امّ المؤمنین حضرت سودہ رضی اللہ عنہا

امّ المؤمنین حضرت سودہ رضی اللہ عنہا

نام سودہ

والد زمعہ بن قیس بن شمس قبیلہ عامر بن لوی

والدہ شموس بنت قیس بن زیدقبیلہ بنو نجار

سن پیدائش 40 سال قبل از بعثت

قبیلہ قریش شاخ بنوعامر

زوجیت رسول 10 نبوی ہجرت سے تین برس قبل

سن وفات 23 ہجری

مقام تدفین جنت البقیع مدینہ منورہ

کل عمر 76 سال تقریباً

نام و نسب:
نام سودہ ہے، والد کی طرف سے سلسلہ نسب یوں ہے: سودہ بنت زمعہ بن قیس بن عبد شمس، جبکہ والدہ کی طرف سےاس طرح ہے: سودہ بنت شموس بنت قیس بن زید۔

ولادت:
آپ رضی اللہ عنہا کی ولادت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت سے 40 سال قبل ہوئی۔

خاندانی پس منظر:

آپ رضی اللہ عنہا کا سلسلہ کا نسب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب مبارک سے” لُوَیْ“ میں جا کر مل جاتا ہے۔آپ رضی اللہ عنہا کے نانا قیس بن زید،آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم کے پردادا ہاشم کے” برادرِ نسبتی“تھے۔ مورخین نے لکھا ہے کہ یثرب کے معروف قبیلہ بنو نجارکے چشم و چراغ قیس بن زید کی ہمشیرہ سلمیٰ سےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پردادا ہاشم کی شادی ہوئی تھی۔

پاکیزہ مزاجی:
آپ رضی اللہ عنہا کے اخلاق و مناقب کے ابواب میں محدثین کرام نے بکثرت روایات نقل کی ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہا بہت پاکیزہ مزاج کی حامل تھیں۔

نکاح اول:
آپ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح اپنے چچا زاد سکران بن عمرو بن عبد شمس سے ہوا۔ حضرت سکران رضی اللہ عنہ کا قدیم الاسلام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں شمارہوتا ہے۔ حضرت سکران رضی اللہ عنہ سےسیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا ایک بیٹا عبدالرحمٰن پیدا ہوا۔ جو جنگ جلولا میں شہید ہو گئے۔

قبولِ اسلام:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت دین مکہ کے ہر گھر تک پہنچ رہی تھی، اسی دوران سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہا اور حلقہ بگوش اسلام ہو گئیں۔ مورخین نے لکھا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا اپنے خاندان میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والی خاتون ہیں۔

آزمائشی حالات:

اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اسلام قبول کرنا اور پھر اس کا اظہار کرنا بہت مشکل تھا، جو کوئی بھی اسلام قبول کرتا تو اس کے گھروالے، اس کا خاندان اور سرداران مکہ مل کر اس مسلمان کو قبول اسلام کی پاداش میں اپنے ظلم کا نشانہ بناتے اور انسانیت سوز تکالیف سے گزارتے تاکہ کسی طریقے وہ اسلام کو چھوڑ دے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے جب اسلام قبول کیا تو کفار مکہ کی طرف سے آپ کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑااور ایک عرصے تک آپ ان سب مظالم کو سہتی رہیں۔

تبلیغ اسلام:

قبول اسلام کے بعد آپ رضی اللہ عنہا ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھی رہیں بلکہ اسلام کی مبلغہ بن گئیں اور اپنے خاندان میں اسلام کی تبلیغ شروع کر دی،چنانچہ آپ کی پُر اثر تبلیغ سے متاثر ہو کر آپ کے شوہرنامدار مسلمان ہو گئے۔مورخین نے لکھا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا کی داعیانہ و مبلغانہ مساعی جمیلہ کی بدولت عبد اللہ بن سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ، حاطب بن عمرو رضی اللہ عنہ، سلیط بن عمرو رضی اللہ عنہ، فاطمہ بنت علقمہ رضی اللہ عنہا، مالک بن زمعہ رضی اللہ عنہ، ابو صبرہ بن ابی رہم رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے۔

