امام اپنے سے بعد والے امام کو نص سے مقرر کرتا ہے۔(شیعہ عقیدہ)

(3)۔۔۔ عقیدہ شیعانِ علی
🔷امام اپنے سے بعد والے امام کو نص سے مقرر کرتا ہے۔🔷
اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اپنی خلافت کے لیے  اختیار کر لیا اور جناب امیر رضی اللہ عنہ نے مجھے خلافت کے لئے اختیار کرلیا اور میں حسین رضی اللہ عنہ کو امامت اور خلافت کے لئے اختیار کرتا ہوں۔
( جلاء العیون جلد دوم صفحہ 120)

♦️ جواب اہلسنّت♦️
چنانچہ اہل تشیع کا یہ عقیدہ ہے کہ بارہ اماموں کے بعد دیگرے نص سے مقرر کیے گئے۔ اس عقیدے کے بارے میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس خطاب سے نتیجہ ہوتا ہے۔۔۔۔
آئیے غورسے بڑھتے ہیں؛-
⭕ صفین کے موقع پر جب آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے فرزند حسن رضی اللہ عنہ کو جنگ کی طرف تیزی سے لپکتے ہوئے دیکھا تو فرمایا:
” میری طرف سے اس جوان کو روکو کہیں اس کی موت مجھے بے حال نہ کردے۔ کیونکہ میں ان دو نوجوانوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو موت کے منہ میں دینے سے بخل کرتا ہوں کہ کہیں ان کے مرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل قطع نہ ہو جائے۔
( نہج البلاغہ صفحہ 583)

اب  اس عقیدے کا انہدام کس شاندار انداز میں ہوا کے امام  اپنے بعد والے امام کو خود مقرر کر کے جاتا ہے امام حسن امام ثانی من اللہ تھے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہونا چاہیے تھا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کی فکر کیوں لاحق ہوگئی امام حسن رضی اللہ عنہ جنگ میں لقمہ اجل بن جائیں۔ حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے بعد انہیں امام مقرر کرنا تھا۔ اسی طرح امام حسن رضی اللہ عنہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو امام مقرر کرنا تھا اور بقول اہل تشیع حضرت  محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم( یعنی بارہ امام) قبل از آفرینش سے اس عہدائے جلیلہ پر فائز چلے آرہے ہیں۔
لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خطبہ سے اندازہ ہوا کہ یہ ساری کہانی فرضی ہے نبی کے بعد منصوص من اللہ کوئی عہدہ ہی نہیں۔ اللہ انہیں عقل نصیب فرماۓ۔

خلاصہ:-
نبوت کے بعد خدا نے کسی کو امام مقرر نہیں کیا نہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو امام منصوص من اللہ قرار دیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں وضاحت فرما دی ہے اور اقوال و اعمال سے صاف ظاہر ہو گیا ہے۔  ہاں عام معنوں میں میں ائمہ جنہیں اثنائے عشرہ کہا جاتا ہے۔ ہمارے بھی امام اور قابل تقلید ذوات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں