ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا

  .امّ المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا:

نام ہند

کنیت ام سلمہ

والد ابو امیہ سہیل بن مغیرہ

والدہ عاتکہ بنت عامر

سن پیدائش بعثت نبوی سے 9سال قبل

قبیلہ بنو مخزوم

زوجیت رسول 4 ہجری

سن وفات 59ہجری

مقامِ تدفین جنت البقیع مدینہ منورہ

کل عمر 81 سال تقریباً

نام و نسب:

نام ہند تھا۔ والد کی طرف سے آپ رضی اللہ عنہا کا سلسلہ نسب یہ ہے: ہند بنت ابی امیہ سہیل بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم۔ جبکہ والدہ کی طرف سے سلسلہ نسب اس طرح ہے: ہند بنت عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ بن مالک بن جذیمہ بن علقمہ بن جذل بن فراس بن غنم بن مالک بن کنانہ۔

کنیت:

آپ رضی اللہ عنہا کی کنیت” اُم سلمہ“ تھی۔

ولادت:

آپ رضی اللہ عنہا کی ولادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت سے تقریباً 9 سال قبل ہوئی۔

خاندانی پس منظر:

آپ رضی اللہ عنہا کے والد ابو امیہ کا تعلق قریش کے خاندان مخزوم سے تھا۔ ابو امیہ نہایت سخی انسان تھے، عموماً جب کسی سفر میں جاتے توسفر میں شریک تمام دوستوں کے سفر کے اخراجات خود برداشت کرتے۔ اس وجہ سے ان کا لقب’’ زاد الراکب‘‘پڑگیا تھا۔ یعنی مسافروں کےسفری اخراجات و ضروریات کو پورا کرنے والا۔ سخی اور عزت دار گھرانے میں پرورش پانے کی وجہ سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مزاج میں بھی عزت و حیا اور سخاوت غالب تھی۔

پہلا نکاح:

آپ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح اپنےچچا زاد عبداللہ بن عبدالاسد سے ہوا۔ عبداللہ بن عبدالاسد آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پھوپھی زاد اور رضاعی بھائی تھے۔

اولاد:

آپ رضی اللہ عنہا کے عبداللہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ سے چار بچے تھے۔ جن کے نام یہ ہیں: سلمہ، عمر، درہ اور برہ۔

سلمہ: حبشہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی اُمامَہ سے کیا تھا۔ لیکن دونوں بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے۔

عمر: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بحرین اور فارس کے حاکم رہے۔

دُرّہ:  دُرَّہ کے بارے میں ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ ہم سے کسی نے یہ بات کہی ہے کہ آپ درہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں )کیا یہ بات درست ہے یا غلط؟(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے اگر میں نے اس کی پرورش نہ بھی کی ہوتی تب بھی وہ میرے لیے کسی طرح جائز نہیں۔ کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔

برہ/ زینب: ان کی پیدائش حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ہوئی، آپ نے ان کا نام تبدیل کر کے زینب رکھا تھا، اپنے زمانے کی فقیہہ تھیں۔

قبول اسلام:

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور آپ کے شوہر عبداللہ بن عبدالاسد ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا شمار اُن اولوالعزم لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اعلان نبوت کے کچھ ہی عرصہ بعد اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اسلام پر ابھی صرف دس لوگ مسلمان ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل محنت فرما رہے تھے۔ چنانچہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ و سلم دارِ بنی اَرقم میں چند صحابہ کرام کے ہمراہ تشریف فرما تھےاسی دوران حضرت ابو سلمہ اپنی بیوی ام سلمہ کے ساتھ حاضر خدمت ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےان کے آنے پر خوشی کا اظہار فرمایا اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی، اور دونوں کو قرآن کریم کی چند آیات پڑھ کر سنائیں۔

قرآن مجید سننے کے بعد حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’ بھائی ہونے کے ناتے میرا بھی یہ حق بنتا ہے کہ میں بھی اس روشنی سے اپنی روح کو منور کروں جس سے دوسرے فیض حاصل کر رہے ہیں۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ و سلم نےابو سلمہ رضی اللہ عنہا کے یہ الفاظ سنے توبہت خوش ہوئے، حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے دوبارہ عرض کی:’’ ہم دونوں میاں بیوی کو مسلمان کر کے اپنی غلامی میں داخل کر لیجیے۔‘‘ چنانچہ کلمہ شہادت پڑھ کر مشرف باسلام ہوئے۔

حبشہ کی طرف پہلی ہجرت:

