امامیہ ٹکیہ(خاک شفا) کی حقیقت :

امامیہ ٹکیہ (خاک شفا) کی حقیقت :

شیعہ مذہب کا بھی رنگ نرالا ہے،

نماز کی پابندی کا خاص اہتمام نہیں، امام باڑے آباد اور مسجدیں اُجاڑ ! جس نے کبھی پڑھی تو دو دو جمع کرلیں۔

شرک چونکہ اس مذہب کے عقیدے، عمل اور گھٹی میں ہے، اس لیے نماز جیسے افضل الاعمال کو بھی اس گندگی سے ملوث کردیا ہے۔

خاکِ کربلا کی ایک تعظیماً بنا رکھی ہے اس پر سجدہ ہی نہیں کرتے بحالت سجدہ آنکھیں و رخسار اس پر ملتے، پھر اسے اٹھا کر بار بار چومتے اور تسبیح کے ساتھ جیب میں ڈال لیتے ہیں۔

اللہ سبحان و تعالیٰ کی عبادت کے تو خاص افعال ہیں، اللہ کی تعظیم اور اپنی پستی و عاجزی نمازی کے بدن سے ظاہر ہونی چاہیے۔

مگر حضرت حسین ؓ کی نسبت و تعظیم سے اس فرضی مٹی کی بنی ہوئی ٹکیہ کی اس قدر تعظیم اور بوس و چاٹ اور عبدیت کی پیشانی صرف اس پر ٹیک کر تسکین و لذت پانا کچھ اور ہی باور کراتا ہے اور وہ ’’دال میں کالا کالا‘‘ بلکہ ساری دال ہی کالی ہے اور یہ شرک ہی ہے۔

مشرکین اپنے معظم بزرگوں، سرکاروں، دیوتاؤں کی شکل پر یادگاری بت بناکر ان کی بھی تعظیم و عبادت کرتے ہیں اور اسے اللہ سبحان و تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ:

’’ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے (بطور وسیلہ) کرتے ہیں کہ یہ ہمیں ﷲ کے قریب کر دیں گے….. یقینا ﷲ جھوٹے اور بڑے منکر کوہدایت نہیں دیتا‘‘۔(سورۂ زمر)

ما فوق الاسباب توسل شرک کی جڑ ہے۔ شیعہ دعویٰ اسلام کی وجہ سے بت بنانے کی جرأت تو نہ کر سکے گو خاص خاص گھروں میں اور خصوصاً ایران میں عام گھروں میں اہل بیت ؓ کے نام کی تصاویر اور بت بنے ہوئے ملتے ہیں۔ لیکن حضرت علی ؓ وحسینؓ کی نسبت و تعظیم سے کربلا و نجف کی یادگار ٹکیاں بنا لی ہیں۔ تعزیے، علم، تابوت، ضریح، شبیہ ذوالجناح جیسی عقیدت سے خود بنائی ہوئی بخیال خویش معظم چیزوں نے بتوں کی جگہ لے لی ہے۔

آج شیعی معاشرہ بلا مبالغہ سو فی صد وہ تمام تعظیمی امور ان چیزوں کے ساتھ بجا لاتا ہے جو مشرکین بتوں کے ساتھ بجا لاتے تھے اور خدا و رسول صلی ﷲ علیہ وسلم نے اسی کو شرکِ اکبر کہا۔

بظاہر سجدہ کی جرأت نہ تھی لیکن شیطان نے اپنی تسویل اور کارستانی سے شیعوں کا یہ مسئلہ حل کردیا کہ خاک کربلا و نجف کے نام سے ٹکیہ کو ’’سجدہ گاہ‘‘ بنالو۔ تقرب علی و حسین (رضی ﷲ عنہم ) کے اس تعظیمی فعل و عبادت کو میں اللہ تک پہنچا دو ں گا۔ رحمن بھی راضی ہو جائے گا میں بھی خوش ہو جاؤں گا۔

رند کے رند رہے ………… جنت بھی ہاتھ سے نہ گئی

ایک شاعرنے کیا خوب کہا ہے:

