امّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

 امّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا

نام عائشہ

کنیت ام عبداللہ

القابات حبیبۃ الرسول، صدیقہ، حمیرا

والد ابو بکر صدیق قبیلہ قریش شاخ بنو تمیم

والدہ ام رومان قبیلہ قریش شاخ بنو کنانہ

سن پیدائش 5 نبوی بعثت نبوی کے پانچ برس بعد

قبیلہ قریش شاخ بنوتمیم

زوجیت رسول 1 ہجری ہجرت کے 1 برس بعد

سن وفات 58 ہجری

مقام تدفین جنت البقیع مدینہ منورہ

کل عمر 67سال تقریباً

نام ونسب:

نام عائشہ ہے، والد کی طرف سے سلسلہ نسب اس طرح ہے: عائشہ بنت ابی بکر بن ابی قحافہ عثمان بن عامر بن عمر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک۔جبکہ والدہ محترمہ کی طرف سے سلسلہ نسب کچھ یوں ہے: عائشہ بنت اُمِ رومان زینب بنت عامر بن عویمر بن عبد شمس بن عتاب بن اذینہ بن سبیع بن وہمان بن حارث بن غنم بن مالک بن کنانہ۔

کنیت:

آپ کی کنیت اُمِ عبداللہ ہے۔اگرچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔ ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ خواتین نے تو اپنی اولادوں کے نام پر اپنی اپنی کنیت رکھ لیں، میں اپنی کنیت کس کے نام پر رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھانجے عبداللہ کے نام پر رکھ لو۔ اس وجہ سے آپ نے اپنی کنیت” اُمّ عبداللہ“ رکھ لی۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ یہ سیدہ اسماء بنت ابی بکررضی اللہ عنہما کے بیٹے ہیں، سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کی شادی مشہور صحابی رسول سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے ہوئی تھی۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے نمایاں کارنامے حدیث و تاریخ کی کتب میں بکثرت موجود ہیں۔

القابات وخطابات:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا چونکہ متعدد خوبیوں کی مالک تھیں اس لیے آپ کےالقاب بھی متعدد ہیں۔ چند یہ ہیں:صدیقہ)ہمیشہ سچ بولنے والی(، حبیبۃ الرسول)یعنی آپ رضی اللہ عنہا سےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ محبت فرماتے(المُبرۃ)جس کی پاکدامنی کی گواہی اورآپ پرلگنے والےجھوٹے الزام سے برات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نازل فرمائی(،طیبہ،طاہرہ )پاکباز اور پاکیزہ سیرت کی مالکہ( اور حمیراء)سرخ رنگت والی(۔ اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کو” بنت الصدیق“ کا خطاب بھی عنایت فرمایا۔ اسی طرح حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کو محبت میں” یا عائش“ بھی فرمایا۔

خاندانی پس منظر:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا والد کی طرف سے کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب سے مرہ بن کعب پر آٹھویں پشت میں مل جاتا ہے جبکہ والدہ کی طرف سے آپ رضی اللہ عنہا کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب سے مالک بن کنانہ پر گیارہویں پشت میں مل جاتا ہے۔ یوں آپ کا ننھیال اور ددھیال دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب میں مل جاتے ہیں۔

ولادت:

آپ رضی اللہ عنہا کی ولادت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کے5 سال بعد ماہِ شوال المکرم مکہ مکرمہ میں ہوئی۔

بچپن:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بچپن بہت خوشگوار گزرا ہے، جہاں آنکھ کھولی وہ گھر صداقت کا گہوارہ تھااور بچپنے میں ہی جہاں جا کر ازدواجی زندگی بسر فرمائی وہاں نبوت کا بسیرا تھا۔ اس لیے چاق وچوبندہونے کے ساتھ ساتھ بے پناہ صلاحیتوں نے آپ کی شخصیت کو خوب نکھارا۔ علم و ادب سے گہری وابستگی، فطری حاضر جوابی، ذکاوت و ذہانت، مذہبی واقفیت اور غیر معمولی قوت حافظہ کی وجہ سے آپ کو اپنی سہیلیوں میں امتیازی مقام حاصل ہے۔

لباس:

عام طور پر ایک سادہ مگر پاک و صاف جوڑا زیب تن فرماتیں، آپ کے پاس ایک ایسا کرتا بھی تھا جس کی قیمت پانچ درہم تھی، اس زمانے کے اعتبار سے اسے قیمتی جوڑا شمار کیا جاتا، شادی بیاہ کےموقعوں پر دلہنیں اس جوڑے کو عاریتاً منگواتی اور کچھ دنوں بعد آپ رضی اللہ عنہا کو واپس کر دیتیں۔ کبھی کبھار اپنے کپڑے کو زعفران میں رنگ کراستعمال فرما لیتیں۔ آپ کے پاس سرخ رنگ کا کرتا بھی موجود تھا، ایک سیاہ رنگ کا دوپٹہ بھی تھا۔ایک کے پاس ایک بڑی چادر بھی تھی ایام حج و عمرہ میں طوافِ کعبہ کے دوران اسے اوڑھ لیا کرتیں تاکہ لوگوں سے پردے میں رہیں۔ مہندی اور خوشبو بھی استعمال فرماتیں۔

زیور:

آپ رضی اللہ عنہا کبھی کبھی گلے میں یمنی ہار پہنتیں جو سیاہ و سفید مہروں سے بنا ہوا تھا، انگلیوں میں سونے کی انگوٹھیاں بھی پہنا کرتی تھیں۔

کھیل کود:

کھیل کود بچپنے کا لازمی حصہ ہےاور صحت مند ذہن کا عکاس۔ آپ رضی اللہ عنہا کو بھی کھیل کود کا شوق تھا اور ان میں دو کھیل آپ کے پسندیدہ تھے۔ گڑیوں سے کھیلنا اور جھولا جھولنا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں تشریف لاتے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی سہیلوں کے ساتھ گڑیوں سے کھیل رہی ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر آپ رضی اللہ عنہا کی چھوٹی چھوٹی سہیلیاں چھپ جاتیں اور گڑیوں کو بھی چھپا لیتیں۔ آپ بچیوں کو بلاتے اور حضرت عائشہ کے ساتھ کھیلنے کو کہتے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک یا غزوہ خیبر )کسی ایک( سے واپس تشریف لائے تو میرے طاقچے کے آگے پردہ پڑا ہوا تھا۔ اتنے میں ہوا ذرا تیز ہوئی تو اس نے پردے کی ایک جانب اٹھا دی تب سامنے میرے کھلونے اور گڑیاں نظر آئے۔ آپ نے پوچھا” عائشہ یہ کیا ہے؟” میں نے کہا: یہ میری گڑیاں ہیں۔ آپ نے ان میں کپڑے کا ایک گھوڑا بھی دیکھا جس کے دو پر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گھوڑے کے بارے بطور خاص پوچھا:”میں ان کے درمیان یہ کیا دیکھ رہا ہوں؟” میں نے کہا: یہ گھوڑا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا” اور اس کے اوپر کیا ہے؟” میں نے کہا: اس کے دو پر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا” کیا گھوڑے کے بھی پر ہوتے ہیں؟” میں نے کہا کہ: آپ نے سنا نہیں کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام کے گھوڑے کے پر تھے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہنسے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں مبارک دیکھیں۔