اعلانِ نبوت کے پانچویں سال رجب المرجب کے مہینے میں حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم ملا۔ چنانچہ11 مردوں اور 4خواتین پرمشتمل چھوٹا سا قافلہ مکہ مکرمہ کو الوداع کہتے ہوئے حبشہ کی طرف روانہ ہوا۔اس قافلے میں سیدہ ام سلمہ اور آپ کے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے۔ اسی دوران حضرت ابو سلمہ کے گھر ایک بچہ سلمہ پیدا ہوا۔ والدین کو اپنے بچے سے بے حد محبت تھی۔ چنانچہ اسی کی وجہ سے دونوں میاں بیوی نے اپنی کنیت” ام سلمہ“ اور” ابو سلمہ“ رکھی۔

حبشہ سے مکہ مکرمہ کی طرف واپسی:

جو مہاجرین حبشہ کی طرف ہجرت کر چکے تھے، اگرچہ وہ حبشہ میں احکام اسلام پر عمل کرنے میں مکمل آزاد تھے لیکن اس کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت اور اپنے وطن کی یاد انہیں ستاتی تھی۔ ایک روز انہیں کہیں سے یہ خبر ملی کہ کفار و مشرکین نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے صلح کر لی ہے اور وہ سب مسلمان ہو گئے ہیں۔ اس خبر کو سننے کے بعدسب لوگ واپسی کی تیاری کرنے لگے کہ بنو کنانہ کا ایک شخص وہاں پہنچا اور اس نے بتایا کہ تم لوگوں تک جو خبر پہنچی ہے وہ جھوٹ ہے مکہ کے کفار و مشرکین اب بھی اسلام دشمنی پر ویسے ہی قائم ہیں۔

خبر سنانے والا بنو کنانہ کا وہ شخص تو چلا گیا لیکن مہاجرین سوچ میں پڑ گئے کہ آخر معاملہ کیا ہے؟ چنانچہ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس حاضر ہونا چاہیے۔ مہاجرین نے مکہ مکرمہ کی طرف واپسی کی راہ لی اور ہر شخص کسی نہ کسی قریشی سردار کی پناہ لے کر اپنے آبائی وطن میں داخل ہوا۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو ان کے ماموں خواجہ ابوطالب نے پناہ دی۔ آپ مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔

قبیلہ بنو مخزوم کا ابو طالب سے مکالمہ:

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے ہمراہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ قبیلۂ بنو مخزوم کو جب یہ معلوم ہوا کہ ابو طالب نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو اپنی پناہ میں لے لیا ہے تو انہیں بہت غصہ آیا۔ چنانچہ بنو مخزوم کے کچھ لوگ جمع ہو کر ابو طالب کے پاس آئے اور کہنے لگے: ’’ابو طالب! ہمارے آدمیوں سے آپ کا کیا واسطہ؟‘‘

’’کون سے آدمی؟‘‘ ابو طالب نے حیرت سےپوچھا۔

بنو مخزوم کے لوگ کہنے لگے کہ’’ ابو سلمہ اور اس کی بیوی ام سلمہ۔‘‘

ابو طالب نے کہا:’’ابو سلمہ میرا بھانجا ہے، جب میں اپنے بھتیجے محمد کو پناہ دے سکتا ہوں تو اسے کیوں نہیں دے سکتا؟‘‘گفتگو بڑھتی گئی اور بنومخزوم اپنا دباؤ بڑھا رہے تھے، ابو لہب درمیان میں بول پڑا:’’اے بنی مخزوم ! تم نے ابو طالب کے ساتھ بہت کچھ بحث و تکرار کر لی اور میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اس پر برابر دباؤ ڈال رہے ہو۔ اگر تم نے ان کو تنگ کرنا بند نہ کیا تو مَیں بھی ان کی حمایت میں کھڑا ہو جاؤں گا۔‘‘

بنو مخزوم کے لوگوں نے جب ابو لہب کی باتیں سنیں تو گھبرا گئے اور یہ کہتے ہوئے چلے گئے: ’’ اے ابو عتبہ! ہم تم کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔‘‘

حبشہ کی طرف دوسری ہجرت:

کفار و مشرکین مکہ اپنی زیادتیوں سے باز نہ آئے اور اہل اسلام کو مسلسل ظلم و ستم کا نشانہ بناتے رہے۔ چنانچہ بعثت کے چھٹے سال کی شروعات میں دوبارہ حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم ملا۔ پہلے کی بنسبت اس بار حبشہ کی طرف جانا خاصا مشکل کام تھا۔ کیونکہ کفار ومشرکین مکہ نے مکہ سے باہر جانے والے تمام راستوں پر سخت پہرے بٹھا دیےتاکہ کوئی مکہ سے باہر نہ نکلنے پائے۔ ان تمام تر سختیوں کے باوجود 83 مرد20 خواتین کے ہمراہ مکہ سے حبشہ ہجرت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔اس دوسری ہجرت میں بھی حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا شامل تھیں۔