دل کے آئینے میں ہے تصویر یار

جب ذراگردن جھکائی دیکھ لی

شیعہ کہتے ہیں کہ رفع یدین اس لیے جاری ہوا کہ قوم کے بغل میں بت تھے، وہ گرا دیے گئے اور یہ بالکل بے اصل بات ہے۔

لیکن شیعوں کا یہ امامیہ بت (ٹکیہ) یا سجدہ گاہ ہے یا جیب میں بوسہ گاہ ہے، کسی لمحہ اپنے پجاری سے جدا نہیں ہو پاتا۔

شیعوں سے جب اس پر بات ہو تو بظاہر بڑے معصومانہ اندازمیں کہتے ہیں’’ہم بشر خاکی ہیں، خاک پر سجدہ زیادہ افضل ہے‘‘۔ اگر یہی بات ہے تو ہم نے کبھی تمہیں منع نہیں کیا کہ سادہ پاک زمین پر سجدہ نہ کرو، پھر خاکِ کربلا کی کیا خصوصیت؟

گھاس والی جگہ اور فرش بھی تو مٹی کی جنس ہیں، ان پر نماز و سجدہ کرلو۔

مختلف گھاسوں کی چٹائیاں اور سوتی جائے نمازیں اور دریاں بھی مٹی کی پیداوار سے بنائی گئی ہیں، ان پر نماز پڑھ لو۔

لیکن شیعوں کا عام مٹی اور اس کی ان پیداواری اشیاء پر سجدہ کرنے سے اعراض کرنا اور صرف حضرت علی ؓ وحسن ؓ کی جبین نیاز کی طرف منسوب خیال مٹی کو ہی سجدہ گاہ بنالینا اور مذکورہ بالا تمام تعظیمی امور بجالانا دراصل اس مٹی کی معظم ٹکیہ کی پرستش ہے۔

شیعہ امامیہ میں ایسی ٹکیہ سجدہ گاہ بنالینے کی کوئی تعلیم اور مذہب کا مسئلہ نہیں ہے۔

شیعہ کی مستند کتاب الاستبصار (اصولِ اربعہ) سے چند ابواب ملاحظہ فرمائیں:

اونچی جگہ پر سجدے کا بیان

روئی اور کپڑے پر سجدے کابیان

کتابت شدہ کاغذ پر سجدے کا بیان

برف پر اور کسی ایسی چیز پر سجدے سے روکا گیا ہے جس پر باقی بدن نہ ہو ( تو مٹی والی ٹکیہ پر سجدہ منع ہوا ) لیکن ٹکیہ پر سجدہ کا کہیں حکم نہیں ہے۔

چونکہ موجودہ شیعہ جعفری نہیں بلکہ مختاری، تفویضی اور غالی ہیں اور یہ لوگ اعلانیہ ائمہ کو خدا، خالق، مالک، رازق، مشکل کشا اور فریاد رس مانتے ہیں ،

ٹکیہ کی پرستش بھی انہوں نے ہی ایجاد کی۔ اس لیے سب شیعہ اپنے ائمہ کو جھٹلا کر اندھی تقلید میں شرک پر شرک کرتے جارہے ہیں۔

اور آخر میں ایک اہم بات کہ شیعہ کا یہ اعتراض کہ بخاری شریف میں بھی ’’خمرہ‘‘ کا لفظ آیا ہے مگر بخاری میں بھی ’’خمرہ‘‘ سے مراد چٹائی ہی ہے، شیعوں کی ٹکیہ نہیں۔

امام لغت ابو عبیدہ قاسم بن سلام کہتے ہیں کہ یہ کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی چٹائی ہے۔

جوہری کہتے ہیں یہ وہ مصلّٰی ہے جو کھجور کے پتوں اور دھاگوں سے بنا ہوتا ہے۔

صاحبِ مشارق کہتے ہیں یہ چھوٹی سی چٹائی کی طرح ایک جائے نماز و سجدہ ہے اور نہایہ میں بھی یہی لکھا ہے۔

نیز، شیعہ کی مستند کتاب الاستبصار میں بھی ’’خمرہ‘‘ کا معنی چٹائی کیا گیا ہے۔ (الاستبصار ج۱ ص۳۳۵)