انجینئر مرزا محمد علی کا مختصر تعارف (مبشر شاہ)

انجینئر مرزا محمد علی کا مختصر تعارف

مرزا محمد علی کے بقول میں کچھ سال بریلوی رہا پھر دیوبندی پھر وہابی پھر شیعہ مگر اب کچھ بھی نہیں ہوں ۔بالکل اسی طرح تدریجاً مرزا غلام قادیانی بھی گمراہ ہوا ۔
مرزا کا طریقہ واردات یہ ہے کہ وہی پرانے اعتراضات اٹھا کر کبھی علماءِ بریلوی کبھی دیوبندیہ کبھی وہابیہ اور کبھی شیعہ کو چیلنج کرتا نظر آتا ہے۔بالکل اسی طرح آج کل کے قادیانی بھی مسلمانوں کے نزاعی مسائل کو ہوا دیتے ہیں اور عبارات کو اٹھا اٹھا کر پیش کرتے ہیں ۔
صحابہ میں سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سخت گستاخ ہے ۔

مرزا غلام قادیانی بھی صحابہ علیھم رضوان کا سخت گستاخ تھا۔

کسی حدیث کی کتاب کو فقہ کی کتاب کو کسی بھی تفسیر کو نہیں مانتا سوائے بخاری شریف کو لیکن بخاری شریف میں بھی من پسند احادیث کو قبول کرتا ہے ۔

قادیانی بھی اسی طرح اپنے من پسند کی احادیث کو قبول کرتےہیں اور اپنی مرضی کے ترجمے کرتے ہیں ۔
قرآن حدیث کی آیات کی غلط تشریحات اور احادیث نبویہ ﷺ کے غلط مفاہیم بیان کر کے لوگوں کے عقائد کو خراب کرنا مرزا کا وطیرہ ہے ۔
مرزا کو کسی بھی مسلک کے علماء نہیں مانتے اور یوٹیوب پر کثرت سے وڈیوز موجود ہیں جس میں علماء نے اس شخص کا انکار کیا ہے لہذا کہا جا سکتا ہے کہ کہ مرزا محمد علی کی گمراہی اور فتنہ پروری پر امت کا اجماع ہو چکا ہے ۔

اسی طرح 1974 میں مرزا غلام قادیانی کے خلاف امت کا اجماع ہوا تھا۔
مرزا محمد علی علماء کے سامنے آنے اور سامنے آ کر مناظرہ کرنے سے ڈرتا ہے اور جب کوئی عالم اس کو ملنے جاتا ہے تو یہ پولیس بلوا لیتا ہے ۔
میں سید مبشر رضا قادری آمنے سامنے بیٹھ کر مرزا کو مناظرہ کی دعوت پیش کرتا ہوں