کفار مکہ کے شاہ نجاشی کو تحائف:

کفار مکہ نے بادشاہ حبشہ نجاشی کی طرف عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ربیعہ کو تحائف دے کر روانہ کیا تاکہ وہ مہاجرین کی واپسی پر نجاشی کوکسی طور آمادہ کریں۔

شاہ نجاشی کا انکار:

کفارِ قریش کا یہ وفد شاہِ حبشہ کے دربار میں پہنچا اور مسلمانوں کے خلاف ایسی باتیں کیں جو مسلمانوں میں پائی نہیں جاتی تھیں یہ باتیں سن کر بادشاہ نے سخت غصے میں کہا:’’ جن لوگوں نے اپنا ملک چھوڑ کر میرے ملک اور مجھ پر بھروسہ کیا ہے۔ میں ان کے ساتھ بے وفائی نہیں کرسکتا۔ تم لوگ کل آنا اس معاملے میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔‘‘

شاہ نجاشی سے کفار کے وفد کی گفتگو:

دوسرے دن بادشاہِ نجاشی نے تمام مسلمانوں کو دربار میں بلایا۔ وہاں کفارِ قریش کے سفیر عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ربیعہ بھی موجود تھے۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بادشاہ نے مسلمانوں سے کہا:

’’یہ تم نے کیا کر دیا کہ اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا اور میرے دین کو بھی قبول نہ کیا اور نہ ہی دنیا کے کسی دین کو اختیار کیا۔ آخر تمہارا دین کیا ہے؟ ‘‘

بادشاہِ حبشہ نجاشی کی یہ بات سن کر حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے فوراً جواب دیا’’:اے بادشاہ! ہم ہر طرح کی برائیوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم میں ایک رسول بھیجا جس کے نسب،سچائی، امانت داری اور پاک دامنی کے ہم گواہ تھے، اس نے ہمیں ایک معبود اللہ کی طرف بلایا اور ہم نے اس کی بات مان لی کہ جس کی پوری زندگی پاک دامنی کا نمونہ ہو اور جس نے کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اس نے ہمیں برائیوں، غلط کاموں اور بت پرستی سے روکا۔ نیکیوں کی نصیحت کی اور سیدھا راستا دکھایا تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔’’

اِس پر شاہ نجاشی نے کہا: ’’ تمہارے نبی پر جو کلام اترا ہے اس میں سے ہمیں بھی کچھ سناؤ۔‘‘

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’ حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے سورۂ مریم کی آیتیں پڑھ کر سنائیں جس سے بادشاہ بے حد متاثر ہوا۔’’

دوسرے دن دربار نجاشی میں:

جب کفار کے وفد کو نامرادی کا منہ دیکھنا پڑا تو انہوں نے پینترا بدلتے ہوئے ایک اور سازش سوچی۔ وہ یہ کہ بادشاہ عیسائی ہے اور پورا ملک حبشہ عیسائیت کا پیروکار ہے تو کیونکہ بات کو مذہبی رنگ میں پیش کیا جائے۔ عیسائی چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بندہ قرار دیتے ہیں جبکہ عیسائی انہیں اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔

اس بارے بادشاہ کے دربار میں بات کی جائے تاکہ نجاشی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے مسلمانوں کا عقیدہ پتا چلے گا تو وہ انہیں اس جرم کی پاداش میں قتل/سخت سزا یا پھر ملک بدر کر دے گا یہ سوچ کر عمر و بن العاص نے عبداللہ بن ربیعہ سے مشورہ کیا۔

عبداللہ بن ربیعہ نے اس بارے بطور مشورہ کے کہا کہ ایسا نہ کرو۔ لیکن عمرو بن عاص نے جو ترکیب سوچی ہوئی تھی اس پر ڈٹ گیا اور دوسرے دن پھر دربار نجاشی میں جا پہنچا اب کی بار اس نے مقدمے میں ابنیت مسیح اور عبدیت مسیح کا کیس داخل کیا۔

اس نے شاہ نجاشی کو کہا:’’اے بادشاہ ! ان مہاجرین سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں پوچھیں۔ یہ اُن کو اللہ کا بندہ قرار دیتے ہیں۔‘‘

شاہ نجاشی نے حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ سے اس بارے دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: ’’ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی طرف سے ایک کلمہ اور روح ہیں جسے اللہ نے کنواری مریم پر القا فرمایا تھا۔‘‘