آپ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ ایک دن میری والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا آئیں، اس وقت میں اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی۔

خواب میں بشارت:

جس کو خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہو جائے وہ بہت خوش نصیب انسان ہوتا ہے اور اسے چاہیے کہ وہ اپنی ساری زندگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق بسر کرے۔ یہ خوش نصیبی ایک مومن کے لیے ہے جبکہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خوش نصیبی کا عالم یہ ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں آپ کی زیارت کی۔

آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:

میں نے تمہیں دوبار خواب میں دیکھا ہے ایک شخص میرے پاس آیا اس کے پاس ریشمی کپڑے میں تمہاری صورت تھی اور مجھے کہا کہ یہ آپ کی ہونے والی اہلیہ ہے، میں نے پردہ اٹھا کر دیکھا تو صورت تمہاری تھی تب میں نے کہا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور پورا فرمائیں گے۔

پیغام ِنکاح:

ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا نے جیسے ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام نکاح لے کر گئیں، جو انہوں نے بصد سعادت قبول کیا اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام نکاح لے کرسیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر بھی گئیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ محترمہ سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا، سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا بہت خوش ہوئیں اورفرمانے لگیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کا انتظار کر لینا چایئے،سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے انہیں سارا معاملہ بتایا گیا۔

شبہِ صدیقی کا نبوی جواب:

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو میرے منہ بولے بھائی ہیں اس نسبت سے تو میری بیٹی عائشہ ان کی بھتیجی ہوئی۔ بھتیجی سے نکاح کیسے ہو سکتا ہے؟ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میرے دینی بھائی ہیں لہذا نکاح جائز ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نےاس سعادت پر لبیک کہا۔

پہلی نسبت ٹوٹنے کی وجہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام نکاح سے پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جبیر بن مطعم بن عدی سے ہوچکی تھی، اِس لیے اُن سے پوچھنا بھی ضروری تھا۔ چنانچہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مطعم بن عدی کے پاس گئے اور فرمایا کہ تم نے عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی نسبت اپنے بیٹےجبیر سے کی تھی، اب آپ کا کیا خیال ہے؟ مطعم بن عدی نے اپنی بیوی سےمشورہ لیا)ان کے خاندان نے ابھی تک دعوت اسلام پر لبیک نہیں کہا تھا (اُن کی بیوی نے کہا: اگر یہ لڑکی (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) ہمارے گھر آگئی تو ہمارا بچہ بے دِین ہوجائے گا (یعنی بت پرستی چھوڑ دے گا)لہٰذا ہمیں یہ بات منظور نہیں۔

نوٹ: یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ صرف نسبت طے ہوئی تھی یعنی منگنی ہوئی تھی، نکاح یا رخصتی وغیرہ نہیں ہوئی تھی۔ یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کنواری تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی سے نکاح نہیں ہوا۔

عائشہ؛ ام المومنین بنتی ہیں:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہااپنے نکاح والے دن کے بارے میں بتلاتی ہیں کہ ایک دن میری والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا آئیں، اس وقت میں اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی انہوں نے مجھے آواز دی میں آ گئی۔ مجھے اس بات کا کچھ علم نہیں تھا کہ ان کا کیا ارادہ ہے؟۔خیر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور گھر کے دروازے کے پاس کھڑا کر دیا اور جھولا جھولنے کی وجہ سے میرا سانس پھولا جارہاتھا، کچھ دیر بعد جب مجھے کچھ سکون سا ہوا تو انہوں نے پانی سے میرا منہ او رسر دھویا۔اس کے بعد مجھے گھر کے ایک کمرے میں لے گئے۔ جہاں پہلے سے انصار کی چند خواتین موجود تھیں، مجھے دیکھتے ہی انہوں نے خیر و برکت کی دعا دی اور کہا کہ اچھا نصیب لے کر آئی ہو، میری والدہ نے مجھے انہیں کے حوالہ کیا اُنہوں نے مجھے دلہن کی طرح سجایا۔ اس کے بعد جب دن چڑھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اورانہوں نے مجھے آپ کے سپرد کردیا۔

ہجرت مدینہ کے بعد سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے عزیز و اقارب کے ہمراہ بنو حارث کے محلہ میں رہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ 7 یا 8 مہینوں تک اپنی والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا کے ساتھ رہیں۔ اس دوران اکثر مہاجرین کو یثرب مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی اور لوگ بیمار پڑ گئے۔انہی میں سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی تھے وہ بھی سخت بیمار ہوئے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے والد کی تیمارداری میں مصروف رہیں۔کچھ دنوں بعد آپ بھی بخار میں مبتلا ہوگئیں، مرض کی شدت کا یہ حال تھا کہ آپ کے سر کے بال تک جھڑ گئے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کچھ عرصہ بعد میرا بخار اتر گیا اور میں صحت یاب ہوگئی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے والد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ اپنی اہلیہ کو رخصت کیوں نہیں کرا لیتے؟ اِس میں کیا رکاوٹ ہے؟ یعنی آپ اپنی زوجہ اپنے گھر کیوں نہیں بلوا لیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِس وقت میرے پاس حق مہر ادا کرنے کے لیے رقم موجود نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کرمیرے ابو سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو500دراہم دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تمام رقم مجھے بھجوائی اور میری رخصتی عمل میں آئی۔

امتیازی خصوصیات:

خود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: 9 باتیں ایسی ہیں جو دنیا میں میرے سوا کسی اور کے حصے میں نہیں آئیں:

1.

خواب میں فرشتے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میری صورت پیش فرمائی۔

2.

7سال میں میرے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح فرمایا۔

3.

9 برس کی عمر میں میری رخصتی ہوئی۔

4.

امہات المومنین میں میرے سوا کوئی بیوی پہلے کنواری نہیں تھی۔

5.

امہات المومنین میں سے صرف میرے بستر پر قرآن کریم نازل ہوتا۔

6.

مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین بیوی ہونے کا شرف حاصل ہے۔

7.