ہجرت حبشہ اولیٰ:

جب کفار مکہ کے مظالم کا سلسلہ نہ تھما تو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت ملی یہ نبوت کے پانچواں سال رجب المرجب کا مہینہ تھا،11 مرد اور4 خواتین پر مشتمل ایک قافلہ حبشہ کی طرف ہجرت کر گیا۔ اس دوران آپ رضی اللہ عنہا اور آپ کے شوہر حضرت سکران بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مکہ میں رہنے کو ترجیح دی اور حبشہ ہجرت نہ فرمائی۔

ہجرت حبشہ ثانیہ:

اس کے ایک برس بعد نبوت کے چھٹے سال میں دوبارہ حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم ملا چنانچہ اس بار 20 خواتین اور 83 مرد وں پر مشتمل قافلہ حبشہ پہنچا۔ اس قافلہ سخت جاں میں سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا اور آپ رضی اللہ عنہا کے شوہر حضرت سکران رضی اللہ عنہ نے بھی شامل ہونے کا ارادہ کیا، آپ رضی اللہ عنہا کے قبیلہ والوں نے پوری کوشش کی کہ آپ ہجرت نہ کرنے پائیں اور آپ کے خاندان کا کوئی فرد آپ کے ہمراہ ہجرت نہ کرے، لیکن کفار مکہ کی خواہشات پر اوس پڑ گئی اور آپ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ کے شوہر حضرت سکران رضی اللہ عنہ اور خاندان کے کئی دیگر افراد ہجرت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

ان ہجرت کرنے والے مہاجرین میں سے کچھ تو واپس مکہ تشریف لے آئے سیدہ سودہ اور ان کےشوہر بھی واپس مکہ مکرمہ لوٹ آئے۔جبکہ بعض لوگ حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کے ساتھ حبشہ ہی میں مقیم رہے اور وہ غزوہ خیبر کے موقع پر مدینہ منورہ پہنچےلیکن اکثر لوگ ان سے پہلے ہی مکہ مکرمہ واپس آگئے تھے ان میں حضرت سودہ رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں۔

پہلا خواب:
حبشہ میں کچھ عرصہ گزرانے کے بعد آپ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر حضرت سکران سمیت واپس مکہ تشریف لائیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کو ایک خواب آیا، اس میں دیکھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ رضی اللہ عنہا کی گردن پر قدم مبارک رکھے۔آ پ رضی اللہ عنہا نے اس خواب کا ذکر اپنے شوہر حضرت سکران رضی اللہ عنہ سے کیا، حضرت سکران رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: یوں لگتاہے کہ میں بہت جلد فوت ہوجاؤں گا اور تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ بن جاؤگی۔

دوسرا خواب:
ایک اور خواب بھی آپ رضی اللہ عنہا کو آیا اس میں آپ نے دیکھا کہ چاند ان کی آغوش میں آ کر گرا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے اس خواب کا تذکرہ بھی اپنے شوہر نامدار حضرت سکران رضی اللہ عنہ سے کیا۔ حضرت سکران رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس خواب میں یہ اشارہ مل رہا ہے کہ میں عنقریب فوت ہوجاؤں گا اور میرے بعد تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کا شرف حاصل کرو گی۔

سکران رضی اللہ عنہ کی وفات:

حبشہ میں کچھ عرصہ تک رہنے کے بعدآپ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر کے ہمراہ واپس مکہ مکرمہ تشریف لے آئیں۔ واپس آ کر کچھ دنوں بعد حضرت سکران رضی اللہ عنہ کی طبیعت ناساز رہنے لگی۔ چنانچہ وہ اسی بیماری میں انتقال فرما گئے۔