یہ جواب سن کر نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا’’:اللہ کی قسم! جو تم نے کہا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس سے ایک تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں۔‘‘

کفار مکہ کا ناکام وفد واپس لوٹا:

فریقین کی ساری گفتگو سننے کے بعد شاہ نجاشی نے حکم دیا:

’’مکہ کے سفیروں کے تحفے واپس کر دئیے جائیں، مجھے ان کی چنداں ضرورت نہیں۔‘‘

چنانچہ کفار مکہ کا وفد ناکام و نامراد واپس مکہ آ گیا۔

ہجرت مدینہ کا حکم:

اسلام تیزی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف سفر کر رہا تھا، لوگ شامل ہوتے جا رہے تھے اور کاررواں بڑھتا جا رہا تھا۔ کفار مکہ اپنے مظالم کے ذریعے اسے دبانا چاہتے تھے لیکن اسلام مسلسل پھیل رہا تھا۔

ایک مرتبہ طفیل بن عمرو دوسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ مکہ مکرمہ سے کچھ فاصلے پر ہمارا قبیلہ آباد ہے اور وہاں ایک مضبوط قلعہ ہے آپ ہمارے ہاں تشریف لائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرما دیا اور اس سلسلہ میں اللہ رب العزت کے حکم کا انتظار فرمانے لگے۔

اعلانِ نبوت کوتیرہ برس کا عرصہ بیت چکا تھا، اللہ کی طرف سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کا حکم ملا آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس وقت کے اہل ایمان کو مدینۂ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ مسلمانوں نے مدینے کی طرف ہجرت شروع کی۔ سب سے پہلے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ اور حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ہجرت مدینہ کے سفر پر روانہ ہوئے۔

مدینہ روانگی سے پہلے:

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا خود فرماتی ہیں:’’ جب حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے مدینۂ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ فرمایا تو اونٹ پر کجاوہ کس کر مجھے اور سلمہ رضی اللہ عنہ کو اونٹ پر بٹھا دیا اور اس کی نکیل پکڑ کر آگے آگے چلتے رہے جب میرے میکے والوں کو ہمارے روانہ ہونے کی خبر ہوئی تو انہوں نے حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے کہا:” تم اپنے بارے میں خود مختار ہو سکتے ہو مگر ہم اپنی بیٹی کو تمہارے ساتھ ہرگز نہیں جانے دیں گے۔’’

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’یہ سُن کر ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا’’:ام سلمہ میری بیوی ہے، میں اسے لے کر جہاں جانا چاہوں جا سکتا ہوں۔’’

اس پر قبیلے والوں نے کہا: ’’یہ ہمارا فیصلہ ہے کہ ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) تمہارے ساتھ ہرگز ہرگز کسی صورت نہیں جاسکتی۔’’ یہ کہہ کر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں سے اونٹ کی نکیل چھین لی اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے جاتے جاتے اپنی بیوی حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ: ’’ام سلمہ ! اسلام پر سختی سے ڈٹے رہنا۔‘‘ اس کے علاوہ بھی چند نصیحتیں کیں۔

اپنے شوہر کی باتیں سن کر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ:’’ آپ مطمئن رہیے جان قربان کر دوں گی مگر اسلام کو مَیں کسی حال میں نہیں چھوڑوں گی۔‘‘

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ مدینۂ منورہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ اسی دوران حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے خاندان والے بھی اس جگہ پہنچ گئے۔ جب انہیں پورا ماجرا معلوم ہوا تو وہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے خاندان والوں سے کہنے لگے:’’ جب تم نے اپنی بیٹی ہمارے آدمی سے چھین لی تو اب ہم اپنے بچّے سلمہ کو کیوں اُس کے پاس رہنے دیں۔‘‘ انہوں نے آگے بڑھ کر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بچے کو بھی چھین لیا۔ بچّے کو زبردستی چھیننے میں اس کا ہاتھ اتر گیا اور وہ بہت زیادہ چیخنے چلانے لگا۔

سیدہ ام سلمہ کی استقامت:

مجبور شوہر کی تنہا ہجرت اور بچے کا چھن جانا ایک بیوی اور ماں ہونے کے ناتے آپ رضی اللہ عنہا کے دل پر کیا گزری۔؟ اس دکھ کا ان ظالموں کو کوئی احساس نہ تھا۔ ان سب کے باوجود آپ رضی اللہ عنہا نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔

ایک سال بعد:

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا خود فرماتی ہیں: ’’ ایک سال کا عرصہ گذر چکا تھا نہ شوہر کے پاس جا سکی تھی اور نہ بچّہ ہی مل سکا تھا۔چنانچہ ایک دن یوں ہوا کہ میرے ایک چچا زاد بھائی نے میری حالت دیکھ کر خاندان والوں سے کہا کہ تم اس بے کس پر رحم کیوں نہیں کرتے؟ اسے کیوں نہیں چھوڑ دیتے اور اس کو بچّے اور شوہر سے دور کیوں رکھا ہوا ہے؟ ’’

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’بنی مغیرہ نے اپنے اُس آدمی کی سفارش پر مجھے اپنے شوہرکے پاس جانے کی اجازت دے دی۔ جب اس بات کی خبر بچّہ کی ددھیال والوں کوہوئی تو انہوں نے بچّہ بھی مجھے دے دیا۔’’

مدینہ منورہ کی طرف سفر:

جب آپ رضی اللہ عنہا کو بچہ مل گیا اور مدینہ منورہ جانے کی پابندی بھی ہٹ گئی تو آپ رضی اللہ عنہا نے تنِ تنہا مدینے کی طرف سفر کرنے کا ارادہ کیا اور ایک اونٹ تیار کر کے بچّے کو ساتھ لیا اور اکیلے سوار ہو کر مدینۂ منورہ کے لیے نکل پڑیں۔ تقریباً تین چار میل ہی چلی ہوں گی کہ عثمان بن طلحہ جو قبیلہ بنی عبدالدار کے معزز انسان تھے ……… اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ……انہوں نے آپ رضی اللہ عنہا کو تنہا سفر کرتے ہوئے دیکھا توپوچھا کہ کہاں جانے کا ارادہ ہے؟

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا خود فرماتی ہیں کہ میں نے کہا:’’اپنے شوہر کے پاس مدینۂ منورہ جا رہی ہوں۔‘‘

عثمان بن طلحہ نےپوچھا: ’’ کوئی مرد ساتھ بھی ہے؟ ‘‘

سیدہ ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: ’’ اللہ تعالیٰ ہے اور یہ بچّہ ہے۔’’

یہ سُن کر عثمان بن طلحہ نے میرے اونٹ کی نکیل پکڑ لی اور آگے آگے چلنے لگے۔ خدا کی قسم! مَیں نے عثمان جیسا شریف آدمی نہیں دیکھا۔ جب منزل پر اترنا ہوتا تو وہ اونٹ بٹھا کر کسی درخت کی آڑ میں کھڑے ہو جاتے اور پھر اونٹ کو باندھ کر مجھ سے دور کسی درخت کے نیچے لیٹ جاتے اور جب کوچ کرنے کا وقت ہوتا تو اونٹ پر کجاوہ کس کر میرے پاس لا کر بٹھا دیتے اور خود وہاں سے ہٹ جاتے۔ جب مَیں سوار ہو جاتی تو اس کی نکیل پکڑ کر آگے آگے چل دیتے۔ اسی طرح وہ مجھے مدینۂ منورہ تک لے گئے جب ان کی نظر بنی عمرو بن عوف کی آبادی پر پڑی جو قبا ءمیں تھی تو انہوں نے کہا کہ آپ کا شوہر یہیں پر ہے،آپ چلی جائیں۔ چنانچہ مجھے سلام کر کے رخصت ہو گئے۔

مدینہ کی بہاریں:

آپ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں خوش و خرم زندگی بسر کرتی رہیں۔ اللہ کریم نے آپ کو اولاد عطا فرمائی۔ ایک بچہ جس کا نام عمر اور دو بچیاں جن کے نام دُرَّہ اور بَرَّہ تھے۔ برہ کا نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبدیل فرما کر زینب رکھا۔

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا مشورہ:

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور آپ کے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ دونوں مثالی میاں بیوی تھے۔ ایک دن سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر سے عرض کی کہ میں نے سنا ہے کہ اگر مرد اور عورت دونوں جنتی ہوں اور عورت مرد کے بعد کسی سے نکاح نہ کرے تو وہ عورت جنت میں اسی مرد کو ملے گی۔ اسی طرح مرد اگر دوسری عورت سے نکاح نہ کرے تو وہی عورت اسے ملے گی۔

اس لیے آؤ ہم عہد کریں کہ ہم میں سے جو پہلے اس دنیا سے چلا جائے بعد والا دوسرا نکاح نہ کرے۔یہ سُن کر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ کیا تم میرا کہا مان لو گی؟’’ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:’’ ماننے کے لیے ہی مشورہ کر رہی ہوں۔‘‘

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ’’ تم میرے بعد نکاح کر لینا۔‘‘

ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات:

آپ رضی اللہ عنہا کے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نےبے حد جری اور جنگی مہارتوں سے خوب واقف تھے، غزوہ بد رمیں آپ رضی اللہ عنہ نے شرکت کی اپنی دلیری کے جوہر دکھائے اور غازی بن کر لوٹے۔ اس کے بعد جنگ احد میں بھی شریک ہوئے۔ بے جگری سے لڑے، دوران لڑائی آپ رضی اللہ عنہ کے بازو میں دشمن کا ایک تیر ایسا لگا کہ جس سے آپ بہت زیادہ زخمی ہو گئے۔تقریباً ایک ماہ تک آپ کا علاج چلتا رہا۔جس کی وجہ سے آپ کا زخم کچھ حد تک بھر گیا۔کچھ عرصہ بعد سریۂ قطن کا واقعہ پیش آیا۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں ایک دستہ کا امیر بنا کر روانہ فرمایا۔جنگ سے واپسی پر آپ کا جنگ احد والا زخم پھر سے ہرا ہو گیا اور اسی کے اثر سے جمادی الاخریٰ4ھ میں آپ نے وفات پائی۔

ابو سلمہ کا جنازہ:

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی حفاظت اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی وفاداری اور جاں نثاری میں بسر کی اور ایک مثالی کردار ادا کیا۔ آپ کی نمازِ جنازہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی۔

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی دعا:

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا دعا مانگا کرتی تھیں کہ یا اللہ! مجھے ان سے بہتر شوہر عطا فرمالیکن پھر سوچتیں کہ بھلا ابو سلمہ سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے؟ کیونکہ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے اعلیٰ اخلاق و کردار کے مالک تھے ان کے ساتھ گزرے لمحات بھلائے نہیں جا سکتے تھے۔

صدیق اکبر کا پیغام نکاح:

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے وقت آپ رضی اللہ عنہا چونکہ حمل سے تھیں۔ بعد از وفات آپ کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کانام برہ رکھا )بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام زینب رکھا(۔ اس کی ولادت پر عدت بھی ختم ہو گئی۔ عدت گذر جانے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام نکاح بھیجا تو انہوں نے معذرت کر لی۔ بعض روایات میں ہے کہ ان کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی آپ رضی اللہ عنہا کوپیغام نکاح بھیجا لیکن آپ رضی اللہ عنہا نے عذر پیش کیا۔

ام سلمہ؛ ام المومنین بنتی ہیں:

کچھ دنوں بعد آپ رضی اللہ عنہا کے پاس حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے پیغام نکاح لائے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے عذر کیا کہ میرے بچے زیادہ ہیں، میری عمر بھی کافی ہے، کوئی میرا وارث بھی نہیں اور میرے مزاج یہ ہے کہ میں چھوٹی چھوٹی باتیں بہت زیادہ محسوس کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نےفرمایا:جہاں تک عمر کی بات ہے تو میری عمر آپ سے زیادہ ہے۔ دوسری بات بچوں کا اللہ نگہبان ہے ان کی تربیت و پرورش میں آپ کو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی، میں بھی ان کا خیال رکھوں گا۔باقی رہی مزاج والی بات تو میں اللہ سے دعا کروں گا کہ آپ کا مزاج بدل جائے۔آپ کا کوئی ولی میرے ساتھ اس رشتے کو ناپسند بھی نہیں کرے گا۔اس کے بعدسیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ پیغام قبول کر لیا۔چنانچہ شوال4ھ کی آخری تاریخوں میں آپ رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے ہو گیا۔ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہر میں چمڑے کا بنا ہوا خاص تکیہ دو مشکیزے اور دو چکیاں عطا فرمائیں۔

خدمتِ رسول ﷺکا جذبہ:

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا خود بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی بے حد خدمت کیا کرتیں اور اپنے غلام سَفِینَہ رضی اللہ عنہ کو اس شرط پر آزاد کیاکہ وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہے گا۔ سفینہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں:آپ شرط نہ لگاتیں تو بھی میں مرتے دم تک آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑتا۔

علم وفضل:

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا عقل مند اور پڑھی لکھی خاتون تھیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نے آپ کی علمی صلاحیتوں کو زیادہ نکھارا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےمختلف موضوعات کے مسائل پوچھا کرتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس کے جوابات عنایت فرماتے۔ اس وجہ سے آپ رضی اللہ عنہا کو تفسیر، حدیث، علم فقہ، علم الانساب اور علم معاشرت میں پختگی حاصل تھی۔ شعر و ادب سے لگاؤ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا کا شمار فقیہہ صحابیات میں ہوتا ہے۔