میرے حق میں قرآن کریم کی آیات اتریں۔

8.

میں نے جبرئیل امین کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

9.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری گودمیں سر رکھے وفات پائی۔

علمی جلالت شان:

سیدنا ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ہمیں)صحابہ کرام(جب کسی مسئلے میں مشکل پیش آتی تو ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اِس بارے میں سوال کرتے تو آپ رضی اللہ عنہا ہماری صحیح رہنمائی فرماتیں۔

مشہور تابعی امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اِس اُمت کی تمام عورتوں کے جن میں اُمہات المومنین بھی شامل ہوں، علم کو جمع کرلیا جائے تو عائشہ کا علم اُن سب کے علم سے زیادہ ہے۔

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے کسی بھی خطیب کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر بلاغت و فطانت (ذہانت) والا نہیں دیکھا۔

عروہ بن زیبر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن، علم میراث، حلال و حرام، فقہ و اجتہاد، شعر و ادب، حکمت و طب، تاریخ عرب اور علم انساب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔

معروف تابعی حضرت مسروق رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرائض)میراث ( میں ماہر تھیں؟ فرمایا: ہاں! اُس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نے مشائخ و اکابر صحابہ کرام کو دیکھا کہ آپ سے فرائض )میراث ( کے مسائل پوچھا کرتے تھے۔

محدثین نے آپ رضی اللہ عنہا کا شمار ان صحابہ کرام کے ساتھ کیا ہے جو کثرت کے ساتھ روایت کرنے والے ہیں۔

معانی قرآنی، فقہ و اجتہاد، علم میراث، شعر وادب، طب و حکمت، تاریخ عرب اور علم الانساب میں بھی آپ کا ہم پلہ کوئی نہیں اس کے ساتھ ساتھ علم حدیث میں آپ کی جو خدمات ہیں چند صحابہ کرام کے علاوہ امہات المومنین اور تمام صحابہ سے بڑھ کر ہیں۔ آپ مسائل کا شرعی بتلاتیں اور فتوی بھی دیا کرتی تھیں۔

عبادات ومعمولات:

فرائض، واجبات اور سنتوں کی ادائیگی میں زندگی بھر کبھی غفلت کا شکار نہیں ہوئیں اس کے ساتھ ساتھ نوافل و مستحبات میں بھی بہت دلچسپی تھی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تہجد کے لیے اٹھتے تو آپ رضی اللہ عنہا بھی اٹھتیں اور نماز تہجد ادا فرماتیں۔ چاشت کی 8 رکعات کا معمول زندگی بھر رہا۔اکثر روزہ سے ہوتیں۔ ایک دفعہ گرمیوں میں عرفہ کادن تھا آپ روزے سے تھیں گرمی اس قدر سخت تھی کہ بار بار سر پر پانی ڈالتیں آپ کے بھائی حضرت عبدالرحمان نے کہا جب اتنی گرمی تھی تو روزہ کیوں رکھا؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں بھلا یوم عرفہ کا روزہ کیسے چھوڑ سکتی ہوں جبکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنا ہے کہ عرفہ کا روزے سال بھر کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ حج کی پابند تھیں بہت کم ایسا ہوا کہ آپ نے حج نہ کیا ہو۔ آپ نے کثرت کے ساتھ غلاموں کو آزاد کیا۔

آپ کے آزاد کردہ غلاموں کی تعداد 67 ہے۔ حاجت مندوں کا بہت خیال فرماتیں۔ مالی صدقہ کثرت سے دیتیں۔ فقراء اور مساکین کو بہت نوازتیں۔ ان کی عزت و توقیر کا خیال رکھتیں۔

قاسم بن محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں صبح کو جب گھر سے روانہ ہوتا تو سب سے پہلے سلام کرنے کی غرض سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاتا، ایک صبح میں آپ کے گھر گیا تو آپ حالت قیام میں یہ آیت مبارکہ پڑھ رہی تھیں:فَمَنَّ اللہُ عَلَیْنَا وَ وَقٰنا عَذَابَ السَّمُوْمِ اور روتی جا رہی تھیں اور اِس آیت کو بار بار دہرا رہی تھیں، میں انتظار میں کچھ دیر رکا رہا، یہاں تک کہ کھڑا ہو ہو کر اُکتانے لگا اور اپنے کام کاج کے لیے بازار چلا گیا، جب واپس آیا تو میں نے دیکھا کہ آپ اِسی حالت میں کھڑی نماز ادا فرما رہی ہیں اور مسلسل روئے جا رہی ہیں۔

نوٹ: حدیث مبارک میں جو آیت کریمہ مذکور ہے یہ سورۃ الطور کی آیت نمبر 27 ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا کہ ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچالیا۔

سخاوت و دریا دلی:

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کے پاس اللہ کے رزق میں سے جو بھی چیز آتی وہ اس کو اپنے پاس نہ روکے رکھتیں بلکہ اسی وقت (کھڑے کھڑے) اس کا صدقہ فرما دیتیں۔

عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ آپ نےایک ہی وقت میں70 ہزار دراہم اللہ کی راہ میں خیرات کیے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ ام ذرہ رحمہا اللہ بیان کرتی ہیں: عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے دو تھیلوں میں آپ کو 80 ہزار یا ایک لاکھ کی مالیت کا مال بھیجا، آپ نے ایک تھال منگوایا اس میں مال رکھا اور لوگوں میں تقسیم کرنے بیٹھ گئیں۔ اور سارے کا سارا مال اللہ کی راہ میں تقسیم فرما دیا حتیٰ کہ ایک درہم بھی نہ بچا۔ آپ اُس دن روزے سے بھی تھیں۔جب شام ہوگئی تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میرے افطار کے لیے کچھ لاؤ، وہ لڑکی ایک روٹی اور تھوڑا سا گھی لے کر آئی۔ اس پر اُم ذرہ رحمہا اللہ نے آپ رضی اللہ عنہا سے عرض کی:آپ نے جو مال آج تقسیم کیا ہے، اگر اس میں سے ایک درہم بھی بچا لیتی تو ہم اس کا گوشت خرید لیتیں اور اس سے افطار کرتے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اب اس طرح نہ کہو اگر مجھے اسی وقت یاد دلاتی تو شاید میں ایک درہم رکھ بھی لیتی۔

جلیل القدر تابعی حضرت عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:ایک مرتبہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو سونے کا ایک ہار بھیجا جس میں ایک ایسا جوہر لگا ہوا تھا جس کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی، آپ رضی اللہ عنہا نے وہ قیمتی ہار تمام امہات المومنین میں تقسیم فرما دیا۔

”افک“ کا دلخراش سانحہ:

آپ رضی اللہ عنہا کے زندگی کے بہت سے واقعات ایسے ہیں جو حوادثات کہلاتے ہیں۔ دشمنان اسلام منافقین نے آپ کی عفت وپاکدامنی پر انگلیاں بھی اٹھائیں۔ جسے عُرفِ عام میں” واقعہ اِفک“ کہا جاتا ہے یہ بہت دلخراش سانحہ تھا کئی دنوں کے صبر واستقلال کے بعد بالآخر اللہ رب العزت نے آپ کی پاکدامنی پر قرآنی مہر ثبت کردی، قرآن کریم کی سورۃ نور میں تفصیل کےساتھ مذکور ہے۔

نوٹ:

اِفک” جھوٹ، تہمت اور بدعنوانی کے جھوٹے الزام“ کو کہتے ہیں۔ جبکہ بعض اہل لغت کے ہاں افک محض جھوٹ کو نہیں بلکہ ایسے بڑے جھوٹ کو کہتے ہیں جو اصل معاملے کی ساری صورتحال کو یکسر بدل دے۔ یہ لفظ” فِکر“ کی طرح پڑھا جاتا ہے۔ یعنی الف کے نیچے زیر کے ساتھ۔

غزوہ بنومُصْطَلَقْ جو غزوہ مُرَیْسِیع کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ابن اسحٰق رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق شعبان 6ھ میں جبکہ ابن سعد رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق یہ غزوہ خندق سے بھی پہلے شعبان 5ھ میں پیش آیا۔ اس سفر میں امہات المومنین رضی اللہ عنہن میں سےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صدیقہ کائنات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہمرکاب تھیں۔

مدینہ منورہ سے پہلے ذی قرع ایک بستی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام پر پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا۔ لشکر کی روانگی سے کچھ پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قضائے حاجت کے لیے لشکر سے ذرا دور نکل کر باہر آڑ میں چلی گئیں۔ جب واپس تشریف لا رہی تھیں تو اِتفاقاًآپ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ اپنے گلے پر پڑا، ایک دم ٹھٹک کر رہ گئیں کیونکہ اپنی ہمشیرہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے جو ہار عاریتاً لائی تھیں وہ گلے میں موجود نہیں تھا بلکہ کہیں گر چکا تھا۔ چنانچہ آپ واپس پلٹیں اور ہار تلاش کرنا شروع کیا۔

دوسری طرف لشکر مدینہ منورہ کی طرف جانے کے لیے بالکل تیار تھا،آپ رضی اللہ عنہا نے یہ خیال کیا کہ ہار ابھی مل جائے گا اور میں واپس آجاؤں گی۔ لیکن ہار تلاش کرنے میں کافی دیر ہوگئی۔

یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ آپ رضی اللہ عنہا نے جاتے وقت کسی کو اطلاع نہیں دی کہ میں قضائے حاجت کے لیے جا رہی ہوں، ساربانوں جو کجاوے کو اٹھا کر اونٹ پر باندھتے ہیں نے خیال کیا کہ آپ کجاوے میں سوار ہیں۔

نوٹ:

یہ کجاوہ ڈولی نما ہوا کرتا تھا جس میں مستورات سفر کرتی تھیں۔ چونکہ پردے کے احکام نازل ہو چکے تھے اس لیے ازواج مطہرات اور دیگر مسلمان خواتین سفر میں باپردہ ہی رہتی تھیں۔

اس کجاوے کے پردے نیچے لٹکے ہوئے تھے، ساربانوں نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ آپ رضی اللہ عنہا کجاوے کے اندر موجود ہیں۔ کجاوہ اونٹ پر کسا اورلشکر کے ساتھ چل دیے۔ اُس زمانہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر بمشکل 14/15 سال برس تھی اور آپ رضی اللہ عنہا کا جسم بھی دبلا پتلا تھا۔ اِسی لیےکجاوہ کَسنے والے ساربانوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ آپ سوار ہیں یانہیں۔؟

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود فرماتی ہیں: میں کافی دیر ہار تلاش کرتی رہی، بالآخر ہار مجھے مل گیا لیکن ایک پریشانی بھی ساتھ لاحق ہو گئی کہ قافلہ مجھے سے دور جا چکا تھا۔ غالباًساربانوں نے میرا کجاوہ اٹھایا اور اونٹ پر باندھ دیا یہ سمجھ کر کہ میں بھی اس میں سوار ہوں حالانکہ میں ہار تلاش کرنے گئی تھی۔

اب اس میدان میں سوائے سیدہ عائشہ کے اور کوئی بھی نہیں تھا۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے قافلے کے پیچھے جانے کے بجائے یہ فیصلہ کیا کہ قافلہ والے جب مجھے اپنے اندر نہ پائیں گے تو لازماً تلاش کرنے کے لیے یہیں لوٹیں گے اس لیے آپ رضی اللہ عنہا چادر لپیٹ کر سو گئیں۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہا کو نیند آ گئی۔

جب لشکر کسی معرکے کے لیے نکلتے تو قافلے کے تین حصے ہوتے تھے۔ قافلے سےآگے کچھ فاصلے پر چندافراد ہوتے جنہیں حفاظتی دستہ یا مقدمۃ الجیش کہا جاتا۔ پھر قافلہ اور آخر میں چند افراد یا کسی ایک کی ذمہ داری ہوتی کہ قافلے والوں کی کوئی چیز راستے میں گر گئی ہو تو وہ اسے اٹھاتے۔

چونکہ قافلہ جا چکا تھا، قافلہ کے آخر ی حصہ کے ذمہ دار حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ تھے، وہ وہاں پہنچے اوردیکھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو آرام فرما رہی ہیں۔ حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہا کو پردہ کے حکم نازل ہونے سے قبل چونکہ دیکھا ہوا تھا، اس لیے آپ رضی اللہ عنہا کو دیکھتے ہی پہچان لیا اور اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ پڑھا۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کانوں میں جب حضرت صفوان رضی اللہ عنہ کی آواز پڑی تو آپ فوراً جاگ گئیں اور جھٹ سے پردہ کر لیا۔ آپ خودرضی اللہ عنہا خود فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! صفوان نے مجھ سے کوئی بات تک نہیں کی اور اُن کی زبان سے سوائے اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ کے میں نے کوئی کلمہ نہیں سنا۔

آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: صفوان نے اپنا اونٹ میرےقریب کیا اور خود پیچھے ہٹ گئے، میں اُس پر سوار ہوئی اور صفوان اُس اونٹ کی نکیل پکڑ کر آگے ہو لیے اور لشکر کی تلاش میں تیزی سے روانہ ہوئے۔

آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم دوپہر کو لشکرکے ساتھ آ کر ملے اور تمہت لگانے والوں کو جو کچھ کہنا تھا، اُنہوں نے کہا اور مجھ کو اِس کی کوئی خبر نہ تھی۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مدینہ پہنچ کر میں بیمار ہوگئیں۔ تقریباً ایک مہینہ بیماری میں گزرا، بہتان طرازوں اور اِفتراء پرداز وں نے طوفان برپا کرنے والے اپنے کام میں لگے رہے مگرمجھے ان باتوں کا کچھ علم نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُس مہربانی میں کمی آ جانے کی وجہ سے جو سابقہ بیماریوں میں میرے ساتھ رہی، دلی طور پر پریشان کن تھا کہ آخر کیا بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تو تشریف لاتے ہیں اور دوسروں سے میرا حال دریافت کرکے واپس ہوجاتے ہیں، مجھ سے دریافت نہیں کرتے،آپ کے اس انداز سے میری تکلیف میں اضافہ ہوتا تھا۔

آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:ایسے حالات نے مجھے دل گرفتہ کر دیا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر آپ مجھے والدین کے پاس جانے کی اجازت دیں، میں وہاں چلی جائوں تاکہ وہ میری تیمارداری اچھی طرح سے کرسکیں گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔

چنانچہ میں اپنی والدہ کے پاس چلی آئی اور میں اِن باتوں سے قطعاً بے خبر تھی اور قریباً ایک ماہ کی بیماری میں نہایت کمزور ہوچکی تھی۔ ہم عرب لوگ تھے، ہمارے گھروں میں اہل عجم کی طرح بیت الخلا نہ تھا۔ قضائے حاجت کے لیے مدینہ کی کھلی فضاء میں چلے جاتے تھے (یعنی کھلے جنگل میں شہر کے باہر) اور خواتین حوائج ضروریہ کے لیے رات کو باہر جایا کرتی تھیں۔ چنانچہ میں بھی ایک شب رفع حاجت کے لیے باہر گئی اور میرے ہمراہ اُم مسطح بنت ابی رہم بن مطلب تھیں، چلتے چلتے وہ اپنی چادر میں اُلجھ کر ٹھوکر لگی اور گر گئیں تو اُن کے منہ سے نکلا: مسطح ہلاک ہو (مسطح اُن کا بیٹا تھا، لقب مسطح تھا اور نام عوف تھا)۔

یہ سن کر میں نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے ایک بدری مہاجر کو بددعاء دے کر برا کیا۔ تو اُم مسطح نے کہا: اے دختر ابی بکر! کیا تم کو وہ بات معلوم نہیں؟ میں نے پوچھا کون سی؟ تو اُم مسطح نے مجھے سارا واقعہ کہہ سنایا۔ میں نے حیرت سے پوچھا: کیا یہ بات ہوچکی ہے؟

اُم مسطح نے کہا: ہاں واللہ! یہ بات پھیل چکی ہے۔ میرے اوسان خطاء ہوگئے اور میں بغیر رفع حاجت کے واپس چلی آئی، واللہ! میں رات بھر روتی رہی، میں نے محسوس کیا کہ روتے روتے میرا کلیجا پھٹ جائے گا۔ یہ سنتے ہی مرض میں اور شدت آگئی۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:میں اپنے والدین کے پاس آئی اور اپنی ماں سے کہا: اے میری ماں آپ کو معلوم ہے کہ لوگ میری بابت کیا کہہ رہے ہیں؟۔ ماں نے کہا: اے میری بیٹی تو رنج نہ کر، دنیا کا قاعدہ یہی ہے کہ جو عورت خوبصورت اور خوب سیرت ہو اور اپنے شوہر کے نزدیک بلند مرتبہ ہو تو حسد کرنے والی عورتیں اُس کے ضرر کے درپے ہو جاتی ہیں اور لوگ بھی اُس پر تہمتیں تراشتے ہیں۔ میں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ کیا ابو جان کو بھی اس بات کا علم ہے؟تو والدہ نے جواب دیا کہ: ہاں۔

آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے میری ماں! اللہ تمہاری مغفرت کرے، لوگوں میں تو اِس کا چرچا ہے اورآپ نے مجھ سے اِس کا ذکر تک نہیں کیا، یہ کہتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میری چیخیں نکل گئیں۔ میرے والدجو بالاخانہ پر تلاوتِ قرآن میں مصروف تھے کہ میری چیخ سن کر نیچے آ گئے اور میری ماں سے میرے بارے دریافت کیا۔ ماں نے کہا کہ اِسے ساری بات کا علم ہو گیا ہے۔ یہ سن کر میرے والد بھی رونے لگے۔ مجھ کو شدت کا لرزہ آیا، میری والدہ نے گھر کے تمام کپڑے مجھ پر ڈال دیے اور یونہی تمام رات روتے ہوئےگزر گئی۔ایک لمحہ کے لیے آنسو نہیں تھمتے تھے کہ اِسی طرح صبح ہوگئی۔

سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زبان سے شدت غم سے صرف یہ جملہ نکلا: اللہ کی قسم! ایسی بات تو ہمارے بارے میں زمانہ جاہلیت میں بھی کسی نے نہیں کہیں، اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اسلام سے عزت بخشی تو اِس کے بعد کیسے ممکن ہے؟ جب اِس معاملہ میں نزول وحی میں تاخیر ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مشورہ فرمایا۔ حضرت اُسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ آپ کے اہل خانہ ہیں، ہم ان میں سوائے خیر و بھلائی کے کچھ نہیں جانتے۔

اس کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل پریشانی اور رنج و غم کو دور کرنے کے لیے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالی نےخواتین کے معاملے میں آپ پر تنگی نہیں رکھی۔ )آپ مزید پریشان نہ ہوں، اور اپنے آپ کو اس فکر میں گھولتے نہ رہیں ہم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پریشانیاں دیکھی نہیں جاتی(میری رائے یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ اور بھی خواتین ہیں۔ لیکن آپ اس معاملے میں جلدی نہ فرمائیں بلکہ گھر کی باندی بریرہ سے اس بارے حقیقت حال معلوم کر لیں۔

نوٹ:

بعض کم فہم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گفتگو سے یہ سمجھتے ہیں کہ العیاذ باللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں ام المومنین کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی یا اچھی حیثیت نہیں تھی۔ حالانکہ ہرگز ہرگز ایسا معاملہ نہیں تھا بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اُم المومنین کی پاکدامنی و عفت میں ذرہ برابر بھی تردد نہیں، باقی رہے ان کے یہ کلمات تو ان کو بغض عائشہ سے پاک دماغ ہی سمجھ سکتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی کامل یقین کامل تھا بریرہ ضرور حضرت عائشہ کے حق میں گواہی دے گی اور اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو اطمینان ہو جائے گا کہ کیونکہ بریرہ رضی اللہ عنہا خانگی معاملات کو قریب سے مشاہدہ کر رہی ہے۔اس سے بعض کوڑھ مغز لوگ ماں بیٹے کی باہمی کدرورت سمجھیں تو ان کے اپنے عقل کا فتور ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ سے پوچھا: بریرہ! اگر تو نے ذرہ برابر بھی کوئی شے ایسی دیکھی ہو جس میں تجھ کو شبہ اور تردد ہو تو بتلا۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: قسم ہے اُس ذات پاک کی، جس نے آپ کو برحق نبی بنا کر مبعوث فرمایا، میں نے عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی کوئی بات معیوب اور قابل گرفت کبھی نہیں دیکھی، سوائے اِس کے کہ وہ ایک کمسن لڑکی ہیں، آٹا گندھا ہوا چھوڑ کر سو جاتی ہیں، اور بکری کا بچہ آکر اُسے کھا جاتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا یہ جواب سنا فوراً مسجد نبوی میں تشریف لے گئے اور منبر پر کھڑے ہو کر مختصر خطبہ دیا جس میں آپ نے فرمایا کہ اے مسلمانو!تم میں سے اس شخص کے خلاف کون میرا ساتھ دینے کو تیار ہے کہ جس نے میرے اہل بیت کو ایذاء پہنچائی۔ اللہ کی قسم! میں نے اپنے اہل خانہ سے سوائے نیکی اور پاکدامنی کے کچھ نہیں دیکھااور بالکل اسی طرح جس شخص کا اُن لوگوں نے نام لیا ہے اُن میں بھی سوائے خیر اور بھلائی کے کچھ نہیں دیکھا۔

)اگرچہ حدیث پاک میں اس شخص کا صراحت کے ساتھ نام نہیں ہے لیکن حدیث کے مضمون سے معلوم یہی ہوتا ہے کہ اس سے مراد حضرت صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ ہیں)۔

چنانچہ قبیلہ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ نے پورے قبیلے کی طرف سے ترجمانی کرتے ہوئے گفتگو فرمائی اس کے قبیلہ خزرج کے سردار سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی۔ اختلاف مزاج کے بشری تقاضوں کے تحت بد مزگی سی محسوس ہونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے اور دونوں کو خاموش رہنے کا حکم فرمایا۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود فرماتی ہیں: میرا یہ سارا دن بھی روتے ہوئے گزرا، ایک لمحہ بھر کے لیے بھی آنسو نہیں تھمے۔ رات بھی اِسی طرح گزری، میری اِس حالت میں میرے والدین کو گمان ہونے لگا تھا کہ اب اِس کا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ جب صبح ہوئی تو بالکل میرے قریب آکر میرے والدین بیٹھ گئے اور میں روئے جا رہی تھی اتنے میں انصار کی ایک عورت آگئی اور وہ بھی میرے ساتھ رونے لگی۔

اِسی دوران اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سلام کرکے میرےقریب بیٹھ گئے۔جب سے جھوٹامنفی پروپیگنڈا عام ہوا کبھی آپ میرے پاس آکر نہیں بیٹھے تھے اور وحی کے اِنتظار میں ایک مہینہ گزر چکا تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان فرمائی۔ اِس کے بعد یہ فرمایا:اے عائشہ! مجھے تیرے بارے میں ایسی ایسی بات پہنچی ہے، اگر تو اس بَری ہے تو دیکھنا عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور بَری کرے گا اور اگر تو نے کسی گناہ کا ارتکاب کیا ہے تو اللہ سے توبہ اور استغفار کر، اِس لیے کہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہے اور اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ اُس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔

آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات ختم فرمائی تو اُسی وقت میرے آنسو تھم گئے۔ یہاں تک کہ آنسو کا کوئی ایک قطرہ بھی میری آنکھ میں نہ رہا اور میں نے اپنے والد سے کہا:

ابو !آپ میری طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیں، اُنہوں نے کہا: میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا جواب دوں؟

پھر میں نے یہی الفاظ اپنی ماں سے کہے تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ اِس کے بعد میں نے خودآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا:اللہ کو بخوبی علم ہے کہ میں اس سارے معاملے میں بری اور بے قصور ہوں لیکن منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں پر اس کے اثرات گہرے پڑ چکے ہیں۔

اگر میں یوں کہوں کہ میں اس سے بَری ہوں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں بَری ہوں، تو تم سب یقین نہ کرو گے اور اگر بالفرض میں اقرار کرلوں حالانکہ اللہ خوب جانتا ہے کہ میں بَری ہوں، تو تم سب یقین کروگے اور میں نےروتے ہوئےیہ کہا:

اللہ کی قسم! میں اُس چیز سے کبھی توبہ نہیں کروں گی جو یہ لوگ مجھ سے غلط منسوب کرتے ہیں، بس میں وہی کہتی ہوں کہ جو یوسف علیہ السلام کے باپ نے کہا تھا ف

َصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَی مَا تَصِفُونَ

صبر بہتر ہے اور اللہ ہی مددگار ہے اُس بات کی حقیقت ظاہر فرمانے پر جو تم بیان کرتے ہو۔

(اس موقع پر آپ نے حضرت یعقوب علیہ السلام کا نام نہیں لیا اس کی وجہ خود بیان فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت یعقوب علیہ السلام کا نام یاد کیا تو نام یاد نہ آیا تو اِس لیے حضرت یوسف علیہ السلام کے والد کہا)

آپ رضی اللہ عنہا خود فرماتی ہیں: اُس وقت میرے دل کو کامل یقین ہو گیا کہ ضرور اللہ تعالیٰ مجھے اس سے بری ثابت فرمائیں گے، لیکن یہ تو میرے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ میرے بارے میں اللہ تعالیٰ ایسی وحی نازل فرمائے گا جس کی ہمیشہ تلاوت ہوتی رہے گی، میرا خیال یہ تھاکہ اللہ تعالیٰ میری برأت اپنے رسول کو خواب دکھا دیں گے۔

آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں پر تشریف فرما تھے کہ آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ رکھ دیا گیا اور ایک چادر اوڑھا دی گئی۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: باوجود شدید سردی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جبین مبارک سے پسینے کے قطرات ٹپکنے لگے۔ جب وحی کا نزول شروع ہوا تو میں بالکل نہیں گھبرائی، کیونکہ میں جانتی تھی کہ میں بَری ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ پر ظلم نہیں فرمائے گا، لیکن میرے والدین کا خوف سے یہ حال تھا کہ مجھ کو اندیشہ ہوا کہ اُن کی جان ہی نہ نکل جائے۔

