امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے حضرت حسن ع کو شہید کروایا۔ (مروج الذاہب،سیر الاولیاء)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر روافض شیعہ کا الزام نمبر 47

🔺شیعہ الزام👇👇
امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے حضرت حسن ع کو شہید کروایا۔ (مروج الذاہب،سیر الاولیاء)

🔹الجواب اہلسنّت🔹
راس العلماء سید نور الحسن شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے جناب مودودی صاحب کے خرافات کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں. امام ابن کثیر تو مورخین حتیٰ کہ ابن جریر کی اخبار و روایات کو مردود قرار دے کر ان اخبار کے قائلین و ناقلین کے منہ پر مار رہے ہیں ادھر ایک ہمارے امام (مودودی) ہیں کہ ابن ابی الحدید اور مسعودی ایسے لا دین مؤرخین کی تمام روایات کو امت کے سر مونڈنے پر مصر ہیں۔
(عادلانہ دفاع مکمل صفحہ 36)
یہ امام جعفر کی مذکورہ روایت بے سند اور بے سرو پا کو نقل کرنے والے صاحب وہی المسعودی ہیں جن کے بارے میں آل رسول سید نور الحسن شاہ بخاری رحمۃ اللہ کا فرمان ہے کہ یہ بددین لوگ ہیں بددین لوگوں نے بددینی کا راستہ ہموار کرنا ہوتا ہے۔
نہ کہ دین داری کا اتنی بات تو بالکل واضح ہے کہ المسعودی نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔
تقریب التہذیب میں حضرت جعفر رضی اللہ عنہ بن محمد کا سن وفات یوں لکھا ہے ۔
مات سنة ثمان و اربعین۔
(٤٨ھ التقر یب التہذیب لابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ جلد ١ صفحہ ١٦٣)
اور المسعودی کا سن وفات ۳۴۲ھ ہے تو صدیوں کا درمیان میں فاصلہ حائل ہے کس فرشتہ نے مسعودی کو یہ ارشاد جعفر بن محمد سنایا؟ وہ بیان کرنے والے صاحب کون ہیں؟ عکسی صفحہ اور جس کتاب کا صفحہ ہے وہ کتاب ان سوالوں کا جواب دینے سے عاجز ہے۔

♦️لہذا جان لینا چاہئے کہ بے دین لوگوں کی تحریریں ہیں جن کو الزام میں لانا درست نہیں کیونکہ اہلسنت کے تاریخی روایات کو قبول کرنے یا رد کرنے کا ایک معیار مقرر ہے صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر تاریخ کے سہارے الزام دینا اہل سنت کے اصول سے کھلا ہوا انحراف ہے۔
شیخ العرب والعجم امیر المؤمنین فی الحدیث مولانا سید حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ علیہ اپنے مکتوبات میں رقم فرماتے ہیں:
یہ مؤرخین کی روایتیں تو عموماً بے سروپا ہوتی ہیں۔ نہ راویوں کا پتہ ہوتا ہے۔ نہ ان کی تخریج و توثیق کی خبر ہوتی ہے۔ نہ اتصال وانقطاع سے بحث ہوتی ہے اور اگر بعض متقدمین نے سند کا التزام بھی کیا ہے تو عموماً ان میں ہر عث و سمین سے اور ارسال وانقطاع سے کام لیا گیا ہے خواہ ابن اثیر ہوں یا ابن قتیبہ ابی الحدید ہوں یا ابن سعد، ان اخبار کو مستفاض ومتواتر قرار دینا بالکل غلط ہے۔
صحابہ رضوان اللہ علیہم سے متعلق ان قطعی اور متواتر نصوص اور دلائل عقلیہ و نقلیہ کی موجودگی میں اگر روایات صحیحہ احادیث کی بھی موجود ہوتیں تو مردود یا مؤدل قرار دی جاتی چہ جائے کہ روایات تاریخ –
(مکتوبات شیخ الاسلام مکتوب نمبر ۸۹ صفحہ ٢٦٦)

♦️انداز ہ فرمائیے اہل السنہ والجماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی توقیر وتعظیم کتاب اللہ سے ثابت ہے اس کے مقابلے میں اگر روایت حدیث بھی لائی جائے تو وہ ان مضبوط براہین کے مقابلے میں مؤدل قرار دی جو دلائل صحابہ کرام کی عزت و توقیر پر دلالت کرنے والے ہیں۔ جب حدیث پاک کا یہ معاملہ ہے تو مسعودی کی بلا سند روایت کا اعتبار کس طرح سے کیا جا سکے گا۔