درسگاہ نبوت کی طالبہ:

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کیا: ’’دنیا کی عورتیں بہتر ہیں یا حوریں؟ ’’

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:’’ دنیا کی عورتیں۔‘‘میں نے عرض کی: ’’ یارسول اللہ!وہ کس وجہ سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اس لیے کہ اِن عورتوں نے نمازیں پڑھی ہیں، روزے رکھے ہیں اور عبادات کی ہیں۔‘‘

جبرائیل امین کی زیارت:

جبرئیل امین علیہ السلام جب کبھی کسی انسانی شکل میں رونما ہوتے تو حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت میں تشریف لاتے۔ ایک بار جبرائیل امین نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے ملنے آئے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا پاس تھیں۔کچھ دیر باتیں کرنے کے بعدجب وہ رخصت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: جانتی ہو یہ کون تھے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: دحیہ۔آپ رضی اللہ عنہا خود فرماتی ہیں: مجھے بالکل ایسا ہی لگا تھا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےبتایا کہ یہ جبرائیل امین تھے تب مجھے اس کا علم ہوا۔

خانگی معاملات میں امت کی رہنمائی:

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال کیا: ’’یارسول اللہ !میں اپنے سر کی مینڈھیاں سختی سے باندھتی ہوں تو کیا غسل جنابت کے لیے ان کو کھول لیا کروں؟ ’’ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:’’ نہیں ! بس تم اپنے سر پر تین بارچلو بھر کر پانی ڈال لیا کرو (جس سے بالوں کی جڑیں تر ہو جائیں) اس کے بعد (سارے بدن پر) پانی بہا لیا کرو۔ایسا کرنے سے پاک ہو جاؤ گی۔‘‘

نابینا شخص سے پردہ:

ایک دن آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اورسیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بھی بیٹھی تھیں۔ اسی دوران ایک نابینا صحابی سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے، وہ چونکہ نابینا تھے اس لیے یہ سمجھ کر کہ ان سے کیا پردہ کرنا ہے۔؟ دونوں وہیں بیٹھی رہیں اور پردہ نہ کیا۔نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:’’ ان سے پردہ کرو۔‘‘سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ’’ یارسول اللہ! کیا وہ نابینا نہیں ہیں؟ہم کو تو نہیں دیکھ سکتے ! پھر پردہ کی کیا ضرورت؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:’’ کیا تم دونوں بھی نابینا ہو؟ کیا تم ان کو نہیں دیکھ رہی ہو؟’’

اولاد پر خرچ کرنا:

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ سوال کیا:’’ یارسول اللہ! کیا مجھے (اپنے شوہر) ابو سلمہ کی اولاد پر خرچ کرنے سے اجر ملے گا حالانکہ وہ میری ہی اولاد ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:’’ اُن پر خرچ کرو تم کو اس خرچ پر اجر ملے گا۔‘‘

عورت اور مرد میں فرق؟:

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نےایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی:’’یارسول اللہ ! مرد جہاد کرتے ہیں اور عورتیں جہاد میں نہیں جا سکتیں اور عورتوں کو مرد کے مقابلے میں آدھی میراث ملتی ہے۔ ( اس کا سبب کیا ہے؟ )’’ اس پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سورۃ النساء کی آیت نمبر 32تلاوت فرمائی:

وَلَا تَتَمَنَّوا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلیٰ بَعْضٍ۔

اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک دوسرے پر فضیلت دی۔

فاطمہ مخزومیہ کا واقعہ:

ایک مرتبہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے قبیلہ بنومخزوم کی ایک لڑکی فاطمہ نے چوری کر لی۔ چونکہ آپ رضی اللہ عنہا بھی بنو مخزوم سے تعلق رکھتی تھیں اس لیےآپ سے سفارش کی درخواست کی گئی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر محمدکی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو اس کا ہاتھ بھی کاٹا جاتا۔

صحابہ کرام کا مسائل دریافت کرنا:

علم وعمل اور اخلاص میں باکمال ہونے کی باوصف بہت سے جلیل القدر صحابہ اور تابعین کی بہت بڑی جماعت نے آپ سے علم حاصل کیا۔ جب کبھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کسی مسئلے میں مختلف آرا ءپیش فرماتے تو اس کے بارے حتمی فیصلہ کرانے کے لیے آپ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے جاتے اور مسئلہ کا حل دریافت فرماتے۔

عدت کا مسئلہ:

حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن کے درمیان اس عورت کی عدت کے بارے میں بحث ہوئی جس نے خاوند کی وفات کے چند روز بعد بچے کو جنم دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ زیادہ مدت کو عدت سمجھا جائے گا، جبکہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ بچے کی پیدایش کے بعد عدت پوری ہو گئی،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی تائید کی۔ تینوں نےسیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فیصلہ کرنے کو کہا۔

آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ سبیعہ اسلمیہ کا یہی معاملہ تھا۔تو اس وقت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بچہ پیدا ہونے کے فوراً بعد ان کو نکاح کی اجازت دے دی تھی۔

صلح حدیبیہ میں دانش مندانہ کردار:

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہاکو اللہ کریم نے بہت سے صلاحیتوں سے خوب خوب نوازا تھا، دانش مندی اور معاملہ فہمی میں بہت آگے تھیں۔

6ھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ عمرہ کے لیے مدینۂ منورہ سے مکۂ معظمہ کے لیے روانہ ہوئے۔مشرکین مکہ کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے سخت مزاحمت کی، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو حدیبیہ کے مقام پر رکنا پڑا۔ حالات اتنے کشیدہ تھے کہ صحابہ کرام نے بھی جنگ کا ارادہ کر لیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم حتی الامکان جنگ سے بچ کر صلح کی کوشش فرما رہے تھے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم نےمصلحت و حکمت کے پیش نظر بڑی رعایت کے ساتھ کفارِ مکہ سے صلح فرمائی تھی۔ اس صلح میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی شرائط قبول فرمالیں جو بظاہر مشرکین کے حق میں فائدہ مند جبکہ مسلمانوں کے حق میں نقصان دہ لگ رہی تھی۔ شرائط صلح میں سے ایک یہ بھی شرط تھی کہ اس سال مسلمان عمرہ نہیں کریں گے آئندہ سال عمرہ کے لیے آسکتے ہیں۔

صلح نامہ سے فارغ ہو کر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ارشاد فرمایا: اپنے احرام کھول دو، قربانی کے جانور ذبح کر لو اور اپنے سر منڈوا لو۔ صحابہ کی خواہش یہ تھی کہ ہم عمرہ کر کے واپس جائیں۔ اس لیے ذرا تامل کا شکار ہوئے اور اس آس میں تھے کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عمرہ کی ادائیگی کا حکم مل جائے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تین مرتبہ یہی ارشاد فرمایا۔ اس کےبعد خیمے میں تشریف لائے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو اس معاملےسے آگاہ فرمایا۔

آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:’’یارسول اللہ! کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ سب احرام کھول دیں؟ تو پھر ایسا کریں کہ آپ باہر نکل کر کسی سے کوئی بات نہ کریں اور اپنے جانور ذبح فرما دیں اور بال مونڈنے والے کو بلا کر اپنے بال مونڈا لیں۔‘‘چنانچہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا ہی کیا اور باہر نکل کر اپنا جانور ذبح کر دیا اور بال منڈالیے۔اس کو دیکھتے ہوئے صحابہ کرام کی وہ آس بھی ختم ہو گئی کہ شاید عمرہ کی ادائیگی کا حکم مل ہی جائے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نےبھی احرام کھول دیے اور اپنے جانور ذبح کر ڈالے اور آپس میں ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے۔

موئے مبارک سے محبت:

آپ رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےبے حد محبت تھی۔ آپ رضی اللہ عنہا کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند بال )موئے مبارک (تھے جو آپ نے سنبھال رکھے تھے۔ عثمان بن عبد اﷲ بن موہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے وہ بال دکھائے۔ مہندی اور کتم (سیاہ رنگ دینے والا پودا) لگنے کی وجہ سے ان کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔

خوشبوئے نبوت:

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا خود فرماتی ہیں: نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے دن میں نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک پر رکھا۔کئی جمعے گزر گئے، میں کھاتی پیتی اور وضو کے لیے ہاتھ دھوتی ہوں، لیکن مشک کی خوشبو میرے ہاتھ سے نہیں گئی۔

وفات:

آپ رضی اللہ عنہا نے امہات المومنین میں سے سب سے آخر میں وفات پائی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ آپ کے پہلے شوہر سےدونوں بیٹے عمر اور سلمہ، عبداللہ بن عبداللہ بن ابی امیہ اورعبداللہ بن وہب بن زمعہ رضی اللہ عنہم نے آپ کوقبر جنت البقیع کے قبرستان میں اتارا۔ سن وفات بعض نے 53ھ بعض نے59ھ بعض نے 62ھ لکھا ہے جبکہ بعض مورخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا کی وفات 63ھ میں ہوئی