امام معصوم عن الخطا ہوتے ہیں(شیعہ عقیدہ)

 عقیدہ شیعان علی
🌀 امام معصوم عن الخطا ہوتے ہیں🌀
شیعہ کہتے ہیں “نیز معلوم ہونا چاہیے کہ جس طرح نبی علیہ السلام کے لئے اس کا معصوم ہونا ضروری ہے اسی طرح امام کا بھی معصوم ہونا ضروری ہے۔۔۔ تو امام کا لفظ بھی حفظ احکام کے لیے امین اور خطا اور نسیان سے محفوظ ہونا بھی واجب ہے”

اصول و فروع علامہ السید ذیشان حیدر جوادی

 ♦️جوابِ اہلسنّت♦️
اس عقیدے کے رد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ارشادات ملاحظہ فرمائیں:-
⭕️” یا یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے احکام سے انکار کر دوں لیکن آخرت کی سختیاں جھیلنے سے مجھے جنگ کی سختیاں جھیلنا سہل نظر آیا”۔( نہج البلاغہ ص209)
⭕️” اگر میں گناہ کی طرف پلٹوں تو تُو اپنی مغفرت کے ساتھ  پلٹ، بارِالہیہ! جس عمل خیر کے بجا لانے کا  میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا مگر تو نے اسے پورا ہوتے ہوئے نہ پایا، اسے بھی بخش دے۔ میرے اللہ !زبان سے نکلے ہوئے وہ کلمے جن سے تیرا تھا تقرّب چاہا تھا مگر دل ان سے ہمنوا نہ ہوسکا اسے بھی درگزر کر۔ پروردگار !تو آنکھ کے اشاروں اور ناشائستہ کلموں اور دل کی  بری  خواہشوں اور زبان کی ہرزہ سرائیوں کو معاف کردے۔( نہج البلاغہ صفحہ 235)

 

⭕️ اے اللہ! میں تجھ سے پناہ کا خواستگار ہوں۔ تیری ثروت کے باوجود فقیرو تہہ دست رہوں۔ یا تیری رہنمائی کے ہوتے ہوئے بھٹک جاؤں۔۔۔۔۔۔ اے اللہ! ہم تجھ سے پناہ کے طلبگار ہیں۔۔۔۔ اس بات سے کہ تیرے دین سے پھر جائیں یا تیری طرف سے آئی ہوئی ہدایت کو قبول کرنے کے بجائے نفسانی خواہشات ہمیں برائی کی طرف لے جائیں”۔( نہج البلاغہ ص603)
⭕️ کیونکہ میں اپنے آپ کو اس سے بالاتر نہیں سمجھتا کہ خطاکروں اور نہ اپنے کسی کام کو  لغزش سے محفوظ سمجھتا ہوں”( نہج البلاغہ ص607)
⭕️ کچھ لوگوں نے آپ کے روبرو آپ کی مدح و ستائش کی تو آپ نے فرمایا: اے خدا جو ان لوگوں کا خیال ہے ہمیں اس سے بہتر قرار دے اور ان لغزشوں کو بخش دے  جن کا انہیں علم نہیں۔”
( نہج البلاغہ صفحہ 838)
⭕️ اب تو مجھے ڈر ہے کہ میں ان کو مدد دینے سے کہیں گنہگار نہ ہوجاؤں”۔
( ایضاً ص 646)
لیکن مجھے یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں وہ چیزیں جن میں لوگوں کے عقائد اور مذہبی خیالات میں اختلاف ہے تم پر اس طرح مشتبہ نہ ہو جائیں جس طرح ان پر مشتبہ ہو گئی ہیں۔ باوجود ان غلط عقائد کا تذکرہ تم سے مجھے ناپسند تھا مگر اس پہلو کو مضبوط کر دینا تمہارے لئے مجھے بہتر معلوم ہوا۔ اس سے کہا تمہیں ایسی صورتحال کے سپرد کر دوں جس میں تمہارے لئے ہلاکت و تباہی کا خطرہ ہو۔ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت کی توفیق دے گا اور صحیح راستے کی رہنمائی کرے گا۔
( وصیت نامہ امام حسن نہج البلاغہ صفحہ 707)

مجھے خطا سے معصوم مت سمجھو (حضرت علی)

خطبہ 214: حکمران اور رعیت کے باہمہ حقوق کے بارے میں فرمایا

میرے متعلق یہ گمان نہ کرو کہ میر ے سامنے کو ئی حق بات کہی جائے گی تو مجھے گراں گزرے گی اور نہ یہ خیا ل کرو کہ میں یہ درخواست کرو ں گا کہ مجھے بڑھا چڑھا دو۔کیونکہ جو اپنے سامنے حق کے کہے جانے اور عدل کے پیش کئے جانے کو بھی گراں سمجھتا ہو۔اسے حق او رانصاف پر عمل کرنا کہیں زیادہ دشوار ہوگا تم اپنے کو حق کی بات کہنے اور عدل کا مشورہ دينے سے نہ روکو۔میں تو اپنے کو اس سے بالا تر نہیں سمجھتا کہ خطا کروں اور نہ اپنے کسی کا م کو لغزش سے محفوظ سمجھتا ہوں۔مگر یہ کہ خد ا میرے نفس کو اس سے بچائے کہ جس پر وہ مجھ سے زیادہ اختیار رکھتا ہے۔ہم او رتم اسی رب کے اختیار بندے ہیں کہ جس کے علاوہ کوئی رب نہیں۔وہ ہم پر اتنا اختیار رکھتا ہے۔کہ خود ہم اپنے نفسوں پر اتنا اختیا ر نہیں رکھتے۔اسی نے ہمیں پہلی حالت سے نکال کر جس میں ہم تھے بہبودی کی راہ پر لگایا اور اسی نے ہماری گمراہی کو ہدایت سے بدلا او ر بے بصیرتی کے بعد بصیرت عطا کی۔


📌 اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ جانتے تھے کہ امام حسن رضی اللہ عنہ معصوم ہیں تو پھر انہیں اس قسم کی وصیت کرنے کا کیا محل جب کہ معصوم کی سیرت کی حفاظت رب العزت کے  ذمہ ہوتی ہے اور بار بار اپنے بارے میں کہنا کہ میں گمراہ نہ ہو جاؤ گناہگار نہ ہو جاؤں، اے اللہ میری خطاؤں کو معاف فرما۔ آخر کس لیے۔ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ امام نہیں تھے؟ کیا وہ معصوم نہیں تھے اگرچہ تو پھر یہ ساری گفتگو عبث ہے اور اگر نہیں تھے( یہی حقیقت ہے) تو ہر انسان کا یہ فرض اولین ہے کہ وہ اللہ تعالی سے ہدایت کا طلبگار رہے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سارے الفاظ نہ صرف برمحل ہیں بلکہ قابل تقلید بھی ہیں۔

عصمت امام کے متعلق مزید تحاریر تلاش کر کے پڑھیں۔

خلاصہ:-

 امام معصوم عن الخطاء ہیں کہ بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خطبات سے علم ہوا کے معصوم صرف انبیاء اور رسل ہیں باقی کوئی بھی انسان اس صفت سے متصف نہیں۔