وحی الہٰی کا نزول ختم ہوا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیشانی مبارک سے پسینہ صاف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پرخوشی کے آثار نمودار ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے میری طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا

: يَا عَائِشَةُ أَمَّا اللّهُ فَقَدْ بَرَّأَکِ۔

اے عائشہ!اللہ نے تمہاری پاکدامنی بیان فرما دی ہے۔چنانچہ سورۃ نور کی 11 سے لے کر 20 تک دس آیات مبارکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حق میں نازل ہوئیں۔

آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میری والدہ نے مجھے کہاکہ عائشہ اٹھو !اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ ادا کرو۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! سوائے اللہ تعالیٰ کے جس نے میری برأت نازل فرمائی، کسی کا شکریہ ادا نہیں کروں گی۔

نوٹ:

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی دوہری حیثیت کی مالکہ ہیں۔ پہلی حیثیت یہ کہ آپ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امتی ہیں اور دوسری حیثیت کہ آپ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں بلکہ محبوب ترین بیوی ہیں۔ اب سمجھیے کہ آپ رضی اللہ عنہا والدہ کے کہنے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ کیوں نہیں ادا کیا یہ شوہر اور بیوی میں لاڈ و محبت کا وہ درجہ ہے جسے نافرمانی کا نام نہیں دیا جاتا بلکہ” نازِ محبوبی“ کہا جاتا ہے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ النور کی اِن آیاتِ مبارکہ کی تلاوت سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اُٹھے اور لخت جگر کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی تشریف لائے اور صحابہ کرام کے سامنے مذکورہ آیات تلاوت فرمائیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بقول اس فتنے کی اصل بنیاد عبداللہ ابن اُبی بن سلول منافق تھا اور اُس کے ساتھ منافقین کا گروہ سرگرم تھا۔ مسلمانوں میں سےمسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ، حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اورحمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر ان کے مکر و فریب کے جال میں پھنس گئے۔

اِن تینوں افراد پر حدِ قذف جھوٹی تہمت لگانے کی شرعی سزاجاری کرتے ہوئے 80، 80 کوڑے مارے گئے اور وہ اپنی غلطی سے تائب ہوگئے۔ رضی اللہ عنہم

آیت ِتیمم کا نزول:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب ہم لوگ مقام”بیداء“ یا مقام”ذات الجیش“میں پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر کہیں گر گیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور کچھ لوگ اس ہار کی تلاش میں وہاں ٹھہر گئے، وہاں پانی بھی موجود نہیں تھا۔ اس وجہ سے کچھ لوگوں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر میری شکایت کی۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہاں ٹھہرا لیا ہے حالانکہ یہاں پانی موجود نہیں ہے، یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور بحیثیت والد مجھے سخت وسست کہا اور(ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ) اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں مکا مارا۔

اس وقت رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر اپنا سر مبارک رکھ کر آرام فرما رہے تھے۔ اس لیے میں بالکل ہلی جلی نہیں۔ صبح کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو وہاں کہیں پانی موجود ہی نہیں تھا، اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تیمم کی آیت نازل ہو گئی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تیمم کیا۔

اس موقع پر حضرت اُسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اےآل ابوبکر! یہ تمہاری پہلی ہی برکت نہیں ہے۔بلکہ آپ کے گھرانے کی کئی برکات ہیں اس کے بعد ہم نے اونٹ کو اٹھایا تو اس کے نیچے ہار موجود تھا۔

خوشگوار ازدواجی زندگی کے چند واقعات

واقعہ نمبر1:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بارآپ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: جب سے مجھے اس بات کا علم ہوا کہ تم جنت میں بھی میری بیوی رہو گی مجھے موت کی پرواہ نہیں رہی۔

واقعہ نمبر2:

آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے پینے کا برتن ہاتھ میں لے لیتے اور مجھے قسم دیتے کہ میں اِس میں سے کچھ کھاؤں پیوں، جب میں کھا؛پی لیتی تو آپ برتن کو مجھ سے لیتے اور جہاں سے میں نے منہ لگا کر کھایا پیا ہوتا تھا، اسی جگہ سے خود کھاتے اور پیتے۔

واقعہ نمبر3:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خودفرماتی ہیں کہ کبھی ایسے بھی ہوتا کہ گوشت والی ہڈی کو جس جگہ سے میں کھاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی جگہ سے تناول فرماتے۔ یعنی دونوں مل جل کر تناول فرماتے

واقعہ نمبر4:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جیسے تمام کھانوں میں ثرید عمدہ کھانا ہوتا ہے، اسی طرح عائشہ تمام عورتوں میں بہترین عورت ہے۔یہ الفاظ خوشگوار گھریلو زندگی کے عکاس ہیں

واقعہ نمبر5:

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّہ عنہا ایک دن چرخہ کات رہی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نعلین پاک کو گانٹھ رہے تھے اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینہ کے قطرات ٹپکنے لگے ان میں روشنی سی پھوٹ رہی تھی آپ رضی اللہ عنہا نے یہ خوبصورت نظارہ دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئیں۔

آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: عائشہ ! کیا ہوگیاآپ کو؟ میں نے عرض کی کہ آپ کی مبارک پیشانی سے پسینے کے قطرے دیکھ رہی ہوں۔ ابوکبیرہُذلی زمانہ جاہلیت کا معروف شاعر اگر اس کیفیت کا مشاہدہ کر لیتا تو وہ سمجھ جاتا کہ اس کے شعر کا حقیقی مصداق آپ ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےپوچھا کہ اس نے کون سا شعر کہا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہانےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا شعر سنایا۔

فإذا نظرتُ إلي أسرة وجهه

برقت کبرق العارض المتهلل

ترجمہ: ”جب میں نے اُس کے رُخِ روشن کو دیکھا تو اُس کے رخساروں کی روشنی یوں چمکی جیسے برستے بادل میں بجلی کوند جائے۔“

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اشعار سنے تو اپنی جگہ سے اٹھ کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قریب تشریف لائے اور ازراہ محبت فرمایا:’’اے عائشہ ! مجھے جو خوشی تیرے کلام سے ملی ہے اس قدر خوشی تمہیں میرے دیدار سے بھی حاصل نہیں ہوئی ہو گی۔

واقعہ نمبر6:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: میں ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوڑ میں مقابلہ کیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھ گئی۔ پھرکسی دوسرےموقع پر جب میرا جسم قدرے بھارے پن کا شکار ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بڑھ گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس پہلی دوڑ کا بدلہ ہے۔