شادی کی ضرورت:
سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر نامدار کی وفات پر صدمے سے دوچار تھیں اور دوسری طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جانثار زوجہ سیدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی وفات پر پریشان تھے۔ کسی تحریک سے وابستہ قیادت کو گھریلو ذہنی سکون کی کتنی ضرورت ہوتی ہے؟؟یہ سوائے اس کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو دنیا کی سب سے بڑی عالمگیر دینی، سماجی، معاشرتی اور انسانی تحریک کی تنِ تنہا قیادت فرما رہے تھے اور کفار ِمکہ کی اذیتوں کو حوصلہ مندی اور صبر وتحمل سے برداشت کر رہے تھے۔
ایسے حالات میں تسلیاں دینے اور دکھ بانٹنے والی اہلیہ کی وفات، گھر میں اکیلی بچیوں کی تربیت اور دیکھ بھال اور سب سے بڑھ کر خدا کے دین کو ساری دنیا میں پھیلانے کی منظم منصوبہ بندی اور پیش رفت۔
یہ سب مسائل اس بات کے متقاضی تھے کہ آپ کی ذہنی یکسوئی اور اپنے مشن کی تکمیل کے لیے ایسی رفیقہ حیات ہو جو بچوں کی پرورش، آپ سے دکھ درد بانٹنا اور اسلام کی عالمگیر محنت میں دست بازو بنے۔

پیغام نکاح کا مرحلہ:

چنانچہ ان حالات کے پیش نظر حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو ایک غمگسار رفیقہ حیات کی ضرورت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! کیونکہ پہلے تو گھر بار کا انتظام اور بال بچوں کی پرورش سب خدیجہ کیا کرتی تھیں۔ اس پر خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا میں آپ کے لئے کہیں نکاح کا پیغام دے دوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالکل مناسب بات ہے خواتین ہی اس کام کے لئے موزوں ہوتی ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس جگہ پیغام دینے کا خیال ہے؟خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر آپ کسی کنواری سے نکاح فرماناپسند کریں تو آپ کے نزدیک تمام مخلوق میں جو سب سے زیادہ محبوب ہے ابو بکر، اُس کی بیٹی عائشہ سے موجود ہے ان سے نکاح فرمالیں اور اگر کسی بیوہ سے نکاح فرمانا چاہیں تو سودہ بنتِ زمعہ موجود ہے جوآپ پر ایمان بھی لا چکی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں جگہ پیغام دے دیں۔

سیدہ خولہ اور سیدہ سودہ کی باہمی گفتگو:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اجازت ملی تو سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا پہلے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور کہا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ پر خیر وبرکت کے دروازےکھول دیے ہیں، میں آپ کے پاس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام نکاح لائی ہوں۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
’’میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائی ہوں، وہ میرے ہادی بھی ہیں اور میرے رہنما بھی، میری ذات کے متعلق انہیں مکمل اختیار ہے۔ وہ جو چاہیں فیصلہ فرمائیں۔“

سیدہ خولہ اور زمعہ کی باہمی گفتگو:

سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا کو جب یہ معلوم ہوا کہ سیدہ سودہ اس پر رضامند ہیں تو وہ آپ رضی اللہ عنہا کے بوڑھے والد زمعہ بن قیس کے پاس گئیں اور جا کر کہا کہ میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کی طرف سے آپ کی بیٹی سودہ کے لئے نکاح کا پیغام لائی ہوں۔ زمعہ نے یہ سن کر کہا:
ھو کفو کریم۔
بے شک میری بیٹی کی خوش قسمتی ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس رشتے کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہیں۔ لیکن آپ سودہ کی رائے بھی معلوم کر لیں۔ اس پر سیدہ خولہ نے کہا کہ میں نے ان سے بات کر لی ہے اور انہیں یہ پیشکش قبول ہے۔

سودہ، ام المومنین بنتی ہیں:

سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کےوہ خواب شرمندہ تعبیر ہونے لگےجو آپ نے حضرت سکران رضی اللہ عنہ کی وفات سے پہلے دیکھے تھے۔ زمعہ بن قیس نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہاسے نکاح کی اجازت طلب کی اور کہا:اے میری لخت جگر!خولہ بنت حکیم مجھ سے کہتی ہیں کہ محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب نے تجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہےکیا تو اس کے لیے راضی ہے؟ دیکھ بیٹی! میرے نزدیک تو وہ نہایت عزت دار گھرانہ ہے اگر تو بھی راضی ہو تو میں اس معاملہ کو پکا کر دوں؟ سیدہ سودہ نے جواب دیا کہ جی ابو جان ! میری رائے بھی یہی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے گئے اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے والدزمعہ بن قیس نے آپ کا نکا ح پڑھایا اور 400درہم حق مہر مقرر ہوا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجۃ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد رمضان 10نبوی میں حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا یہ نکاح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی پہلے فرمایا اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہا مکہ مکرمہ ہی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آگئیں اور پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔

ہجرتِ مدینہ:
سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں تین سال رہیں اس کے بعد اللہ کی طرف سے ہجرت مدینہ کا حکم آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مدینہ طیبہ ہجرت فرما گئے۔ چونکہ حالات اس قدر سنگین ہو چکے تھے کہ اس وقت اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے جانا خطرے سے خالی نہیں تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے گھر والوں کو ساتھ نہ لے جاسکے۔
چھ ماہ تک سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا مکہ مکرمہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بچیوں کی دیکھ بھال، تربیت کی کٹھن ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے پورا کرتی رہیں۔ ایک سن رسیدہ خاتون کے لئے اپنی سوتیلی اولاد سے شفقت و محبت کا برتاؤ کرناانتہائی مشکل ہوتا ہے مگر آپ رضی اللہ عنہا نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادیوں کے ساتھ باوجود یکہ وہ سوتیلی اولاد تھیں، انہیں حقیقی ماں جیسا پیار دیا۔ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کم و بیش پانچ چھ سال تک سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کی زیرِتربیت رہیں لیکن ساری زندگی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیشں نہیں آیا، نہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے اور نہ ہی سیدہ ام کلثوم اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کی طرف سے۔
مدینہ طیبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی تعمیر کی اور ساتھ ہی دومکان بھی تعمیر کرائے۔ ا س کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان 1 ہجری کو حضرت زید رضی اللہ عنہ بن حارثہ اور ابو رافع رضی اللہ عنہ کو دو اونٹ اور پانچ سو درہم دے کر مکہ کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ مقامِ قدید قُدَیْد……ق پر پیش اور پہلے د پر زبر کے ساتھ پڑھنا ہے سے مزید ایک اور اونٹ بھی خرید لینا تاکہ سیدہ سودہ، سیدہ ام کلثوم اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہن آسانی سے سوار ہو سکیں، چنانچہ زید بن حارثہ اور ابو رافع حسب حکم مکہ آئے اور خاندان نبوت کو بحفاظت ہمراہ لےگئے۔

آیتِ حجاب کا نزول:

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حجاب کے حکم نازل ہونے کےبعد سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا قضائے حاجت کیلئے گھر سے باہر نکلیں۔ چونکہ آپ رضی اللہ عنہا کا جسم بھاری بھر کم تھا اس وجہ سے وہ لوگ آپ رضی اللہ عنہا کو باوجود پردے کے بھی قدو قامت کی وجہ سے پہچان لیتے تھے جنہوں نے حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے آپ رضی اللہ عنہا کو دیکھا ہوتا تھا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدہ سودہ کو دیکھا تو فرمایا: میں نے آپ کو پہچان لیا ہے۔ چنانچہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا الٹے پاؤں واپس پلٹیں۔
سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو میرے گھر میں کھانا تناول فرما رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہڈی تھی۔اس دوران سیدہ سودہ رضی اللہ عنہانے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بیان کیا۔ آپ علیہ السلام پر کیفیتِ وحی طاری ہو گئی۔ جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو ہڈی کو ہاتھ میں تھامے ہوئے فرمایا۔ تمہیں اپنی حاجات کیلئے باہر نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے: اصل بات یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو برا لگتا تھا کہ اجنبی لوگ، ازواج نبی کو دیکھیں، حتی کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحتاً اس بارے کہہ بھی دیا کہ اپنی ازواج کو پردہ کرائیں۔ پھر اس پر اصرار فرماتے رہے۔حتی کہ حجاب کے بارے سورۃ احزاب کی آیت نمبر53 نازل ہوئی۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہا اس کے باوجود بھی یہ چاہتے تھے کہ اس میں بھی مزید مبالغہ ہو یعنی اگر وہ پردے میں بھی ہوں،تب بھی ان کی پہچان ظاہر نہ ہو۔ چونکہ یہ بہت تنگی و مشقت والا معاملہ تھا تب اللہ تعالیٰ نے سورۃ احزاب کی دوسری آیت59 نازل فرمائی جس میں اللہ نے انہیں اپنی حاجات کیلئے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی۔
نوٹ: پردہ کی شرعی حیثیت کے بارے میں میری کی کتاب” مسلمان عورت“ ملاحظہ فرمائیں۔

سخاوت و دریا دلی:
سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا ذاتی طور پر مزاج دنیا سے دوری کا تھا مزید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص تربیت نے اس سونے پر سہاگہ کا کام کیا۔ دنیا کی محبت سے دل بالکل پاک تھا، اس مزاج اور تربیت نے آپ کو سخاوت و فیاضی کے اس مرتبہ تک پہنچایا جو بہت کم کسی کو ملتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا دستکاری میں مہارت رکھتی تھیں اور طائف کی کھالیں خود بنایا کرتی تھیں۔ اس سے جو آمدنی ہوتی تھی اسے راہ خدا میں خرچ کردیتی تھیں۔ایک مرتبہ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دراہم سے بھری ہوئی ایک تھیلی سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجی، آپ رضی اللہ عنہانے پوچھا اس میں کیا ہے؟ بتایا گیا کہ اس میں دراہم ہیں۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تھیلی تو کھجوروں کی ہے اور اس میں دراہم ہیں۔ یہ کہا اور تمام دراہم ضرورت مندوں میں کجھوروں کی طرح تقسیم فرما دیے۔ آپ کی ساری زندگی غریب پروری، دریادلی، فیاضی، سخاوت اور شان استغنا کی غماز تھی۔

پابندی شریعت:

سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا دیگر اوصاف کے ساتھ ساتھ شریعت کی سخت پابند تھیں، عبادات و ریاضت اور زہد و تقویٰ میں بلند شان کی حامل تھیں۔علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: حضرت سودہ رضی اللہ عنہا عبادت و تقویٰ اور زہد والی خاتون تھیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی ازواج مطہرات سے فرمایا: میرے بعد گھر میں بیٹھنا اس پر سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے ایسی سختی سے عمل فرما یا کہ پھر کبھی حج کے لئے بھی تشریف نہ لے کر گئیں اور فرماتی تھی کہ میں حج و عمرہ دونوں کرچکی ہوں اور اب رسول خدا کے حکم کے مطابق گھر ہی میں بیٹھوں گی۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد سب ازواج مطہرات نے آپ کے انتقال کے بعد کئی حج کئے لیکن سیدہ زینب بنت جحش اور سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہمانے آپ کےبعد کوئی حج نہیں کیا اور برابر گھر میں رہیں اور فرمایا کرتی تھیں بخدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بعد ہم اپنی جگہ سے نہیں ہلیں گی۔

مناسک حج میں خصوصی رعایت:

سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے 10 ہجری میں حج ادا فرمایا آپ کی تمام ازواج مطہرات ہمراہ تھیں۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہاچونکہ سن رسیدہ بھی تھیں اور جسم قدرے بھاری ہوگیا تھا اس لیے تیزرفتاری کے ساتھ چل پھر نہ سکتی تھیں۔
اُمُّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم)سفر حج میں جب (مزدلفہ پہنچے تو اُمُّ المومنین سودہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ لوگوں کے مزدلفہ سے منیٰ روانہ ہونے سے قبل انہیں جانے کی اجازت دی جائے، کیونکہ لوگوں کے ہجوم میں چلناان کےلیے دشوار تھا۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال شفقت فرماتے ہوئے اجازت مرحمت فرمادی چنانچہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا رات ہی میں لوگوں سے پہلے مزدلفہ سے روانہ ہوگئیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم لوگ مزدلفہ میں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی پھر ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔

نوٹ: اصل مسئلہ یہ ہے کہ دوران حج جب مزدلفہ پہنچیں تو رات یہاں گزاریں اور صبح سورج طلوع ہونے کے بعد یہاں سے منیٰ کی طرف روانہ ہوں۔
خوشنودی نبوت کا حصول:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ ڈالتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جانے کیلئے کس کے نام قرعہ نکلتا ہے۔مزید یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان ایک رات دن کی باری مقرر فرمائی ہوئی تھی، ماسوائے اس کے کہ حضرت سودہ بنت زمعہ نے اپنی باری ام المومنین حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کو دی ہوئی تھی اور اس سے ان کا مقصود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی اور رضامندی تھی۔

سیدہ عائشہ کی عجب تمنا:

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲعنہا فرماتی ہیں: مجھے ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اﷲعنہا عزیز تھیں، میری تمنا تھی کہ کاش میں میری روح ان کے جسم میں ہوتی، اگرچہ سیدہ سودہ کے مزاج میں جلال جلد غالب آ جاتا تھا، جب وہ بوڑھی ہو گئیں تو انہوں نے اپنے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی باری سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا کو دے دی اور عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے اپنی باری عائشہ کو دے دی ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے ہاں دو دن رہتے تھے، ایک دن حضرت عائشہ کی باری کا اور ایک دن حضرت سودہ کی باری کا۔

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو خطرہ ہوگیا تھا کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں طلاق دے دیں گے چنانچہ انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے طلاق نہ دیں مجھے اپنی زوجیت کے شرف سے محروم نہ فرمائیں اور میری باری کا دن عائشہ کو دے دیا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور فرمایا،اس پر آیت نازل ہوئی:
وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ۔
سورۃ النساء آیت نمبر 128
ترجمہ: اگر کسی عورت کو اپنےشوہر سے غالب احتمال، نامناسب رویہ یا بے پرواہی کا ہو تو دونوں کو اس امر میں کوئی گناہ نہیں کہ دونوں باہم ایک خاص طور پر صلح کرلیں اور صلح بہتر ہے۔

سوکن کو ترجیح دینا:

سیدہ سودہ رضی اللہ عنہاکے ایثارکا یہ عدیم النظیر اور فقید المثال واقعہ ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی منظور نظر اورچہیتی بیوی کو اپنی باری کا دن تفویض فرما کر اپنے شوہر کی رضا مندی کا تمغہ بھی حاصل کرلیا اور اپنی سوکن کوبھی راضی کرلیا۔

خصوصیت سیدہ سودہ:

ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے خصائص میں سے ایک خصوصیت تھی کہ انہوں نے اپنی باری سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو سپرد کردی ان کا یہ جذبہ ایثار اس وجہ سے تھا کہ وہ اس حبیبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے بارگاہ نبوّت میں تقرب حاصل کریں۔

ظرافت اور حِسِّ مزاح:

سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے مزاج میں اگرچہ جلال جلد غالب آجایا کرتا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان میں حس مزاح اور ظرافت بھی خوب تھی۔ کبھی کبھار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسانے کی غرض سے عام مزاج سے ہٹ کر چل کر دکھاتیں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑتے۔
سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام اللیل میں کھڑی ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگیں:میں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ نے اتنا لمبا رکوع فرمایا کہ مجھے یوں لگا کہ میری نکسیر پھوٹ پڑے گی اور اپنے ناک کوسہلانے لگیں،اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت مسکرائے۔

خوشگوار اور بے تکلف زندگی:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت سنجیدہ طبیعت کے مالک تھے لیکن اس کے باوجود آپ صحابہ کی مجلس میں وقتا فوقتا مزاحیہ کلمات اور ظرافت بھرے جملے ارشاد فرماتے،اسی طرح اپنے اہل خانہ کے درمیان بھی خوشگوار موڈ میں رہتے۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم، اہل بیت اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم زندگی پوری طرح فطری انداز میں بسر فرمائی جو تکلفات بالکل پاک تھیں اور یہی تعلیم اپنی امت کو دی ہے۔

وفات:
سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کی وفات سیدناعمر رضی اللہ عنہ کے خلافت کے آخری زمانہ میں ہوئی اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت 23ھ میں ہے