کو محبوب رکھیں تو اس شخص کو دشمن رکھ جو اس کو دشمن رکھے”

اس سے پہلے ہم اس روایت کی تحقیق بیان کریں شیعہ کتابوں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے متعلق حیرت انگیز تعجب خیز ایک کہانی پیش کرتے ہیں

پڑھیں پھر اس روایت پر تحقیق ہوگی

شیعہ کتاب احتجاج طبرسی کتاب صفحہ 70 اور طبع قدیم صفحہ 33 پر مرقوم ہے

“حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حج کے روز عرفات میں آکر اللہ تعالی کا یہ حکم پہنچایا کہ علی کی خلافت کا اعلان کر دو تو رسول ﷺ نے لوگوں کے ڈر سے اللہ کے حکم کو ٹال دیا وہاں سے واپس ہوئے جب مسجد خیف پہنچے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام دوسری بار نازل ہوئے اور پھر یہ حکم دیا کہ علی ع کی خلافت کا اعلان کردو پھر بھی ڈر کی وجہ سے رسول ﷺ نے اعلان نہ کیا پھر وہاں سے چلتے چلتے “کراع غمیم” نامی مقام پر پہنچے جو کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے رسول ﷺ نے فرمایا مجھے اپنی قوم سے ڈر ہے اللہ تعالی سے میرے لئے حفاظت کی کوئی آیت لاو تب میں یہ حکم لوگوں میں پہنچاوں گا حضرت جبرائیل علیہ السلام واپس بارگاہِ الٰہی میں سارا ماجرہ عرض کیا اور رسول ﷺ چلتے چلتے غدیر خم پر پہنچے تو چوتھی بار جب جبرائیل علیہ السلام آئے اس وقت جبکہ دن کی پانچ گھڑیاں گزر رہی تھی جبرائیل علیہ السلام رسول ﷺ کے پاس آئے اور سخت زجروتوبیخ سے کہا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ علی کی خلافت کا اعلان کر دو میں تمہیں لوگوں سے محفوظ رکھوں گا اگر تم ملے اب بھی علی ع کی خلافت کا اعلان نہ کیا تو تم نے رسالت کا فریضہ ادا نہ کیا تو پھر اس زجروتوبیخ کے بعد رسول ﷺ (نے صریح اور صاف اعلان خلافت بلافصل کے بجائے) من کنت مولا فہذا علی مولا کے الفاظ سے اعلان فرمایا جو کہ خلافت مطلقہ کا بھی معنیٰ نہیں دے سکتی چہ جائے کے خلافت بلا فصل پر دلالت کرے”

(لفظ مولا کے معنیٰ کے وسعت کو دیکھ کر شیعہ مجتہد علامہ نوری طبرسی نے فیصلہ کن بات کہہ دی)

“کیا تو نہیں دیکھتا کہ حضور ﷺ نے غدیر کے دن اپنے بعد خلافت بلا فصل کی ہرگز وصیت نہیں فرمائی”

فصل الخطاب 182

شیعوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل کے لئے تو یہ کہانی گھڑ لی،  لیکن بیچاروں کو یہ نہیں خیال رہا کہ اس کہانی سے رسول ﷺ کی رسالت پر کیسی زد پڑے گی حضور ﷺ ساری کائنات کے بہادروں سے زیادہ بہادر تھے اور جو مکہ اور طائف احد واحزاب میں کسی سے خوفزدہ نہ ہوئے ان کے بارے میں یہ کہانی بہتان اور خلاف قرآن ہے

الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ ۗ

اللہ کے رسول اللہ تعالی کے احکام کی تبلیغ کرتے ہیں اور اللہ تعالی کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے”

اگر رسول اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل کا اعلان کرچکے ہوتے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہاتھ پر بیعت کیوں کرتے؟؟

جیسا کہ شیعہ کتاب احتجاج طبرسی صفحہ 56 پر لکھا ہے

اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کی شہادت کے بعد جب آپ لوگوں نے ان کو خلیفہ بننے کے لئے کیا تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا

“مجھے چھوڑو کسی اور کو بنا لو اگر تم مجھ کو چھوڑ دو تو میں باقی مسلمانوں کی طرح رہوں  گا اور جس کو تم امیر بناؤ گے میں تم سے زیادہ اس کی اطاعت و فرمانبرداری کروں گا اور میرا وزیر ہونا میرے خلیفہ ہونے سے تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے

نہج البلاغہ صفحہ 182 جلد 1

غور کیجئے گا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلافصل منصوص من اللہ تھی تو وہ کس طرح کہتے کہ کسی اور کو خلیفہ بنا لو میں اس کی فرمانبرداری تم سے زیادہ کرونگا جو چیز توحید و رسالت کی طرح اصول دین میں سے ہے اس کے خلاف حضرت علیؓ  جیسے کامل الایمان کیسے کر سکتے تھے؟؟

نیز سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مہاجریں وانصار کے اجتماع اور شوریٰ سے منتخب شدہ امام کو امام برحق اور رضائے الٰہی کے موافق بیان فرمایا نہج البلاغہ جلد 3 صفحہ 8

اگر بالفرض خلافت علی منصوص من یعنی کی اللہ تعالی کی طرف سے منتخب شدہ ) ہیں تو حضرت علی اس کے خلاف یہ کیسے فرماتے کہ مہاجرین انصار کا منتخب شدہ امام اللہ کا پسندیدہ امام ہوگا بلکہ آپ تو یوں فرماتے نص خلافت کے بعد دوسرے کو امام بنانا کفر ہے

مذکورہ امور کے بعد اب اس روایت کے معنیٰ پر غور کرتے ہیں

تحقیق لفظ مولیٰ:

واضح رہے کہ” مولیٰ” فصیح عربی زبان کا لفظ ہے جس کا استعمال قرآن مجید، احادیث مبارکہ اور کلام عرب میں موجود ہے علماء عربیت نے اس کے پچاس سے زائد معانی بیان کیے ہیں عام لغات میں بھی اس کے پندرہ سترہ معانی بآسانی دستیاب ہیں۔ اسی لفظ کے ساتھ “نا” ضمیر بطور مضاف الیہ استعمال کی جاتی ہے۔ جہاں تک اس کے سب سے پہلے استعمال کی بات ہے تو خود اللہ جل شانہ نے قرآن مجید میں رسول ﷺ کی طرف نسبت کر کے اپنے، جبریل امین اور نیک مسلمانوں کے لیے یہ لفظ استعمال فرمایاہے،

چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

“فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ ۖ “،

یعنی بے شک اللہ تعالیٰ اورجبریل اور نیک اہل ایمان آپ ﷺ کے مولیٰ ہیں۔

یہاں ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے بھی، فرشتے کے لیے بھی اور خواص اہل ایمان(یعنی نیکوکاروں) کے لیے بھی یہ لفظ مولاہ  استعمال فرمایا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ جبریل امین اور تمام نیکو کار اہل ایمان رسول ﷺ کے مولیٰ ہیں، اور یہ لقب انہیں خود بارگاہ ایزدی سے عطاہوا ہے۔

اس سے آگے چلیں تو خود رسول ﷺ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو فرمایا: “یا زید انت مولانا”۔

معلوم ہوا کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ رسول ﷺ کے مولیٰ ہیں۔ نیز آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق فرمایا کہ:“من کنت مولاہ فعلی مولاہ”۔

جس طرح شیعہ لفظ مولا سے حضرت علی کی خلافت ثابت کرنا چاہتے ہیں اس طرح کیا حضرت زید بھی رسول ﷺ کے خلیفہ بلا فصل تھے؟؟

شیعہ حضرات جو اپنے مولوی صاحبان کو فلاں مولانا ، فلاں مولانا کہا کرتے ہیں تو کیا وہ بھی خلیفہ بلا فصل ہوتے ہیں؟

ان مذکورہ بالا متعدد معانی میں سے اس روایت کے معنیٰ خود اس روایت کے آخری الفاظ “أَللّهُمَّ والِ مَنْ والاهُ، وَ عادِ مَنْ عاداهُ” متعین کرتے ہیں کیونکہ ان کے معنیٰ ہر شخص کے نزدیک یہی ہیں کہ

“یااللہ تو اس شخص کو دوست رکھ جو علی رضی اللہ عنہ کو دوست رکھے اور دشمن رکھ اس شخص کو جو علی کو دشمن رکھے”

یہ الفاظ بالکل اسی طرح اور واضح کرنا ہے کہ اس روایت میں مولیٰ کے معنیٰ دوست اور محب کے ہیں جس کی بنا پر روایت کے معنیٰ میں یہ ہے کہ جس کا میں دوست ہوں اس کا علی دوست ہے اس فرمان نبویؐ میں اس شخص کو تنبیہ مقصود تھی جس کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کچھ رنجش ہو گئی تھی اس رنجش کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی جنگل کے غدیر تالاب پر علم ہوا جس کا وہیں یہ فیصلہ فرمایا ورنہ اگر خلافت بلا فصل کا اعلان مقصود ہوتا تو

عرفات کے میدان میں جہاں تمام لوگ ہزاروں کی تعداد میں جمع تھے وہاں اعلان فرماتے۔

عقلمند اور دیانتدار باشعور اور مصنف مزاج حضرات غور فرمائیں اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل کا مسئلہ اصول دین میں توحید رسالت کی طرح تھا جیسے شیعہ کہتے ہیں تو اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ اس کا اعلان و بیان نہ  قرآن مجید میں نہ صریح حدیث متواتر میں نہ مکہ میں نہ مدینہ میں نہ بیت اللہ میں مسجد نبویؐ میں نہ عرفات و منیٰ و مزدلفہ میں جہاں تمام مسلمان ہزاروں کی تعداد میں جمع تھے بلکہ ایسا ضروری اور اہم اعلان غدیر خم جنگل کے تالاب پر وہ بھی گول مول الفاظ میں

ان الفاظ کے معنیٰ خلافت بلا فصل قطعاََ نہیں ہوسکتے بلکہ اس روایت میں کوئی ادنیٰ سا اشارہ بھی خلافت علی بلا فصل کا نہیں کیونکہ اس میں تو دوامی حکم ہے کسی خاص وقت کے متعلق حضور ﷺ کی زندگی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد صحابہ کی زندگی تک کا حکم نہیں بلکہ حضور صلی اللہ وسلم کی امت کو قیامت تک یہ حکم ہے کہ جس شخص کے لئے رسول ﷺ مولا ہیں اس کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی مولا ہیں تو یہ تو دوامی حکم محبت و دوستی کا تو صحیح ہوسکتا ہے لیکن خلافت بلا فصل کا صحیح نہیں ہوسکتا ہے البتہ اس ۔۔میں شک نہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلفاء ثلاثہ کے بعد چوتھے خلیفہ راشد ہیں