واقعہ نمبر7:

چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی تکلفات سے پاک تھی اس لیے بے تکلفی کے ماحول میں کبھی کبھار ایسے واقعات بھی رونما ہوجاتے جو فطری زندگی میں پیش آتے رہتے ہیں۔ چنانچہ سنن ابی داؤد میں ہے: ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اورسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مابین بے تکلفی میں کوئی بات ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اچھا یہ بتاؤکہ کیا تم عمر کوحَکَم) فیصلہ کرنے والا( ماننے کے لیے تیار ہو؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: نہیں۔ پھر معصومانہ انداز میں بولی کہ وہ سخت طبیعت کے مالک ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اگر تمہارے والد کوفیصلہ کرنے والا بنادیں تو تب تم راضی ہو؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فوراً کہا: ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ ہاں عائشہ!تم بات کروگی یا میں بتاؤں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: آپ ہی بات کریں؛ ساتھ ہی” نازِ محبوبی“ میں یہ بھی کہہ دیا کہ لیکن صحیح صحیح بتانا۔یہ بات سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ناگوار محسوس ہوئی اور بحیثیت والداپنی بیٹی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ناک پر تھپڑ رسید کردیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھاگیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پیچھے چُھپنے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ابو بکر ! میں نے آپ کو اس لئے نہیں بلایا تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو قریب بلایا، مگر سیدہ رضی اللہ عنہا نے ناز محبوبی میں آنے سے انکار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ابھی کچھ دیر پہلے تو تم میری پیٹھ سے چمٹی جارہی تھیں۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکرانے لگے تھوڑی دیر بعد جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور دونوں کو ہنستے مسکراتے ہوئے دیکھاتوفرمایا: آپ دونوں نے اپنے اختلاف میں ہمیں شریک کیا تھا، تو اپنی صلح میں بھی ہمیں شریک کرلیں۔

واقعہ نمبر8:

ہمارے معاشرے کی خواتین اپنی سوکن/سوکنوں سے جو سلوک کرتی ہیں اوراس کو شوہر کی نظروں سے گرانے بلکہ یوں کہیے کہ گھر سے نکالنے کے جو منصوبے بناتی ہیں وہ انتہائی قابل افسوس ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھرانہ جہاں بیک وقت کئی سوکنیں آباد تھیں کس طرح باہمی محبت و پیار کا منظر پیش کرتا ہے،چنانچہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حریرہ دودھ، آٹا اور گھی وغیرہ سے تیار کردہ عربوں کی مشہور سوغات تیار کیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بھی تشریف فرما تھیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے کہاآپ بھی تناول فرمائیں۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نےکھانےسے انکار کیا۔ شاید اس وقت طلب نہ ہوگی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اصرار کیا کہ آپ کو کھانا پڑے گا، ورنہ میں یہ حریرہ تمہارے چہرے پر مل دوں گی۔

اس کے باوجود سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے انکار کیا۔ چنانچہ ازراہ محبت و پیار سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حریرہ میں ہاتھ ڈال کر سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے چہرہ پر لیپ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب باہمی محبت و پیار دیکھ کر مسکرانے لگے اور سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اب تم بھی عائشہ کے چہرہ پر حریرہ مل دو۔ چنانچہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے بھی حریرہ میں ہاتھ ڈالا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے چہرہ پراسی طرح لیب دیا۔ یہ منظر دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر تک مسکراتے رہے۔

مدح نبی بزبان عائشہ:

مواہب لدنیہ کی شرح میں امام زرقانی رحمہ اللہ نےلکھا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں یہ شعر کہا۔

وَلَوْ سَمِعُوا فِي مِصْرَ أَوْصَافَ خَدِّهِ

لَمَا بَذَلُوا فِي سَوْمِ يُوسُفَ مِنْ نَقْدِ

لَوَّامِيْ زلِيخَا لَوْ رَأَيْنَ جَبِينَهُ

لَآثَرْنَ بِالْقَطْعِ الْقُلُوبَ عَلَى الْأَيْدِي

ترجمہ: مصر والے اگر میرے محبوب کے رخسار مبارک کے اوصاف سُن لیتے تو حضرت یوسف علیہ السلام پر سیم وزر کی قیمتیں لگانا بھول جاتے اور زلیخا کو ملامت کرنے والی عورتیں اگر میرے محبوب کی جبین مبارک کو دیکھ لیتیں تو ہاتھوں کے بجائے اپنے دل کاٹنے کو ترجیح دیتی۔

اشعار کی تشریح یہ ہے کہ زلیخا کو ملامت کرنے والی اگر میرے محبوب کے جمال کا مشاہدہ کرتیں تو دل کاٹ لیتیں اس کی وجہ یہ ہے کہ دل مرکزبدن ہے اور انگلیاں شاخ بدن۔ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم مرکز حسن ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےمقابلے میں حضرت یوسف علیہ السلام شاخِ حسن ہیں۔ زلیخا کو ملامت کرنی والی مصر ی خواتین نے شاخِ حسن کو دیکھا تو شاخِ بدن انگلیاں کاٹ لیں۔ اگر وہ مرکزِ حسن کو دیکھتیں تو مرکز بدن دل کاٹ لیتیں۔

وفات:

58 ہجری رمضان المبارک کی17 تاریخ کو آپ سخت بیمار ہوئیں۔ امام ابن سعد نے لکھا ہے کہ کوئی خیریت دریافت کرنے آتا تو فرماتیں کہ اچھی ہوں۔ عیادت کرنے والے بشارتیں سناتے تو جواب میں کہتیں اے کاش میں پتھر ہوتی کبھی فرماتیں کہ اے کاش میں کسی جنگل کی جڑی بوٹی ہوتی۔

نماز وتر کی ادائیگی کے بعد آپ اس جہاں سے اس جہاں کو کوچ فرما گئیں جس کی خواہش سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللھم الرفیق الاعلی کے الفاظ سے فرمائی۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان دنوں مدینہ طیبہ کے قائم مقام حاکم تھے انہوں نے آپ کا جنازہ پڑھایا۔ آپ رضی اللہ عنہا کے بھانجوں اور بھتیجوں قاسم بن محمد بن ابو بکر، عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابو بکر، عبداللہ بن عتیق، عروہ بن زبیر اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری زوجہ اور امت محمدیہ کے مومنین کی ماں کو قبر کی پاتال میں اتارا

نوٹ:

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر مخالفین (روافض شیعہ ، اور منکرین حدیث) کے اعتراض کے دندان شکن جواب کا سلسلہ بعد میں شروع کیا جائے گا ان شاء اللہ